قوم پرستی، بالی ووڈ، کرکٹ اور جمہوریت کی”افیون“؟

منو بھائی
منو بھائی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ہندوستان کے سینئر صحافی اور سابق سفارتکار کلدیپ نیئر کے مطابق رواں عشرے میں معیشت کی سالانہ دس فیصد شرح نمو کے دعوے کے باوصف خط غربت (بیس روپے روزانہ کمائی) سے نیچے زندگی گزارنے والے بھارتی باشندوں کی تعداد اس عشرے میں سات کروڑ ستر لاکھ سے بڑھ کر آٹھ کروڑ چھتیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

ہندوستان کی بہت بڑی مڈل کلاس ا یک طویل عرصے سے کنزومر کلاس کے طور پر عالمی مارکیٹ اکانومی کی خصوصی توجہ کی مرکز رہی ہے۔ اس مڈل کلاس کی توجہ اس کے اصل بنیادی مسائل سے ہٹانے کے لئے حکمرانوں نے اسے قوم پرستی، بالی ووڈ، کرکٹ اور جمہوریت کی افیون میں مبتلا کر رکھا ہے اور گزشتہ صدی کی آخری دہائیوں میں ابھرنے والی ہندو بنیاد پرستی اور سرمائے کے عالمی بحران کی گود سے ابھرنے والی بے روزگاری نے بھی بھارتی مڈل کلاس کو بہت منفی انداز میں متاثر کیا ہے۔ مغربی سامراجی اجارہ اداریوں کے خلاف ا یل کے ایڈوانی کی بیان بازی کے بعد قوی امکان ہے کہ بھارتی کارپوریٹ نریند را مودی کو 2014ء کے عام انتخابات سے بطور وزیر اعظم برآمد کروانا چاہے گی۔

بہت حد تک معتبر سمجھنے جانے والے”پاکستان اکنامک واچ“ (PEW) کے مطابق پاکستان کی کل لیبر فورس(چھ کروڑ چھتیس لاکھ) کا نصف بے روزگاری کی زد میں ہے جو تقریباً تین کروڑ اٹھارہ لاکھ افراد بنتے ہیں۔ پاکستان کی ایک بدنصیبی یہ بھی ہے کہ اس کے80 فیصد برسرروزگار لوگ اپنے روزگار سے مطمئن نہیں ہیں اور یہ صورتحال بے روزگاری سے بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر دس میں سے چھ یعنی ساٹھ فیصد محنت کش اپنی صلاحیت اور اہلیت سے کم درجے پر کام کر رہے ہیں حق محنت سے کم معاوضے وصول کرنے پر مجبور ہیں۔ زنانہ افرادی قوت میں یہ شرح 73 فیصدی سے بھی زیادہ ہے۔

سٹیٹ بنک کے اعداد و شمار بھی یہ حقیقت نہیں چھپا سکتے کہ پاکستان میں 73 فیصد روزگار بلیک اکانومی سے منسلک ہے۔ اس غیر قانونی معیشت میں بے روزگاروں کو خام مال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو بے روزگاری کی اذیت سے بچنے کے لئے خرکاروں کے چنگل میں پھنس جا تے ہیں اور انتہائی کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور کردئیے جاتے ہیں۔ یہی وہ کالی معیشت ہے جس کو زندہ رکھنے کے لئے انسانی جانوں کو قربان کیا جاتا ہے جس کاثواب قربان ہونے والوں کی بجائے قربانی لینے والوں کو جاتا ہے۔ آسمان سے گر کر کھجور میں اٹکنے والے یا کڑھائی سے اچھل کر آگ میں گرنے والے وہ بے روزگار ہیں جو تخریب کاروں اور دہشتگردوں کے قابو میں آجاتے ہیں۔

دہشتگردی کے خلاف لائحہ عمل تیار کرنے کے سلسلے میں ایک رپورٹ کچھ یوں ہے کہ ملک کے تازہ ترین خان اعظم ایک صوبے میں حکومت کے قیام کے بعد دہشتگردی کے قلع قمع کے لئے ”سونامی“ تیار کرنے کی غرض سے ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس کی صدارت فرما رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا یا معلوم کرنا چاہا کہ ملک میں طالبان کی تعداد کتنی ہے اور وہ کہاں کہاں کس کس حالت، صورت اور شکل میں پائے جاتے ہیں۔ مجموعی طور پر ان کی تعداد کے علاوہ ان کے گروپوں ،فرقوں اور گروہوں کی تعداد کتنی ہوگی اور ان کے ساتھ کب، کہاں اور کیسے ملاقات یا مذاکرات کئے جا سکتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں