.

میں واپس آرہا ہوں

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ اپریل 2009ء تھا، امریکی میڈیا میں یہ بحث جاری تھی کہ اگر پاکستان ٹوٹ گیا تو اس کے ایٹمی ہتھیاروں کو القاعدہ اور طالبان کی دسترس سے کیسے محفوظ رکھا جائے؟اس بحث کی وجہ پینٹا گون کے ایک مشیر ڈیوڈ کیلکولن بنے تھے،جنہوں نے واشنگٹن پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان ستمبر 2009ء تک ٹوٹ سکتا ہے۔ انہی دنوں مجھے ایشیاء سوسائٹی نیویارک، برلکے یونیورسٹی کے گریجویٹ سکول آف جرنلزم اور کامن ویلتھ کلب آف کیلی فورنیا میں لیکچرز کی دعوت ملی۔ تینوں جگہ یہی سوال مجھ سے بار بار پوچھا گیا کہ پاکستان کیوں ٹوٹنے والا ہے اور پاکستان ٹوٹ گیا تو آپ کے ایٹمی ہتھیاروں کا کیا ہوگا؟ میں نے تینوں جگہ ایک ہی جواب دیا کہ پاکستان ستمبر 2009ء تک نہیں ٹوٹے گا بلکہ تمام تر خارجی و داخلی خطرات کے باوجود قائم و دائم رہے گا۔ کامن ویلتھ کلب آف کیلی فورنیا میں مجھ سے مقامی صحافیوں اور سیاستدانوں کے علاوہ طلبہ و طالبات نے بھی سوالات کئے ۔ یہ ساری تقریب کچھ ٹی وی چینلز پر براہ راست نشر ہورہی تھی۔

تقریب کے اختتام پر مجھے ایک بزرگ ملے۔ انہوں نے تعارف کروا کر کہا کہ وہ میرے دادا مرحوم کے شاگرد اور اصغر سودائی کے دوست ہیں اور کوئی ضروری بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں ہجوم میں گھرا ہوا تھا لیکن اس بزرگ کے ایک نوجوان پوتے نے مجھے ہجوم سے نکالا اور ایک کافی شاپ میں لے گیا۔ بزرگ کا نام خواجہ قیوم تھا۔ 1975ء میں امریکہ چلے آئے تھے۔ سان فرانسسکو میں کاروبار کرتے تھے۔ عالم شباب میں اصغر سودائی کے ساتھ مل کر مشاعروں میں نظمیں پڑھا کرتے تھے اور میرے دادا عبدالعزیز میر سے اپنی نظموں اور غزلوں کی اصلاح کرایا کرتے تھے۔ خواجہ قیوم نے بتایا کہ وہ اور اصغر سودائی میرے دادا عبدالعزیز میر کے ہمراہ سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور لاہور میں آل انڈیامسلم لیگ کے جلسوں میں شریک ہوتے اور پاکستان کے حق میں نظمیں سناتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد میرے دادا ا ور اصغر سودائی کی سیاسی سرگرمیاں ختم ہوگئیں لیکن خواجہ قیوم صاحب نے پہلے حسین شہید سہروردی اور پھر محترمہ فاطمہ جناح کا بھرپور ساتھ دیا۔ خواجہ صاحب نے بتایا کہ 1965ء میں انہوں نے جنرل ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن میں فاطمہ جناح کا بھرپور ساتھ دیا۔

جنرل ایوب خان کے خلاف نعرے بازی پر ان کے خلاف کراچی میں ایک مقدمہ قائم ہوا اور پولیس نے گرفتار کر کے انہیں بہت مارا۔ ایک نیک دل پولیس افسر صباح الدین جامی کی مداخلت سے خواجہ قیوم کی رہائی ہوئی لیکن ان کا دل ٹوٹ گیا۔ کچھ سال کے اندر اندر پاکستان بھی ٹوٹ گیا۔ خواجہ قیوم نے میرے دادا اور اصغر سودائی سے کہا کہ اب ہمیں پاکستان چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ باقی ماندہ پاکستان بھی ٹوٹ جائے گا۔ میرے دادا نے خواجہ قیوم سے کہا کہ باقی ماندہ پاکستان نہیں ٹوٹے گا۔ پاکستان چھوڑ کر بھاگنا بزدلی ہو گی۔

1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع کیاتو خواجہ قیوم نے پاک ٹی ہاؤس لاہور میں شاعروں اور ادیبوں کو اس آپریشن کے خلاف ریگل چوک میں مظاہرے کی تجویز دی۔ تجویز نظر انداز کردی گئی۔ خواجہ قیوم کہتے ہیں کہ انہوں نے پاک ٹی ہاؤس میں موجود شاعروں اور ادیبوں کو خوب برا بھلا کہا، حبیب جالب اور ظہیر کاشمیری کے سوا کوئی فوجی آپریشن کی مخالفت پر تیار نہ تھا۔ انہی دنوں میرے والد وارث میر نے ایک تقریب میں وزیر اعظم بھٹو کی موجودگی میں بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کی مخالفت کی جس پر انہیں تنگ کیا جانے لگا۔ خواجہ قیوم کو پتہ چلا تو میرے والد کے پاس آئے اور کہا کہ آؤ پاکستان چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں۔ میرے والدنے ا نکار کردیا۔1975ء میں خواجہ قیوم پہلے شکاگو اور پھر اپنے ایک بھائی کے پاس سان فرانسسکو آ گئے۔

انہوں نے بتایا کہ 1987ء میں آپ کے والد وارث میر کا انتقال ہوا تو وہ بھی اپنے ایک قریبی عزیز کی عیادت کے لئے پاکستان آئے ہوئے تھے۔ حبیب جالب نے خواجہ قیوم کو کہا کہ جنرل ضیاء الحق نے وارث میر کو زہر دے کر قتل کردیا۔ خواجہ صاحب میرے دادا عبدالعزیز میر کے پاس تعزیت کے لئے آئے اور کہا کہ اگر آپ پاکستان چھوڑ دیتے تو آج اپنے بیٹے کی لاش پر نہ روتے۔ میرے دادا خاموش رہے پھر کہا کہ وارث میر میرا بیٹا تھا ، میں قائد اعظم کا سپاہی تھا میرا بیٹا پاکستان کا سپاہی تھا وہ پاکستان کو اندر سے توڑنے والوں کے خلاف لڑتا ہوا شہید ہو گیا۔ مجھے فخر ہے کہ وہ پاکستان سے بھاگا نہیں بلکہ یہیں پر دشمنوں کے ہاتھوں شہید ہو گیا یہ سن کر خواجہ قیوم واپس لوٹ آئے۔

یہ ساری کہانی سنانے کے بعد خواجہ قیوم نے مجھے کہا کہ آج میں نے کامن ویلتھ کلب میں آپ کی باتیں سنیں۔آپ کو یقین ہے کہ پاکستان نہیں ٹوٹے گا لیکن بیٹا جی پاکستان تو ٹوٹ چکا ہے۔ پاکستان تو اسی دن ٹوٹ گیا تھا جب جنرل ایوب نے دھاندلی کے ذریعہ فاطمہ جناح کو شکست دی۔خواجہ صاحب نے کہا کہ میں پاکستان کا دشمن نہیں بلکہ آپ کے دادا اور اصغر سودائی کے ساتھ مل کر تحریک پاکستان میں نظمیں کہتا تھا مجھے سچ بولنے کی پاداش میں غدار قرار دیا گیا لہٰذا میں نے پاکستان چھوڑ دیا۔ آج آپکے والد اور دادا دنیا میں نہیں رہے مجھے لگتا ہے کہ آپ کو بھی ماردیا جائیگا، آپ پاکستان چھوڑ دیں۔ اپنے بچوں کی زندگیاں خطرے میں نہ ڈالیں۔ پاکستان نہیں بچے گا، میں نے خواجہ صاحب کی گفتگو تحمل سے سنی، شاید ان کی نیت ٹھیک تھی لیکن تجزیہ غلط تھا۔

اگلے دن وہ مجھے ایشیاء سوسائٹی سان فرانسسکو کی کانفرنس میں پھر ملے۔ کہنے لگے تم یہاں جگہ جگہ کہتے پھرتے ہو کہ پاکستان نہیں ٹوٹے گا اگر ٹوٹ گیا تو تمہیں کوئی دوبارہ لیکچر کیلئے نہیں بلائے گا۔ پوچھنے لگے کہ تمہیں پاکستان پر اتنا یقین کیوں ہے؟ میں نے کہا کہ جنرل ضیاء نے میرے باپ کو غدار کہا اور مشرف نے مجھے غدار کہا لیکن پاکستان کے عام لوگ مجھے نہیں ان ڈکٹیٹروں کو غدار سمجھتے ہیں۔پاکستان کسی فوجی جرنیل نے نہیں ایک سیاستدان نے بنایا تھا اور سیاستدان ہی پاکستان بچائیں گے۔ خواجہ قیوم نے کہا کہ زرداری اور نواز شریف ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہیں، یہ پاکستان کیا بچائیں گے دونوں کو جنرل کیانی کھا جائے گا۔ میں نے اختلاف کیا تو خواجہ صاحب نے کہا کہ اگر 2013ء میں الیکشن ہوگیا تو شاید پاکستان بچ جائے ورنہ نہیں بچے گا۔

2009ء کے بعد میری خواجہ قیوم سے ملاقات ہوئی نہ رابطہ ہوا۔22اگست2013ء کی رات گئے انہوں نے بڑی جدوجہد کے بعد فون پر مجھ سے رابطہ کیا۔ کہنے لگے کہ میں گیارہ مئی کے بعد سے سوچ رہا تھا کہ تم سے بات کروں لیکن22اگست کے ضمنی الیکشن پر جیو ٹی وی کی ٹرانسمیشن میں تمہیں سننے کے بعد رہا نہ گیا اور کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ میں نے سوچا کہ خواجہ صاحب پھر کہیں گے پاکستان چھوڑ دو پاکستان ٹوٹنے والا ہے۔ خلاف توقع انہوں نے کہا کہ 22اگست کے ضمنی الیکشن کے نتائج بتارہے ہیں کہ پاکستان بدل رہا ہے۔

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت تھی لیکن وہاں غلام احمد بلور نے عمران خان کی نشست چھین لی۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی وہاں تحریک انصاف نے شہباز شریف کی نشست چھین لی۔ اس کا مطلب ہے کہ دھاندلی نہیں ہوئی۔ ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑنے والی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں بھارتی جارحیت کے خلاف قرار داد منظور کی۔ نواز شریف اور آصف زرداری بھی سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کررہے ہیں،ووٹر بھی سمجھدار ہوچکے ہیں۔ اچھے امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں جہاں امیدواراچھا نہ لگے وہاں اپنے لیڈروں کی عزت کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ بھی کم ہوگئی ہے، لگتا ہے ڈرون حملے بھی کم ہوجائیں گے، شاید اب کوئی جنرل ایوب، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف بھی نہ آئے۔ لگتا ہے تم ٹھیک کہتے ہو، پاکستان نہیں ٹوٹے گا۔

کچھ دیر خاموشی کے بعد خواجہ قیوم نے کہا بلوچستان میں گڑ بڑ ہے مجھے 1975ء میں پاکستان نہیں چھوڑنا چاہئے تھا، مجھے پاکستان میں رہ کر بلوچستان والوں کا ساتھ دینا چاہئے تھا۔ میں بہت بوڑھا ہوگیا ہوں لیکن لڑنے کے لئے تیار ہوں۔ خواجہ صاحب نے پرعزم لہجے میں کہا کہ بیٹا میں پاکستان واپس آرہا ہوں میں غلط تھا تمہارا دادا اور والد ٹھیک تھے پاکستان چھوڑنا میری غلطی تھی میں غلطی کے ازالے کے لئے واپس آرہا ہوں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ''

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.