نواز شریف نیویارک اور من موہن واشنگٹن میں؟

عظیم ایم میاں
عظیم ایم میاں
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

وزیراعظم نواز شریف کے دورہ اقوام متحدہ کے دوران ملاقات و مذاکرات اور دیگر مصروفیات کے بارے میں تفصیلات فائنل ہونے میں ابھی وقت مزید لگے گا لیکن جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کی ”سائڈ لائنز“ پر امریکی صدر اوباما سے ملاقات کے انتظامات اور ایجنڈے پر بھی کام جاری ہے اور انہی ذرائع کے مطابق کشمیر کی کنٹرول لائن پر تلخیوں اور بھارت میں عام انتخابات کی سیاسی ضرورتوں اور پارٹی کی مجبوریوں کے باوجود بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے نواز شریف کی نیویارک میں ملاقات تاحال ”آن“ ہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کشمیر کی کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیزیوں اور پاکستانی فوجیوں کی شہادتوں پر بھی پاکستانی خاموشی‘ صبر و برداشت کے باوجود اس نواز، من موہن ملاقات میں پاکستان کو کیا حاصل ہو گا؟

فی الوقت تو ابھرنے والا خاکہ یہ بتا رہا ہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سیشن کے دوران نواز شریف، بارک اوباما ملاقات نیویارک میں ہوگی اور یہ ٹھوس حقائق ایجنڈے اور بامقصد انداز میں ہوگی کیونکہ یہ پاکستان اور امریکہ دونوں کی لازمی ضرورت ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس طرح مستقبل کے امریکی اتحادی بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ کو واشنگٹن میں مکمل پروٹوکول کے ساتھ من موہن سنگھ، بارک اوباما ملاقات و مذاکرات کیلئے کام ہورہا ہے اسی انداز پروٹوکول کے ساتھ اور خدمات کے اعتراف کے طور پر ماضی کے امریکی اتحادی پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو بھی ستمبر کے آخری ایام واشنگٹن میں نواز، اوباما ملاقات و مذاکرات کیلئے مدعو کیا جاتا مگر بھارتی نفسیات ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری دس سالہ جنگ میں ایک گولی چلائے بغیر ہی افغان جنگ کے تمام فوائد اور ثمرات حاصل کرنے والے اور امریکی حمایت سے علاقے اور عالمی سطح پر ایک طاقتور ملک کے طور پر ابھرنے والے بھارت کا ایک اہم نفسیاتی مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ دنیا پاکستان کو بھارت کے ہم پلہ ایٹمی صلاحیت والے ملک کے طور پر سمجھنا اور سلوک کرنا چھوڑ دے۔ تنازع کشمیر اور ایٹمی صلاحیت و خطرات کا حوالہ دے کر جنوبی ایشیاء میں پاکستان اور بھارت کو تنازع اور ایٹمی خطرات کے حامل دو ممالک کا یکساں ذکر بھی بھارت کو پسند نہیں رہا بلکہ وہ پاکستان کو بھی بنگلہ دیش‘ سری لنکا‘ نیپال وغیرہ کی طرح ایک سٹیلائٹ اسٹیٹ اور بھارتی سرحدوں سے متصل حفاظت کرنے والے چھوٹے ممالک کی صف میں کھڑا دیکھنا چاہتا ہے۔

اس دور کی تلخ حقیقت بھی کچھ یوں ہے کہ خود پاکستانی ڈکٹیٹروں اور حکمرانوں نے اپنے ذاتی اقتدار کو مستحکم اور طویل کرنے کی خاطر اپنے غلط فیصلوں اور عمل کی بدولت ایسی صورتحال پیدا کر دی کہ پاکستان کو دوسروں کی جنگوں میں اتحادی بناکر پاکستانی معیشت‘ معاشرت سیاست اور قومی صلاحیت کو تباہی سے دوچار کرکے پیچھے دھکیل دیا گیا اور سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ اور دہشت گردی کے خلاف موجودہ جنگ میں بھارت نے ایک بھی گولی چلائے بغیر اپنی معیشت کو سدھارتا رہا ہے لہٰذا موجودہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ بھارت معیشت‘ علاقائی برتری‘ فوجی طاقت اور عالمی افادیت کے شعبوں میں پاکستان سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔ وہ اب دنیا سے بھی یہی چاہتا ہے کہ اسلام آباد اور نئی دہلی کو مساویانہ اہمیت کی روش‘ ختم کردی جائے۔ غیر ملکی شخصیات بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دوروں کے بجائے صرف نئی دہلی آیا کریں اور یہ نیا رجحان اب بڑی حد تک دنیا نے بھی اپنالیا ہے لہٰذا قرآئن یہی بتارہے ہیں کہ نواز شریف کسی دھوم دھڑکے‘ مکمل پروٹوکول کے بغیر ہی امریکی صدر اوباما سے نیویارک میں ملاقات کریں گے جبکہ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ 27 ستمبر کو واشنگٹن جاکر مکمل پروٹوکول اور ایجنڈے کے ساتھ بارک اوباما سے ملاقات و مذاکرات کریں گے۔

یہ بات بھی واضح ہے کہ نواز شریف، بارک اوباما ملاقات بامقصد‘ ٹھوس ایجنڈے اور زمینی حقائق کے تناظر میں ہوگی کیونکہ یہ پاکستان اور امریکہ دونوں کی حقیقی اور عملی ضرورت بھی ہے اور پاک، افغان خطے سے امریکی افواج کے انخلاء کے ساتھ بدلتے ماحول اور مناظر کا تقاضا بھی یہی ہے۔ نیویارک میں نواز، من موہن ملاقات اس کی افادیت اور عملی نتائج کے بارے میں ابھی کچھ کہنا یا تبصرہ کرنا مناسب نہیں لیکن اہل پاکستان واضح طور پر سن لیں کہ وزیراعظم نواز شریف اپنے دورہ اقوام متحدہ کے بعد اہم اور اضافی ایجنڈے اور بہت سے بھارتی اور امریکی مطالبات کی غیر اعلانیہ فہرست کے ساتھ پاکستان لوٹیں گے۔ آپ مانیں یا نہ مانیں موجودہ پاکستان کو مسائل سے نکالنے اور کسی بہتر سمت کی جانب لے جانے کیلئے نوازشریف کو پرویزمشرف اور آصف زرداری حکومت کے پیدا کردہ مسائل‘ غلط فیصلوں اور احمقانہ عمل کا کوڑا صاف کرنے کی انتہائی مشکل ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ عالم تو یہ ہے کہ اقتدار سنبھالے تقریباً تین ماہ گزر چکے نئی خارجہ حکمت عملی تو دور کی بات ہے پاکستانی قیادت تو ابھی تک واشنگٹن جیسے اہم ترین دارالحکومت میں بھی کوئی فعال اور چیلنج قبول کرنے کی صلاحیت کے حامل پاکستان سفیر کا تقرر نہیں کرسکی بلکہ تاثر کچھ یوں ہے کہ نئی پاکستانی قیادت نے واشنگٹن سے تعلقات کو ”ڈاؤن گریڈ“ کرکے ناظم الامور کی سطح پر رکھنے کا فیصلہ کررکھا ہے۔ خدا کرے پاکستانی قیادت جلد واشنگٹن میں ایک باصلاحیت اور محنتی سفیر مقرر کرکے اس مذاق اور تاثر کا خاتمہ کرے اور اگر نوازشریف، امریکہ تعلقات کی رفتار اور سمت سے مطمئن ہیں تو پھر واشنگٹن میں متعین موجودہ متحرک سفارت کاروں کی ٹیم کو ہی ترقیاں دے کر سفیر اور دیگر عہدوں کو پُر کر دیا جائے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے اور یقیناً وزیراعظم نواز شریف کو بھی بخوبی یاد ہوگا کہ امریکی صدر بل کلنٹن کے دور میں وزیراعظم کی حیثیت سے جب نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک آئے تو نیویارک میں پہلے نواز شریف، بل کلنٹن ملاقات ہوئی اور اسی روز سہ پہر کو صدر بل کلنٹن نے بھارتی وزیراعظم سے بھی ملاقات کی اور شام کو ان دونوں ملاقاتوں کا دورانیہ بھی تقریباً یکساں تھا اور علامتی اعتبار سے بھی پاکستان اور بھارت دونوں کیلئے مساویانہ اہمیت کا انداز امریکی بریفنگ میں محسوس کیا گیا۔ اب جنوبی ایشیاء کے حوالے سے امریکیوں کا ذہن‘ ضرورت‘ تناظر اور ترجیحات بدل چکے ہیں۔ پاکستانی قیادت کو اعتماد اور وقار کے ساتھ اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے اپنے مستقبل کیلئے لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔ بھارتی قیادت نے اس صدی کی عالمی طاقتوں کے موڈ‘ مقاصد اور منصوبوں کو سمجھ کر اپنے مفادات کو بھی ان کے ساتھ ہم آہنگ کرلیا ہے۔ دریائے نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر کی سرحدوں تک کے ممالک میں جاری شکست و ریخت اور زوال کی حقیقتوں پر بھی ہمیں نظر ڈالنے کی فرصت نہیں ہے۔ کمزوری اور انتشار کی حالت میں تصادم یا خود سپردگی کے دونوں آپشنز ہی مہلک ہوتے ہیں۔ مصر‘ سوڈان‘ شام‘ عراق‘ لیبیا‘ تیونس‘ مراکش‘ یمن‘ صومالیہ وغیرہ میں جو تباہی آ چکی اور مزید جو آنے والی ہے وہ دراصل ان ملکوں کے حکمرانوں کی وہ غلطیاں ہیں جن کی سزا ان علاقوں کے عوام کو ایک طویل عرصہ تک ملنے کا امکان ہے۔

پاکستان اور اس کی حکمراں قیادت کو بھی ایسی ہی تباہی اور چیلنج کا سامنا ہے۔ سفارت کاری میں محض جوش سے ہاتھ ملانے اور تعریفی لہجوں کا مقصد کچھ بہت زیادہ نہیں ہوتا۔ صدر آصف زرداری کے پہلے دورہ اقوام متحدہ کے دوران ملاقات کے دوران بھارتی وزیراعظم نے صدر زرداری کے ساتھ بغل گیر ہو کر جوش کے اظہار سے میڈیا کو پوز دیا لیکن عملاً زرداری صاحب کے دور صدارت کے دوران بلوچستان میں بھارتی مداخلت اور تخریب کاری کا کام جاری ہے۔ ہمیں سفارت کاروں کیلئے جنوبی امریکہ کے چھوٹے ممالک سے کافی کچھ سیکھنا چاہئے جو تصادم سے تباہی کے بجائے ڈائیلاگ و حکمت عملی سے کام لیتے ہیں مشکل حالات سے اعتماد‘ دانشمندی‘ مثبت اور پُرامن طریقوں سے بھی چھوٹے ملک طاقت وقت کے پنجہ سے محفوظ رہنے کا گر جانتے ہیں، نواز شریف جرأت کے ساتھ قوم کی رہبری کریں۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں