خوش قسمت کون؟ قوم یا زرداری

ارشاد احمد عارف
ارشاد احمد عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

سبکدوش صدر آصف علی زرداری اس حد تک تو یقینا خوش قسمت اور تاریخ ساز ہیں کہ انہوں نے عہدہ صدارت کی مقررہ معیاد پوری کر لی، سرے محل اور سوئس بینکوں میں پڑی قومی دولت اکیلے ہضم کر گئے اور جس انداز میں اُن کے روایتی حریف میاں نواز شریف نے خراج تحسین اور پروٹوکول کے ساتھ انہیں ایوان صدر سے رخصت کیا ہے وہ مستقبل میں مقدمات نہ کھلنے کے ارادوں کا مظہر ہے مگر کیا خوش قسمتی کا واحد معیار یہی ہے؟ میاں نواز شریف کی والہانہ تقریر کے دوران علی بابا چالیس چوروں کو گوالمنڈی کی گلیوں میں گھسیٹنے کے دعویدار میاں شہباز شریف بھی کیا آنکھیں بند کئے یہی سوچ رہے تھے؟

آصف علی زرداری کی خوش قسمتی کا آغاز بے نظیر بھٹو کے ساتھ شادی کے دن سے ہوا بعض ستم ظریف اسے زرداری خاندان کے عروج اور بھٹو خاندان کے زوال کا نقطہ آغاز قرار دیتے ہیں اور کچھ کے نزدیک شادی سے صدارت کے سفر میں زرداری نے یہ ثابت کیا کہ وہ جو ٹھان لیں وہ کر گزرتے ہیں اور قسمت اُن کا ساتھ دیتی ہے۔ تاہم کیا ایک مشرقی معاشرے میں نیک نامی، اصول پسندی، ایفائے عہد اور عوام دوستی کی بھی کوئی قدر و قیمت ہے؟ اور یہ بھی کہ کسی شخص نے اپنے خستہ حال ملک اور خستہ جاں قوم کے لئے کیا کیا؟ یا محض پانچ سال پورے کر لینا اور ہر ایک کو بے وقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کرنا کامیابی کی دلیل اور دانشمندی کا ثبوت ہے؟ اس لحاظ سے نیک نام محمد خاں جونیجو اور دیانت و امانت کے پتلے جسٹس رفیق تارڑ ناکام ترین وزیراعظم اور صدر تھے جو ضیاء اور پرویز مشرف سے بگاڑ پیدا کر کے قبل از وقت رخصت ہو گئے۔

صدر آصف علی زرداری پر لگنے والے کرپشن کے الزامات کتنے درست تھے اور کتنے غلط؟ یہ اب تاریخ کے ذمے۔ کیونکہ انہیں مسٹر ٹین پرسنٹ قرار دینے والے سارے صحافی، سیاستدان اور دانشور ان کے گن گا رہے ہیں اور اُن کے دستر خواں پر خوشہ چینی میں مصروف۔ تاہم انہوں نے ملک کو کیا دیا اور قوم کو ان سے کیا ملا؟ یہ بروقت اور برمحل سوال ہے۔ کیا دہشت گردی، بدامنی، لاقانونیت، مہنگائی، بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ، سیاسی عدم استحکام، اقتصادی و معاشی زبوں حالی اور لوٹ مار میں کمی ہوئی یا اضافہ؟ ملک نے ترقی کی، عوام خوشحال ہوئے اور تعلیم و صحت کی سہولتیں بہتر ہوئیں یا حالت مزید ابتر ہوئی؟ اس سوال کا جواب زرداری صاحب، ان کے ساتھیوں بالخصوص یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، امین فہیم اور ان کے مداحوں کے ذمے ہے۔ یا پھر اس الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی ذمہ داری ہے جس کے صفحات اور سکرینوں پر پانچ سال تک میگا سکینڈلز چھائے رہے۔ رینٹل پاور پراجیکٹ، این آئی سی ایل، ایفیڈرین، اے جی ایس کو ٹیکنا اور دیگر۔ ایک ایک سکینڈل میں اربوں کے گھپلے اور لوٹ مار کی ہوشربا داستانیں اور قومی بدنصیبی کی کہانیاں۔

حکمرانوں کے لئے ، اُن کے عزیز و اقارب، ارکان اسمبلی اور جیل و جلاوطنی کے ساتھیوں کے لئے اربوں کھربوں روپے دستیاب تھے، اعلیٰ ملازمتیں اور لوٹ کھسوٹ کے مواقع۔ پی آئی اے، ریلوے، واپڈا اور دیگر دیکھتے دیکھتے برباد ہو گئے مگر کسی نے خبر تک نہ لی۔ حلیفوں کی بھی پانچوں گھی میں تھیں اور سر کڑاہی میں مگر عوام کے لئے خزانہ خالی تھا یا پھر اٹھارہویں انیسویں بے فیض ترامیم، این ایف سی ایوارڈ، آغاز حقوق بلوچستان اور اس طرح کے دیگر شعبدہ بازیاں اور زبانی کلامی بہلاوے۔ حکمرانوں کی عوام سے بے نیازی، کچھ نہ کرنے کی عادت اور لوگوں کی جیبیں کاٹ کر اپنی جیبیں بھرنے کی روش سے تنگ آ کر بے بس اور بے نوا عوام نے سوشل میڈیا پر لطیفوں، داستانوں اور قصے کہانیوں کا سہارا لیا جبکہ پیپلز پارٹی کے مخلص ورکر مجلسوں محفلوں میں شرمندگی آمیز خاموشی کو ترجیح دینے لگے۔ یہ بیچارے کہتے تو کیا ؎

ذوق گناہ کے سوا، شوق گناہ کے سوا
مجھ کو ’’خدا‘‘ نے کیا دیا، مجھ کو ’’خدا‘‘ سے کیا ملا

جانے والوں کو اچھا کہنا ہمارا کلچر ہے۔ نامی گرامی ڈکیت، قاتل، بھتہ خور اور قبضہ گیر بھی پولیس مقابلے میں مارا جائے تو لوگ اس کی خطائیں بھول کر خوبیاں بیان کرتے ہیں ایسی ایسی خوبیاں جن کا مرحوم کو علم ہوتا ہے نہ اہل خانہ کو۔ آصف علی زرداری تو اس ملک کے نامور سیاستدان ہیں بے نظیر بھٹو کے شوہر اور ذوالفقار علی بھٹو کے داماد جو صدر کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز رہے اور اُن کی ذاتی خوبیوں کے علاوہ خوش قسمتی کا ایک زمانہ معترف ہے مگر محض جیسے تیسے پانچ سال پورا کر لینے اور میاں نواز شریف کی فراخدلی کی وجہ سے ’’باعزت‘‘ و ’’باوقار‘‘ طریقے سے رخصت ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پانچ سال تک اس قوم پر جو گزری اور اُن کے ساتھیوں نے مال مفت دل بے رحم کا جو مظاہرہ کیا اسے جمہوریت کی محبت میں فراموش کر دیا جائے گو افتخار عارف کا تجربہ یہی ہے ؎

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض چکائے ہیں کہ جو واجب بھی نہ تھے

پیپلز پارٹی بکھر گئی، ریاست ناکامی کے دہانے پر آ کھڑی ہوئی اور عوام بیچارے زندگی بھر اس پچھتاوے کا شکار رہیں گے کہ انہوں نے آزمائے ہوئوں کو ایک بار پھر آزمانے کی تاریخی حماقت کیوں کی۔ امریکی ایجنٹ اور بھارتی جاسوس ملک بھر میں پھیل گئے اور قومی سلامتی شدید خطرات سے دوچار ہوئی، کراچی میں بدامنی اور سندھ میں ڈاکو راج دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اس ملک کا والی وارث ہے۔

اعلیٰ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد سے گریز اور عدلیہ کی تحقیر کا کلچر اس دور میں خوب پروان چڑھا اور ڈھٹائی اس حد تک بڑھ گئی کہ ثبوت ملنے اور عدالتی فیصلے آنے کے بعد بھی قومی مجرم اپنی بے گناہی کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے۔ آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے مقابلے میں کرکٹر عبدالقادر زیادہ باکردار، جرأت مند اور با اصول نکلا جس نے اپنے بیٹے عبدالرحمن کی گرفتاری پر نہ صرف اس کی جوئے بازی کا اعتراف کیا شرمندگی ظاہر کی بلکہ عاق بھی کر دیا۔ کاش ہمارے سیاستدان اس کرکٹر کی طرح اپنی، اپنی اولاد اور اپنے سنگی ساتھیوں کی غلطیوں کے اعتراف کی روش اپناتے اور قوم کے لئے رول ماڈل بنتے۔ مگر یہ تو فوجی حکمرانوں کی غلطیاں گنوا کر اپنے قومی جرائم کا دفاع کرتے اور اس پر اتراتے ہیں۔

صدر زرداری کی با عزت، باوقار رخصتی پر جمہوریت کی بلوغت کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے۔ واقعی؟ پانچ سال تک نابالغ جمہوریت نے قوم کی چیخیں نکلوائیں اب ’’بالغ جمہوریت‘‘ کی باری ہے اس لئے صرف تین ماہ میں گیس، پٹرول، دال، سبزی، آٹے کے نرخوں کو پر لگ گئے ہیں۔ خدا جانے جمہوریت کی بلوغت قوم کو مزید کتنے میں پڑے گی۔ زرداری اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ جس جس نے اس کے خلاف لکھا، بولا، شور مچایا اور مخالفانہ پروپیگنڈا کیا آج اس کی شان میں رطب اللسان ہے اور شہباز شریف بے چارے آنکھیں بند کئے اپنے اور برادر بزرگ کے سابقہ بیانات کو بھلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک زرداری، قوم، ملک، پیپلز پارٹی سب پر بھاری۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں