طالبان سے مذاکرات اور تاریخ کا سبق

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

گزشتہ دس سالوں میں پاکستانی ریاست کی عسکریت پسندوں سے متعلق پالیسی اس قدر کنفیوژن اور تضادات کی شکار رہی ہے کہ اسے پالیسی کا نام بھی نہیں دیا جا سکتا۔ ایڈہاک ازم کی بنیاد پر مبنی اس پالیسی میں دوست اور دشمن کی تمیز کی جا سکتی تھی اور نہ اس کی سمت واضح تھی۔

درحقیقت ہماری ریاست مذاکرات بھی کررہی تھی اور جنگ بھی لیکن دوسری طرف اس کی پالیسی جنگ کی تھی اور نہ مذاکرات کی۔ سوات ‘ باجوڑ اور جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں جنگ کا راستہ اپنایا گیا جبکہ خیبر ایجنسی کے باڑہ سب ڈویژن میں گزشتہ ایک سال سے، اورکزئی ایجنسی میں گزشتہ چار سال سے آپریشن جاری ہے۔ ایسا آپریشن جس میں کئی بارجیٹ طیاروں سے بمباری بھی کی گئی۔

دوسری طرف رحمن ملک سے لے کر جنرل کیانی تک ‘ سب ذمہ دار اس بات پر متفق رہے کہ پاکستان میں عسکریت پسندوں کی جو کارروائیاں ہورہی ہیں ان کے تانے بانے شمالی وزیرستان سے ملتے ہیں لیکن وہاں گزشتہ پانچ سالوں میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

اسی طرح کرم ایجنسی میں لوگ مرتے رہے لیکن ریاست تماشا دیکھتی رہی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دو قبائلی ایجنسیوں میں عسکریت پسندوں کے ساتھ ‘ہماری ریاست مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے معاہدوں پر عمل پیرا ہے۔ بہت کم لوگ اس طرف توجہ دیتے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں5ستمبر 2006ء کو ایک سابق لیفٹیننٹ جنرل یعنی علی محمد جان اورکزئی‘ جو اس وقت گورنر تھے‘ نے عسکریت پسندوں کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اور تادم تحریر ریاست پاکستان یکطرفہ طور پر اس معاہدے کی پاسداری کر رہی ہے۔ اسی طرح جنوبی وزیرستان کے وانا سب ڈویژن میں مولوی نذیر کی زیرقیادت عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی 2007ء میں معاہدہ ہوا ہے اور آج تک حکومت پاکستان اس پر عمل کررہی ہے۔ اب اگر مذاکرات اور مفاہمت جرم ہے تو پھر ان دو قبائلی علاقوں میں انہی طالبان سے متعلق یہ جرم کیوں؟

اگر آپریشن ہی حل تھا تو پھر شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان (وانا سب ڈویژن) میں اس آپشن کو کیوں آزمایا نہیں گیا۔ مذاکرات کے مخالفین یہ دلیل دیتے ہیں کہ مذاکرات ماضی میں بھی ہوئے اور عسکریت پسندوں کے ساتھ کئی معاہدے کئے گئے لیکن ان کا فائدہ نہیں ہوا لیکن کوئی اس تجزیئے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ ان میں کیا خامیاں تھیں۔ میرے نزدیک پہلی خامی ان مذاکرات یا معاہدوں کی یہ تھی کہ وہ کبھی بھی ”کُل“ کے ساتھ نہیں کئے گئے ۔شکئی معاہدہ(24مارچ 2004ء) تمام عسکریت پسندوں کے ساتھ نہیں بلکہ صرف کمانڈر نیک محمد کے ساتھ کیا گیا جس کا اطلاق صرف جنوبی وزیرستان کے احمد زئی وزیروں پر ہورہا تھا۔

سراروغہ کا معاہدہ (22فروری 2005ء) بیت اللہ محسود کے ساتھ تھا جو تمام عسکریت پسندوں سے نہیں بلکہ صرف محسودوں سے متعلق تھا۔ خیبر ایجنسی میں ہونے والے معاہدے (21جون 2008ء) کا اطلاق صرف منگل باغ کے لشکر اسلام اور متعلقہ آفریدی قبائل پر ہوتا تھا۔ شمالی وزیرستان (5ستمبر 2006ء) کے معاہدے کا اطلاق صرف شمالی وزیرستان کے عسکریت پسندوں پر ہی ہو رہا تھا جبکہ 2007ء میں جنوبی وزیرستان میں احمد زئی وزیروں کے ساتھ ہونے والا معاہدہ صرف مولوی نذیر کے عسکریت پسندوں سے متعلق تھا۔

سوات معاہدے میں تو عجیب حماقت سے کام لیا گیا تھا۔ تب گراؤنڈ پر کنٹرول مولانا فضل اللہ کی تحریک طالبان کے پاس تھا لیکن صوبائی حکومت نے معاہدہ مولانا صوفی محمد سے کیا۔ یہ اس طرح ہے کہ جیسے میاں نوازشریف کو بائی پاس کرکے صدر ممنون حسین سے معاہدہ کیا جائے اور پھر ان سے توقع کی جائے کہ وہ میاں نوازشریف سے اپنی بات منوالیں گے ۔ ماضی کے معاہدوں اور مذاکرات کی ایک بنیادی خامی یہ تھی کہ ان سے متعلق ریاستی ادارے کبھی بھی ایک صفحے پر نہیں رہے مثلاً جنوبی وزیرستان میں جب گورنر اور پولیٹکل ایجنٹ مذاکرات اور جرگوں کے ذریعے قضیے کو حل کرنے کی کوشش کررہے تھے تو اس وقت کے کورکمانڈر علی محمد جان اورکزئی کی شہ پر سیکورٹی فورسز کی بعض کارروائیوں سے وہ عمل سبوتاژ ہو گیا اور پھر جب کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد صفدر شکئی معاہدہ کر رہے تھے تو اس وقت کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید افتخار حسین شاہ اور پولیٹکل ایجنٹ شدید مخالف تھے۔

گورنر افتخار شاہ احتجاجاً خود شکئی معاہدہ کیلئے نہیں گئے جبکہ اس وقت کے پولیٹکل ایجنٹ اعظم خان کو معاہدے سے دو روز قبل فوج کے دباؤ پر فارغ کر دیا گیا ۔ ماضی کے مذاکرات اور معاہدوں کے عمل کی ایک بڑی خرابی یہ تھی کہ ان میں فوج ڈرائیونگ سیٹ پر رہی ‘ حالانکہ فوج کا کام لڑنا ہے‘ مذاکرات کرنا نہیں۔ اب جب بعض لوگ کہتے ہیں کہ فوج مذاکرات کی حامی نہیں تو مجھے ذرّہ بھر تشویش نہیں ہوتی ۔ ہر فوج کو مذاکرات کا مخالف ہونا چاہئے۔ مذاکرات کرنا اور معاہدوں تک پہنچنا سیاسی قیادت کا کام ہے۔ آج اگر جنرل کیانی مذاکرات میں ملوث ہو جائیں یا پھر وہ مذاکرات اور مفاہمت کے فوائد بیان کرنا شروع کر دیں تو کل ضرورت پڑنے پر وہ اپنے جوانوں کو ان لوگوں کے خلاف کیسے لڑائیں گے۔ اس لئے فوج اگر مذاکرات کے حق میں صدا بلند نہیں کر رہی تو کوئی غلط نہیں کر رہی لیکن بدقسمتی سے ماضی میں کورکمانڈر وردی میں جا کر عسکریت پسندوں کو ہار پہناتے رہے۔

سوات معاہدے پر بظاہر دستخط اے این پی کے وزیروں نے کئے تھے لیکن مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ سارا ہوم ورک ایک خفیہ ایجنسی نے کیا تھا اور معاہدے کا ڈرافٹ کافی عرصہ قبل اسی ایجنسی نے تیار کیا تھی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ماضی کے مذاکرات اور معاہدوں کی ناکامی سے یہ نتیجہ نکالنا ہر گز درست نہیں کہ مذاکرات سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا بلکہ ان کا سبق یہ ہے کہ اب کے بار مذاکرات کے سلسلے میں ان غلطیوں کو نہ دہرایا جائے جن کا ماضی میں ارتکاب کیا گیا۔ پہلا سبق یہ ہے کہ سول اور عسکری قیادت مکمل طور پرصرف پالیسی کی حد تک نہیں بلکہ عملدرآمد اور جزئیات کی حد تک ایک صفحے پر آ جائے۔ وہ اگر حقیقی معنوں میں ایک صفحے پر آ گئی تو مذاکرات سے بھی حل نکالا جا سکتا ہے اور ریاستی قوت کے استعمال کے ذریعے بھی لیکن اگر ماضی کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ آنکھ مچولی ہوتی رہی تو نہ مذاکرات نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں اور نہ طاقت سے کوئی خیر برآمد ہو سکتا ہے۔

دوسرا سبق یہ ہے کہ مذاکرات سیاسی قیادت ہی کرے اور عسکری ادارے پس منظر میں رہیں لیکن پس منظر میں رہ کر سیاسی قیادت کی مقررکردہ سمت میں ہی اپنا کردار ادا کرتے رہیں ۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ مذاکرات جز سے نہیں بلکہ ”کُل“ سے کئے جائیں۔ تحریک طالبان کو تقسیم کرنے کے بجائے اس کی مجموعی قیادت سے بات کی جائے۔ اسی طرح ماضی کے مذاکراتی عمل میں کبھی بھی افغان طالبان کو استعمال نہیں کیا گیا۔

جاننے والے جانتے ہیں کہ پاکستانی طالبان کو راضی کرنے میں کسی بھی پاکستانی سیاسی و مذہبی جماعت یا ادارے سے بڑھ کر افغان طالبان ہی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ماضی میں افغان طالبان سے متعلق بھی ہماری پالیسی تضادات کی شکار رہی۔ ایک طرف ان کی حمایت کیلئے پاکستان دنیا بھر میں بدنام ہو رہا تھا اور دوسری طرف افغان طالبان کے درجنوں رہنماؤں کو پاکستان میں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا‘ جن میں دو اہم رہنما ملا عبیداللہ اخوند اور استاد یاسر دوران حراست زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ یوں دنیا بھی ہم سے ناراض تھی اور طالبان بھی خفا تھے۔ ماضی قریب میں پاکستان نے افغان طالبان کے جو درجنوں رہنما رہا کئے ہیں اس کی وجہ سے ان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کافی بہتر ہوگئے ہیں اور اس معاملے میں ان سے تعاون لینے کا یہی بہترین موقع ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں