اوباما کا شام پر تردّد: گہری تشویش کا سبب

فیصل جے عباس
فیصل جے عباس
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

امریکی صدر براک اوباما نے شام کی مسلح افواج کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال پر اپنے ردعمل میں کہا کہ یہ ان کے لیے گہری تشویش کا معاملہ ہے۔ ان کا یہ ردعمل بظاہر حیرت انگیز ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ شام میں مبینہ طور پر ایک ہزار چار سو بے گناہ مردوں ،عورتوں اور بچوں کے قتل عام کی مذمت کرکے کوئی غلطی کی گئی ہے۔ میں یہ بھی نہیں کہتا کہ اس سے صدر امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا جنھوں نے گذشتہ سال کہا تھا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال امریکا کے لیے سرخ لکیر ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ انھوں نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے دعووں پر ابھی تک کچھ نہیں کیا ہے۔ واضح رہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے مبینہ واقعات کی اب اقوام متحدہ کے معائنہ کار بر سر زمین تحقیقات کر رہے ہیں۔

میں نے ''حیرت'' کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ امریکی انتظامیہ اس کو ہلاکت کا ہتھیار قرار دے رہی ہے چہ جائیکہ وہ اس کو قتل کا فعل قرار دے ،جس کی کوئی معنویت بھی بنتی ہے۔

دمشق کے نواح میں واقع غوطہ کے مشرق اور مغرب میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں غالباً ایک ہزار چار سو افراد مارے گئے ہیں لیکن اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق شام میں مارچ 2011ء سے جاری بحران کے بعد ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔

کیا یہ تمام اموات ''گہری تشویش'' کا معاملہ نہیں تھیں۔ صرف اس لیے کہ یہ لوگ روایتی بموں سے مارے گئے تھے؟ کیا اس وقت لوگوں کی زندگی کی کم اہمیت رہ جاتی ہے جب انھیں جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنا کر مار دیا جاتا ہے؟ یا کیا جب شامی رجیم کے ٹینک ان پر چڑھا دیے جاتے ہیں یا جنگی طیارے ان پر آگ برساتے ہیں تو اس کے نتیجے میں مرنے والوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟

کیا امریکی صدر نے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ ملاحظہ نہیں کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دس لاکھ سے زیادہ شامی بچے دربدر ہو کر مہاجر بن چکے ہیں۔

کیا یہ گہری تشویش کا معاملہ نہیں ہے کہ یہ بچے اب معمول کی زندگی نہیں گزار سکیں گے؟ ان میں سے بہت سوں کے والدین نہیں رہے ہیں، ان کے گھر تباہ ہوگئے اور ان کا کوئی شہر نہیں رہا ہے کہ جس کو وہ اپنا کہہ سکیں؟

اس تمام تر سنگینی کے باوجود میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اس مرحلے میں کسی نہ کسی شکل میں مداخلت کچھ نہ کرنے سے تو بہتر ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس ابھی تک اس قسم کا بیان جاری کرنے میں تردد کا شکار ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کو امریکا کے ''سرخ لکیر'' کے انتباہ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

اگر صدر اوباما کے مشیر ابھی تک یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے بشارالاسد کی رخصتی کے لیے کوئی سیاسی ڈیل طے پاسکتی ہے تو پھر یہ واقعی ایک بہت گہری تشویش کا معاملہ ہوگا۔

بشارالاسد کبھی برضا ورغبت شام نہیں چھوڑیں گے۔ اس کے بجائے وہ پورے ملک کو آگ میں جھونک دیں گے اور اس ملک میں جو کوئی بھی موجود ہے، اس کو قتل کردیں گے (وہ یہ کام اس وقت بڑی خوبی سے انجام دے رہے ہیں) اس کے بعد ہی وہ ایک جلا وطن صدر کے طور پر بیرون ملک قدم رکھیں گے۔

مزید برآں انھیں یقین ہے کہ ایرانی ،حزب اللہ اور روسی ابھی تک ان کی حمایت کررہے ہیں۔ ان تینوں نے شامی صدر کے دفاع میں لڑنے کے لیے برسرزمین جنگجو اور ہتھیار بھیجنے کے وعدے کررکھے ہیں۔

بشارالاسد کے لیے حقیقی خطرہ جیش الحر ہے۔ اس نے 2012ء کے وسط سے نمایاں پیش قدمی ہے اور یہ سب کچھ سعودی عرب اور بعض دوسرے ممالک کی جانب سے مالی ،فوجی اور ٹیکٹیکل مدد کی بدولت ہوا ہے۔ تاہم جیش الحر کا انحصار ناتجربہ کار جنگجوؤں پر ہے جبکہ اس کے مقابلے میں حزب اللہ کے سالہا سال کے تجربے کے حامل جنگجو ہیں۔ مزید برآں جیش الحر کئی مواقع پر جہادیوں کے زیراثر بھی آیا ہے اور یہ جہادی شام کے بارے میں کوئی عالمی اقدام نہ ہونے سے پیدا ہونے والے خلاء میں معرض وجود میں آئے۔

بشارالاسد حزب اختلاف کے محاذ میں موجود اختلافات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور انھیں مسلسل ریڈیکلز ( سخت گیر بنیاد پرست) قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تحت سرکاری ٹیلی ویژن نے حزب اختلاف پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا الزام عاید کیا ہے۔

شام کا سرکاری میڈیا مارچ 2011ء میں صدر بشارالاسد کے خلاف پُرامن احتجاجی مظاہروں کے آغاز کے بعد سے پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ بشارالاسد جو مرضی کہتے رہیں لیکن اس سے وہ اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتے کہ ان کے خاندان نے گذشتہ چارعشروں کے دوران آمرانہ انداز میں حکمرانی کی ہے اور یہ ان کا پرامن مظاہروں کے ردعمل میں متشدد اور مہلک ردعمل ہی تھا جس نے ملک کو اس حال تک پہنچا دیا ہے۔

شام میں جاری بحران کے خاتمے اور حقیقی پیش رفت کے لیے امریکیوں کو اس مرتبہ محض وقتی غیظ وغضب کے اظہار کے بجائے کچھ عملی اقدام کرنا ہو گا۔

(ترجمہ: امتیازاحمد وریاہ)

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں