.

نواز، زرداری اشتراک اور شام کا بحران؟

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملک شام کے موجودہ بحران کی کیفیت اور سمت نے پہلے ہی سے تنزلی اور تباہی کا شکارمسلم دنیا کے حالات اور افکار کو مزید متزلزل کر دیا ہے۔

شام کے کیمیاَئی ہتھیاروں کو عالمی نگرانی میں رکھ دینے کی روسی تجویز شام پر امریکی حملے کا فوری خطرہ ٹالتی ہے یا کوئی مستقل حل پیش کرتی ہے؟ اس بات کا تعین ہونے میں ابھی تو وقت لگے گا لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس تجویز نے امریکی صدر اوباما کی داخلی سیاست اور رائے عامہ کے محاذ پر حائل مشکلات اور عالمی سُپرپاور امریکہ کی عالمی امیج کو منفی اثرات سے وقتی طور پر بچا لیا ہے ورنہ شام کے بحران نے امریکی صدر، کانگریس کی سیاست اور دیگر داخلی و عالمی عوامل نے ایک ایسی غیریقینی صورتحال پیدا کررکھی ہے کہ ستمبر کے آخری ہفتے میں نیویارک میں وزیراعظم نواز شریف اور صدر اوباما کی ملاقات کے بارے میں اصولی اتفاق کے باوجود ابھی تک امریکیوں نے تاریخ، جائے ملاقات اور وقت ملاقات سمیت کوئی تفصیلات طے نہیں کیں کیونکہ شام کی صورتحال اور امریکی حملے کے امکانات سے پیدا شدہ صورتحال میں امریکی صدر کے معمولات اور قیام نیویارک کتنا ہوگا؟ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بہرحال نواز، اوباما ملاقات کے بارے میں ذمہ دار ذرائع کے لب خاصے محتاط ہوگئے ہیں البتہ نواز، من موہن ملاقات تاحال اصولی طور پر طے شدہ اور ”آن“ ہے۔ اسی طرح سابق صدر آصف زرداری سبکدوش ہونے اور نواز شریف حکومت سے پانچ سال کے لئے تعاون اور حمایت کے الوداعی اعلان کے بعد ستمبر کے آخری دنوں میں نیویارک تشریف لانے کا پروگرام رکھتے ہیں لیکن یہ بات ابھی غیریقینی ہے کہ نواز، زرداری ملاقات نیویارک میں ہو گی یا نہیں۔ ایک دوسرے سے خیرسگالی، برداشت اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کے عہد و پیماں کرنے والے دونوں پاکستانی رہنما دو تین روز تو نیویارک میں ہی موجود ہوں گے۔

سابق صدر زرداری جس ہوٹل کے جغرافیہ سے مکمل طور پر واقف ہیں اور یہ ہوٹل بوجوہ اُن کا پسندیدہ ہوٹل ہے جہاں وہ بطور صدر قیام بھی کرتے رہے ہیں۔ پہلی مرتبہ وزیراعظم نواز شریف بھی اسی میں قیام کریں گے حالانکہ ماضی میں اُن کا پسندیدہ ہوٹل وہاں سے تھوڑے فاصلے پر ہے۔ اب اگر اشتراک کی ڈگر پکڑی ہے تو ہوٹل کی پسند بھی مشترکہ ہونا بھی اچھا شگون ہے۔ بہرحال ویلکم آصف زرداری صاحب! اپرمین ہٹن کے علاقے میں میڈلین ایونیو، لیگزنٹن ایونیو کے بعض ریسٹورنٹ اور آپ کا اپارٹمنٹ آپ کا منتظر ہے۔ آپ اپنے پسندیدہ علاقے میں پھر سے چہل قدمی کا لطف اُٹھا سکیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف بھی انتہائی مختصر وفد کے ساتھ نیویارک میں ہوں گے جن میں آپ کے بااعتماد دوست بھی ہوں گے لہٰذا باہمی تعاون کی جو راہیں پاکستان میں متعین ہونے سے رہ گئی ہیں وہ نیویارک کی خاموش ملاقاتوں میں بآسانی طے کرنے کا موقع موجود ہے۔ ہم بھی آپ کے پانچ جمہوری سالوں میں عوام اور جمہوریت کی خدمت پر مبنی کارکردگی کو آپ ہی سے سمجھنے کے خواہشمند ہیں۔ قیام نیویارک کے دوران کبھی وقت ملے تو آزاد اور محفوظ ماحول میں کچھ لمحات نکال کر ہمیں بھی باخبر کیجئے گا، ایڈوانس شکریہ۔ یہ بھی شنید ہے کہ اس سال کے اختتام سے قبل ہی وزیر اعظم نواز شریف ایک بار پھر نیویارک اور واشنگٹن آنے کا پروگرام رکھتے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ دورہ توقع سے بھی زیادہ جلدی ہوجائے گا لہٰذا آپ کے اعلان تعاون اور استحکام جمہوریت کا تقاضا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کو آپ اپنے امریکی دوستوں اور کرم فرماؤں سے بھی متعارف کرائیں اور تعاون دلائیں تاکہ پاکستان کے دو بڑے سیاسی رہنماؤں اور ان کی پارٹیوں میں تعاون اور باہمی اشتراک کی نئی مثالیں قائم ہوں اور عمران خان ”فرینڈلی اپوزیشن“ کا نعرہ چھوڑ کر اسے کسی اور نام سے پکاریں۔

بہرحال شام کے بحران میں پھنسے ہوئے امریکی صدر اوباما کو بھی آخر روس کے تعاون سے مشکل صورتحال سے نکلنے میں مدد ملی ہے ورنہ شام پر امریکی حملے کی دھمکیوں سے ایک ایسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے کہ شام پر حملے کی منظوری امریکی کانگریس سے ملنا غیر یقینی ہے۔ خود ڈیموکریٹ سینیٹروں اور کانگریسیوں کی خاصی تعداد شام پر فوجی حملے کی منظوری کے مخالف ہیں، امریکی عوام اور میڈیا بھی اختلافی رائے کا شکار ہیں۔

شام پر حملے کے سیاسی، فوجی اور عالمی اثرات کے بارے میں بھی امریکی فکرمند ہیں جبکہ عالمی سطح پر برطانوی پارلیمنٹ کا انکاری فیصلہ، روس اور چین کی اقوام متحدہ اور عالمی سطح پر مخالفت کے باعث اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل سے حملہ کی حمایت میں کسی قرارداد کی عدم منظوری اور اسی تناظر میں امریکی کانگریس کے مڈٹرم انتخابات پر ایسے حملے کے ممکنہ اثرات نے صدر اوباما کے لئے بڑی مشکل صورتحال اور عالمی سُپرپاور کے لئے ایک تنہائی کی کیفیت پیدا کردی جس سے نکلنے کے لئے دوسری بڑی طاقت روس نے بیک ڈور ڈپلومیسی کے نتیجے میں ایک نئی تجویز پیش کر دی کہ شام اپنے کیمیائی ہتھیار اقوام متحدہ کی نگرانی میں دے دے۔ اس تجویز کی تفصیلات عوام کے سامنے آئے بغیر ہی صدر اوباما نے فوری طور پر اس تجویز کا خیرمقدم کرڈالا اور مسئلے کا ممکنہ حل بھی قرار دے دیا۔ حالانکہ ابھی تو شام نے یہ تسلیم بھی نہیں کیا کہ اُس کے پاس کیمیائی ہتھیار کتنے کہاں اور کون سے ہیں؟ تجویز یہ بھی واضح نہیں کرتی کہ کیمیاوی ہتھیار شام کی حدود میں ہی اقوام متحدہ کی تحویل میں رہیں گے یا شام سے باہر لے جائیں گے؟ مشرق وسطیٰ میں شام اب روس کا واحد اور آخری ”کلائنٹ“ یعنی گاہک رہ گیا ہے لیکن عالمی طاقتوں کے اپنے مفادات ہوتے ہیں وہ عالمی امن کے استحکام کے نام پر اقوام متحدہ میں اور اقوام متحدہ کے نظام سے باہر باہمی اشتراک سے ایک دوسرے کو مشکل سے نکالنے اور اپنے مفادات کو پورا کرنے کا فن خوب جانتے ہیں۔

کیپٹلزم کے مقابلے میں کمیونزم کا محافظ سوویت یونین نظریہ کی جنگ ہار کر ٹوٹ گیا مگر روس اب بھی عالمی پاور ہے جسے دوبارہ منظم ہونے میں سرمایہ دار امریکہ نے تعاون کیا اُسے سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق بھی برقرار رکھا گیا۔ برٹش ایمپائر کے سکڑنے کے باوجود گزشتہ 60 سالوں میں اس کی عالمی اہمیت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ آخر ان قوتوں کے تعاون و اشتراک سے عرب اسپرنگ، عراق کی جنگ ایران، عراق جنگ، مراکش سے لے کر شام تک سات عرب ممالک میں عرب اسپرنگ، افغان جنگ، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مراحل طے کرکے عالمی امن کو مستحکم کرنے کا مشترکہ عمل جاری ہے جبکہ امت مسلمہ اور عالم اسلام کے اتحاد و قوت کا نعرہ لگانے والے منتشر اور تباہی کا شکار ہورہے ہیں۔ شام پر امریکی حملے کے تمام اخراجات ادا کرنے کی پیشکش بقول امریکی وزیر خارجہ مسلمان ملک نے کی ہے۔ مصر میں جمہوریت کا تختہ الٹنے کی حمایت بھی مسلم ملک ہی کررہے ہیں۔ عراق کی جنگ، صدام کا خاتمہ، معمر قذافی دور کا خاتمہ اور مسلم ممالک میں ایسی ہی تباہیوں اور عالمی طاقتوں کی کامیابیوں میں امت مسلم اور اتحاد عالم اسلام کے محافظین کا تعاون اشتراک شامل ہے۔ اشتراک بڑی مفید چیز ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.