پاکستان کی نگرانی کا امریکی نظام

ارشاد احمد عارف
ارشاد احمد عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

”واشنگٹن پوسٹ “کے مطابق امریکی خفیہ اداروں کے لئے مختص ”بلیک بجٹ “ کی دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ امریکہ نے اپنے اتحادی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی نگرانی بڑھا دی ہے، پاکستان میں مہنگا ترین اور وسیع جاسوسی نظام قائم کیا گیا ہے اور اپنے فرنٹ لائن اتحادی کے بارے میں امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ خفیہ اداروں کے افسر ماورائے عدالت ہلاکتوں میں ملوث ہیں۔

یہ کہنا اور لکھنا آسان نہیں، سازشی تھیوری ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور دفاعی استحکام امریکہ و یورپ کے لئے ہمیشہ سوہان روح رہا، اس کو رکوانے، منجمد اور ری کیپ و رول بیک کرانے کے لئے جو کوششیں ہوئیں، عالمی سطح پر جو منفی پروپیگنڈا ہوا اور اس پروگرام سے وابستہ حکمرانوں، سیاست دانوں، بیورو کریٹس اور سائنس دانوں کو جس طرح نشان عبرت بنایا گیا وہ طویل داستان ہے۔ بھٹو، ضیاء الحق ، نواز شریف ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، غلام اسحاق خان اور دیگر کا کردار اور انجام تاریخ کا حصہ ہے ۔ پاکستان میں امریکی گماشتوں نے قدم قدم پر اپنے آقایان ولی نعمت کا ساتھ دیا تحریر و تقریر اور شوروغوغا کے خوب جوہر دکھائے۔

پاکستان کبھی امریکہ مخالف کیمپ میں نہیں رہا پچاس کے عشرے سے اس کااتحادی ہے اور امریکہ کے بدترین مخالف اور مدمقابل سوویت یونین کے انہدام کے علاوہ امریکہ چین دوستی میں اس کا کردار شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ بھارت کے جنگی جنون کے مقابلے میں اس نے ہمیشہ ذمہ داری اور امن پسندی کا ثبوت دیا اور اب بھی کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں پر محتاط ہے مگر اس کا ایٹمی پروگرام بھارت کی طرح امریکہ و یورپ کے دل میں بھی کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے ۔وجہ ہے پاکستان کا اسلامی تشخص، اسلامی آئین اور عوام کی اسلام سے والہانہ وابستگی، عشق مصطفی اور جذبہ جہاد ہے۔ نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر مسلمانوں کے دکھ سکھ، خوشی اور غم میں شرکت کی روش جو اسلام دشمنوں کو ہر گز گوارا نہیں۔

ایران ،شام ،ترکی اور مصری کی طرح پاکستان اپنے آپ کو سیکولر، لبرل کہیں یا شیعہ ،سنی ،وہابی ،دیو بندی سمجھیں، سندھی، بلوچی، مہاجر، سرائیکی کی شناخت پر فخر کریں بھارت اور پاکستان کی ایک زبان ، یکساں خوراک و لباس اور دھڑتی ماتا کے بھاشن دیں امریکہ و یورپ کی نظروں میں فقط مسلمان ہیں۔ عقیدہ توحید ورسالت پر کاربند اور جہادی۔

سابق صدر نکسن ،پی نہٹنگسٹن،یو کوتاما، الگور اور پیٹرک بیو چینن جسے دانشوروں اور مفکرین نے مغربی دنیا کو بخوبی باور کرا دیا ہے کہ کمیونزم کے خاتمے کے بعد اسلام ہی مغرب کی مادر پدر آزاد عریاں تہذیب و ثقافت اور استحصالی سود خور معیشت کے لئے حقیقی خطرہ ہے۔

پیٹرک جے بیو چینن اپنی امریکی دانشوروں اور صحافیوں سے ایک ہے جس کا خیال ہے کہ ”حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 70سال پہلے جب اسلام مغربی سلطنتوں کے قدموں تلے روندا جا رہا تھا تو ایک مشہور کیتھولک ادیب نے پیش گوئی کی تھی کہ ”اسلام کو دوبارہ عروج نصیب ہو گا“یہی ادیب ہیلربیوک لکھتا ہے ”مجھے ہمیشہ ایسا نظر آتا ہے اسلام دوبارہ غالب آئے گا ہمارے بچے نہیں تو پوتے، نواسے اسلام کا احیاء دیکھیں گے اور اسلام کو اپنے ہزار سالہ حریف عیسائیت اور اس کی تہذیب و ثقافت کے خلاف جدوجہد میں مصروف پائیں گے“

پیٹرک ماضی کی صلیبی جنگوں اور مسلم عیسائی کشمکش کا جائزہ لینے کے بعد لکھتا ہے ”دیکھنا یہ ہے کہ اگر اسلام اور مغرب کے درمیان تہذیبوں کی جنگ شروع ہو چکی ہے تو ان میں طاقت کا توازن کیا ہے ؟دولت اور طاقت میں مغرب کو بالادستی حاصل ہے لیکن یہ چیزیں اگر کسی ملک کو بچانے میں کارآمد ہوتیں تو سوویت یونین اپنے جوہری ہتھیاروں اور بے حد وحساب اقتصادی وسائل کے انبار تلے دب کر ختم نہ ہوتا۔ ثابت ہوا کہ اقوام کی زندگی مادی طاقتوں کی مرہون منت نہیں بلکہ ایک قوم کو زندہ رہنے کیلئے کچھ جذبوں اور اقدار کی ضرورت ہوتی ہے اور اسلام ان چیزوں سے مالا مال ہے“

”ایک عقیدہ کوشکست دینے کے لئے عقیدہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہمارے پاس کیا ہے ؟ انفرادیت (انڈویجویل ازم ) جمہوریت اور برابری ؟ کیا ان چیزوں سے ہم ایک ایسے جنگجو عقیدے کو شکست دے سکتے ہیں جو پندرہ سو سال سے حرکت میں ہے اور اب دوبارہ کروٹ لے رہا ہے۔“

پیٹرک کی طرح ہر مغربی حکمران، فیصلہ ساز اور مفکر خوف کا شکار ہے۔ بش کے منہ سے اس لئے کروسیڈ (صلیبی جنگ ) کا جملہ ادا ہوا اور ابامہ اسی بنا پر شام پر چڑھ دوڑنے کے لئے بے قرار ہے اور مصر میں منتخب حکومت کے خاتمے سے مطمئن۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائم کے تجزیہ نگار تھامسن فرائیڈمین نے لکھا تھا کہ ”ہم اسلام کے خلاف جنگ نہیں چاہتے۔ ہم اسلام کے اندر جنگ چاہتے ہیں “ پاکستان سمیت تمام مسلم ریاستوں میں کہیں اسلام کیساتھ جنگ جاری ہے اور کہیں اسلام کے اندر جنگ برپا ہے ۔نسلی، لسانی، فرقہ ورانہ اور علاقائی تنازعات اور تصادم اسلام کے اندر جنگ نہیں تو کیا ہے ؟پاکستان کے ایٹمی پرورگرام کی نگرانی اور جاسوسی کے لئے بلیک بجٹ کا مقصد واضح ہے اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی رپورٹیں بھی بوقت ضرورت اس مسلم ریاست کے خلاف عالمی پروپیگنڈے کی تیاری۔ غالباً اس بناء پر حکومت پاکستان کراچی میں فوجی آپریشن سے خوفزدہ ہے کہ ہمارا اتحادی نسل کشی کا بہانہ بنا کر کہیں چڑھ نہ دوڑے ۔

برسوں قبل امریکی سابق وزیر خارجہ ہینری کسنجر نے مشورہ دیا تھا کہ امریکہ کی دشمنی سے زیادہ دوستی خطرناک ہے ۔پاکستان کو بار بار اس کا تجربہ ہوا مگر ہمارے حکمران اور فیصلہ ساز ہمیشہ اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں جس کے سبب پاکستان مرد بیمار ہے جب راجیو گاندھی کے دور میں بھارت نے عالمی تاریخ کی سب سے بڑی مشقیں کیں اور برانس ٹیک فوجی مشقوں کے بہنے جدید ترین ہتھیار سرحدوں پر پہنچا دیئے تو کرکٹ میچ دیکھنے کے بہانے فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق دہلی جا پہنچے اور پالم پور ایئر پورٹ پر راجیو گاندھی کو گلے لگا کر پیغام دے آئے کہ ”ہم ایٹمی قوت ہیں اور یہ ہتھیار شادی بیاہ کے موقع پر آتش بازی کے لئے نہیں دشمنوں کو نیست ونابود کرنے کے لئے تیار ہیں “ مگر اب ہماری آزادی اور خود مختاری ڈرون حملوں کے ذریعے پامال ہوتی ہے، بھارت کنٹرول لائن پر روزانہ گولے برساتا ہے اور دنیا جہاں کے تخریب کار ،دہشت گرد اور قاتل کراچی میں دندناتے پھرتے ہیں مگر ہم کچھ کہہ نہیں سکتے ، کچھ کر نہیں پاتے، عجیب بے بسی اور بے حسی کا عالم ہے۔

قصور کسی اور کا نہیں ہمارا ہے ۔ مسلکی، لسانی، نسلی اور علاقائی گروہوں میں بٹی اور اپنوں کی نسل کشی سے فرحت پائے توبیگانوں کی سازشوں، حکمت عملی اور منصوبوں سے بھی آگاہ ہو اور قرآن مجید کا یہ پیغام اس کی سمجھ میں آئے۔

ولن ترضیٰ عنک الیہود و لن النصرٰیٰ حتی تتبع ملتھم
اور یہودونصاریٰ آپ سے (اس وقت تک ) ہر گز خوش نہ ہوں گے جب تک آپ ان کے مذہب اور تہذیب کی پیروی اختیار نہ کرلیں۔
عام کلمہ گو مسلمان غیروں کی پیروی اور اطاعت پر ہرگز تیار نہیں البتہ ہمارے اکثر حکمران بخوشی راضی ہیں اس لئے ہرجگہ اسلام کیخلاف اور اسلام کے اندر جنگ برپا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ " جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں