کرزئی کا دورہ پاکستان ۔ کیا حاصل ہوا؟

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

نائن الیون کے بعد بون کانفرنس کے نتیجے میں افغانستان کی صدارت کیلئے حامد کرزئی کا انتخاب شاید مناسب ترین انتخاب تھا۔ تب افغانستان کو نہ کوئی کمانڈر قابو کرسکتا تھا اور نہ زلمے خلیل زاد جیسا کوئی مغربی افغان۔ حامد کرزئی ماضی میں مجاہد بھی رہے تھے ‘ ابتدائی دور میں وہ طالبان کے بھی ساتھی تھے ۔ انہوں نے ہندوستان میں تعلیم حاصل کی تھی اور زندگی کا طویل عرصہ کوئٹہ‘ پشاور اور اسلام آباد میں گزارا تھا۔یوں دونوں ملکوں کے مزاج شناس تھے۔ وہ وسط ایشیائی ریاستوں میں بھی ربط و ضبط رکھتے تھے اور ایرانیوں کی ساتھ بھی ان کی زبان میں بات کرسکتے تھے ۔ مغربی لوگوں سے ان کی زبان میں بات کرسکتے تھے اوراسلام کے شیدائی افغانیوں سے ان کی زبان میں ۔ آئی ایس آئی نے امریکیوں کو ان کا نام تجویز کیا تھا اور سی آئی اے کے بھی وہ فیورٹ بن گئے تھے ۔ وہ پختون تھے لیکن دری بھی روانی کے ساتھ بول سکتے ہیں ۔ وہ شرابی تھے اور نہ بدکردار ۔ پابند صوم و صلوٰة تھے ۔ یوں وہ ہر حوالے سے بہترین انتخاب تھے لیکن افسوس کہ اپنی اور غیروں کی غلطیوں نے ان کو کامیاب کی بجائے ناکام حکمران ثابت کردیا۔ انہوں نے افغانستان کو ایک متفقہ آئین دیا اور انتخابات کروائے۔

افغانستان جیسے ملک میں یہ بہت بڑا کارنامہ تھا ۔ وہ ابتداء میں طالبان کے ساتھ مفاہمت کرنا چاہتے تھے اور اسی مقصد کیلئے انہوں نے پروفیسر صبغت اللہ مجددی کی سرکردگی میں مصالحتی کمیشن بھی قائم کردیا تھا لیکن امریکی چونکہ تب طاقت کے زعم میں مبتلا تھے ‘ اس لئے انہوں نے ان کی ان کوششوں کو ناکام بنایا اور نہ صرف یہ کہ ہر طرح کے طالبان کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی بلکہ بہت سارے عام افغانیوں کو بھی تشدد کے ذریعے طالبان کی طرف دھکیل دیا۔ افغانستان اور حامد کرزئی کے ساتھ دوسرا ظلم امریکیوں نے افغانستان کو سنبھالے بغیر عراق پر حملے کی صورت میں کیا۔ عراق پر حملے سے قبل افغانستان میں خودکش حملوں کا رواج نہیں تھا اور ملک استحکام کی طرف بڑھ رہا تھا لیکن عراق جنگ کے بعد ایک تو افغانستان کے اندر سازشی نظریات کو مزید فروغ ملا، خودکش حملوں کی ٹیکنالوجی ایران کے راستے افغانستان منتقل ہوئی جبکہ افغانستان سے زیادہ تر حربی وسائل اور قوت بھی عراق منتقل کرنی پڑی۔ عراق جنگ کے بعد چونکہ ایران کو یہ احساس ہوا کہ اسے افغانستان اور عراق کے درمیان سینڈوچ کیا جارہا ہے اس لئے اس نے درپردہ لیکن تیزی کے ساتھ القاعدہ اور طالبان سے روابط استوار کئے حالانکہ یہ دونوں ماضی میں اس کے دشمن نمبر ون تھے ۔ اسی طرح عراق کی ناجائز جنگ کی وجہ سے افغان جنگ کے بارے میں بھی عالمی حمایت میں کمی واقع ہوئی ۔

دوسری طرف روس اور چین جیسے ممالک کی افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی موجودگی سے متعلق تشویش مزید بڑھ گئی اور انہوں نے افغانستان میں نیٹو کی اندھی حمایت کی پالیسی پر نظرثانی شروع کردی۔ اسی طرح امریکہ اور اس کے اتحادی جنگ پر تو خطیر رقم خرچ کررہے تھے لیکن انہوں نے افغانستان کی تعمیر نو کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔ لوگوں کو روزگار کے کماحقہ مواقع تو نہ دئے گئے لیکن جنگی معیشت پر افغانوں کے انحصار کو مزید بڑھا دیا گیا۔ ظاہر ہے یہ سب فیصلے حامد کرزئی کے اختیار میں نہیں تھے۔ وہ گاہے بگاہے حسب استطاعت مزاحمت بھی کرتے رہے لیکن ان سب فیصلوں کی قیمت ان کو اور افغانوں کو ادا کرنا پڑی۔ پاکستان کو حامد کرزئی سے ناراض کرانے میں بھی بنیادی کردار امریکیوں نے ادا کیاکیونکہ ہندوستان کو افغانستان میں لانا اور استحقاق سے زیادہ کردار دینا ‘ بنیادی طور پر امریکیوں کی ترجیح تھی۔ حامد کرزئی نے تو روس سے بھی قربت بڑھانے کی بہت کوشش کی تھی لیکن جب امریکی نہیں چاہتے تھے تو انہوں نے روس کو افغان اینٹی نارکوٹکس فورس کے عہدیداروں کو تربیت دینے کی اجازت بھی نہ دی ۔

اسی طرح روس کی چیخ و پکار کے باوجود افیون کی کاشت کا تدارک نہ کیا جا سکا۔ ہندوستان افغان حکومت کا نہیں بلکہ امریکہ کا اسٹریٹجک اتحادی ہے اور اسی حیثیت میں اس نے اسے افغانستان میں گھسانے کی کوشش کی۔ اسی طرح پختونستان کے مسئلے کو زندہ کرنا اور بلوچ علیحدگی پسندوں کو افغانستان کے اندر پناہ دینا بھی بنیادی طور پر کرزئی کا نہیں بلکہ امریکہ اور برطانیہ کا منصوبہ تھا۔ اگر یہ سب کچھ کرزئی کی مرضی سے ہو رہا ہوتا تو پھر ایران مخالف جنداللہ کی قیادت کوکابل میں پناہ کیوں ملتی ۔ حامد کرزئی کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے اپنے ملک کو عالمی اور علاقائی قوتوں کا راجواڑہ بننے سے نہیں روکا اور اپنے پڑوسیوں کے خلاف امریکیوں کے منصوبوں کی اس شدت سے مخالفت نہیں کی جس شد ت سے کرنی چاہئے تھی ۔ جنرل پرویز مشرف نے کرزئی کے ساتھ یہ زیادتی کی کہ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین پر ہونے والی پاکستان مخالف سرگرمیوں کا الزام امریکہ کو دینے کی بجائے افغان حکومت کو دینے لگے ۔

دو نمبری امریکہ اور اس کے اتحادی کررہے تھے لیکن پرویز مشرف صاحب سزا حامد کرزئی اور افغانستان کو دیتے رہے ۔ دوسری طرف ذاتی طورپر بھی پرویز مشرف کا حامد کرزئی کے ساتھ رویہ درست نہیں تھا اور وہ ان کو ماضی میں آئی ایس آئی سے تنخواہ لینے والے معمولی کمانڈر کے طور پر ڈیل کرتے رہے حالانکہ تب وہ عالمی شخصیت اور افغانستان کے صدر بن چکے تھے ۔ امریکی دونمبریوں کے جواب میں جب پاکستان نے افغان طالبان سے متعلق نرمی کی پالیسی اختیار کی تو ظاہر ہے کہ اس کی قیمت امریکیوں سے بڑھ کر افغان حکومت کو ادا کرنی پڑی ۔ اب حامد کرزئی کا غصہ مزید بڑھ گیا لیکن بجائے اس کے کہ وہ پاکستان کے ساتھ غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ‘ انہوں نے مخالفانہ بیانات اور اقدامات شروع کردئے اور پاکستانی مفادات کے خلاف وہ کام جو پہلے امریکہ اور اس کے اتحادی کررہے تھے ‘ خود کرزئی حکومت کرنے لگی ۔ جواب میں پاکستان نے بھی مزید شدت کے ساتھ ان کے بازو مروڑنے شروع کئے ۔ ابتداء میں انہوں نے پاکستان اور ایران کی خاطر تو امریکیوں کو آنکھیں نہیں دکھائیں لیکن بعدازاں وہ امریکیوں کے سامنے بھی ڈٹ گئے ۔ اس وقت امریکی ان کو اپنے منصوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں اور وہ امریکہ کو اپنا درد سر لیکن مجبوراً ایک دوسرے کو برداشت بھی کررہے ہیں ۔

