.

طالبان سے مذاکرات کیوں اور کیسے؟

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم جیسے طالب علم تو کب سے چیخ رہے تھے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ انتہاپسندی اور دہشت گردی ہے اور حالات جوں کے توں رہے تو پاکستان مکمل طور پر دہشتستان بن جائے گا لیکن اب تو ملک کے سب سے بڑے منصب پر براجمان‘ سب سے زیادہ باخبر سمجھے جانے والے انسان میاں نوازشریف نے بھی قوم کے سامنے اپنے خطاب میں اعلان کردیا کہ ریاستی ادارے مفلوج ہو چکے ہیں اوریہ کہ پاکستان مزید اس طرح نہیں چل سکتا۔

قوم کے سامنے جو نقشہ وزیراعظم پاکستان نے پیش کیا ہے‘ وہ بذات خود عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے حق میں سب سے بڑی دلیل ہے۔ پچھلے بارہ سال کے تجربے نے ثابت کر دیا کہ بوجوہ طاقت سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا اور جب پچھلے دس سالوں میں حل نہ ہوسکا تو اگلے دو تین سالوں میں بھی حل نہیں ہو سکتا۔ جس طرح‘ جس طریقے سے‘ جس یکسوئی اورجس ہمہ گیری کے ساتھ ریاستی طاقت کو حرکت میں لانا مطلوب ہے‘ ماضی کے کردار اور بعض مصلحتوں کی وجہ سے ہمارے ریاستی ادارے کبھی بھی اس طریقے سے طاقت استعمال نہیں کر سکتے اور یہی صورت حال ہم جیسوں کو عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کا حامی بناتی ہے۔

اسی بنیاد پر ایک عرصہ سے اس اس عاجز کی یہ رائے رہی ہے کہ بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی مذاکرات ہونے چاہئیں اور طالبان کے ساتھ بھی مفاہمت کے لئے سنجیدہ اور ہمہ جہت کوششیں ہونی چاہئیں۔ بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات پر تو تقریباً اتفاق رائے موجود ہے لیکن جب طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بات آتی ہے تو بعض حلقے سیخ پا ہو جاتے ہیں۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ ان لوگوں سے کیسے مذاکرات ہو سکتے ہیں کہ جنہوں نے ہزاروں پاکستانیوں اور سپاہیوں کو قتل کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کیا افغان طالبان نے افغان حکومت کے ہزاروں اہلکاروں کو اور پرفیسر برہان الدین ربانی جیسے رہنماؤں کو نہیں مارا ہے؟۔ کیا بلوچ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں معصوم آبادکار ‘ پنجابی اور سیکورٹی فورسزکے سینکڑوں اہلکار قتل نہیں ہوئے؟۔ جب افغان طالبان اور بلوچوں کے ساتھ اس بنیاد پر مذاکرات کی وکالت کی جاتی ہے کہ مزید قتل و غارت بند ہو تو پھر یہی دلیل پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حق میں کیوں نہیں دی جاتی ؟۔ دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ وہ تو پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے اور ریاستی رٹ کو تسلیم نہیں کرتے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ریاستی رٹ کو تسلیم کرتے تو پھر ان سے مذاکرات کی کیا ضرورت تھی؟ مذاکرات تو کئے اس لئے جائیں گے کہ انہیں آئین کی بالادستی کو ماننے اورریاستی رٹ کے آگے جھکنے پر آمادہ کیا جائے۔ آئین کو تو جنرل مشرف اور جنرل ضیاء الحق جیسے لوگ بھی نہیں مانتے تھے اور ماضی میں افغانستان ہجرت کرنے والے پختون اور بلوچ قوم پرست بھی نہیں مانتے تھے۔ پاکستانی ریاستی رٹ کو تو ماضی میں الذوالفقار تنظیم اور مرتضیٰ بھٹو جیسے لوگوں نے بھی چیلنج کیا تھا لیکن جب قوم کے وسیع تر مفاد میں انہیں معاف کیا گیا تو اس کے بہتر نتائج نکلے۔ مرتضیٰ بھٹو کی بہن پاکستان کی وزیراعظم بن گئی۔ ان کے بہنوئی آج صدر پاکستان ہیں جبکہ اے این پی کے رہنما پاکستان کے سب سے بڑے علم بردار اور افواج پاکستان کا ہراول دستہ بن گئے۔ کوئی اور نہیں بلکہ سپریم کورٹ آف پاکستان گواہی دے چکی ہے کہ کراچی میں چاروں بڑی جماعتوں کے عسکری ونگ موجود ہیں جنہوں نے ریاستی رٹ کو چیلنج کیا ہے۔ اب اگر سیاسی مصلحتوں یازمینی حقائق کی وجہ سے ان جماعتوں پر پابندی نہیں لگا دی جاتی (میری بھی یہی رائے ہے کہ ان جماعتوں پر پابندی نہ لگائی جائے) تو پھر صرف طالبان کے لئے الگ کلیہ کیوں؟۔ مذاکرات کی مخالفت میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پاکستانی طالبان کے تو بہت سارے دھڑے ہیں اور سوال یہ ہے کہ کس دھڑے سے بات کی جائے گی۔

جواب میں عرض ہے کہ پہلے تو ایسا ہے نہیں ۔ مختلف پس منظر کے حامل مختلف گروہ ضرور سرگرم ہیں۔ وہ بڑی حد تک اپنی اپنی سرگرمیوں میں آزاد بھی ہیں لیکن کسی نہ کسی شکل میں یہ تحریک طالبان ہی کی فرنچائزز ہیں۔ تحریک طالبان کے ساتھ مفاہمت کی صورت میں ان سب گروہوں کو بات ماننی پڑے گی نہیں تو وہ سب غیرموثر ہو جائیں گے یا پھر اس چھتری کے ہٹ جانے سے اتنے کمزور ہو جائیں گے کہ ریاستی طاقت سے بڑی آسانی کے ساتھ ان کو زیر کیا جا سکے گا۔ لیکن اگر طالبان کے مختلف گروہ ہیں تو کیا تمام بلوچ ایک قیادت تلے متحد ہیں۔ طالبان کی تو پھر تحریک طالبان کی صورت میں ایک تنظیم موجود ہے لیکن بلوچ عسکریت پسند تو واضح طور پر کئی تنظیموں میں بٹے ہوئے ہیں اور تحریک طالبان کی طرح ان کی کوئی نمائندہ تنظیم بھی نہیں ہے۔ طالبان آئین پاکستان پر معترض ہیں لیکن پاکستان کے تو حامی ہیں اور کبھی پاکستانی پرچم نذرآتش نہیں کیا بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑرہے ہیں لیکن بلوچ عسکریت پسند تو پاکستان کو بھی نہیں مانتے۔ پورا پاکستان بھی کہہ رہا ہے اور میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوں کہ بلوچ عسکریت پسندوں سے مذاکرات کر کے انہیں گلے لگا یا جائے تاکہ وہ پاکستان کو ماننے لگ جائیں لیکن پھر طالبان جو صرف پالیسیوں پر معترض ہیں کے ساتھ بات چیت کیوں نہیں؟ مذاکرات کی مخالفت میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ماضی میں بھی کئی مرتبہ مذاکرات ہوئے لیکن فائدے کی بجائے ان کا نقصان ہوا۔

یہ تجزیہ درست ہے لیکن کیا کسی نے اس بات کا تجزیہ کیا ہے کہ ان مذاکرات میں خامی کیا تھی۔ دراصل ماضی میں ان مذاکرات کے حوالے سے کبھی بھی تمام ریاستی ادارے ایک صفحے پر نہیں رہے۔ ایک ادارہ مذاکرات کرتا اوردوسرا اس کو ناکام بنانے میں مگن رہتا۔ اسی طرح وہ مذاکرات کبھی بھی ”کُل“ کے ساتھ نہیں ہوئے بلکہ ہمیشہ جز کے ساتھ ہوتے رہے ۔ مثلاً شمالی وزیرستان کے طالبان کے ساتھ مذاکرات ہوتے تو جنوبی وزیرستان اور باجوڑ کے طالبان کے خلاف آپریشن ہوتا ۔ احمد زئی وزیروں سے مفاہمت ہوتی تو محسودوں کے خلاف آپریشن ۔ جب قبائلی زعما موثر تھے تو مذاکرات براہ راست عسکریت پسندوں سے کئے گئے اور جب وہ غیرموثر اور عسکریت پسند طاقتور بن جاتے تو قبائلی زعما کو درمیان میں ڈال دیا جاتا۔ کبھی ”کُل“ سے مذاکرات نہیں ہوئے اور کبھی تمام ریاستی ادارے ایک صفحے پر نہیں رہے۔

مذاکرات کی مخالفت کرنے والوں کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اس وقت بھی حکومت پاکستان شمالی اور جنوبی وزیرستان میں طالبان سے معاہدے میں بندھی ہوئی ہے ۔ شمالی وزیرستان میں حافظ گل بھادر کی زیرقیادت طالبان کے ساتھ اور جنوبی وزیرستان میں مولوی نذیر کے طالبان کے ساتھ معاہدے ہوچکے ہیں اور پچھلے کئی سال سے حکومت پاکستان یکطرفہ طور پر ان کی پاسداری کر رہی ہے۔ اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے جرم ہیں تو پھر طالبان ہی کے ساتھ یہ دو معاہدے کیوں ؟۔ اب اگر مذاکرات ہوں تو اس سے پہلے ضروری ہے کہ حقیقی معنوں میں مشاورت کے ذریعے فوجی اور سول ادارے مکمل طور پر ایک صفحے پر آ جائیں۔ وزیراعظم کو خوش فہمی ہے اور چودھری نثار علی خان کا دعویٰ ہے کہ تمام ریاستی ادارے مکمل طور پر ایک صفحہ پر آ گئے ہیں لیکن میرے نزدیک اس سلسلے میں فوجی اور سول قیادت کی مزید مشاورت اور مزید مفاہمت درکار ہے اور جزئیات کی حد تک اتفاق رائے ضروری ہے۔ یہ ایک ہمہ گیر اور ہمہ پہلو عمل ہونا چاہئے۔ اس میں افغان طالبان کی مدد بھی لینی چاہیے۔

ثالثی کے لئے سیاسی جماعتوں یا سیاسی مولویوں پر انحصار کی بجائے مفتی رفیع عثمانی ‘ مولانا فضل الرحمان خلیل‘ مولانا شیرعلی شاہ‘ مولانا فضل محمد‘ مولانا عبدالرزاق سکندر‘ مولانا محمد احمد لدھیانوی‘ مفتی سعیداللہ‘ بخت زمین خان‘ حافظ محمد سعید اور اسی نوع کے دیگر دینی اور جہادی شخصیات کی خدمات لینی چاہئیں کیونکہ یہ لوگ سیاسی دکان چمکانے کی بجائے مسئلے کے حل کو ترجیح دیں گے لیکن اس عمل میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی قیادت کو بھی اعتماد میں لینا چاہئے تاکہ تعاون کی بجائے وہ بگاڑ کی کوشش نہ کریں۔ ملک کی سیاسی‘ دینی اورعسکری قیادت کو ہر مرحلے پر آگاہ کرکے اعتماد میں لیا جاتا رہے تاکہ کامیابی کی صورت میں بھی وہ تمام اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں اور اگر خدانخواستہ ناکام ہو جائیں تو پھر طاقت کے استعمال کے سلسلے میں وہ تمام فوج کی پشت پر کھڑی ہو۔مولانا فضل الرحمان قبائلی جرگے کی صورت میں جو کام پہلے سے کرچکے ہیں‘ اس سے استفادہ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ مذاکرات کا عمل لو پروفائل ہونا چاہئے اور حکومت اس کے لئے کسی ایک بندے کو فوکل پرسن مقرر کر دے۔ یہ بات واضح کردی جائے کہ دیگر حکومتی عہدیدار اس موضوع پر رائے زنی نہیں کریں گے اور صرف متعلقہ فوکل پرسن کی رائے کو ہی حکومتی موقف سمجھا جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.