نیشنل سیکورٹی کونسل

ڈاکٹر فرقان حمید
ڈاکٹر فرقان حمید
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

موجودہ دور میں دنیا کے کئی ایک ممالک میں آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے نیشنل سیکورٹی کونسل اپنے فرائض ادا کررہی ہیں۔ متحدہ امریکہ اور ترکی کے نیشنل سیکورٹی کونسل کے ادارے اپنے اپنے ملک میں قومی سلامتی کے قیام میں بڑا نمایاں کردار ادا کررہے ہیں جس سے متاثر ہو کر ہندوستان اور جاپان نے بھی نیشنل سیکورٹی کونسل جیسے ادارے قائم کئے۔ ترکی جوکہ سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے بعد جدید جمہوریہ ترکی کے نام سے نئے سرے سے معرضِ وجود میں آیا تھا فوج نے جمہوریت کو صرف اپنے ہی شکنجے میں پروان چڑھانے کا موقع فراہم کیا۔ فوج نے ملک میں اپنی گرفت کو جاری رکھنے کے لئے سب سے پہلے 1933ء میں ملی یکجہتی کمیٹی (MBK )کے نام سے ادارہ قائم کیا جس کا مقصد ملک کے تمام انتظامی امور پر نظر رکھنا تھا اور کسی گڑ بڑ کی صورت میں فوری طور پر اقدامات اٹھانا تھا۔

ترکی میں 1960ء کے مارشل لا کے بعد نئی فوجی حکومت نے ملک کے نظم و نسق پر اپنی حاکمیت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے نیا آئین تشکیل دیا جس میں کمیٹی کا نام تبدیل کرکے اعلیٰ ملی دفاعی کونسل رکھ دیا گیا اور پھر جنرل کنعان ایورن کے بارہ ستمبر 1980ء کے مارشل لا نے اس کونسل پر نیشنل سیکورٹی کونسل کا لیبل لگاتے ہوئے سات نومبر 1982ء کے ریفرنڈم میں اسے قانونی حیثیت دلوا دی اور یوں یہ ادارہ ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا۔ ترکی میں نیشنل سیکورٹی کونسل کا ادارہ صدر مملکت کی نگرانی میں کام کرتا ہے جس میں وزیراعظم، نائب وزیراعظم،تینوں مسلح افواج کے سربراہان، جنڈا مری کے سربراہ ، وزیر انصاف، وزیر قومی دفاع، وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ اس کے مستقل اراکین ہوتے ہیں اور نیشنل سیکورٹی کونسل ان وزراء کے علاوہ کسی دیگر وزیر یا پھر کسی ادارے کے سربراہ کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دے سکتی ہے۔ ایردوان دور سے قبل تک ترکی کی نیشنل سیکورٹی کونسل دراصل پردے کے پیچھے سے ملک کا نظم و نسق چلاتی رہی ہے۔ نیشنل سیکورٹی کونسل میں کئے جانے والے فیصلوں پر کابینہ اگرچہ آئینی لحاظ سے عملدرآمد کرنے کی پابند نہ تھی بلکہ اسے صرف سفارشات ہی پیش کرنے کا حق حاصل تھا لیکن اس کے باوجود نیشنل سیکورٹی کونسل اپنی قوت بازو سے ان فیصلوں پر عملدرآمد کراتی رہی ہے اور حکومت اس ادارے کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور رہی ہے۔

اس بارے میں سابق وزیراعظم مرحوم نجم الدین ایربکان کو بڑی دلچسپ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت کے صدر سیلمان دیمرل کی قیادت میں ہونے والے نیشنل سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں فوج نے چند ایک سفارشات پیش کیں جن پر ایربکان نے اجلاس میں تو ان سفارشات پر عملدرآمد کرانے کی حامی بھرلی لیکن جب انہوں نے کابینہ میں ان سفارشات کو منظوری کے لئے پیش کیا تو مخلوط حکومت کی کابینہ نے ان سفارشات کو مسترد کر دیا جس پر ایربکان نے نیشنل سیکورٹی کونسل کے اگلے اجلاس تک ٹال مٹول کا سلسلہ جاری رکھا لیکن اگلے اجلاس کے بعد نیشنل سیکورٹی کونسل نے صدر کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے ایربکان حکومت ہی کی چھٹی کرادی۔ وزیراعظم ایردوان سے قبل تک ترکی میں نیشنل سیکورٹی کونسل کا ادارہ ترکی کا سب سے مضبوط ادارہ تصور کیا جاتا تھا۔اس ادارے کو سینما ، ٹیلی ویژن ،ریڈیو اور اخبارات پر مکمل گرفت حاصل تھی۔ اس کے علاوہ کمیشن فور ہائر ایجوکیشن(َyok) اور ہائی بورڈ فور ریڈیو اینڈ ٹی وی (RUTUK) جیسے ادارے بھی نیشنل سیکورٹی کونسل کی نگرانی میں کام کرتے رہے ہیں لیکن ایردوان نے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ہی اس ادارے کی طرف خصوصی توجہ دی اور23 جولائی 2003ء میں ترکی کی قومی اسمبلی میں ساتویں اصلاحاتی پیکیج کو منظور کراتے ہوئے نیشنل سیکورٹی کونسل کے اختیارات کم کردیئے گئے اور اس پیکیج کو ترکی میں ”خاموش انقلاب“کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ اس اصلاحاتی پیکیج کے تحت نیشنل سیکورٹی کونسل کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کردیا گیا اور اس ادارے کو صرف سفارشات پیش کرنے کا پابند بنا دیا گیا اور اس کے سیکریٹریٹ کو پہلے سول سیکرٹری جنرل کی نگرانی میں دے دیا گیا اور یوں2004ء میں اس پر باقاعدگی سے عملدرآمد شروع کردیا گیا۔ اس سے قبل ہر ماہ منعقد ہونے والے نیشنل سیکورٹی کے اجلاس کو ہر دو ماہ بعد منعقد کرنے کا بھی پابند بنادیا گیا۔ ترکی میں اب یہ ادارہ فوج اور سول حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کررہا ہے۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے ترکی میں نیشنل سیکورٹی کونسل کو دو مختلف ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایردوان سے قبل کا دور جس میں نیشنل سیکورٹی کونسل ہی ملک کے درپردہ انتظامی امورچلاتی تھی (اس بارے میں1992ء میں تانسو چیلر کے دور کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل دوان گیوریش نے برملا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا” ترکی ایک ملٹری اسٹیٹ ہے“ جبکہ دوسرا دور ایردوان کا دور ہے جس میں نیشنل سیکورٹی کونسل سویلین حکومت کے تابع اپنے فرائض ادا کررہی ہے۔ اب آتے ہیں پاکستان میں نیشنل سیکورٹی کونسل کی جانب۔ پاکستان میں سب سے پہلے 1969 ء میں نیشنل سیکورٹی کونسل کو اس وقت کے صدر جنرل یحییٰ خان کی قیادت میں قائم کیا گیا اور میجر جنرل غلام عمر کو 25 دسمبر 1969ء میں اس ادارے کا پہلا سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ یہ ادارہ اس وقت صرف ایک مشاورتی ادارے کی حیثیت سے قائم کیا گیالیکن یہ ادارہ صرف کاغذات پر ہی نظر آیا اور ذالفقار علی بھٹو دور میں اس ادارے کو کاغذات سے مٹادیا گیا۔ اس کے بعد ضیاء الحق نے 29 مارچ 1985ء میں اس ادارے کو نئے سرے سے منظم کیا اور میجر جنرل راوٴ فرمان کو اس کا ایڈوائزر مقرر کیا اور یہ ادارہ 1988ء تک کام کرتا رہا۔ بے نظیر بھٹو نے برسراقتدار آنے کے بعد آئین میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے اس ادارے کو کالعدم قرار دے دیا اور اس کی جگہ ڈیفنس کیبنٹ کمیٹی تشکیل دے دی۔

نوازشریف کے دوسرے دور میں اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل جہانگیر کرامت نے چھ اکتوبر 1998ء کو ایک بار پھر نیشنل سیکورٹی کونسل قائم کرنے کی تجویز پیش کی لیکن اپنی اس تجویز پر ان کو اپنی نوکری ہی سے ہاتھ دھونا پڑے اور نوازشریف نے نیشنل سیکورٹی کونسل کا نام سننا ہی گوارہ نہ کیا۔ 1999ء میں جنرل مشرف نے نوازشریف کا تختہ الٹتے ہوئے ملک میں ایک بار پھر نیشنل سیکورٹی کو نسل کو تشکیل دے دیا اور 2004ء میں وزیراعظم شوکت عزیز کے دور میں پارلیمینٹ میں بل منظور کرتے ہوئے نیشنل سیکورٹی کونسل کوآئینی حیثیت دلوادی۔2008ء سے یہ ادارہ غیر فعال ہے اور اس کی جگہ ڈیفنس کمیٹی آف دی کیبنٹ کام کررہی ہے اور سرتاج عزیز اس وقت نیشنل سیکورٹی کونسل کے ایڈوائزر کی حیثیت سے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف جنہوں نے اس سے قبل جنرل جہانگیر کرامت کو نیشنل سیکورٹی کونسل کی تشکیل کی تجویز پیش کرنے پر مستعفی ہونے پر مجبور کردیا تھا، اب خود ملک میں نیشنل سیکورٹی کونسل کے قیام کی ضرورت محسوس کرچکے ہیں اور اس ادارے کو نئے سرے سے تشکیل دینے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ وزراعظم نواز شریف کہ یہ فیصلہ بڑا درست اور بر وقت فیصلہ ہے کیونکہ پاکستان اس وقت شدید دہشت گردی کی لپیٹ ہے اور اس دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے ایک مستقل بنیادوں پر استوار ایسے مضبوط قومی ادارے کی ضرورت ہے جو صوبوں اور وفاق سے بالاتر ہو کر قوم کے مفاد کے لئے کام کرے۔ جب تک ملک میں مستقل بنیادوں پر نیشنل سیکریٹریٹ قائم نہیں کردیا جاتا اس ادارے سے ملک میں امن کے قیام کی توقعات وابستہ کرلیناغیر مناسب ہوگا۔ اس ادارے کو جتنا جلد قائم کیا جائے گا ، ملک کو اتنا ہی فائدہ ہوگا۔ Necta جیسے ادارے کو بھی اس نیشنل سیکورٹی کے تحت ہی کام کرنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہئے۔ اس ادارے کو تشکیل دیتے ہوئے اس میں سول اراکین کی تعداد فوجی اراکین کی تعداد سے دگنی سے زیادہ رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس ادارے پر سویلین اتھارٹی قائم رہے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کو اس ادارے کا سربراہ ہونا چاہئے اور اس کے دیگر اراکین میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، چاروں وزرائے اعلیٰ، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ ، وزیر دفاع اور وزیر خزانہ کو شامل ہونا چاہئے۔ نوازشریف کو اس ادارے سے خوف محسوس کرنے کے بجائے ترکی کے وزیراعظم ایردوان کی طرح اس پر اپنی گرفت قائم کرنی چاہئے اس سلسلے میں وزیراعظم نوازشریف ترکی کے وزیراعظم ایردوان کے تجربات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ ویسے بھی وزیراعظم ایردوان کے دل میں نوازشریف برادران کی بڑی قدر ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں