.

تیرا جانا نہ تھا ظالم، مگر تمہید آنے کی…؟

بشری رحمن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جاتے جاتے پھر جناب صدر آصف زرداری نے سب کو حیران کر دیا۔ آصف زرداری کو حیران کرنے کا گر آتا ہے۔ ممکن ہے یہ گُر بھی انہوں نے جیل کی تنہائی اور بے چارگی میں سیکھا ہو۔ ویسے جتنے بھی سیاسی اور غیر سیاسی لوگوں نے دنیا میں جیلیں کاٹی ہیں۔ ان سب نے یہی کہا ہے کہ ہم نے اس تنہائی میں تزکیۂ نفس کی منزلیں طے کی ہیں۔ دنیا کی بہت سی بہترین کتابیں بھی جیلوں کے اندر تصنیف کی گئی ہیں۔ تطہیر نفس کے لئے ہی غالباً جیل خانے تعمیر کئے گئے تھے کہ مجرمانہ ذہنیت کے لوگ جب قیدِ تنہائی کے شب و روز کاٹیں گے تو انہیں اپنی ذات کا عرفان حاصل ہو گا کہ وہ کیا کرنے آئے تھے اور کیا کر رہے ہیں۔ کائنات کو سمجھنے کے لئے قید تنہائی سب سے بڑا استاد ہے…

آصف زرداری نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے صبر اور اپنے نفس پر جبر قید خانے میں سیکھا۔ حالانکہ ان کا قید خانہ روایتی قسم کا نہیں تھا۔ سنتے ہیں۔ بادشاہوں والی سہولیات وہاں بھی تھیں۔ پھر بھی بھری دنیا میں سے ایک چہکتے مہکتے بندے کو اٹھا کر ایک سجے سجائے کمرے میں بھی بند کر دیں تو قید خانہ ہی لگتا ہے۔

انسان حیوانِ ناطق ہے۔ دوسرے انسانوں سے ملے بغیر اسکی جبلتیں تسکیں نہیں پا سکتیں۔ تاہم یہ ثابت ہو گیا کہ آصف علی زرداری نے آدابِ حکومت گری، بادشاہ گری، اور تخت گری جیل میں بیٹھ کر سیکھے۔ تو گویا جیل ان کے لئے خوش نصیبی کی علامت بن گئی۔

حیران انہوں نے اس وقت بھی کیا تھا۔ جب محترمہ کی اچانک وفات کے بعد محترمہ کا وصیت نامہ اچانک نکال لیا تھا۔ حیران انہوں نے اس وقت بھی کیا تھا۔ جب بلاول کو فوراً بلاول بھٹو زرداری بنا دیا تھا۔ اور جب وہ ایک جمہوری صدر کی حیثیت سے ایوانِ صدر میں براجمان ہوئے۔ تو سارے ستارہ شناس بدحواس ہو گئے تھے۔ یہ پلاننگ ایک رات اور ایک بات میں نہیں ہوتی۔
پھر جب صدر مملکت کا حلف اٹھا کر وہ اپنی پیاری بیوی محترمہ بینظیر صاحبہ کی قبر پر گئے تھے۔ تو اس کو بھی حیران کر دیا تھا… گویا وہ کہہ اٹھی ہو

جو ہم پہ گذری سو گذری مگر شب ہجراں ۔۔۔ ہمارے اشک تیری عاقبت سنوار چلے!

سب اندر باہر بآواز بلند کہہ رہے ہیں کہ صدر آصف زرداری پہلے جمہوری صدر ہیں۔ جنہوں نے جمہوری انداز میں انتخاب لڑا۔ منتخب ہو کر آئے۔ اور پانچ سال کامیابی کے ساتھ پورے کر کے، عزت و آبرو کے ساتھ باقاعدہ سلامیاں لے کر جا رہے ہیں۔ بات تو سچی ہے۔ اور اچھی بھی ہے۔

یہ بارھویں صدر ہیں۔ کوئی ان کا پیش رو ان کی طرح رخصت نہیں ہوا…
نہ کسی وزیراعظم کو توفیق ہوئی کہ اپنے لائے ہوئے صدر کو احترام و احتشام کے ساتھ رخصت کر سکے۔ مگر جاتے جاتے وہ حیران کر گئے…

گذشتہ پانچ سالوں میں موسم ایک جیسا بالکل نہیں رہا۔ کبھی کبھی سیاست کے اندر لال آندھیاں اور درخت اکھیڑنے والے جھکڑ بھی چلتے رہے ہیں۔ ایک پرانے ڈرامے کا نیا سکرپٹ چلایا گیا۔ یعنی ’’مرکز پنجاب اِٹ کھڑکا‘‘ اس مکالمے میں زرداری صاحب بھی پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے پنجاب کو جواب آں غزل دینے کے لئے پنجابی زبان کا سہارا بھی لیا۔ بڑھکیں بھی ماریں۔ دھمکانے والا انداز بھی اختیار کیا۔ چھوٹے موٹے سٹیشن گذرتے رہے اور ٹرین چلتی رہی… لگتا یہ تھا کہ زرداری تاجوری اب گئی کہ تب گئی…

اب جا کے قوم کے معصوم لوگوں کو پتہ چلا کہ وہ بھی اک ’’اندازِ دلربائی‘‘ تھا۔ اور طے شدہ تھا۔ بظاہر صدر آصف زرداری نے ایوان صدر کے اندر بیٹھ کر اپنی پارٹی کو منظم کیا۔ پارٹی کو چلایا۔ اتحادیوں کے ساتھ میانہ روی کا برتائو کیا۔ اور ایوان صدر کے اندر باقاعدہ سیاسی نعرے لگتے رہے۔

اور ثابت ہو گیا کہ صدر جس پارٹی کا ہوتا ہے۔ اسی پارٹی کا رہتا ہے۔

پرائم منسٹر ہائوس کی دعوت میں جب ستائشِ باہمی کا اجلاس شروع ہوا۔ تو غیر سیاسی لوگ بھی انگشت بدنداں ہو گئے۔ آپ دونوں ایک دوسرے کی فطری خوبیوں اور سیاسی صفات کے اسقدر قائل تھے۔ تو وہ ’’الفاظ و محاورات کی دھینگا مشتی‘‘ کیا تھی۔ یہ بھی طے شدہ بات ہی لگتی ہے۔ اور اب کے جو عہد و پیمان ہوئے ہیں۔ وہ بھی کہیں ’’افسانوی‘‘ نہ ثابت ہوں۔

انہوں نے فرمایا ہے۔ آئندہ نہ وزیراعظم بنوں گا نہ صدر… اصولاً تو صدر یا وزیراعظم کے منصب پر پہنچ جانے کے بعد کسی بھی شخصیت کو نہ تو پارلیمنٹ میں آنا چاہئے اور نہ کوئی عہدہ قبول کرنا چاہئے۔ بلکہ اپنی سطح پر رہ کر ملک و ملت کی بہتری کے لئے کام کرنا چاہئے۔ جس طرح امریکہ یا دوسرے ملکوں کے صدور کرتے ہیں… صدر کے بعد بھلا کوئی عہدہ اس کے ہم پلہ ہو سکتا ہے۔ جبکہ صدر مملکت کے اعزازئیے اور سہولیات اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ بندے کو روٹی کمانے کے لئے کچھ اور کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔

ابھی ہمارے عوام کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ زندگی بھر کے لئے صدر صاحب کو خزانے میں سے کیا کچھ اور کتنا کچھ ملتا رہتا ہے۔ مگر سیاست میں پروٹوکول کا جو چسکا پڑ جاتا ہے۔ وہ بندے کو گھر نہیں بیٹھنے دیتا۔ صدر آصف زرداری ایک بہادر انسان ہیں۔ اس لئے وہ کہتے ہیں۔ مولے کو مولا نہ مارے تو مولا نہیں مرتا۔ یہ بھی ٹھیک ہے۔ مگر پانچ سال ایوان اقتدار میں بیٹھ کر، پاکستان کے اعلیٰ منصب کے ساتھ انہوں نے دنیا بھر کے سفر کئے ہیں۔ عالمی سطح پر سیاست کو دیکھا ہے۔ ناکامی سے گذر کر کامیابی کا مزہ چکھا ہے تو ضرور کچھ اور بھی سیکھا ہو گا۔ اس لئے اب انہیں پارٹی اور پالیٹکس سے ماوریٰ ہو کر اپنے ملک اور ملت کے لئے کوئی اچھا کام سرانجام دینا چاہئے۔ رضاکارانہ طور پر… اس وقت پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے… امنِ عامہ کی حالت مخدوش ہے۔

بلوچستان سلگ رہا ہے۔ افغانستان سے دھواں اٹھ رہا ہے… کراچی میں آگ لگ رہی ہے… وہ اپنی فہم و فراست کو صرف پارٹی کو منظم کرنے میں نہ لگائیں۔ یہ کام کسی اور کے سپرد کریں۔ اور خلقت کے لئے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیں۔ مال و زر اور اقتدار کے چکر سے نکل جائیں۔ نکل کر دیکھیں… اب وہ سیدھے لاہور کا رخ کر رہے ہیں۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے سیدھے بلاول ہائوس اتریں گے۔ یہ تو سارے شاہانہ بندوبست ہیں۔ اگر سکیورٹی سے بے نیاز ہیں۔ تو سڑکوں پر پیدل چل کر دیکھیں اگر مولا کی ذات پر بھروسہ ہے۔ تو اللہ کے بندوں کے درمیان گھوم پھر کر کام کریں۔ ایک قید خانے سے دوسرے قید خانے میں اترنا کوئی کمال کی بات نہیں ہے۔ مگر ایوانِ صدر سے ان کا تمام ضروری سامان بشمول درجنوں جانور، اعلیٰ نسل کے گھوڑے، گائے، بھینس، بھیڑیں اور بکریاں بھی نئی رہائش گاہ پر منتقل ہو گئی ہیں۔

یہ بھی سنا ہے کہ اعلیٰ نسل کی کچھ گائے اور بکریاں انہوں نے نومنتخب صدر کے لئے ایوانِ صدر میں چھوڑ دی ہیں۔ معلوم نہیں نئے صدر کو ان بھیڑ بکریوں سے رغبت ہو گی کہ نہیں… مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ایوان صدر میں بکریوں کی ہمیشہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ مَیں مَیں کی آوازیں آتی رہیں… اور مشاعرہ ہوتا رہے… یعنی

اب تو اتنی سی عنایت بھی نہیں مانگتے ہم ۔۔۔ جا میاں! تجھ سے محبت بھی نہیں مانگتے ہم!
کس لئے نام کی شاہی پہ خفا ہوتے ہیں؟ ۔۔۔ اب تو ان لوگوں سے بیعت بھی نہیں مانگتے ہم!!

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.