.

اوباما کا نیا کتا

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردو ادب میں کتوں کی بے ادبی پر مبنی محاورے دیکھ کر لگتا ہے یہ کوئی رذیل اور حقیر مخلوق ہے مگر امریکی کتوں کو انسانوں کی سی زندگی بسر کرتے دیکھتا ہوں تو لگتا ہے ہمارے ڈاگ بیشک کُتے ہوں گے مگر ان کے پوڈلز نام لے کر پکارے جاتے ہیں مثلاً چارلی‘ جونی‘ وکی۔ رچرڈ نکسن نے تو ٹیریئر نسل کے اپنے پالتو کتے کانام ”پاشا“رکھا تھا۔ امریکہ کے قصر سفید میں کتے پالنے کی روایت بہت پرانی ہے البتہ حالات و واقعات اور ضرورت کے پیش نظر ان کی تعداد گھٹتی بڑھتی رہتی ہے مثلاً کینیڈی کے پاس 15 اور لنڈن بی جانسن کے پاس 5 پوڈلز تھے۔ جمی کارٹر نے صرف ایک ہی کتا پالا مگر رونالڈ ریگن کے آتے ہی پالتو کتوں کی تعداد بڑھ گئی۔

بل کلنٹن نے بھی ”بڈی“ کو بہت ناز ونعم میں پالا مگر جب ”بڈی“ مر گیا تو شاہی پروٹوکول اور اعزاز کے ساتھ اس کی تدفین ہوئی۔ جارج بش جونیئر کو بھی کتے پالنے کا بہت شوق تھا لہٰذا اس نے تین وفادار کتے رکھے ہوئے تھے اپنے پیشرو امریکی صدور کی طرح اوباما بھی کتا پال اسکیم کو بھرپور انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن پہلی بار انہوں نے قصر سفید میں سیاہ فام کتوں کو جگہ دی ہے۔ اگرچہ ان کے پاس ”بو“ نام کا ایک ڈاگ پہلے سے موجود تھا مگر اس کی تنہائی دور کرنے کے لئے امریکی صدر نے ایک نیا کتا گود لیا ہے جس کا نام سَنی (sunny) رکھا گیا ہے ۔سازشی تھیوریوں پر یقین رکھنے والے نامعقول و ناہنجار لوگ انٹرنیٹ پر بے پرکی افواہیں اڑا رہے ہیں کہ اس نئے پالتو کتے کا تعلق مصر سے ہے مگر خود امریکی صدر نے وضاحت کر دی ہے کہ سَنی کایہ نام خوش اخلاق ہونے کی وجہ سے دیا گیا ہے اسے امریکہ ہی کے ایک بریڈنگ سینٹر سے گود لیا گیا ہے اس کے باپ کا نام ہنری ہے جو 2010ء میں چل بسا تھا مگر اس کے منجمد سپرم موجود تھے اس لئے سنی کی پیدائش ممکن ہو سکی۔

یہ بات بھی نہایت دلچسپ ہے کہ امریکہ میں انسانوں کو بھلے اپنے باپ کا نام معلوم نہ ہو مگر کتوں کو خریدتے وقت ان کا شجرہ نسب ضرور دیکھا جاتا ہے۔ سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے اوباما نے بتایا کہ ”سَنی“ پہلے والے پوڈلز سے زیادہ وفادار اور اطاعت شعار ہے۔ جوش و جذبے میں یہ ”بو“ سے کہیں آگے ہے مگر اس کے باوجود وائٹ ہاوٴس میں سلیقے اور قرینے سکھانے میں خاصا وقت لگے گا اور آداب سکھانے کے لئے تربیت کا سلسلہ جاری ہے ظاہر ہے امریکی صدر کو ہاتھ ملانے والے کتے کوئی معمولی کتے تو نہیں ہوتے۔ کب کہاں کس پر بھونکنا ہے‘ کب کس پر جھپٹنا ہے اور کب دم دبا کر بھاگنا ہے‘ یہ باتیں تربیت کا بنیادی خاصا ہوتی ہیں ورنہ تو امریکی کتے بھی پاکستانی کتوں کی طرح ایسے ڈھیٹ اور ہٹ دھرم ہو جائیں کہ ان کی دُم کبھی سیدھی ہی نہ ہو۔

امریکیوں کی اعلیٰ ظرفی دیکھیں وہ اپنے پالتو کتوں کے گلے میں پٹے نہیں ڈالتے تاکہ ان کی اہانت و تحقیر نہ ہو اور کسی کو یہ معلوم بھی نہ ہو کہ یہ کتا کس گھاٹ کا ہے ہاں البتہ جب کوئی پالتو کتا پاگل ہو جاتا ہے اور اپنے مالکوں پر ہی بھونکنے لگتا ہے تو امریکی اسے انسانوں کی موت مارنے میں ہرگز دیر نہیں لگاتے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکی سفاک اور بے رحم ہیں‘ یہ اپنے کتوں کو نہ صرف پیار کرتے ہیں بلکہ انہیں کھلی چھوٹ بھی دیتے ہیں کہ جسے چاہیں کاٹ کھائیں۔ صدر روز ویلٹ کا پالتو کتا ”Fala“ بہت خونخوار تھا‘ اس نے فرانسیسی سفیر پر پیشاب کر دیا۔ یہی کتا تھا جس نے شاہ ایران کی پتلون پھاڑ ڈالی۔ جب روزویلٹ چوتھی مرتبہ صدر منتخب ہونے کے لئے مہم چلا رہے تھے تو ایک انتخابی جلسے کے دوران معلوم ہوا ”فالا“ پیچھے رہ گیا ہے۔ فوراً ایک طیارہ روانہ کیا گیا جو پالتوکتے کو پروٹوکول کے ساتھ لے کر آیا۔ مخالفین نے تنقید کی تو روز ویلٹ نے کہا ‘ میں اپنے آپ پر تنقید برداشت کر سکتا ہوں ‘ میری بیوی اور فیملی پر تنقید گوارا ہے مگر میرے کتے کو کوئی برا بھلا کہے یہ برداشت نہیں ہوگا۔

میں نے سنا ہے امریکیوں کو پاکستانی گدھے بھی بہت پسند ہیں مگر کتوں کے معاملے میں افریقہ اور مشرق وسطیٰ کو ترجیح دی جاتی ہے۔امریکی کتوں سے بہت پیار کرتے ہیں ۔جب جارج بش نے عراق پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تو عوامی ردعمل کے پیش نظر رمسفیلڈ اور بش کسی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں حکمت عملی طے کرنے کے لئے بیٹھے۔ رمسفیلڈ نے نقشہ نکال کر میز پر رکھا اور کہا جناب صدر! ہم عراقیوں کو نجات دلانے کے لئے بمباری کریں گے تو ڈھائی لاکھ بے گناہ عراقی مردو خواتین اور بچے مارے جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ایک کتا بھی مارا جائے ۔ایک امریکی جو کان لگا کر یہ سب باتیں سن رہا تھا‘ نہایت حیرت سے بولا‘ کتا کیوں مارا جائے گا؟ رمسفیلڈ نے مسکراتے ہوئے کہا‘ دیکھا جناب صدر! اس قدر اہم معاملہ یہاں عوامی جگہ پر ڈسکس کرنے کا مقصد صرف یہی تھا کہ میں اپنی بات سچ ثابت کر دکھاوٴں ۔ میں نے کہا تھا نا ڈھائی لاکھ انسانوں کی موت پر بھونچال نہیں آئے گا مگر ایک کتے کی موت پر بہت احتجاج ہوگا اس لئے ہم توجہ ہٹانے کے لئے اس کتے کو بھی مار دیتے ہیں جو پاگل ہو گیا ہے اور ہم پر ہی بھونکنے لگا ہے۔

امریکی صدور نے تو ہر دور میں ہر رنگ و نسل اور قومیت کے کتے پالے ہیں مگر امریکی عوام بھی کتا پالن اسکیم میں کسی سے پیچھے نہیں امریکہ کے ہر دوسرے شخص کے پاس پالتو کتا ہے۔ گھروں میں شوہر بھلے کتوں جیسی زندگی گزاریں مگر کتے نہایت ٹھاٹھ باٹھ سے رہتے ہیں۔ اگر شوہر کو بیوی کا کتا پسند نہ ہو اور دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو بیوی کس کو لات مار کر نکالے گی یہ بتانے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ امریکہ میں کتوں کے الگ قبرستان ہیں۔ ان کی تدفین اور آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے ہر شہر میں فنرل سینٹرز موجود ہیں ۔گزشتہ چند سال سے ایک ایسی صنعت بھی وجود میں آ چکی ہے جو کتوں کی موت کے بعد انہیں حنوط کر کے اسی گھر میں مورتی کی طرح سجانے کا کام کرتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکیوں نے2012ء کے دوران 61 ارب ڈالر پالتو جانوروں پر خر چ کئے جن میں سے 53ارب ڈالر صرف کتوں کی دیکھ بھال پر خرچ کئے گئے ۔ امریکہ میں ایک کتا پالنے پر اوسطاً 2000 ڈالر سالانہ خرچ ہوتے ہیں۔ ہر کتے پر سالانہ 356 ڈالر تو صرف علاج کی مد میں خرچ ہوتے ہیں۔

اب آپ یہ حساب کتاب لگانے نہ بیٹھ جائیں کہ ہمارے ملک کا سالانہ بجٹ کتوں پر خرچ کی گئی امریکی رقم کے مقابلے میں کتنا ہے اور ہماری حکومت اپنے ہاں انسانوں کے معالجے پر فی کس سالانہ کتنا بجٹ مختص کرتی ہے کیونکہ یہ مقدر کی بات ہے کہ کہیں انسان سے کتوں جیسا سلوک ہوتا ہے اور کہیں کتوں کے ناز نخرے اٹھائے جاتے ہیں۔آپ نے پطرس بخاری کا مضمون ”کتے“ تو پڑھا ہو گا مگر وہ تحریر خالصتاً دیسی کتوں کے لئے تھی بدیسی کتوں کا معاملہ کچھ اور ہے وہاں جا کر ہمارے سب محاورے الٹ ہو جاتے ہیں مثلاً ہمارے ہاں بھونکنے اور کاٹنے والے کتے الگ ہوتے ہیں مگر امریکہ کے پالتو کتے ہر فن مولا ہوتے ہیں وہ کب بھونکتے بھونکتے کاٹ جائیں‘ کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہاں البتہ ایک محاورہ بہت برموقع و بر محل ہے اور وہ ہے شیش محل کا کتا۔ چونکہ شیش محل میں شیشے لگے ہوتے ہیں اور آئینے میں اپنی شکل دیکھ کر کتے کو لگتا ہے کئی کتے اس کی طرف آرہے ہیں اس لئے وہ بلاتوقف بھونکتا ہی چلا جاتا ہے۔ مجھے لگتا ہے اوباماکا نیا پالتو کتا ”سَنی“ بھی شیش محل کا کتا ہے اس لئے مسلسل بھونکتا ہی چلا جارہا ہے۔ کبھی سوچتا ہوں کہ امریکی آقاوٴں کے اشاروں پر ناچنے والے پالتو کتے پاگل کتوں کے انجام سے عبرت حاصل کیوں نہیں کرتے اور یہ کیوں نہیں سوچتے کہ انہیں بھی کبھی پاگل کتا سمجھ کر انسانوں کی موت مارا جا سکتا ہے لیکن پھر خیال آتا ہے بیچارے ہیں تو کتے ‘ایک کتے میں سوچنے سمجھنے اور سبق حاصل کرنے کی صلاحیت کہاں ہوتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.