.

یہ جھوٹ بولنے والے فاشسٹ

انصار عباسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیر اعظم نواز شریف نے عسکریت پسندوں کو مذاکرات کی دعوت کیا دی کہ شرارتوں اور سازشوں کا بازار گرم ہو گیا۔ امریکا یا غیروں کو چھوڑیں یہاں تو ہمارے لبرل فاشسٹ کا ایک گروہ کسی طور پر اس کے لیے تیار نہیں۔ وہ پاکستان کی گلیوں بازاروں کو آگ اور خون کے کھیل سے پاک نہیں دیکھنا چاہتے۔

وہ امریکا و برطانیہ کی طرف سے افغانستان میں طالبان سے بات چیت کرنے پر معترض تو نہیں مگر انہیں اس بات پر سخت تکلیف ہے کہ وزیراعظم نے پاکستانی عسکریت پسندوں سے بات چیت کی بات کیوں کی۔ وزیراعظم کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے، اُن کے کارٹون بنائے جا رہے ہیں، لکھ کر اور بول کر حکومت کو ملٹری آپریشن کے مشورہ دیئے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اگر بات چیت سے مسئلہ حل ہو توگولی کی زبان سے بات کیوں کی جائے۔ میاں صاحب نے بارہا کہا کہ اگر برطانیہ آئرلینڈ کا مسئلہ بات چیت سے حل کیا جا سکتا ہے اور اگر گورے دہشت گردوں سے ہاتھ ملا سکتے ہے تو ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ مگرہمارے لبرل فاشسٹ کوئی ایسی مثال سننے کے لیے تیار نہیں۔ ہندوستان چاہے ہمارے فوجیوں کو شہید کرے، ہمارے پانی پر ڈاکے ڈالے، کشمیر میں خون کی ہولی کھیلے اور وہاں اپنا ناجائز قبضہ قائم رکھے، سمجھوتہ ایکسپریس کو آگ لگا کر درجنوں پاکستانیوں کو جلا کر راکھ کر دے ، دوستی بس پر حملہ کروادے، اپنے غنڈوں کے ذریعے ہمارے ہائی کمیشن کا گھیراؤ کرائے لیکن اس سب کے باوجود مشورہ دیا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ بھول کر ہندوستان سے بات چیت کرو تاکہ ہمارے درمیان دوستی ہو اور دیرپا امن قائم ہو سکے۔

برطانیہ و فرانس کی مثالیں دی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ لڑائی مسئلے کا حل نہیں ہوتا بلکہ بڑے سے بڑے مسئلے کا حل بات چیت کی میز پر ہی نکلتا ہے۔ اسی اصول کی بات بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے کی جاتی ہے مگر جب تحریک طالبان کی بات ہو یا دوسرے عسکریت پسند گروپوں کی توبات چیت کی سخت مخالفت کی جاتی ہے اور فیصلہ کن ملٹری آپریشن کی بات کی جاتی ہے۔ ان لبرل فاشسٹوں کے اصل چہرے اُس وقت بے نقاب ہو جاتے ہیں جب وہ پاکستان دوست طالبان گروپوں بشمول حقانی گروپ کے خلاف بھی آرمی آپریشن کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ یہ تو حافظ سعید اور جماةالدعوہ کے خلاف بھی کارروائی پر زور دیتے ہیں یعنی ہر وہ بات کرتے ہیں جو امریکا و انڈیا کی خواہش ہے۔

یہ دیکھنے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ پاکستان کے دشمن تو اس آگ و خون کی ہولی کو مزید پھیلانے کی سازش کر رہے ہیں۔ چلیں اگر کسی کا رائے کا اختلاف ہے تو اس پر تو اعتراض نہیں ہونا چاہیے مگر ایسے لوگوں کے بارے میں کیا کہئے جو بات چیت کے آپشن کو ناکام بنانے کے لیے جھوٹ بولیں، غلط پروپیگنڈہ کریں اور ہر ایسی کوشش کریں کہ حکومت کی بات چیت کا آپشن کامیاب نہ ہو۔ جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ آرمی ڈائیلاگ کے لیے تیار نہیں اور ملٹری آپریشن چاہتی ہے۔ جھوٹ بولا گیا کہ کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ بات چیت صرف اس صورت میں ہو گی جب طالبان عسکریت پسند ہتھیار ڈال دیں گے۔ اُسی روز جب یہ خبریں میں نے ٹی وی چینلز پر سنیں تو سوچا کیوں نہ وزیر اطلاعات پرویز رشید سے بات کی جائے۔ جب پرویز رشید صاحب کو فون کیا تو وہ پہلے ہی میڈیا کے اس جھوٹ پر کافی پریشان تھے۔

انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ پہلے ہی کچھ ٹی وی چینلز کے اعلیٰ حکام سے بات کر چکے ہیں کہ اس جھوٹ کو بند کیا جائے۔ پرویز رشید نے افسوس کا اظہار کیا کہ میڈیا میں کچھ لوگ ایک ایسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کانتیجے میں مزید خون خرابہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تو چاہتی کہ دہشت گردی جہاں ہے اُس کو وہاں سے ختم کیا جائے مگر کچھ لوگ شاید اس بات کے خواہاں ہیں کہ اس خون خرابہ کو مزید بڑھایا جائے۔ ہفتہ کے روز میری وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے بھی بات ہوئی تو انہوں نے بھی اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وہ بات جس کا کابینہ کی دفاعی کمیٹی میں تذکرہ تک نہ ہوا اور جو حقیقت کے بالکل برخلاف ہے اُسے ٹی وی چینلز پر چلا دیا گیا۔ چوہدری نثار نے تو کہہ دیا کہ اس وقت ان کی حکومت ماسوائے ڈائیلاگ (اور وہ بھی غیر مشروط )کے کسی دوسرے آپشن پر بات نہیں کرنا چاہتی۔

وزیر داخلہ نے تو یہ تک کہہ دیا کہ ہمیں یقینا چالیس پچاس ہزار پاکستانیوں کی جانوں کا انتہائی افسوس ہے مگر ہمیں یہ بھی دیکھنا اور سمجھنا چاہیے کہ پاکستانی طالبان اور عسکریت پسندی کی طرف جانے والوں کے معصوم بچے اور لوگوں کو بے جا مارا گیا۔ ماشااللہ چوہدری نثار نے وہ بات کی اور اس حل پر زور دیا جو ریاست کی اصل ذمہ داری ہے۔ ویسے تو ماضی میں بھی دو پارلیمانی قراردادیں اور ایک پی پی پی کی حکومت کیAPCکے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی اورمولانا فضل الرحمن کی طرف سے بھی بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنسوں نے بھی ڈائیلاگ کی ہی بات کی مگر ماضی کی حکومتوں نے ان قراردادوں پر عمل کیا اور نہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش کی۔ اب جب کہ موجودہ حکومت اس سلسلے میں ایک سنجیدہ کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہے تو غلط فہمیاں پیدا کرنے والے، بات چیت کو سبوتاژ کرنے والے اپنا کام دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس طرح کی سازشیں کرنے والے تحریک طالبان پاکستان اور دوسری عسکریت پسند قوتوں کو بھی ڈائیلاگ سے باز رکھنے کے لیے سرگرم ہوں گے۔

مسئلہ چاہے بلوچستان کا ہو یا وزیرستان کا، مسئلے کا حل بات چیت سے ہی ممکن ہے جس کی کامیابی کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی نظر رکھنا ہے کہ جھوٹ بول کر، پروپیگنڈہ کر کے کون کون غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.