قصرِ صدارت کے نئے مہمان

ڈاکٹر علی اکبر الازہری
ڈاکٹر علی اکبر الازہری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

برصغیر پاک و ہند میں بیٹیوں کو شادی کے موقع پر جو جہیز دیا جاتا ہے اس میں عام طور پر گھریلو سامان اور اشیائے ضرورت شامل ہوتی ہیں۔ دلہن کے ماں باپ زیادہ امیر ہوں تو اسے تحفے میں کوٹھی کار وغیرہ بھی مل جاتی ہے مگر دختر مشرق محترمہ بے نظیر بھٹو کی شادی ہوئی تو انکے جہیز میں ان روائتی اشیاءکے علاوہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کی قیادت بھی موجود تھی۔ انکے ہونیوالے شوہر ”آصف علی زرداری“ ان سے رشتہ ازواج میں منسلک ہونے تک قطعاً قابل ذکر شخصیت نہ تھے مگر جس روز وہ سفید پگڑی اور بڑی بڑی مونچھوں کے ساتھ مرحومہ بے نظیر کیساتھ دلہا بن کر بیٹھنے میں کامیاب ہوئے دولت، شہرت اور اقتدار حاصل کرنے کا پہلا مرحلہ انہوں نے اسی روز طے کرلیا تھا۔

محترمہ کے دور اقتدار میں زرداری صاحب ممبر اسمبلی اور رکن سینٹ بھی بنائے گئے بلکہ محترمہ کے دوسرے دورِ اقتدار میں وہ وزیر ماحولیات تھے جب اپوزیشن لیڈر محترم نواز شریف نے انہیں پاکستان کے سیاسی ماحول میں آلودگی پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ اندر کی کہانی کوئی بھی ہو دونوں بار محترمہ کی ایوان اقتدار سے رخصتی کا سبب بظاہر زرداری صاحب ہی بنتے رہے۔ ان پر کرپشن کے درجنوں مقدمات بنائے گئے اور وہ گیارہ سال جیل میں بھی رہے۔ زرداری صاحب کے بقول ”انہوں نے جیل میں تحمل، بردباری اور صبر کا سبق سیکھا“ جسے انہوں نے گذشتہ دور صدارت میں کمال مہارت سے استعمال کیا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ تلخیوں سے بھری پڑی ہے مگر ان تلخیوں سے متاثر ہوکر باہر آنے والے اکثر انتقامی سیاست کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ جیل میں صدر زرداری کی زبان تک زخمی کی گئی مگر انہوں نے اس زبان سے شیرنیاں بانٹنے کی کامیاب کوشش کی۔ حالیہ ایام میں انہوں نے اپنے اعزاز میں الوداعی تقریبات میں جس عزم اور مثبت سیاست کا اظہار کیا ہے اگر وہ اور ان کے مدمقابل جماعتیں بھی اسی طرح کا عملاً مظاہرہ کرنے لگیں تو پاکستانی مسائل کے جنگل میں کامیابیوں کے گلستان لہرا اٹھیں گے۔انکے پورے دورِ اقتدار میں عدلیہ اور میڈیا نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا مگر وہ پوری ثابت قدمی سے ایوان صدارت میں ڈٹے رہے۔

شاید ہی کوئی برا لفظ، گھٹیا لطیفہ اور گالی ہوگی جو ان کی شان میں نہ استعمال کی گئی ہو مگر خلق خدا کی اس ناپسندیدگی کے باوجود انہوں نے حیرت انگیز طور پر نہ صرف آئینی مدت پوری کی بلکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے 6 مرتبہ خطاب کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔ انکے دور میں مہنگائی، دہشت گردی اور لوٹ مار کا جن پوری ڈھٹائی سے عوام کو نگلتا رہا لیکن اس معاملے میں بھی انہوں نے ”تاریخی“ خاموشی کا ثبوت دیا۔ انہوں نے صوبوں کو خود مختاری دلانے، 17ویں آئینی ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ اور وزیراعظم کو اختیار کی منتقلی، گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بناکر، پاک ایران گیس منصوبے کا افتتاح اور گوادر کی بندرگاہ کا چین کیساتھ معاہدہ کرکے اچھی یادیں بھی چھوڑیں۔ مگر جس چیز نے انہیں زیادہ ”یادگار“ بنایا وہ وزیراعظم اور بعض کلیدی عہدوں پر اپنے پسندیدہ لوگوں کا انتخاب تھا جس نے حکومتی کرپشن اور نااہلیت کے سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے۔ انکی حکمت، بصیرت اور مفاہمتی سیاست کا بس چلتا تو وہ وقت کیساتھ بھی کوئی معاہدہ کرلیتے مگر وقت کس کی سنتا ہے، وہ گزر گیا اور زرداری صاحب بھی قصرِ صدارت چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

5سال تک دھوم دھڑکے سے کرسی صدارت پر براجمان آصف علی زرداری گذشتہ روز سابق صدر ہوگئے ہیں۔ آج انکی جگہ صدارتی مہمان سرائے میں ”نیا مہمان“ براجمان ہوچکا ہے۔ صدر زرداری اور صدر ممنون حسین میں بنیادی فرق یہ ہے کہ زرداری نے پوری کابینہ سمیت وزیراعظم جیسے مرکزی عہدے کو اپنی مٹھی میں دباکر رکھا لیکن نئے صدر کے عہدہ صدارت سے لیکر انکے اختیارات کی چابی وزیراعظم نواز شریف کے پاس رہے گی۔ جامعہ کلاتھ مارکیٹ کراچی میں کپڑے کی تجارت سے وابستہ محترم ممنون حسین بنیادی طور پر محترم رفیق تارڈ جیسے شریف النفس شخص ہیں۔ بھاری مینڈیٹ کے حامل نواز شریف نے حسب سابق پورے ملک کے بڑے بڑے بھلے مانس قسم کے سیاستدانوں کو امید کی رسی سے باندھے رکھا جن میں سندھ کے غوث علی شاہ، پیر پگارو، ممتاز بھٹو، بلوچستان سے محمود خان اچکزئی، میر ظفراللہ جمالی اور دیگر کہنہ مشق سیاستدان شامل تھے۔

خصوصاً سرتاج عزیز صاحب کے نام پر ایک مرتبہ تو اتفاق رائے بھی ہوچکا تھا لیکن پھر اچانک ممنون حسین منظر عام پر آگئے۔ واقفان حال کے بقول پنجاب کی گورنری ہو یا ملک کی صدارت شریف برادران کے ایام اسیری اور جلاوطنی کے دوران خصوصی خدمات کا صلہ ہیں۔ رہ گئیں وہ خدمات جو جاوید ہاشمی مشکل ترین حالات میں مسلم لیگ (ن) کیلئے انجام دیتے رہے اور جن کی بنیاد پر وہ 2008ءمیں خود کو بجا طور پر صدارتی امیدوار بھی سمجھ بیٹھے اور انہیں چودھری شجاعت سمیت دیگر سیاسی دھڑوں کی حمایت بھی حاصل تھی وہ اس لئے بے ثمر رہیں کہ جاوید ہاشمی کے اندر کا باغی انکے قابو میں نہیں تھا۔ بہت سے لوگ گذشتہ حکومت کی بدانتظامی کے نتیجے میں ملکی مسائل اور مشکلات کا ذمہ دار نواز شریف کو بھی گردانتے ہیں کہ انہوں نے جاوید ہاشمی جیسے باکردار اصول پسند شخص کی جگہ اپنے منہ بولے ”مسٹر ٹن پرسنٹ“ محترم آصف علی زرداری کو صدر منتخب کرنے میں بلواسطہ بنیادی رول ادا کیا۔

بہر حال گذشتہ انتخاب میں قوم کی اکثریت نے ان کے وعدوں اور تسلیوں پر اعتبار کرتے ہوئے انہیں اقتدار سونپ دیا ہے۔ اب پورا میدان، ان کیلئے مکمل طور پر خالی ہے۔ قوم دن بدن مہنگائی کی آگ میں جھلس رہی ہے۔ دہشت گردی،بدامنی، لاقانونیت، قتل و غارت گری، بے روزگاری اور توانائی کا بحران پوری شدت کے ساتھ وطن عزیز کو اپنے شکنجے میں لے چکا ہے۔

پاکستان تاریخ کے بدترین اندرونی مسائل اور بیرونی خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ ایسے میں قصر صدارت کے نئے مقیم محترم ممنون حسین سے پوری قوم اور خاص طور پر آگ میں جھلستا ہوا کراچی مثبت کردار کی امیدیں وابستہ کرچکا ہے۔پرامن اور باوقار انتقال اقتدار پاکستانی سیاست میں ابھرتی ہوئی بلوغت اور برداشت کی علامت ہے۔ مفاہمتی سیاست کے کپتان آصف علی زرداری نے بحریہ ٹاﺅن لاہور کے نوتعمیر شدہ بلاول ہاﺅس کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کا عندیہ ظاہر کیا ہے اور بھرپور سیاست کے ذریعے جیالوں کو منظم کرکے آئندہ حکومت سازی کا اشارہ بھی دیا ہے۔ حالانکہ وہ آئین پاکستان کے مطابق آئندہ دو سال تک کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے۔ وہ اگر ایوانِ صدارت میں سیاست کر سکتے ہیں تو بلاول ہاﺅس میں کیوں نہیں؟ رہ گیا آئین پاکستان وہ کوئی قرآنی آیت تھوڑی ہے جس کا احترام کیا جانا چاہئے۔

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں