.

افغانستان میں مفاہمت کا عمل

ڈاکٹر رسول بخش رئیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک مرتبہ پھر افغانستان تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا ہے جب کہ غیر ملکی افواج ملک کے تحفظ کی ذمہ داری افغان سیکورٹی فورسز کے حوالے کرکے اگلے سال کے اختتام تک یہاں سے جانے والی ہیں۔ اس پسِ منظر میں افغان باشندوں، اس کے ہمسایہ ممالک جیسا کہ پاکستان اور عالمی برادری کے سامنے سوال یہ ہوگا کہ کیا افغانستان میں موجود مختلف دھڑے اور رہنما ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ملک کو خونی خانہ جنگی کے منڈلاتے ہوئے خطرے سے بچانے میں کامیاب ہو جائیں گے؟

اس سوال کے دو پہلو تشریح طلب ہیں : پہلا یہ ہے افغان صورتِ حال کیا ہے، دوسرا یہ کہ اس پر کون سے عوامل اثر انداز ہو سکتے ہیں ؟اس سلسلے میں دو مختلف موقف پیش کیے جاسکتے ہیں۔ پہلی بات یہ کی جاتی ہے کہ افغانستان کو افغان عوام کی صوابدید پرچھوڑ دیا جائے تا کہ وہ آرام سے کسی پرسکون (اگر افغانستان میں کوئی ایسی جگہ پائی جاتی ہو) مقام پر بیٹھ کر چائے پیتے ہوئے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرلیں۔ اس ضمن یہ کہا جا سکتا ہے کہ افغان باشندے امن پسند لو گ ہیں اور یہ صرف غیر ملکی طاقتیں ہیں جو اُنہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے آتش و آہن کا کھیل کھیلتی رہی ہیں، لیکن جب اُن کو اُن کے حالات پر چھوڑد یا جاتا ہے وہ امن ومحبت سے رہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کئی عشروں سے غیر ملکی طاقتوں نے افغانستان میں مداخلت کی ہے اوراس کے نتیجے میں مختلف افغان دھڑوں کے درمیان خونی کشمکش بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور دنیا کو اس بات کی تفہیم کرنا ہوگی کہ افغان سیکورٹی فورسز کو غیر ملکی اثر سے آزاد ہونے میں کافی وقت لگ جائے گا۔

اس سے صورتِ حال کا دوسرا پہلو ہمارے سامنے آتا ہے … اگر افغانوں کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے تو وہ پرامن انتقالِ اقتدار کی طرف نہیں جائیں گے بلکہ وہ مسلسل لڑتے رہیں گے۔ اگر افغانستان کے معروضی حالات جا ئزہ لیا جائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ ان کے مختلف دھڑوں کے درمیان پر امن مذاکرات محال دکھائی دیتے ہیں۔ اس تلخ تر حقیقت کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ تیس برسوں میں اُنھوں نے دو عالمی طاقتوں کے خلاف طویل جنگیں لڑی ہیں۔ ان جنگوں نے قومی واحدانیت کے ڈھانچے کونقصان پہنچا کر قبائلی ، نسلی اور لسانی تعصبات کو ابھارا ہے۔ اس کی وجہ سے افغانستان ایک کمزور معاشرہ رکھتا ہے اور یہاں ریاست کی عملداری بھی نا ہونے کے برابر ہے۔ اسے عالمی برادری کے مدد اور نگرانی میں تعمیر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد واشنگٹن افغانستان کی تعمیر و ترقی کے مہنگے منصوبوں میں کتنی دلچسپی لیتا ہے اورکس قسم کی معاونت فراہم کرتا ہے؟ افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کے لیے قابلِ تشویش بات یہ ہے کہ جب غیر ملکی افواج یہاں سے رخصت ہوجائیں گی اوراگر اس دوران افغانستان کے ریاستی ڈھانچے کی کمزوری دور نہ ہوئی تو یہ ملک طالبان کی جارحانہ کاروائیوں کا مقابلہ نہ کر سکے گا۔ اس مرتبہ طالبان پہلے سے بھی زیادہ دلیر ہوں گے کیونکہ وہ ایک سپرپاور کو رخصت ہونے پر مجبور کر چکے ہوں گے۔ یہ ایک گھمبیر صورتِ حال ہے ، لیکن اس دوران ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ افغان معاشرہ بہرحال ترقی کی راہ پر چل رہا ہے۔ اب یہ ایک عشرہ پہلے والا معاشرہ، جہاں طالبان کے تصورات کو پذیرائی ملی تھی ، نہیں ہے۔ اس کے علاوہ افغان ریاست بھی فعال ہے اور اس کے سیاسی ادارے کسی نہ کسی سطح پر کام کررہے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اُنہیں عالمی برادری کا تعاون اور ہمدردی حاصل ہے۔ جنگ کے باوجود آج افغان معیشت پہلے سے بہتر ہے۔ اس کا انفراسٹرکچر ترقی کررہا ہے… اصل مسلہ قیامِ امن کا ہے۔

ڈرائنگ روم کے دانشوروں اور صحافتی حلقوں کی دانائی یہ سمجھتی ہے کہ افغان باشندے صرف جنگ کرنے کے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں، حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ اچھی زندگی ، محبت اور امن کی خواہش انسانی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے، چناچہ افغان بھائی کیوں لڑتے رہنے پر مصر ہوں گے ؟بات یہ ہے کہ باقی قوموں کی طرح افغان باشندے بھی امن سے رہنا چاہتے ہیں لیکن وہ عزت، وقار اور انسانی قدروں کے مطابق جینا چاہتے ہیں۔ افسوس، اُن کو ان چیزوں سے بہت دیر سے محروم رکھا گیا ہے۔اور پھر یہ تاثر اجاگر کر دیا گیا ہے کہ وہ امن سے رہ ہی نہیں سکتے ہیں!

حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کے انتشار زدہ ماحول میں قیامِ امن کے امکانات موجود ہیں لیکن اس کے لیے اُنہیں زندگی کے ہر شعبے میں عالمی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ عالمی برادری افغان طالبان اور کابل کو مذاکرات کی میزپرلائے۔ کابل کو یہ بات نہایت آسان پشتومیں، دوٹوک انداز میں بتائی جائے کہ طالبان کے خلاف مکمل فوجی فتح ممکن نہیں ہے اور نہ ہی طالبان کے دھڑوں کو تقسیم کرکے ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کام دے گی۔اس وقت افغانستان میں امن مختلف دھڑوں کے درمیان مفاہمت کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے۔ اس وقت کابل اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل ، جو اس وقت تعطل کا شکار ہے، وقت کی ضرورت ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ پشتون طالبان اور شمالی اتحاد والوں کے درمیان نسلی بنیادوں پر وجود میں آنے والی تفاوت کی خلیج پاٹنے کی ضرورت ہے۔ یہ تمام دھڑے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے اکٹھے مل کر کام کریں تو مستحکم افغانستان کا خواب شرمندہِ تعبیر ہوسکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'دنیا'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.