.

کراچی میں امن مگر ہماری مرضی کا

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معلوم یہ ہوا کہ کراچی والوں کے حکمران کراچی کا صرف وہی امن چاہتے ہیں جو ان کی پسند کا ہو کیونکہ انھیں وہ امن مطلوب نہیں جو عرف عام میں امن کہا جاتا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے اپنے صوبے کا ایک پولیس افسر تبدیل کرنے سے انکار کر دیا اور اس کی جگہ پولیس کا آزمودہ سخت گیر منتظم قبول کرنے سے معذرت کر لی۔ وجہ یہ کہ مجوزہ چیف سیکریٹری اور آئی جی یہ دونوں عہدے دار صوبے کے حکمرانوں کی پسند و نا پسند اور کسی سیاسی مجبوری کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھے۔ اس طرح وزیر اعظم کے کراچی امن کے منصوبے کو انھوں نے ناکام کر دیا۔

انگریزوں نے مغلوں کے نظام حکومت میں چند تبدیلیاں کیں۔ اگرچہ مغلوں کی طرح ان کا نظام حکومت بھی شاہی تھا اور ہندوستان میں وہ تاج برطانیہ کے نمائندے تھے لیکن برطانوی حکومت کو ہندوستان کی جڑوں تک مستحکم اور مقبول عام بنانے میں انھوں نے چند انتظامی تبدیلیاں کیں۔ ان میں ایک عہدہ صوبے کے چیف سیکریٹری کا تھا جو پورے صوبے کی انتظامی مشینری کو کنٹرول کرتا تھا اور اس قدر اہم تھا کہ پنجاب میں تو اسے چھوٹا لاٹ صاحب کہا جاتا تھا، گورنر عموماً برطانیہ کا کوئی لارڈ ہوا کرتا تھا جسے ہندوستانی لاٹ صاحب کہتے تھے، اسی رعایت سے عرف عام میں چیف سیکریٹری چھوٹا لاٹ صاحب کہلاتا تھا۔ لاہور میں سول سیکریٹریٹ کو دفتر لاٹ صاحب کہا جاتا تھا جہاں چیف سیکریٹری بیٹھتا تھا اگرچہ پاکستان کے سیاسی حکمرانوں نے چیف سیکریٹری کا بہت ہی ناجائز استعمال کیا لیکن اس کے کھنڈر اب تک موجود ہیں۔ صوبے کے اس انتظامی سربراہ کی طرح ایک اور عہدہ پولیس کے آئی جی کا تھا اگرچہ پولیس چیف سیکریٹری کے ماتحت ہوتی تھی جو اب نہیں ہے لیکن قیام امن میں وہ آزاد اور خود مختار اور اس کی مکمل ذمے دار تھی۔ پولیس کے بعض افسروں میں اصلی پولیس کے اوصاف موجود ہیں۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف جب بھر پور عزم اور مکمل ذمے داری کے احساس کے ساتھ کراچی میں امن کی مہم پر نکلے تو ان کے ذہن میں چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کے بنیادی عہدے موجود تھے جو ان کے ارادوں کو کامیاب بنانے میں ان کی موثر اور بامقصد مدد کر سکتے تھے، ان عہدوں کے لیے جو نام تھے ان میں آئی جی کے لیے ذوالفقار چیمہ کا نام تھا اور یہی نام ہضم نہیں ہو سکتا تھا، ایسے ہی نئے مجوزہ چیف سیکریٹری کا بھی۔

کون سیاسی حکمران ہے جس کو ان دو سرکاری عہدہ داروں کی حیثیت کا علم نہیں ہے چنانچہ مختصراً یہ کہ سندھ کے حکمرانوں نے یہ نام سن کر سندھ کا آسمان سر پر اٹھا لیا۔ سرکاری ٹی وی نے یہ نام نشر کر دیے تھے، وفاقی حکومت کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ مجرموں کے دشمن افسروں کو واپس لے لیں اور ان کی جگہ اناڑی ادارے کے نیم فوجی رینجر لے لیں جو یہ پولیس والا کام جانتے ہی نہیں۔ ان کی دیانت اور کارکردگی اپنی جگہ لیکن ان کو امن و امان کی پولیس طرح کے قیام امن کی تربیت ہی نہیں دی گئی۔ وہ کسی آبادی کے اندر دبڑ دبڑ کرتے ہوئے گھوم پھر سکتے ہیں تا کہ عام قسم کے مجرم ڈر جائیں اور بس۔ اصلی کام پولیس کا ہے جو مجرم کی گردن دبوچ لیتی ہے۔ کراچی کے معصوم عوام کی قسمت میں ایک دیانت اور مضبوط کردار کا سخت مزاج پولیس افسر لکھنے کی کوشش کی گئی جو ان کے حکمرانوں نے مسترد کر دی۔ واضح یہ ہوا ہے کہ وہ اپنی پسند اور ضرورت کا سیاسی قسم کا امن چاہتے ہیں اصلی ’امن‘ نہیں چاہتے۔

ان ناموافق حالات میں بھی وزیر اعظم نے ہمت نہ ہاری اور جس قدر ممکن تھا انھوں نے اہل کراچی کی خدمت کرنے کی کوشش کی۔ میں نہیں سمجھتا کہ میرے ساتھی کراچی میں امن کی کوشش کو سبوتاژ کرنے کا جائزہ لیں گے یا ذوالفقار چیمہ کا شجرہ نسب ہی بیان کرتے رہیں گے کہ اس کا کوئی بھائی کبھی ایم این اے رہا ہے یا کوئی کبھی جج تھا اور ایک اب بھی صحت کے محکمہ میں کسی عہدے پر مامور ہے۔ کوئی یہ نہیں بتائے گا کہ خود ذوالفقار چیمہ کی ملازمانہ کارکردگی کا حسب نسب کیا ہے اور وہ جہاں بھی گیا اپنی کارکردگی اور حسن انتظام کی داستان چھوڑ آیا۔ پاسپورٹ آفس کی بحالی اور کارکردگی تو کل کی بات ہے، اس کے بعد اب وہاں سے گڑ بڑ کی خبریں آنی شروع ہو گئی ہیں۔ ہماری بدقسمتی کہ وطن عزیز کا آوے کا آوا بگڑا ہوا ہی نہیں، اس کا ستیاناس ہو چکا ہے،ایک نہیں کئی ہزار افسروں کی ضرورت ہے جو خود سیاستدانوں سے بچ کر عوام کو بھی ان سے بچا سکیں۔ سیاسی مجبوریاں حائل نہ ہوں جو ہماری صوبائی حکومت کے بعض نو خیز وزیروں کو لاحق ہیں۔

پورے ملک کی شدید خواہش کے مطابق کراچی جیسے ہمارے بنیادی شہر میں امن ہو گا یا نہیں لیکن میاں نواز شریف خواہ اپنا صدر دفتر کراچی ہی کیوں نہ لے جائیں، وہ کراچی میں امن کی خواہش کو کسی ناکام عاشق کی آرزو کی طرح دل میں ہی پالتے رہیں گے لیکن پھر بھی نامساعد اور بہت ہی ناموافق حالات کے باوجود کراچی ان کے ملک کا حصہ ہے جس کے وہ وزیراعظم ہیں اور وہ اس شہر سے کسی صورت بھی لاتعلق نہیں ہو سکتے۔ انھوں نے قوم کے سامنے ایک سرسری سی تقریر کی تھی، اب وہ قوم کو بتاتے رہیں کہ ان کی کوششوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے اور کراچی کے حکمران کون سا امن چاہتے ہیں۔ اللہ میاں صاحب کو اس مشکل سے نجات دے۔

بہ شکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.