.

وزیراعظم سے فصاحت و بلاغت کی توقع؟

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم کی تقریر پر کی جانے والی تنقید، کہ یہ طویل ہونے کے ساتھ ساتھ بے سمت اور یک سوئی سے خالی تھی، بیجا ہے کیونکہ اس کے علاوہ ہم اور کیا توقع کررہے تھے؟وہ اس سے مختلف اور کیا کہہ سکتے تھے؟ آپ کسی پرانے کپڑے سے نیا لباس تیار نہیں کرسکتے ہیں۔

آج کے سیاسی اکھاڑے میں ہمارے موجودہ وزیراعظم، جن کو فوجی حکمرانوں کے دست شفقت نے نوازا اور سیاسی داؤ پیچ سکھائے، سے زیادہ پرانا کوئی اور گھاگ سیاست دان نہیں ہے۔ وہ سیاست کے میدان میں اُس وقت سے موجود ہیں جب ہماری موجودہ ٹوئٹر جنریشن ابھی دنیا میں نہیںآ ئی تھی۔ چنانچہ ان کی تقریر میں کوئی نقص نہیں تھا اور وہ اپنے تئیں درست تھے، یہ ہم ہیں جنھوں نے اپنا فوکس درست کرنا ہے تاکہ ہم غیر حقیقی توقعات کے شیش محل تعمیر کرنے کی بجائے اصل صورت ِحال کو درست زاوئیے سے دیکھ سکیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) اپنی تشہیر کرنے کی فقید المثال صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے مدح سرا اور نقیب اپنی اعلیٰ قیادت کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملادیں گے، تاہم وہ اسی کام کے لیے ہیں اور وہ اپنا کام کرنا بخوبی جانتے ہیں۔ دوسری طرف ، مسلسل کی جانے والی ستائش اور پیہم گائے جانے والے ترانوں کی ہاؤ ہو کو نظر انداز کرتے ہوئے، ہمیں حقائق کو پرکھنا ہے۔ حقائق یہ ہیں کہ بلوچ لبریشن آرمی (اگر واقعی کوئی ایسا گروہ موجود ہے)وہاں موجود حالات کا ردعمل ہے،9/11 کے بعد نمودار ہونے والے طالبان کوئی واہمہ نہیں ہیں، بلکہ آج کی سنگین ترین حقیقت ہیں، سیاست دان عمران خان کی سیاست سے آپ کو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن وہ سیاست میں ایک نیا معروضہ لے کر آئے ہیں․․․ ہو سکتا ہے کہ وہ دعووں کے برعکس کچھ بھی نہ کرپائیں، لیکن یہ ایک اور بات ہے۔

الطاف حسین بھی میدان سیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں اور اب ایسا لگتا ہے کہ وقت کی طنابیں ان کے ہاتھ سے سرک رہی ہیں۔ ممکن ہے کہ تاثر درست نہ ہو لیکن کم از کم یہ ایک حقیقت ہے کہ جس تاب و توانائی سے ایم کیو ایم نے میدان ِ سیاست میں قدم رکھا تھا، اب وہ موجود نہیں ہے۔ زرداری صاحب کے زیرِ اثر پی پی پی ایک متروکہ جماعت بن چکی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بھٹو نام کی کشش اسی کی سانسیں بحال رکھے لیکن اب اس کا جادوئی اثر ختم ہو چکا ہے۔

نواز شریف بھی اسی پرانے دور کی یادگار ہیں۔ اگرچہ اس وقت وہ اقتدار میں ہیں، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ بہرحال ایام ِ رفتہ کی پیداوار ہیں۔ کبھی وہ اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے تھے اور آئی ایس آئی کے مختلف چیفس نے اُنہیں رموز سیاست سے آگاہ کیا، لیکن یہ اُ س وقت کی بات ہے جب فوجی قیادت کا واحد مقصد کسی سیاسی شخصیت کے پلڑے میں وزن ڈالتے ہوئے نہ صرف پی پی پی کا راستہ روکنا بلکہ اسے ممکنہ نقصان بھی پہنچانا ہوتا تھا۔ اس دور میں جب ان پراسٹیبلشمنٹ مہربان تھی، اُنھوں نے کاروبار میں بھی فقید المثال ترقی کی۔ ہو سکتا ہے کہ اُس وقت کی اسٹیبلشمنٹ سے افغانستان کے حوالے سے غلط فیصلے ہو گئے ہیں، وہ کشمیر آزاد نہ کراسکی ہو لیکن اس نے پنجاب کے سیاسی منظر نامہ میں اس طرح رنگ بھرا کہ اس کے خدوخال پی پی پی کے سامنے ایک طاقتور سیاسی حقیقت کے طور پر ابھر آئے اور پاکستان کا یہ سب سے بڑا صوبہ ملکی سیاست کا پاور ہاؤس بن گیا۔

اس سیاسی کیمسٹری کے نتیجے میں آج کا پنجاب، جو کبھی عظیم روایات کا امین تھا، کسی بھی ردعمل کے نتیجے میں اٹھنے والی تحریک کا دفاع کرنے کے تیاررہتا ہے، خاص طور پر جب جوشیلے جذبات کا معاملہ ہو۔ اس میں انتہاپسندی کے عناصر سرائیت کر چکے ہیں۔الجھے ہوئے جذبات کے اسی ملغوبے سے سیاسی طور پر نواز شریف اور ان کی جماعت نے فروغ پایا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے پہلے پنجاب کوئی مثالی سرزمین تھی، لیکن جرنیلوں اور نئے کاروباری طبقے کی شراکت داری سے اس میں دقیانوسی سوچ پروان چڑھنے لگی۔

تاہم دیر ہوئی، اب وہ دور بھی گزر چکا ہے کیونکہ اب روایتی سیاسی جنگ ختم ہوچکی ہے۔ پی پی پی سیاسی طور پر بے جان ہے، کم از کم پنجاب کی حد تک۔ اب یہ ضیاء کا پاکستان بھی نہیں ہے(اگرچہ اس دور کے خدوخال کچھ تبدیل ہوتی ہوئی شکلوں کے ساتھ یہاں موجود ہیں)، نہ ہی یہ 1990 کی دہائی کا پاکستان ہے جب بے نظیر بھٹو اور نواز شریف سیاسی میدان میں ایک دوسرے کے حریف تھے۔ اب یہ مختلف پاکستان ہے اور اسے مختلف مسائل نے گھیرا ہوا ہے۔ نوازشریف کی تقریر سے یہ بات عیاں تھی کہ ماضی کی ایک شخصیت حال کے مسائل کا احاطہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ مئی کو ہونے والے انتخابات کے دوران اور ان کے فوراً بعد یہ تاثر دیا گیا کہ نواز شریف اور ان کی ٹیم ملک میں معجزانہ تبدیلیاں لانے والے ہیں۔ یہ دعوے اتنے پرزور اور داعی اتنے پر اعتماد تھے کہ شکوک و شبہات کا شائبہ تک دکھائی نہ دیتا تھا۔ ان شکوک نے اب سراٹھانا شروع کیا ہے ۔ یہ تقریر اسی حقیقت کا ادراک تھی کہ وہ نعرے بے بنیاد تھے(اس فہم کو بھی مثبت قرار دیا جا سکتا ہے)۔ تاہم اس میں نواز شریف کا قصور نہیں ہے کیونکہ ان کو جس جنگ کی تربیت ملی ہوئی ہے وہ اور تھی۔ آج ان کے مدِ مقابل کوئی سیاسی حریف( جیسا کہ ماضی میں بے نظیر بھٹو تھیں) نہیں بلکہ طالبان کے حوالے سے پالیسی سازی کا مرحلہ اور معیشت کی بحالی کے لئے اہم اقدامات اٹھانا ہیں۔ کیاوزیر ِ اعظم میں ان مسائل سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت ہے؟

جہاں تک پہلے مسئلے کا تعلق ہے، تو کیا وہ پاکستان کے راجہ پاکسا (سری لنکا کے صدر ، جنھوں نے تامل ٹائیگرز کے خلاف جنگ کی اوراُنہیں شکست دی)بن سکتے ہیں؟ ہو سکتا ہے کہ ہم ان کی مخفی صلاحیتوں ، جو تاحال خاص و عام کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، کا برملا اظہار دیکھیں، لیکن اس کے اشارے زیادہ حوصلہ افزاء نہیں ہیں۔ اس وقت تو حال یہ ہے حکومت واضح بیان بھی دینے کے قابل نہیں ہے تو اس کارکردگی سے کسی معجزے تو کیا معمولات کی توقع کرنا بھی عبث ہے۔ ایک بات تقریباً واضح ہو چکی ہے․․․ طالبان کے خلاف جنگ صرف سرحد تک ہی محدود نہیں رہ سکتی ہے، یہ کینسر تمام ملک میں پھیل چکا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی یہ جنگ لڑنے میں سنجیدہ ہے تو اسے پنجاب میں فساد برپا ہونے کا خطرہ مول لینا ہوگا۔ اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا موجودہ حکمران، جبکہ پنجاب ان کی سیاسی قوت کی بنیاد ہے، ایسا کرنے کے لیے تیار ہوں گے؟ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو فوج بھی اسے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے گی اور اگر فوج پوری تندہی سے اس مسئلے کا تعاقب نہیں کرے گی تو پھر طالبان کو شکست دینے کا خواب نہ دیکھیں اور نہ ہی سری لنکا کی مثال دیں․․․ یہاں ایسا کچھ نہیں ہو گا۔

جہاں تک دوسرے مسئلے، معیشت کی بحالی، کا تعلق ہے، تو اس کے لیے بھی کچھ اقدامات درکار ہیں۔ آصف زرداری نے اس ضمن میں ایسے ”انقلابی “کرشمے دکھائے تھے کہ ایک سوچ پیدا ہورہی تھی کہ اب اس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہو سکتا، لیکن یہ ہماری خام خیالی تھی۔ اب اس میدان میں کچھ اس طرح کی ہنرمندی در آئی ہے کہ انتہائی طاقتور سرمایہ دار حکومت کے قریب ہیں لیکن ان کے روابط واضح نہیں ہیں۔ ایک مرتبہ پھر نج کاری کا ڈول ڈالا جا رہا ہے۔ اس کامطلب ہے کہ عوامی اداروں، جیسا کہ پی آئی اے، پاکستان ریلویز، اسٹیل ملز وغیر ہ کو نجی تحویل میں دینے کا منصوبہ بن رہا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں تھیچر اسٹائل (Thatcher-style)، جس میں درمیانے طبقے کو ریاستی اداروں کا مالک بنا دیا تھا، کی نج کاری ہونے جا رہی ہے یا یلسن اسٹائل کی ، جس میں ایک مخصوص مراعات یافتہ طبقے نے انتہائی معمولی رقم کے عوض اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا؟ جب بھی طاقتور سرمایہ دار حلقے ارباب ِ حکومت کے قریب دکھائی دیتے ہیں تو سوویت یونین کی تحلیل اور اس کے صدر بورس یلسن ہی ذہن میں آتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ پاکستان سوویت یونین نہیں ہے لیکن ذرا محدود پیمانے پر وہی عمل دہرایا جا رہا ہے۔ موجودہ حکمرانوں کی سرمایہ دارانہ ذہنیت اس تاثر کو دور کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرے گی۔ طاقت اور دولت میں ایک ناجائز تعلق ہوتا ہے۔

اس ضمن میں ایک بات ذہن میں رکھیں کہ تیسری دنیا کے کسی بھی ملک میں سرمایہ دار حکمرانوں نے معاشی ترقی برپا نہیں کی ہے، تاہم کچھ قنوطی ذہن پوچھ سکتے ہیں کہ اگر موجودہ حکومت مسائل کو حل کرنے میں اتنی ہی نااہل ہے تو پھر یہ دوبارہ اقتدار میں کیسے آگئی ؟ سوال تو اچھا ہے اور اس کا جواب دیتے ہوئے دو افراد کا نام ذہن میں آتا ہے: (1)جنرل پرویز مشرف ، جس کے 1999 میں شب خون نے دم توڑتی ہوئی مسلم لیگ (ن) کو ایک سیاسی ساکھ عطا کردی ۔ (2) آصف زرداری ، جن کی پانچ سالہ کارکردگی نے نواز لیگ کی سابقہ ناقص کارکردگی کی یاد لوگوں کے ذہنوں سے محو کردی۔ گویا، مشرف اور زرداری پی ایم ایل (ن)کے لیے آسمانی نعمت ثابت ہوئے۔

پس ِتحریر: بریڈلے مین نگ، جو کمزور سے انسان ہیں، نے عراق میں ہونے والے ظلم کا پردہ چاک کر کے امریکہ غضب کو دعوت دی۔ اُنھوں نے امریکی زیادتیوں کا راز اس لیے فاش کیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ انسانیت پر ظلم ہے۔ اگر ہمارے اس دور میں کوئی ہیرو ہوسکتا ہے تو وہ بریڈلے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ"جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.