پاکستان اور ہندوستان سے متعلق بھی چونکہ انہوں نے اتار چڑھاؤ کی پالیسی اپنائے رکھی اس لئے نہ ہندوستان ان پر اعتماد کرنے کو تیار ہے اور نہ پاکستان ۔ داخلی محاذ پر کرزئی صاحب سے یہ غلطی سرزد ہوئی کہ پچھلے بارہ سالوں کے دوران انہوں نے اپنی جماعت بنائی اور نہ کسی اور پختون لیڈر کو ابھرنے دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت داخلی محاذ پر بھی ان کی لابی نہایت کمزور ہوگئی ہے ۔ شمال کی قوتیں متحد لیکن پختون منتشر ہیں ۔ حامد کرزئی کو شکوہ ہے کہ پاکستان نے طالبان کو تو امریکہ کے ساتھ بٹھادیا لیکن ان کے ساتھ ان کے مفاہمت کے عمل کو سپورٹ نہیں کررہا لیکن پاکستان کا موقف ہے کہ خود طالبان حامد کرزئی کے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہتے ۔ اس کے برعکس پاکستان کو شکوہ ہے کہ ایک طرف تو حامد کرزئی صاحب پاکستانی طالبان کو سپورٹ کررہے ہیں اور دوسری طرف امریکہ اور پاکستان کی امن کوششوں میں تعاون کرنے کی بجائے ہر وقت سبوتاژ کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔

حامد کرزئی کے حالیہ دورہ پاکستان کو بنیادی مقصد مذکورہ حوالوں سے ایک دوسرے کی شکایات کا ازالہ کرنا تھا ۔ اگرچہ ملاقاتیں نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی ہیں اور ذاتی طور پر حامد کرزئی اور میاں نوازشریف نے غیرمعمولی مسکراہٹوں اور محبتوں کا تبادلہ کیا ہے لیکن میرے نزدیک معاملہ اس قدر سادہ نہیں ۔ کیونکہ پچھلے چند سالوں میں جو غلط فہمیاں جنم لے چکی ہیں ‘ ان کو چند گھنٹوں میں دور نہیں کیا جاسکتا ۔ اب کی بار جو نیا عمل شروع ہوا ‘ اس میں محمود خان اچکزئی اور آفتاب شیرپاؤ بھی کردار ادا کررہے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ بھی حامد کرزئی کے روابط استوار ہوگئے ہیں لیکن تباہی سے بچنے کے لئے دونوں کو صدق دل کے ساتھ ماضی کی حرکتوں سے توبہ کرنا اور ایک نئے سفر کا آغاز کرنا ہوگا ۔ پاکستان کا فرض بنتا ہے کہ وہ امریکہ یا کسی باہر کی قوت پر مہربانیوں کی بجائے صدق دل کے ساتھ افغانستان میں مختلف دھڑوں کے درمیان مفاہمت کے لئے اپنا کردار ادا کرے اور حامد کرزئی صاحب کو چاہئے کہ وہ روایتی سفارتی اور سیاسی حربوں کی بجائے صدق دل کے ساتھ پاکستان مخالف سرگرمیوں کا راستہ روکیں اور پاکستان کے اندر امن و استحکام لانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں نہیں تو 2014ء کے بعد جو کچھ ہونے جارہا ہے ‘ اس کا نقصان نہ توامریکہ کو ہوگا نہ ہندوستان کو بلکہ افغانستان اور پاکستان جہنم بن جائیں گے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں