شام کے خلاف کارروائی ۔ ترکی کا موقف

ڈاکٹر فرقان حمید
ڈاکٹر فرقان حمید
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

شام چار سو تین سال تک سلطنت عثمانیہ کا حصہ رہنے کے بعد 1920ء میں فرانسیسیوں کی پشت پناہی اور تعاون سے ایک الگ مملکت کا روپ اختیار کر گیا لیکن 1920ء سے 1946 ء تک فرانس نے اس ملک پر اپنی گرفت مضبوطی سے قائم کیے رکھی تاہم اسی دوران 29 جون 1939ء میں شام اور ترکی کے درمیان وجہ تنازع بنے ہوئے علاقے حطائے میں ریفرنڈم کروانے کے بعد فرانسیسیوں نے اس علاقے کو ترکی کے حوالے کر دیا۔

شام نے حطائے کی اس تقسیم کو کبھی بھی صدقِ دل سے قبول نہ کیا جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات جو پہلے ہی سے موجود تھے، مزید گہرے ہوتے چلے گئے۔ شام نے 1946ء میں فرانس سے مکمل طور پر آزادی حاصل کرنے کے بعد 1958ء میں مصر کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا اور یوں جمہوریہ متحدہ عرب کا قیام عمل میں آیا لیکن یہ اتحاد بمشکل تین سال تک جا ری رہ سکا اور دونوں ممالک 1961ء میں ایک دوسرے سے الگ ہوگئے اور شام میں بعث پارٹی نے اپنے اقتدار کی داغ بیل ڈالی اور 1970ء میں بعث پارٹی کے سربراہ حافظ الاسد نے عنان حکومت اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور 2000ء میں اپنی وفات تک اقتدار کو جاری رکھا اور یوں مشرق وسطیٰ کے اس علاقے میں کسی شور وغل کے بغیر اقتدار باپ سے بیٹے کو منتقل ہو گیا۔ جیسا کہ پہلے عرض کرچکا ہوں، ترکی اور شام کے درمیان تعلقات کبھی بھی خوشگوار نہیں رہے بلکہ حافظ الاسد دور میں یہ تعلقات اس وقت مزید خراب ہو گئے جب حکومت شام نے ترکی کے باغی سرغنہ عبداللہ اوجالان کو وادی بقا میں بسایا اورPKK کے دہشت گردوں کو کیمپ لگانے کی اجازت دی۔

ترکی نے ان حالات میں 1998ء میں اپنی فوجوں کو شام کی سرحدوں پر لا کھڑاکیا اور شام کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اْس وقت کے مصر کے صدر حسنی مبارک کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں شام نے باغی سرغنہ عبداللہ اوجالان کو اپنی سرحدوں سے نکال باہر کیا اور یوں حسنی مبارک نے ان دونوں ممالک کو بھی آپس میں لڑنے سے روک دیا۔

2000ء میں حافظ الاسد کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے بشار الاسد نے اقتدار سنبھالا شام میں بشار الاسد اور ترکی میں وزیراعظم رجب طیّب ایردوان کے دور میں خطے میں بڑے پیمانے پر مثبت تبدیلی دیکھی گئی اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے اتنے قریب آ گئے کہ ان کے درمیان سرحدی اہمیت ختم ہو کر رہ گئی۔ اس عرصے کے دوران ترکی اور شام کے درمیان16 مشترکہ وزارتی اجلاس منعقد ہوئے اور دونوں ممالک نے چند دنوں کے اندر اندر تعاون اور اشتراک کے باون مختلف سمجھوتوں پر دستخط کرتے ہوئے تمام عرب ممالک کو ورطہ ِحیرت میں ڈال دیا۔ ان خوشگوار تعلقات کے اثرات کو دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے فیملی تعلقات پر بھی واضح طور پر محسوس کیا گیا جس کے نتیجے میں دونوں خاندان ایک دوسرے میں گھل مل گئے ۔ تو پھر کیا ہوا؟ دونوں رہنما اب ایک دوسرے سے اتنے دور جا چکے ہیں کہ اب ان کی واپسی ممکن نہیں ہے۔ ان تعلقات میں اس وقت کچھ ٹھہراؤ آنا شرو ع ہو گیا جب مصر، تیونس اور لیبیا جیسے ممالک کو بہار عرب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

ترکی کے وزیراعظم ایردوان نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اور اپنی دوستی کو نبھاتے ہوئے بہارِ عرب کی اس فضا کے دوران بشار الاسد کو شام میں بھی جمہوری اصلاحات متعارف کروانے اور عوام کو مزید آزادیاں دینے کی تلقین کی تھی اور اس سلسلے میں اپنی حکومت کی مکمل حمایت اور تجربے سے آگاہ کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

ترکی کے وزیر خارجہ احمد داود اوگلو نے کئی بار شام کا دورہ کرتے ہوئے بشارا الاسد کو ہر ممکنہ تعاون بھی فراہم کیا۔ بشار الاسد نے ابتدا میں ملک میں اصلاحات متعارف کروانے کی ہامی بھر لی تھی لیکن بشارالاسد کے قریبی حلقوں اور دیگر ذرائع نے ان کو ملک میں اصلاحات متعاف کروانے سے روکے رکھا جو ترکی اور شام کے درمیان سرد مہری کا باعث بنا اور پھر یہ سرد مہری پہلے دوری اور بعد میں دشمنی کا روپ اختیار کر گئی اور اب ان دونوں ممالک پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

شام نے اگرچہ کئی بار ترکی پر مخالفین کو ورغلانے اور ان کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام لگایا ہے لیکن ترکی نے شام کے ان الزامات کو ہمیشہ مسترد کیا ہے اور اپنے ہاں شام سے راہ فرار اختیار کرنے والے مہاجرین کو پناہ دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور گزشتہ ایک ہفتے سے جب سے شام جنگ کی دہلیز پر دھکیلا جا رہا ہے، ترکی آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

شام ، جہاں اب تک دو لاکھ سے زائد افراد کو موت کی بھینٹ چڑھایا جاچکا ہے اور جس کی سرزمین کے ساٹھ فیصد حصے پر مخالفین نے قبضہ کر رکھا ہے، بشارالاسد نے مخالفین کی پیش قدمی کو روکنے کیلئے 21 اگست 2013 ء سے لے کر اب تک کئی بار کیمیائی ہتھیار استعمال کئے جس کے نتیجے میں چودہ سو سے پندرہ سو تک معصوم انسان ہلاک ہو گئے ہیں۔

ترکی نے شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیار اور سیرین گیس استعمال کرنے کے بارے میں دنیا کو پہلے ہی سے آگاہ کرنا شروع کر دیا تھا (ترکی کی خفیہ سروس نے سب سے پہلے علاقے سے نمونے حاصل کرتے ہوئے تحقیقات مکمل کی تھیں) لیکن دنیا نے اس وقت ترکی کی جانب کوئی توجہ نہ دی تھی تاہم اب اقوام متحدہ کے وفد نے علاقے میں خود تحقیقات کرتے ہوئے شواہد حاصل کر لیے ہیں۔ ان شواہد کو حاصل کرنے کے بعد امریکہ نے شام کے خلاف محدود پیمانے پر فوجی کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے لیکن ترکی کے وزیراعظم ایردوان نے اس محدود پیمانے کی کاروائی کرنے کی بجائے کوسوو طرز کی جامع اور بڑے پیمانے کی ( جیسے نیٹو نے کوسوو میں فضائی کارروائی کی تھی) کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بشار الاسد کو معصوم انسانوں کی ہلاکت کا سبق سکھایا جاسکے۔

ترکی نے اسی وجہ سے شام کے خلاف فوجی کارروائی میں متحدہ امریکہ کا کھل کر ساتھ دینے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے اور متحدہ امریکہ سے شام کے خلاف بڑے پیمانے پر اور جلد از جلد کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترکی کو کئی خلیجی ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے تاہم متحدہ امریکہ کو سب سے بڑا دھچکا برطانیہ سے لگا ہے جہاں کی پارلیمنٹ میں امریکی فوجی کارروائی سے متعلق خاکہ بل کو 272 کے مقابلے میں 285 ووٹوں سے مسترد کردیا گیا تاہم متحدہ امریکہ کو فرانس کی اب بھی مکمل حمایت حاصل ہے۔ جرمنی ملک میں انتخابات کی وجہ سے پہلے ہی اس جنگ سے اپنے آپ کو دور رکھنے کا اعلان کر چکا ہے۔

متحدہ امریکہ کی جانب سے اب کسی وقت بھی شام کے خلاف فوجی کارروائی کیے جانے کی توقع کی جارہی ہے اگرچہ صدر باراک نے نو ستمبر کو کانگریس کے اجلاس میں اس کی منظوری حاصل کرنے کا عندیہ دیا ہے لیکن اس کے علاوہ انہوں نے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے کہ وہ شام کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا کسی وقت بھی فیصلہ کرسکتے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے ابھی تک تحقیقاتی وفد کے نتائج سے آگا ہ نہ ہونے کا اظہار کیا ہے (آگاہ ہوں بھی تو فیصلہ تو امریکہ ہی نے کرنا ہوتا ہے) اس لیے سیکرٹری جنرل کی جانب سے شام کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے بارے میں ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم روس اور چین پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد کو ویٹو کرچکے ہیں ، جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کی چھتری تلے شام کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کے اس کردار پر ترکی کے وزیراعظم ایردوان نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ " دنیا کو سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کا محکوم نہیں بنایا جا سکتا بلکہ اقوام متحدہ کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور سلامتی کونسل میں فیصلے ویٹو استعمال کرنے کی بجائے اکثریت سے کیے جانے چاہییں۔ اس سلسلے میں جی 20 ممالک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے دوران ان تمام ممالک کو اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کروں گا کیونکہ ایک ملک کے ویٹو سے پوری انسانیت متاثر ہو رہی ہے جو ظلم کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور مہذب دنیا کو یہ کسی بھی صورت زیب نہیں دیتا ہے۔" وزیر اعظم ایردوان نے کہا ہے کہ"ہم انسانیت کے قتل عام پرخاموش نہیں بیٹھ سکتے ہیں ظلم جہاں بھی ہوگا ہم اٹھ کھڑے ہوں گے، ہمارے لیے ظلم کو مختلف کیٹیگریز میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا، ظلم جہاں بھی ہے، وہ ظلم ہے چاہے وہ مصر میں ہو یا شام میں، ہم ہر جگہ اس کی مخالفت کریں گے۔"

دوسری جانب ترکی کے سیکو لر اور امن پسند حلقے شام میں ممکنہ جنگ کی سختی سے مخالفت کررہے ہیں تاکہ علاقے میں مزید خون خرابے کو روکا جاسکے۔ علاوہ ازیں یہ حلقے شام کے ایک سیکولر ملک ہونے کے ناتے اس کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں