رخصتی کی مبارک ، مگر کس کو؟

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

صدر زرداری اس ناطے خوش نصیب ہیں کہ انہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کا کامل پانچ سال تک صدر رہنے کا موقع ملا۔ جب وہ ایوان صدر سے رخصت ہوئے تو اپنے مرحوم سسر ذوالفقار علی بھٹو سے خوش نصیب قرار پائے کہ ملک کے کسی گوشے سے یہ نعرہ بلند نہ ہوا '' تماشا دکھا کر مداری گیا ''، بلکہ شنید یہ ہے کہ ایک نئے اورغیر رسمی این آر او کے تحت بعد از''صدارت بسیار'' بھی ان کے لیے سب اچھا ہو گا ۔ درست ٹریک پر آجانے والے میاں نواز شریف کی حکومت ان کے خلاف وزارت قانون کو حرکت میں نہیں لائیں گے۔ بقائے باہمی کا بظاہرایک غیر تحریری معاہدہ جسے پاکستان میں کچھ عرصے سے این آر او سے معنون کیا جاتا ہے بروئے کار رہے گا۔

اگرچہ یہ این آر او اس لیے بھی ضروری ہے کہ ملک میں ایک مناسب قسم کا دو جماعتی نظام رائج کرنے میں ایک دوسرے کی راہ میں حائل ہونے کے بجائے تعاون بدست رہا جائے۔ اسی صورت کسی نئی ابھرنے والی جماعت کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔ آمریتوں، نیم آمریتوں اور نیم جمہوریتوں کے حامل ایشیائی ممالک کو حقیقی جمہوریت کے راستے پر لانے کے لیے موجود لہر اور سیاسی اسلام کی حامی جماعتوں کے حق میں کسی امکانی متحرک عوامی حمایت کا پیشگی تدارک بھی اسی صورت ممکن ہے، [ جس کا ظاہری علامات کے حوالے سے پاکستان میں کوئی "خطرہ" نظر نہیں آتا] نیز اس این آر او کے ذریعے کھلی فوجی مداخلت کی راہ مسدود کی جا سکتی ہے۔ بعض معاملات خصوصا گورننس اور کرپشن کے حوالے سے منہ زور ہو جانے والے میڈیا کے اوچھے ترچھے وار ناکام بنائے جا سکتے ہیں، نو آزاد عدلیہ کو اگلے برسوں میں واپس "آنے والی تھاں پر" لانے کے لیے بھی اس خاموش حکمت عملی سے بہتر نسخہ کوئی اور نہیں ہو سکتا ہے۔

اس "این آر او" کی ایک اور شان نزول افغانستان کی صورتحال ہے جہاں سے اگلے سال امریکا کی صدر زرداری کی طرح بحفاظت واپسی اور باعزت رخصتی کا موقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ایک تازہ پیش رفت حالیہ دس دنوں میں کراچی کے تناظر میں سامنے آ چکی ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں ما سوائے دینی رجحان رکھنے والی جماعتوں کے بسرو چشم ایک گھاٹ پر جمع ہو چکی ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ایک گھاٹ پر لانے میں سب سے زیادہ اہم کردار خود "شیر" نے ادا کیا ہے۔

"شیر" کے اس "مخلصانہ انداز" کی ہر طرف سے پذیرائی کا رجحان بھی سامنے آ چکا ہے۔ اس کام کی اہمیت چونکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مسلمہ ہے اس لیے میڈیا نے بھی اپنے انداز میں اس میں حصہ لیا ہے، گویا یہ ایک مشترکہ "بے بی" بن گیا ہے۔ اس پیش رفت کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ امریکا کی باعزت رخصتی کے بعد بھی کیا شیر اور بکری ایک گھاٹ پر رہیں گے، امن پائیداری دکھائے گا اور کیا کراچی میں بیرونی طاقتوں کی دلچسپی اسے مستقل امن کا گہوارہ بننے دے گی یا نہیں؟

ایسا ہوتا ہے یا نہیں اس کے بارے میں فی الحال حتمی طور پر کہنا مشکل ہے، تاہم ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ بھانت بھانت کی بولیاں، متصادم مفادات، طویل دشمنیاں، "بھتہ بزنس" کی جان لیوا رقابتیں، لسانی، مذہبی اور علاقائی تعصبات کو زیادہ دیر کس ملکی یا غیر ملکی عمرو عیار کی زنبیل میں اکٹھے رکھنا آسان نہیں ہو گا۔ وقتی مفاد، وقتی مجبوریاں اور وقتی جوش طویل مدتی اہداف کے لیے بنیاد فراہم نہیں کر سکتے۔ اس لیے اگر یہ خدشات موجود ہیں کہ 2014 میں کراچی کے راستے ایک اور محفوظ رخصتی کے بعد حالات پھر دگر گوں ہو سکتے ہیں تو یہ ایسے بے جا بھی نہیں ہیں۔ اس کی ایک وجہ کراچی کے اصل کھلاڑیوں کے "کاروبار" کا کچھ عرصے کے لیے ٹھپ رہنا ہو گی، کہ شیر کے ساتھ ایک گھاٹ پر پانی پینے والے پھر سے کراچی پر بھوکے شیر کی طرح جھپٹ سکتے ہیں۔ بھوکے شیروں کا یہ وار زیادہ خوفناک ہو سکتا ہے۔

لہذا ضروری نہیں کہ باعزت رخصتیوں کے اس منظر نامے کے بعد منظر نہ بدلیں، ضرورتیں تبدیل نہ ہوں، مجبوریاں اختتام پذیر نہ ہوں، اہداف میں تغیر واقع نہ ہو، سیاسی چیلنجوں کے تقاضے مختلف نہ ہوں اور سیاسی حکمت عملی کی ترجیحات آج جیسی رہیں۔ اس تناظر میں ایک چیز جس کا اظہار فی الحال دبے لفظوں میں ہو رہا ہے وہ اپنی جگہ اہم ہے، کہ کراچی کے لیے اس "متفقہ بندوبست" کا مقصد اولی کراچی بندر گاہ تک راستے کی ہمواری ہے۔ باقی سب ضمنیات ہیں۔ اس لیے ضمنی مقاصد کے نتائج اولیں اطیمنان کا ذریعہ نہیں بن سکتے۔ لا محالہ پھر وہی بٹن دباو اور ہڑتال کراو والی سیاست ہو گی۔

اس لیے صدر زرداری کو ایوان صدر سے تاریخی رخصتی کی مبارک باد دینے والوں کو افغانستاں سے "کامیاب رخصتی" کا ہدف حاصل کرنے والے نیٹو ممالک اور ان کے سرخیل امریکا کو بھی پاکستان میں ایک نئے این آر او پر مبارک باد دینا چاہیے کہ یہ سب معجزے "دنیا کی اس ایک طاقت" کے بغیر ممکن نہیں تھے۔

نئے سیاسی این آر او پر شرمندہ ہونے یا کرنے کا موقع نہیں ہے کہ این آر او اب پاکستان کی سیاست کا حصہ بن چکے ہیں۔ پاکستان کی حالیہ برسوں کی سیاست میں یہ چوتھا این آر او ہے۔

کوئی مانے یا نہ مانے پہلا این آر او میاں نواز شریف کے اٹک قلعے سے جدہ کے سرور محل روانگی کے حوالے سے ہوا تھا۔ دوسرے این آراو میں جنرل مشرف کو ملک کی سیکولر جماعتوں نے سر آنکھوں پر بٹھایا، کچھ نے خاموش رہنے کا وعدہ نبھایا اور کچھ نے باہر رہنے کا۔ تیسرا این آر او پیپلز پارٹی کی مرحومہ سربراہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہوا اور اب چوتھے این آر او میں اہم ترین کردار میاں نواز شریف کا ہے۔ این آر او کی اس تاریخ کو دیکھا جائے تو پاکستان کے اندر اور باہر کچھ کردار ایسے ہیں جو اب تک مستقل ہیں۔ بلا شبہ یہی اصل کھلاڑی ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے یہ این آر او پاکستاں سے مذہبی سیاست کو آوٹ کرنے میں بہر حال کامیاب نظر آتے ہیں، کیا انہیں پاکستان کے کوچہ سیاست سے رخصت ہوتے چلے جانے پر بھی مبارکباد دی جائے؟

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں