.

شام اور جنیوا کانفرنس

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنیوا کی جانب جانے والی شاہراہ معمول سے ہٹ کر کم خطرناک ہوگئی ہے لیکن ابھی بہت سے جنگیں لڑنا باقی ہیں۔ آنے والے دنوں میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات شامی بحران کے حل کی راہ نکالیں گے۔

ان میں سب سے پہلے تو روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں جمعرات کو جی 20 ممالک کا سربراہ اجلاس منعقد ہورہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہفتے عشرے میں اہم عالمی مسائل پر مباحث شروع ہونے والے ہیں۔ سعودی وفد اسد رجیم کے خلاف فیصلہ جاری کرانے کے لیے مہم شروع کرچکا ہے۔ مزید برآں امریکی کانگریس آیندہ دو ہفتے میں بشارالاسد کی فورسز کو کیمیائِی حملے کے الزام میں سزا دینے کے لیے فوجی کارروائی کی منظوری دے دے گی۔

شامی بحران وقت کے ساتھ بر سر زمین اور عالمی منظر نامے میں سنگین تر ہوا ہے۔ اب اس کو نظرانداز کرنا آسان نہیں رہا ہے۔ اقوام متحدہ بار بار متنبہ کرتی رہی ہے کہ بحران اب کنٹرول سے باہر ہوتا جا رہا ہے کیونکہ شام کی ایک تہائی آبادی اپنا گھر بار چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہوچکی ہے یا اندرون ملک دربدر ہے۔ خانہ جنگی کے نتیجے میں پچاس لاکھ سے زیادہ شامی بے گھر ہوئے ہیں۔ پڑوسی ممالک میں شامیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے مگر ان لاکھوں ضرورت مندوں کو گذشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے امداد مہیا کرنے والے اداروں اور تنظیموں کی ذخیرہ گاہیں اب خالی ہو چکی ہیں۔

انسانی بحران پر مستزاد وہ سیاسی خطرات ہیں جو شام میں جاری لڑائی کے سبب وقت کے ساتھ ساتھ فزوں تر ہوئے ہیں۔ شام میں جو کچھ رونما ہو رہا ہے، اس کے نتیجے میں لبنان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو فروغ ملا ہے اور اس ملک میں دوعشرے قبل ختم ہونے والی خانہ جنگی کے بعد پہلی مرتبہ فرقہ وارانہ بنیاد پر خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں۔

ترک اپنے سرحدی علاقوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انھیں وہاں مزید شورش کا خطرہ ہے۔ عراق نے اپنی فورسز کی بڑی تعداد کو شام کے ساتھ واقع سرحد پر منتقل کردیا ہے اور اس نے ایسا ان سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی واپسی اور ملک میں تشدد کے پھیلنے کے بعد کیا ہے۔

پیش رفت

خوش قسمتی سے شامی حزب اختلاف اور جیش الحر(باغی جنگجوؤں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل فوج) مختصر وقت میں سیاسی ہم آہنگی کے ضمن میں پیش رفت کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور انھیں مقدار اور معیار کے لحاظ حمایت اور مدد حاصل ہوئی ہے۔ شامی اور عرب سیاسی حزب اختلاف نے اس سلسلے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس اتحاد کے منفی اور مثبت کیا مضمرات ہوئے ہیں؟ شام اس وقت صرف شامیوں ہی کا کاز نہیں رہا ہے بلکہ یہ دنیا کا کاز بن چکا ہے۔ اس ذمے داری نے رجیم کو جنگ مسلط کرنے یا اس کی مرضی کا حل مسلط کرنے سے باز رکھا ہے۔ جنیوا کی مجوزہ امن کانفرنس حالیہ سیاسی اور فوجی پیش رفت کے تناظرمیں ایک اچھا آپشن بن چکی ہے۔ غالب امکان یہ ہے کہ یہ جھاڑے کے موسم میں مناسب شرائط اور حالات کے تحت ہوگی اور اس کے نتیجے میں بشارالاسد کی اقتدار پر گرفت ختم ہوجائے گی اور وہ نظام حکومت حزب اختلاف کے حوالے کر دیں گے۔

تاہم اب شام میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے سابقہ تجویز پرعمل درآمد ممکن نہیں رہا ہے۔ اس میں عبوری دور کے لیے اسد رجیم اور حزب اختلاف کے درمیان شراکت داری پر زوردیا گیا تھا۔ روسی اور امریکی اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ یہ زہرناک تجویز اب ناممکن العمل ہو گئی ہے اور اس پر عمل کی صورت میں شام میں لڑائی جاری رہے گی۔

شام کی بہت سی قوتوں اور عرب حکومتوں نے اس تجویز کو ناکام بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ بحران کا ممکن اور مناسب حل بشارالاسد کی اقتدار سے رخصتی ہے۔ اس کے علاوہ فوج سمیت ریاست کے بڑے اداروں کی تشکیل نو ہو، حکومت حزب اختلاف کے حوالے کردی جائے اور قومی مصالحت کو پایہ تکمیل کو پہنچایا جائے۔ نئے شام میں بشارالاسد اور ان کی قیادت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو گی۔

شامی حزب اختلاف کے عسکری اور سیاسی دھڑوں دونوں کو اب زیادہ دیر تک نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے اور حزب اختلاف کی منظوری کے بغیر مصالحتی کوششیں بھی ممکن نہیں رہی ہیں۔ شامی عوام کی حمایت کرنے والی عرب حکومتیں بشارالاسد کے اتحادیوں کے مقابلے میں پیش پیش ہیں۔اس لیے جنیوا اجلاس ایک ایسا حل ہے جو مناسب فوجی اور سیاسی حالات میں سامنے آیا ہے۔

(ترجمہ:امتیاز احمد وریاہ)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.