.

معرکہ کراچی ،میں جانتا ہوں انجام اس کا

ارشاد احمد عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کی تیاری کررہے ہیں، جس کے کیپٹن زرداری صاحب اور اویس مظفر ٹپی کے دست نگر سید قائم علی شاہ ہوں گے

دل مسلمان ہے میرا نہ تیرا
تو بھی نمازی میں بھی نمازی
میں جانتا ہوں انجام اس کا
جس معرکے میں ملا ہوں غازی

کراچی بارے میں جیو ٹی وی کی طویل ٹرانسمیشن شاندار تھی۔ جملہ سیاسی، مذہبی اور تجارتی تنظیموں نے تسلیم کیا کہ پولیس میں وسیع پیمانے پر سیاسی بھرتیاں ہوئیں، تجارتی حلقوں پر سیاسی و مذہبی تنظیمیں دباؤ ڈالتی ہیں، ٹارگٹڈ آپریشن سے قبل سیاسی بھرتیاں اور نوگوایریاز کا خاتمہ ضروری ہے اور زمینوں پر قبضے کے علاوہ بھتہ خوری میں سیاسی و مذہبی تنظیمیں ملوث ہیں مگر فوجی آپریشن پر ایم کیو ایم کے سوا کوئی راضی نہ تھا۔ غیر جانبدار حلقے اور پیپلز پارٹی و ایم کیو ایم کے سوا تمام سٹیک ہولڈر اس بات پر متفق ہیں کہ1988ء سے اب تک پولیس میں ایسے افراد بھرتی کئے گئے جو کسی نہ کسی سیاسی تنظیم کے حلف یافتہ کارکن ہیں اور جن کی وفاداریاں ریاست کے بجائے سرپرست تنظیم کے ساتھ ہیں۔سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے سر پر قرآن مجید اٹھا کر یہ اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے سیاسی دباؤ پر ہزاروں پولیس اہلکار بھرتی کئے۔ یہی رونا پولیس افسران نے عدالت عظمیٰ کے سامنے رویا اور کراچی کے اخبارات و جرائد ایسے افراد کی فہرستیں تک چھاپ چکے ہیں۔

یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے لے کر اب تک ہر سیاسی حکمران نے تھوک کے حساب سے اپنے وفادار ،سیاسی کارکنوں، عزیز و اقارب اور ان کے بیٹوں، بھانجوں، بھتیجوں کو کسی میرٹ کے بغیر سرکاری محکموں میں بھرتی کیا۔ پولیس اور محکمہ مال سرفہرست رہے۔ یہ ووٹ بینک بڑھانے کا مجرب نسخہ ہے جلسے جلوسوں، احتجاجی مظاہروں اور عام و ضمنی انتخابات کے موقع پر یہی سیاست زدہ سرکاری ملازمین اپنے سیاسی سرپرستوں کا حق نمک ادا کرتے ہیں اور اپنی ممدوح سیاسی جماعت سے وابستہ منشیات فروشوں، قبضہ گروپوں،اغواء برائے تاوان کے مجرموں،ڈاکوؤں اور بھتہ خوروں کی پشت پناہی کرتے اور انعام پاتے ہیں۔ کراچی کا اصل المیہ یہی ہے اور اس کے اثرات اب پنجاب میں بھی محسوس کئے جارہے ہیں۔

کراچی میں ہر طرح کے جرائم پیشہ افراد اور سیاست زدہ پولیس کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے۔ بدکردار سیاسی مافیا، سرکاری افسروں و اہلکاروں اور ان کے ساختہ پرداختہ مجرموں کی تکون ہے جس نے شہر کا امن تباہ اور اقتصادی معیشت کو برباد کردیا ہے۔دیانتدار، غیر جانبدار اور کچھ کر گزرنے کے جذبے سے سرشار پولیس و رینجرز افسر و اہلکار1992ء ،1995ء اور1998ء کے آپریشنوں میں حصہ لینے والے200پولیس اہلکاروں کے انجام سے خوفزدہ ہیں اور سرکاری یقین دہانیوں پر اعتماد کرنے والے گواہوں کا حشر ہرگز نہیں بھولتے۔ حالیہ دنوں میں کٹی پہاڑی اور لیاری آپریشن کا تجربہ بھی ان کے لئے مشعل راہ ہے۔کیا ڈاکٹر عشرت العباد، سید قائم علی شاہ اور اویس مظفرٹپی سیاسی بھرتیاں ختم کرسکتے ہیں؟ پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیو ایم اپنی صفوں میں موجود جرائم پیشہ افراد کو بخوشی پولیس کے حوالے کرنے پر تیار ہیں؟ موجودہ ازکاررفتہ ،سیاست زدہ حکومتی و انتظامی ڈھانچہ گواہوں کو تحفظ فراہم کریگا؟ اور بیس سال سے تماشائی کا کردار ادا کرنے والی پولیس اور رینجرز نو گو ایریاز کو ختم کر پائے گی؟ کوئی سادہ لوح ہی ہاں میں جواب دے سکتا ہے کیونکہ پھر یہ سوال ہوگا کہ ایسا اب تک کیوں نہ ہوا؟پاکستان کی اقتصادی و معاشی شہ رگ کو دہشتگردوں ،ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں، قاتلوں اور قبضہ گروپوں کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑے رکھا؟صنعتکاروں، تاجروں اور عام شہریوں کی آہ و فغاں پر توجہ کیوں نہ دی؟ وغیرہ وغیرہ۔

آخر یہ مان لینے میں کیا حرج ہے کہ دوسرے صوبوں کی طرح سندھ ا ور کراچی پولیس معمولی نوعیت کے سٹریٹ کرائم کی روک تھام کے قابل نہیں۔ یہ مسائل حل کرنے کی اہل ہرگز نہیں البتہ ان مسائل کا لازمی حصہ ہے۔ مختلف وجوہات کی بناء پر اس کے حوصلے پست ہیں اور قوت عمل سے محروم اور مجوزہ ٹارگٹڈ آپریشن کے کیپٹن سید قائم علی شاہ جنہیں کراچی کے عوام سید اویس مظفر ٹپی کی وجہ سے قائمقام علی شاہ کہتے ہیں؟ کیا وہ اتنے بھولے ہیں کہ بھٹو سے لے کر زرداری تک ہر دور میں پولیس میں بھرتیوں کے ذریعے کی گئی سرمایہ کاری محض قیام امن کے شوق میں ضائع کردیں گے؟ اپنے پاؤں پر کلہاڑی کون مارتا ہے۔

سرکاری محکموں بالخصوص پولیس میں بھرتیاں ہی تو سیاسی جماعتوں اور قائدین کرام کا قیمتی سرمایہ اور قوت ہیں۔ مقبولیت برقرار رکھنے کا سبب۔ کیا میاں نواز شریف اور چودھری نثار علی خان پنجاب میں اپنے ہاتھوں سے بھرتی کئے گئے پولیس اہلکاروں، نائب تحصیلداروں کو فارغ خطی کا پروانہ جاری کریں گے؟ اس بنا پر تھانہ کلچر اور پٹواری کلچر میں تبدیلی کا خواب میاں شہباز شریف جیسا ایڈمنسٹریٹر بھی شرمندہ تعبیر نہیں کرسکا کہ وہ1985ء سے 1990ء کی بھرتیوں کا خاتمہ کیسے کرے۔

قوم کو دھوکہ دینے اور کراچی کو مسلسل خون میں نہلائے رکھنے کے بجائے حقیقت پسندی، دانشمندی اور حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ محدود آپریشن کلین اپ کے لئے عروس البلاد کراچی کو فوج کے حوالے کیا جائے، پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو آمنے سامنے بٹھا کر لکھوا لیا جائے کہ قانون کی گرفت میں آنے پر کسی جرائم پیشہ کارکن کی کوئی فریق سفارش کریگا نہ امتیازی سلوک کا شور مچائے گا، شور پھر بھی مچے گا مگر ریاست میں اتنا حوصلہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنے جائز اقدام کا جرات مندی سے دفاع کر سکے اور سیاسی دباؤ برداشت کرنے کی اہلیت پیدا کرے۔ سیاسی بھرتیوں اور نو گو ایریاز کا خاتمہ صرف فوج کرسکتی ہے؟ جو ظاہر ہے کہ سیاست زدہ ہے نہ جانبدار ،فوج کو نہ بلانے کی ا صل وجہ بھی یہی ہے کہ سیاسی، نسلی، لسانی اور فرقہ ورانہ تعصبات سے پاک اس قومی ادارے کے اہلکار کسی سے امتیاز برتیں گے نہ سیاسی دباؤ قبول کریں گے اور ہر طرح کے مجرموں کی سرکوبی میں آزاد ہوں گے۔

کیا کراچی میں حالات سوات سے بہتر ہیں یا بدتر؟اگر بدتر ہیں تو فوج کو نہ بلانے کی وجہ؟ مہاجرری پبلکن آرمی کا خوف ہے یا کراچی میں بدامنی برقرار رکھ کر پاکستان کی بلیڈنگ کے خواہشمند بیرونی عناصر کے دباؤ کا اندیشہ ہے؟ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ ایم کیو ایم نے ہمیشہ فوجی آپریشن کی مخالفت کی اب وہ بھی حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے آمادہ ہے۔ اس قلب ماہیت کا خیر مقدم ہونا چاہئے جس طرح کل تک نیشنل سیکورٹی کونسل کے نام سے بدکنے والے میاں نواز شریف نے خود ہی نیشنل سیکورٹی کمیٹی قائم کی ہے کیا یہ بھی کوئی سازش ہے؟ ہرگزنہیں بدلے ہوئے حالات کا ادراک و احساس۔ کراچی میں حقیقی امن کا قیام فوجی آپریشن کے بغیر ممکن نہیں۔ ٹامک ٹوئیاں مارنے کی ضرورت نہیں البتہ اس تجربے کی کامیابی کی صورت میں دیگر ایسے مقامات پر آپریشن کلین اپ کیا جائے جہاں حالات خراب ہیں اور ریاست کی ناکامی کا تاثر گہرا ہورہا ہے تاکہ ملک امن و آشتی کا گہوارہ بن سکے۔ گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.