.

بڑے باآبرو ہو کر

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر آصف علی زرداری یوں بڑے خوش قسمت ثابت ہوئے کہ ایوان صدر سے بڑی عزت اور وقار کے ساتھ رخصت ہورہے ہیں۔ نہ صرف انہوں نے پانچ سال کی مدت پوری کردی بلکہ ماضی قریب کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہورہا ہے کہ وزیراعظم نے جانے والے صدر کے اعزاز میں ظہرانہ دیا اور اب جانے والے صدر آنے والے صدر کی حلف برداری میں بھی شریک ہوں گے۔

ہم نے دیکھا کہ جنرل محمد ضیاء الحق طیارے کے حادثے کے ذریعے رخصت ہوئے ۔ غلام اسحاق خان کو جنرل وحید کاکڑ نے چھڑی دکھا کر رخصت کیا۔ فاروق لغاری‘ میاں نوازشریف کے ہاتھوں رخصت ہوئے۔ رفیق تارڑ صاحب کی رخصتی تو افسوسناک بھی تھی اور شرمناک بھی۔ جنرل پرویز مشرف کو میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری کے ایکے نے جبراً رخصت کیا۔ یوں سب بے آبرو ہوکر اس کوچے سے نکلتے رہے لیکن آصف علی زرداری عجیب و غریب القابات کے ساتھ ایوان صدر میں داخل ہوئے تھے اور آبرومندانہ طریقے سے بڑے باآبرو ہوکر رخصت ہو رہے ہیں۔

آصف علی زرداری کا نام سننے سے ماضی میں میاں نوازشریف کا خون کھول اٹھتا تھا۔ ان کے بھائی میاں شہباز شریف گزشتہ سال بھی ان کو سڑکوں پر گھسیٹنے اور ان سے لوٹا ہوا مال واپس کرنے کے دعوے کیا کرتے تھے لیکن وزیراعظم کی حیثیت سے اس سب سے بڑے سیاسی حریف نے ان کے اعزاز میں نہ صرف ظہرانہ دیا بلکہ ان کی خدمات کو شاندارالفاظ میں خراج تحسین بھی پیش کیا۔ اس کے جواب میں انہوں نے میاں نوازشریف کی حکومت کو پانچ سال دینے اور ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ یقیناً یہ جمہوریت کا حسن ہے ۔ یہ سیاسی قیادت کی سوچ کی پختگی کی علامت ہے ۔ لیکن یہ پیار و محبت اور تعاون اگر ملک اور قوم کی خاطر ہو تو بڑی غنیمت ہے تاہم اگر اس کی بجائے وہ ایک دوسرے کی باری کا انتظار کرنے اور ایک دوسرے کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ہو تو پھر یہ ملک کے لئے بھی تباہ کن ہے اور جمہوریت کے لئے بھی۔

بنیادی طور پر آصف علی زرداری کا دور دو انتہاؤں کا مجموعہ تھا۔ ایک رخ کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ باب تصور کیا جائے گا دوسرے رخ کو سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ بے نظیر بھٹو کی قتل کے بعد آصف علی زرداری نے پارٹی کو ٹوٹنے سے بچا کر اکٹھا رکھا۔ سندھ کارڈ کو استعمال کرنے کی بجائے انہوں نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔

انتخابات میں کامیابی کے بعد مفاہمت کی صدا بلند کرکے میاں نوازشریف جیسے سیاسی حریفوں کو بھی شریک اقتدار کیا۔ ان کے ایک طرف اسفندیار ولی خان کھڑے رہے اور دوسری طرف ڈاکٹر فاروق ستارنظرآئے۔ مولانا فضل الرحمن کو بھی آخری وقت تک انہوں نے اپنی مسکراہٹوں کا اسیر بنائے رکھا۔ ان سب کے تعاون سے پہلے پرویز مشرف کو رخصت کرایا اور پھر صدارت کا تاج ایسے اپنے سر سجایا کہ میاں نوازشریف اور اسٹیبلشمنٹ کے سرخیل دیکھتے ہی رہ گئے۔ جب سے وہ اقتدار میں آئے‘ تب سے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے ساتھ کشمکش کا آغاز ہوگیا‘ میڈیا بھی ان کا مخالف تھا اور روز اول سے ان کی رخصتی کی تاریخیں دی جارہی تھیں لیکن وہ سب کے ساتھ بڑی دانائی کے ساتھ کھیلتے رہے۔ آخری وقت میں تو وہ ان سب کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے لگے اور یوں جیسے تیسے اپنی جمہوری حکومت کے پانچ سال پورے کروادئے۔ جہاں جھکنے کی ضرورت تھی‘ جھک گئے‘ جہاں ڈٹ جانا ضروری سمجھا ‘ ڈٹ گئے ‘ جہاں سازش درکار تھی‘ وہ کرتے رہے اور جہاں منت سماجت سے کام چلا ‘ اس سے کام لیا‘ لیکن بہر صورت پانچ سال تک اپنی حکومت کو کھینچتے رہے۔

کبھی یوسف رضاگیلانی کو قربان کیا ‘کبھی ڈاکٹر بابراعوان کواور کبھی اصول و قانون کو ‘ لیکن اپنے اقتدار کو بچائے رکھا اور پاکستان میں ایک جمہوری حکمران کی یہ بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ اپنے اختیارات کو چھوڑ کر پارلیمانی روح کے مطابق وزیراعظم کو بااختیار بنا کر بھی آصف علی زرداری نے بڑا کارنامہ سرانجام دیا لیکن شاید ان کے دور اقتدار کا سب سے بڑا اور تاریخی کارنامہ اٹھارویں آئینی ترمیم ہے۔ اس میں بعض سقم ضرور موجود ہیں لیکن اتنے بڑے پیمانے پر قانون سازی سے متعلق سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ‘ پاکستان جیسے ملک میں جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اور میرے نزدیک 73ء کے آئین (جو ان کے سسر ذوالفقار علی بھٹو کا کارنامہ سمجھاجاتا ہے) کے بعد یہ پاکستان کی آئینی تاریخ کا دوسرا بڑا ہے۔ لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے ۔ دوسرا رخ یہ ہے کہ زرداری صاحب نے جمہوریت کی سب سے بڑی علمبردار جماعت کو ایک روز بھی جمہوری طریقے سے نہیں چلایا ۔چوہدری اعتزاز احسن اور خورشید شاہ جیسے لوگ کھڈے لائن رہے اور ایسے لوگوں کو پارٹی اور حکومت کا مختار بنا دیا گیا تھا ‘ جن میں اکثریت کا ماضی میں پارٹی سے کوئی تعلق نہیں رہا تھا۔ اسی طرح آصف علی زرداری شاید واحد حکمران تھے جن کو پاکستان کی نیشنل سیکورٹی اور خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں لانے کا نادر موقع ہاتھ آیا تھا۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن لیڈر میاں نوازشریف نہ صرف تعاون کیلئے تیار تھے بلکہ وہ ان سے بھی دو قدم آگے تھے لیکن ان معاملات کو ترجیح دینے کی بجائے انہو ں نے دوسری چیزوں کو اپنی ترجیح بنائے رکھا اور اپنے دور اقتدار میں انہوں نے نیشنل سیکورٹی اور خارجہ پالیسی کو مکمل طور پر اسٹیبلشمنٹ کے سپرد کئے رکھا ۔ انہوں نے عدلیہ سے بھی چھیڑخانی کی اور فوج سے بھی لیکن عدل و انصاف کو یقینی بنانے کے لئے یا نیشنل سیکورٹی پالیسی کو تبدیل کرنے کے لئے نہیں بلکہ ذاتی اور پارٹی مفادات کے لئے گاہے بگاہے ان کو چیلنج کرتے رہے۔

اسی طرح کرپشن کے حوالے سے الزامات کو دھونے کی بجائے انہوں نے اپنے دور اقتدار میں کرپشن کے کلچر کو مزید پروان چڑھایا۔ بسا اوقات تو ایسے معلوم ہوتا تھا کہ ملک کو اس خیال سے لوٹا جارہا ہے کہ جیسے یہ آخری دور ہو۔ ان کے دور میں اس عفریت میں کمی تو کیا آتی ‘ یہ منظر بھی دیکھنے کو ملے کہ وزارتوں کی تقسیم کے وقت کیلکولیٹر ہاتھ میں لے کر حساب کیا جاتا رہا کہ اس وزارت میں اتنی کمائی ہے اور اس میں اتنی کمائی ہے ۔ اسی طرح انہوں نے وزیراعظم کو تواختیارات لوٹا دئے (لیکن وہ اختیارات عملاً پھر بھی ان کے پاس رہے ) اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ اپوزیشن لیڈر کو دے دی لیکن صدر مملکت ہوکر بھی پارٹی کی قیادت اپنے پاس رکھی اور یوں وفاق کی علامت یہ گھر عملاًایک پارٹی کا ہیڈکوارٹر بنا رہا ۔ ان دو انتہاؤں کو دیکھ کر ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ آصف علی زرداری کمال کے سیاستدان تو ثابت ہوئے لیکن قومی رہنما بن سکے اور نہ اسٹیٹسمین ۔ ان کے پاس اب بھی مہلت ہے ۔ وہ اگر باقی ماندہ زندگی میں سیاسی جوڑ توڑ کی بجائے اسٹیٹسمین شپ کو ترجیح دے تو جس طرح ایوان صدر سے عزت کے ساتھ رخصت ہوئے ‘ اسی طرح اپنی سیاسی زندگی کے اختتام بھی آبرو کے ساتھ کرسکتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.