کراچی کا حلیم

وسعت اللہ خان
وسعت اللہ خان
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

کراچی میں رینجرز اور اس کی نئی نئی بی ٹیم یعنی سندھ پولیس کا مشترکہ امن آپریشن شروع ہے۔ چھاپے پڑ رہے ہیں۔ مشکوکوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی اچانک تلاشی کا عمل بھی ٹپائی دے رہا ہے۔ کراچی کے ہر ضلع میں ایک ایک تھانہ رینجرز کے لیے مختص ہوچکا ہے۔ جہاں وہ طبیعت سے چھترو چھتری پوچھ تاچھ کر کے یہ طے کر پائیں گے کہ کس پر کونسی دفعہ لگا کے چالان آگے بڑھانا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ دہشت گردوں کو نکیل ڈالنے کے لیے موجودہ قوانین میں موجود خلا اور کمزوریاں پاٹنے پر توجہ کی بھی اطلاع ہے۔

اس آپریشن کے علامتی سربراہ سندھ کے بہادر شاہ ظفر المعروف وزیرِ اعلی قائم علی شاہ ہیں جب کہ آپریشن کے اصل بااختیار ، ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز میجر جنرل رضوان اختر ہیں۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے سپریم کورٹ کے ایک بنچ کے سامنے دو ہفتے قبل نہایت اعتماد سے کہا تھا کہ کراچی کی بندرگاہوں سے گذشتہ وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ کے دور میں ایساف اور نیٹو اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینروں سمیت انیس ہزار اسلحہ بردار کنٹیرز غتر بود ہوگئے۔ اگرچہ امریکی انتظامیہ نے پرزور تردید کی ہے کہ ناٹو یا امریکا کا کوئی کنٹینر اس عرصے میں غائب ہوا، سب کا ریکارڈ موجود ہے۔ تاہم اس تردید کے بعد نا تو ڈی جی رینجرز کی جانب سے تاحال اپنے عدالتی بیان کا دفاع سامنے آیا۔ نا ہی عدالت نے ان کے بیانی دعوے کے مستند یا غیر مستند ہونے پر کوئی رائے دی ہے۔ البتہ سپریم کورٹ کے بنچ کی یہ آبزرویشن میڈیا کے ذریعے ضرور ریکارڈ پر ہے کہ کراچی میں بدامنی کا ایک سبب پولیس اور رینجرز بھی ہیں۔ اب یہی دونوں فورسز انٹیلی جنیس اداروں کی متوقع مدد سے نئے آپریشن میں فعال کردار کے لیے چنی گئی ہیں۔

چند ماہ قبل سندھ پولیس کے ایک اعلی افسر نے سپریم کورٹ کے روبرو پولیس کی ناکامی کے یہ مبینہ اسباب بیان کیے کہ لگ بھگ دو کروڑ کے شہر کی پولیسنگ کے لیے پچیس سے تیس ہزار جوانوں کی فورس ہے اور ان میں سے بھی ساٹھ فیصد کی تقرری کے محرکات سیاسی ہیں۔ جب تک پولیس کو سیاسی مصلحتوں اور زبانی احکامات سے آزاد کام کرنے کی فضا میسر نہیں ہو گی۔ جب تک ان کے اوقاتِ کار ، بجٹ ، اسلحے اور آلات و تربیت کو نئے دور کے تقاضوں اور ضروریات سے ہم آہنگ نہیں کیا جائے گا۔جب تک پولیس کی مورال بڑھانے والی پذیرائی نہیں ہوگی تب تک یہ چمن یونہی رہے گا۔

ایک ریٹائرڈ اعلی پولیس افسر کا یہ کہنا ہے کہ کراچی میں انیس سو بانوے سے ستانوے تک ہونے والے نواز شریف بے نظیر آپریشن میں جن پولیس افسروں نے نمایاں کارکردگی دکھائی، ان میں سے آج گنتی کے ہی چند افسر زندہ ہیں اور ان میں سے بھی بیشتر بیرون کراچی ہونے کے سبب زندہ ہیں۔ یعنی اچھا وہی رہا جو چمن سے نکل گیا۔ لہذا جب فعال افسروں کی جانوں کو تحفظ نہیں تو پولیس کس برتے اور یقین پر کسی نئے آپریشن میں سرگرم حصہ لینے کا حوصلہ کر پائے گی۔

کیا رینجرز اور پولیس تازہ ترین مشترکہ آپریشن کر سکیں گے ؟ اخباری اطلاعات کے مطابق ڈی جی رینجرز نے کراچی میں وزیرِ اعظم نواز شریف کو حالیہ بریفنگ دیتے ہوئے جو بھی بتایا اس میں یہ بھی تھا کہ پولیس پر سراغرسانی کے امور میں اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ ایسا کئی مرتبہ ہوچکا ہے کہ جب بھی پولیس سے کوئی اطلاع شیئر کی گئی تو وہ اطلاع مجرموں تک پہنچ گئی۔ جب کہ سندھ کے موجودہ آئی جی پولیس شاہد ندیم بلوچ اختتامِ ہفتہ کہہ چکے ہیں کہ رواں سال کے آٹھ ماہ کے دوران اب تک ایک سو سے زائد پولیس والے کراچی کے تشدد میں ہلاک ہوئے ہیں۔ یعنی بلاواسطہ طور پر آئی جی صاحب یہ جتا رہے ہیں کہ اگر پولیس اتنی ہی نا اہل ہے تو پھر مذکورہ پولیس اہلکار اتنی تعداد میں کیسے ہلاک ہو گئے اور اس نا اہل فورس کو نئے آپریشن میں کیوں شامل کیا جا رہا ہے؟

کراچی پولیس کو یہ بھی شکوہ ہے کہ بھتہ خوری اور اغوا کی وبا کی روک تھام میں موثر کردار ادا کرنے کے لیے اس نے چھ برس پہلے فون نمبر ٹریس کرنے والے سسٹم کی فراہمی کا مطالبہ کیا تاکہ مجرموں تک رئیل ٹائم میں پہنچا جاسکے۔ لیکن انٹیلی جینس ایجنسیوں نے پولیس کے اس مطالبے کو فالتو قرار دے کر جدید مواصلاتی سراغرسانی کا نظام حاصل نہیں ہونے دیا۔ انٹیلی جینس ایجنسیوں کا موقف یہ رہا کہ پولیس اس بارے میں ان سے جب چاہے مدد کی درخواست کرسکتی ہے تو پھر الگ سے ایک مہنگا سسٹم پولیس کو لے کر دینا کہاں کی عقلمندی ہے۔اب کہیں جا کے کراچی پولیس کو یہ نظام فراہم کیا گیا ہے۔

کہنے کو کراچی شہر میں بلدیہ اور پولیس نے اہم شاہراہوں، عمارات اور ناکوں پر سیکڑوں جدید کیمرے بھی نصب کررکھے ہیں۔ان کا بنیادی مقصد تو ٹریفک کنٹرول ہے۔ لیکن سٹیزن پولیس لیزاں کمیٹی اور پولیس گاہے بگاہے ان کیمروں سے تفتیشی امور میں بھی استفادہ کرتے ہیں۔مگر ایک پولیس افسر کے بقول آدھے کیمرے کام نہیں کرتے اور باقی آدھوں میں سے بیشتر کا زاویہ ایسے رکھا گیا ہے کہ ان کی تصاویر اکثر تفتیش میں بہت زیادہ کارآمد نہیں ہوتیں۔

ان حالات میں دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ وفاقی وزارتِ داخلہ کو جوابدہ رینجرز ، صوبائی انتظامیہ کی ماتحت پولیس اور وزارِت دفاع اور فوج کو تقریباً جوابدہ اہم انٹیلی جینس ایجنسیاں کس طرح ڈی جی رینجرز کی قیادت میں قائم آپریشنل سیٹ اپ میں ایک دوسرے کی موثر مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ ویسے تو علیحدہ علیحدہ انتظامی پس منظر رکھنے والے اداروں کو ایک چھتری تلے سر جوڑ کر بیٹھنے پر مجبور کرنا مینڈکوں کو ترازو میں تولنے جتنا ہی مشکل کام ہے۔ پھر دل یہ سوچتا ہے کہ معجزے بھی تو اسی دنیا میں ہوتے ہیں۔

رہی یہ بات کہ آپریشن کن کن کے خلاف اور بلا امتیاز ہونا ہے۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جامع یا تشفی بخش جواب کسی ایک ادارے کے پاس نہیں اور مل کے جواب تلاش کرنے کی کوئی ٹھوس روایت بھی نہیں۔ کراچی بین الاقوامی شہر اور منی پاکستان یوں کہلاتا ہے کہ یہاں پاکستان کے تمام علاقوں کے رہائشی اور علاقائی ممالک کے شہری ایک ساتھ بستے ہیں۔ لہذا پاکستان اور بیرونِ پاکستان جرائم کی لیبارٹریوں کے منی ایڈیشن بھی اس منی پاکستان میں موجود ہیں۔ پورے ملک میں جتنی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی مسلح شاخیں ہیں،ان سب کا موثر سیمپل آپ کو کراچی میں ملے گا۔

یہاں تمام مافیاؤں کی نمایندگی بدرجہ اتم ہے۔ کراچی ملکی و غیر ملکی انٹیلی جینس ایجنسوں کی بھی مشق گاہ ہے۔ان تمام ملکی و بین الملکی کرداروں میں سے بیشتر وہ ہیں جو موقع محل کے مطابق کبھی شکاری کے ساتھ تو کبھی خرگوش کے ساتھ دوڑنے میں انتہائی مہارت رکھتے ہیں۔ اتنے بے امن برسوں یہ سب مفادات ، گروہ اور ادارے آپس میں اس قدر خلط ملط ہو چکے ہیں کہ کراچی کھچڑی کے بجائے حلیم کی دیگ بن گیا ہے اور حلیم میں سے کوئی جزو الگ کرکے دیکھنا اور محسوس کرنا کارِ محال ہے۔

آدھا کراچی کچی آبادیوں میں بستا ہے۔ وہاں اسی فرد یا تنظیم کے کارندوں کا حکم چلتا ہے جس نے ان بے قاعدہ بستیوں کو سرکاری و نجی زمینوں پر قبضہ کرکے بسایا۔ان آبادیوں میں اور کوئی سہولت ہو نا ہو احساسِ محرومی یقیناً وافر ہے۔ اور احساسِ محرومی وہ جوہڑ ہے جس میں لاقانونیت کے قاتل ذہن مچھر مسلسل اور بارہ مہینے پرورش پاتے ہیں۔ جوہڑوں کو نگرانی ، صفائی اور دیکھ بھال کی مستقل ضرورت رہتی ہے۔ ہر چار پانچ برس کے بعد ایک آدھ اسپرے سے آج تک ملیریا نہ ختم ہوسکا تو جرائم کہاں سے ختم ہو جائیں گے۔

ٹاؤن پلاننگ کے سرکردہ ماہر اور آرکیٹیکٹ عارف حسن کے بقول تاریخ میں ایسی کوئی مثال دیکھنے کو نہیں ملتی کہ محض پندرہ برس میں کسی شہر کی آبادی سو گنا بڑھ جائے سوائے کراچی کے۔انیس سو اٹھانوے میں یہاں ایک کروڑ آبادی کا تخمینہ تھا، آج دو کروڑ کا ہے۔ جب کہ موجودہ سہولیات زیادہ سے زیادہ پچاس لاکھ افراد کے لیے کافی ہیں۔

اس بات کا یہ مطلب ہوا کہ جب تریپن فیصد قومی آمدنی فراہم کرنے والے شہر کی محدود و منجمد سہولیات پر ڈیڑھ کروڑ اضافی لوگ سوار ہوجائیں گے تو تمدنی و مدنی ڈھانچہ کیسے ٹوٹنے سے بچ پائے گا۔ چنانچہ کوئی بھی دیکھ سکتا ہے کہ آج کا کراچی ایک ہجومِ لاقانونیت سے زیادہ کچھ نہیں۔ کبھی یہ سونے کے انڈے دینے والی مرغی ہوتی تھی۔ لیکن سب نے ان انڈوں کی چھینا جھپٹی کے چکر میں مرغی کا ہی تیا پانچا کر ڈالا۔ لہذا جس کے ہاتھ جو آیا وہ اس کا ہرقیمت پر تحفظ کرے گا۔اور جب شکار کم ہوجائے اور بھوک زیادہ تو بھیڑیے دائرے میں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں۔ جس کی پلک جھپکی وہ ترنت باقیوں کے پیٹ میں چلا گیا۔

نئی حکومت بھی نئے نئے تھانیدار کی طرح چند دنوں کا جوش و خروش دکھا لے۔ دو ہزار پانچ سے اب تک ساڑھے نو ہزار کراچی والے سیاسی و مذہبی تشدد ، زمین ، منشیات ، بھتہ گیری اور فرقہ بازی نے کھا لیے۔یعنی نائن الیون کے دن ورلڈ ٹریڈ سینٹر نیویارک میں جتنے لوگ مرے یا جتنے آج تک قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں سے مرے ان سے تین گنا زیادہ کراچی میں لگ بھگ آٹھ برس میں مرچکے ہیں۔ اور ان مرنے والوں میں ذرا انیس سو پچاسی سے دو ہزار پانچ تک کے عرصے میں مرنے والے بھی جوڑ لیجیے۔

اگر بلٹ پروف جیکٹیں ، ہیلمٹ اور بکتر بند گاڑیاں خریدنے اور قسط وار پھرتیاں دکھانے سے امن آ سکتا تو پھر بات ہی کیا تھی۔ پولیس اس شہر میں ہمیشہ سے ہے اور رینجرز انیس سو نواسی سے۔۔۔۔۔

زور وہ اور ہے پاتا ہے بدن جس سے نمو
لاکھ کودے کوئی ٹانگوں میں دبا کر موصل

بہ شکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں