.

بھارت کے ساتھ دوستی نا ممکن

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بلاشبہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ’’ان دنوں کو ہم انسانوں کے درمیان دہراتے اور پھیرتے رہتے ہیں‘‘ یہ بات کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، اسی آیت کریمہ کا ایک آسان ترجمہ ہے جو مشہور ہو کر ایک محاورہ بن چکا ہے، اپنے علوم اور تاریخ سے بے خبر مسلمان بھی اسے کسی یورپی مورخ کی بات سمجھتے اور اسے سن کر پسند کرتے ہیں، اس سے مرعوب ہوتے ہیں۔ یہ بات مجھے ان دنوں اپنے وزیر اعظم جناب میاں محمد نواز شریف کی ایک بات سے یاد آئی ہے۔ انھوں نے پوری وضاحت کے ساتھ بااصرار کہا ہے کہ انھیں جو اس قدر بڑی تعداد میں ووٹ ملے ہیں وہ بھارت کے ساتھ بہتر اور دوستانہ تعلقات کے حق میں قومی رائے ہے کیونکہ انھوں نے اپنی انتخابی تقریروں میں بھارت کے ساتھ غیر معمولی حد تک قریبی تعلقات کی وکالت کی۔

کرش انڈیا کا نعرہ نہیں لگایا اور قوم نے ان کو اس قدر ووٹ دے کر گویا ان کی بھارت سے متعلق پرامن پالیسی کی تائید کی ہے اور اس طرح تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا ہے۔ وہ یوں کہ ذرا یاد کیجیے صدر ضیاء الحق صاحب نے اپنے اور اسلام کے لیے ایک ریفرنڈم کرایا تھا۔ اس ریفرنڈم کے دن ووٹوں کے ڈبے خالی لیکن اخبارات بھرے ہوئے تھے، جالب نے اس دن کو ہو کے عالم سے تعبیر کیا تھا لیکن یہ تو ایک بگڑا ہوا شاعر تھا۔

جناب صدر ضیاء الحق نے ریفرنڈم کے نتائج سے خوش ہو کر کہا کہ میرے اور اسلام کے حق میں اس قومی تائید کا مطلب ہے کہ میں آیندہ پانچ برس کے لیے اسلام کی خاطر حکمرانی جاری رکھوں جیسے میاں صاحب نے الیکشن کے نتائج کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ اپنی پالیسی کے مطابق تعلقات کا دوستانہ دور شروع کریں گے یعنی ریفرنڈم سے جو نتیجہ صدر صاحب نے نکالا تھا ایسا ہی ایک نتیجہ میاں صاحب نے بھی نکالا ہے اور یوں تاریخ نے ہمارے سامنے ہی اپنے آپ کو دہرا دیا ہے۔ تاریخ کو اتنی جلدی اپنے آپ کو دہرانے کے مواقع کم ہی ملتے ہیں مگر پاکستان میں ایسا ہو سکتا ہے اور سب کے سامنے ہوا بھی ہے۔ بلاشبہ ہم دنوں کو انسانوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا جناب صدر نے اپنی عمر میاں صاحب کو دے دی تھی، لگتا ہے اور بھی بہت کچھ دے دیا تھا۔ جس میں ایک تو ایسے ہی عجیب و غریب نتیجے نکالنے کا ہنر تھا۔

جناب وزیر اعظم کی یہ بات اپنی جگہ لیکن ان کے مشیر خارجہ جناب سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ایک گولی کا جواب پانچ گولیوں سے نہ دینے تک بھارت باز نہیں آئے گا۔ سرتاج عزیز صاحب نے وہ بات بیان کر دی جو اصل حقیقت ہے۔ ان دنوں بھارت ہر روز ہمارے جوانوں افسروں اور عام شہریوں کو مار رہا ہے۔ بھارت یہ سب کچھ اپنی طرف سے بلا وجہ اور بلا اشتعال کر رہاہے۔ بہانہ یہ ہے کہ وہاں الیکشن ہونے والے ہیں اور پاکستان اور مسلمان دشمن پارٹی کو کامیاب کرنے کے لیے پاکستانیوں کی خونریزی ضروری ہے۔ یہ عجیب الیکشن ہیں کہ ان میں کسی کی کامیابی کے لیے کسی دوسری قوم کے شہریوں کو قتل کرنا ضروری ہے۔

بھارت تو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سمجھا جاتا ہے، تعداد کے لحاظ سے نہ کہ جمہوری اصولوں کے لحاظ سے، تو ایسی جمہوریت کیا ہوئی جس میں الیکشن جیتنے کے لیے دوسروں کو قتل کرنا ضروری ہو۔ الیکشن کا بہانہ ہو نہ ہو بھارت اور اس کے ہندو مسلم دشمن قوم ہیں اور تاریخ اس دشمنی پر گواہ ہے۔ کبھی الیکشن کو بہانہ بنا کر مسلم دشمنی کی جاتی ہے اور کبھی بھارت ماتا کے اتحاد کے نام پر، کشمیر پر قبضے کا جواز تو بھارت کے دانشوروں کے پاس بھی موجود نہیں ہے۔ دنیا کے کسی پلیٹ فارم پر بھارت کے نمایندے کشمیر پر قبضہ کا جواز پیش نہیں کر سکے۔ان کے نامور فلسفی اور دانشور عالمی اداروں میں اپنے کمزور مقدمے کا دفاع نہ کر سکے اور بے ہوش ہو کر فرش پر گرتے رہے مثلاً کرشنا مینن وغیرہ۔

پاکستان کی آزادی کی 66 برس کی عمر میں یہ پہلی حکومت ہے جو بھارت کے ساتھ دوستی کا نعرہ لے کر آئی ہے لیکن حکومت کو ووٹ بھارت دوستی کے لیے ہر گز نہیں ملے اور نہ مل سکتے ہیں۔ پاکستان کے عوام بھارت اور ہندو کی دشمنی سے دہکتے رہتے ہیں، کون پاکستانی کشمیرکو بھول سکتا ہے اور بھارت بھی پاکستان دشمنی کا کون سا موقع ہاتھ سے جانے دیتا ہے چنانچہ ہمارے مشیر خارجہ نے درست کہا ہے کہ بھارت کی ایک گولی کا جواب پانچ گولیاں ہیں جو شاید حکومت کا نیا موقف نہیں ہے۔

سرتاج عزیز صاحب کا حال اس شاعر کا ہے جو موج میں آ کر اپنے شعر گا رہا تھا کہ پاس پڑا ہوا اپنا طنبورہ دکھائی دیا تو اسے بھی بجانا شروع کر دیا لیکن طنبورہ کوئی اور دھن نکالنے لگا جو شاعر کی موسیقی کے مطابق نہیں تھی، یہ دیکھ کر شاعر کو حیرت ہوئی کہ میں کیا گا رہا ہوں اور میرا طنبورہ کیا دھن نکال رہا ہے۔ اس پر اس نے یہ مشہور مصرعہ کہا کہ ع من چہ می سرائیم و طنبورہ من چہ می سرائید۔ یہ مصرعہ مجھے مشیر خارجہ کی بات سے یاد آیا کہ حکومت کچھ کہہ رہی اور اس کا طنبورہ کوئی دوسری دھن نکال رہا ہے۔ بھارت دشمنی کی مثال آج کے سیلاب کو لیجیے۔ بھارت اپنے دریاؤں کا پانی ہماری طرف کھول کر ہمیں برباد کر رہا ہے اور بات صرف سیلاب تک محدود نہیں بھارت اگر آج سیلاب سے ہمیں مار رہا ہے تو کل وہ ہمیں پانی روک کر پیاس سے مارنے کا پروگرام بنا رہا ہے اور ہمارے دریاؤں پر بند پر بند بناتا جا رہا ہے۔

ایک عام آدمی بے اختیار ہے وہ کیا کر سکتا ہے مگر ہمارے حکمران مجرمانہ حد تک خاموش کیوں ہیں گویا ہم سرکاری اور حکومتی سطح پر بھی بھارت کی ہر میدان میں بالادستی کو قبول کر چکے ہیں۔ صاف بات یہ ہے کہ بھارت کی برتری اور بالادستی میں ہماری موت ہے۔ میں یہ مبالغہ نہیں کر رہا اور نہ ہی بھارت دشمنی کا کوئی شوق ہے بلکہ تاریخی حقائق اور دونوں قوموں کے تہذیبی ثقافتی اور عام رہن سہن کے اختلافات ہیں۔ ہم چاہیں نہ چاہیں یہ سب ہمیں تاریخ نے ورثے میں دیا ہے اور ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ یہ کم از کم ایک ہزار برس کا قصہ ہے اور یہ تہذیبی اختلافات دونوں قوموں کی رگ و پے میں سمائے ہوئے ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں ملا سکتے، ہم ایک دوسرے کے باورچی خانے میں نہیں جا سکتے، ہم ایک گھڑے سے پانی نہیں پی سکتے، مجبوری ہے ورنہ ہم ایک ہی فضا میں سانس بھی نہیں لے سکتے۔ ہندو ہندوستان کو ماں کا درجہ دیتے ہیں اور کسی دوسری قوم کا یہاں وجود برداشت نہیں کرتے۔

وہ مسلمانوں کو کسی دوسری نسل اور قوم کے فرد سمجھتے ہیں، کجا کہ ان کی ماتحتی میں زندگی بسر کریں چنانچہ اندرا نے اسی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ اور انتقام سقوط ڈھاکا سے لیا تھا۔ حیرت کیجیے ان پاکستانی مسلمانوں پر جو ہندو سے تعاون کرتے رہے اور ملک توڑ دیا۔ لگتا ہے ان کی نسل میں بھی کسی ہندو کا خون تھا۔ ویسے ہمارے اکثر مغل حکمران بھی کسی نہ کسی راج کماری کی اولاد تھے، اگر یہ سلسلہ بعد میں بھی چلتا رہا تو کیا حرج ہے۔ لیکن ہمیں اس سلسلے کی کڑیوں کو ذہن میں تو رکھنا چاہیے۔ عرض یہ ہے کہ جناب میاں صاحب محترم بھارت کے ساتھ بھائی چارہ ممکن نہیں کیونکہ ہندو آپ کو تسلیم ہی نہیں کرتا البتہ ان دنوں امریکا مسلم دشمن بھارت پر الٹا ہوا ہے اس پر بات لازماً ہو گی۔

بہ شکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.