.

9/11، ہلاکتیں و تباہی ۔ سچ کہہ دو، سچ سن لو

حفیظ اللہ نیازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گیارہ ستمبر کو بارہ سال قبل امریکا میں برپا ہونے والی تباہی اور ہلاکتوں کی یاد ہی تو تازہ کرتی ہے۔ بقول ڈاکٹر مجاہد کامران ذہن مسخر کر لو دنیا آپ کے قدموں میں۔Mind Control-World Control""۔ ڈاکٹر مجاہد کامران کی نئی نویلی کتاب (9/11 AND THE NEW WORLD ORDER) نے میرے جیسوں کی آرزو، تمنا، حسرت، تقاضا ہی تو پورا کیا ہے۔ انٹرنیٹ میں 350 سائٹس اور ایک لاکھ اسی ہزار صفحات کی چھان بین مجاہد صاحب جیسے نادر روزگار محقق ہی کر سکتے ہیں۔ ٹیکنکل ڈیٹا کو کیپسیول بنا کر عام فہم بنانا ضرورت بھی اور ناگریز بھی۔ اس تحریر میں بھی ڈاکٹر صاحب کی کتاب سے گاہے بگاہے استفادہ ہو گا۔ موضوع سانحہ 11 ستمبر2001 ہے لیکن بصد معذرت کے ساتھ کہ عیش کوش جاہلوں کو میرا مودبانہ سلام کہ ذہن، سمجھ، فہم ساقط۔ نیرو (Nero) نے روم اور ہٹلر نے Reichstag جلایا کہ لوگوں کی حمایت حاصل ہواور مخلوق لرزہ براندام۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ نے پرل ہاربر، اوکلا ہوما سٹی اور 9/11 اٹیک کے پردے میں یہی کچھ حاصل کیا۔ جنگی جنون کی تسکین اور بین الاقوامی جنگوں کے لیے وسائل کی ترسیل کے لیے ایسے گھناؤنے جرم۔ 9/11 نے تو ثابت کیا کہ امریکی حکومت میں ایسے غدار موجود ہیں جو اپنے مفادات کی خاطر آئین، بنیادی انسانی حقوق اور آزادیِ رائے کی دھجیاں بکھیر سکتے ہیں۔

سن 1962 میں جب کیوبا کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے ”آپریشن Northwood “کا منصوبہ بنا کہ جہاز ہائی جیک کر کے امریکا کے مختلف شہروں میں بم برسا کر تباہی پھیلائی جائے اور الزام کیوبا پر۔ پڑوسی کیمونسٹ ملک کو صفحہ ہستی سے مٹانا ضروری۔ کیوبا کی خوش قسمتی کہ جارج بش اور اوباما کی بجائے صدر کینڈی تھے جنہوں نے ایسے شیطانی منصوبہ پر سختی سے عملدرآمد روک دی۔ صدر کینڈی جو امریکا کو قتل و غارت کی سیاست سے نکالنا چاہتا تھا، نے کیا سیاسی عقیدہ دیا کہ”دنیا میں امریکی تسلط آگ اور خون سے نہیں بلکہ اقدار، امن، محبت اور بھائی چارے سے قائم کیا جائے گا“۔ اس کی قیمت کینڈی کواپنے خون سے چکانا پڑی۔ ہیروشیما اور ناگا ساکی کی ایٹمی تباہی نے منہ کو خون لگا دیا۔ 1995 تک درجنوں کمیشن بنے کچھ حاصل نہ ہوا بالآخر1995 میں جب انفارمشن کو حاصل کرنے کے حق حاصل ہو تو پتہ چلا کہ جاپان کی تباہی ”اپنوں“کا کیا دھرا تھا۔

طائرانہ نظر میں عام فہم اور متاثر کن کہ 18 مسلمانوں (زیادہ تر عرب) نے جہازوں کو اغواء کیا اور بلند قامت عمارتوں سے ٹکرا دیا۔ قطع نظر کہ 18 نوجوان کو بوئنگ 757 چلانے کی مہارت اور عین تاک کر مارنے میں کن کن مراحل سے گزرنا تھا اور سارے مراحل کیسے عبور ہوئے۔ اہم یہ تھا کہ مجرم فوراً پکڑے گئے اور کہانی کی دھاک اقوام ِ عالم پر بیٹھ گئی۔ یوں دنیا بدل گئی جبکہ ذہن مفلوج اور مسخر۔ سانحہ کے چند گھنٹوں کے اندر ہی جہازوں کو تباہی کا ذمہ دار اسامہ بن لادن، القاعدہ کو موردِ جرم۔ واردات کرنے والے کردار چونکہ سارے مسلمان پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف علانیہ اور غیر علانیہ جنگ شروع۔ اگرچہ کہانی اڑن کھٹولا کی کہانی سے بہت بہتر مگر ماہرین طبیعات و انجینئرنگ سائنس کے دل بہلانے کے لیے ناکافی۔ ایک تعمیراتی، تکنیکی اور انجینئرنگ بحران۔ انجینئرز جستجو میں کہ مضبوط ٹاورز زمین بوس کیسے اور کیوں ہوئے؟۔ غور وخوض، تحقیق شروع۔ ہر تحقیق اور ہر کھوج نے ایک ہی نقطہ راسخ کیا کہ ٹاورز کے زمین بوس ہونے کا جہازوں کے ٹکرانے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ جوڑنا مزاح بھی اور مجرمانہ غفلت بھی۔ آج ویب پرسینکڑوں سائٹس اور لاکھوں صفحات جو ہزاروں محققین، انجینئرز، آرکیٹکٹ کی محنت نے جھوٹ کو سچ سے بر وقت علیحدہ کردیا ۔

اگست 1980 میں جب مجھےWTC کی چھت تک رسائی اور گرد ونواح کے محیر العقول نظارے کا موقع ملا۔ اس سے قبل میں 2 فرلانگ لمبی قطار کا حصہ بنا وقت گزاری میں عمارت پر لکھا خیرہ کن معلومات پر مبنی پمفلٹ زیرمطالعہ رہا۔ دلچسپ بات کہ سامان، مسافروں اور فیول سے بھر ا بوئنگ 707 ٹکرائے توعمارت کا کچھ نہ بگاڑ پائے گا۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے کہ 1945 میں اپنے وقت کی بلند ترین عمارت اور آٹھواں عجوبہ ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ نیویارک سے B-52 بمبارSupersonic جیٹ 8 سو کلومیٹر میل فی گھنٹہ کی رفتارسے ٹکرایا توبمشکل چند منزلوں کو ”مضروب“کر پایا۔

ڈاکٹر مجاہد کامران کا نظریہ کہ سانحہ 9/11 کے پیش نظر امکانی وجہ ایک ہی معقول بہانہ کی تلاش کہ صدر روز ویلٹ کا سیاسی عقیدہ ( 1903 ) اور صدر ریگن کا نیو ورلڈ آرڈر بنا امریکی گلوبل تسلط مطمح نظر۔ چنانچہ دنیا فتح کرنا مجبوری اور اقوام عالم بشمول امریکی قوم کو ذہنی طور پر مفلوج کرنا عملاً ممکن ۔چنانچہ دہشت نے جہاں بڑے بڑے لیڈروں اور بڑی بڑی اقوام کے چھکے چھڑوائے وہاں امریکی قوم نفسیاتی ہیجان کا شکار اور مسلم لفظ طعنہ اور مسلمان قوم مطعون ٹھہری۔ میڈیا کی کیا جرأت کہ ایسے ماحول میں کوئی دوسری بات کرتا۔ ہر مسلمان ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا لائسنس مل گیا۔ افغانستان، عراق، ایران ،لیبیاء، مصر، شام، پاکستان تقریباً سارے مسلمان ملک حالتِ جنگ میں۔ باقی مسلمان ممالک کے تمام وسائل امریکی تصرف میں۔ ڈاکٹر مجاہد کامران نے 9/11 اور ورلڈ آرڈر کا نکاح ہی تو آشکار کیا ہے ۔ امریکی سرکار نے 5 رپورٹس تیار کروائیں۔ تمام رپورٹس تضادات اور جھوٹ کا ایسا مجموعہ کہ چھاننی سے زیادہ سوراخ کہ سچ چھن چکا۔

ان رپورٹس نے تشفی کی بجائے سائنسدانوں، ریاضی دانوں اور انجینئرز کے ذہنوں میں سوالات کا انبوہ کھڑا کر دیا۔ بھلا پہلو تہی کرنے والوں نے کیا جواب دینے تھے۔ سچائی کے متلاشی نے عرق ریزی اور تحقیق میں سرجوڑ لیے تجربہ گاہوں اور لائبریریوں کے در کھل گئے جب جھوٹ کو علیحدہ کیا تو باقی پانی ہی پانی تھا۔ چور نالے چتر: سانحہ کی حقیقت تک پہنچنے کا مطالبہ کرنے والوں کو سازشی عناصر (Conspiracy Theorist) کہہ کر توجہ ہٹائی گئی۔ سانحے کے پہلے گھنٹے ہی سے سرکار ی موقف کہ ”اسلامی انتہا پسندوں کا ایک گروہ القاعدہ اور اسامہ بن لادن نے منصوبہ بنایا، جہاز ٹکرائے، تباہی پھیلائی اور ہزاروں امریکی ہلاک ہوئے۔ جان بوجھ کر حقائق سے پہلو تہی کی اور ایسے لوگ جن کے خلاف تحقیق ہونی تھی یا جن کے مفادات وابستہ تھے وہ تحقیقاتی کمیٹیوں میں براجمان۔ قابلِ اعتماد ادارہ فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ کمیٹی نے چھ لاکھ ڈالر خرچ کئے ”کھایا پیاکچھ نہیں گلاس توڑا 12 آنے“مگر اس کے اخذ کردہ نتائج کو فائر انجینئرنگ میگزین نے آدھا پکا جھوٹ کہہ کر رد کر دیا۔

اپنی ہی معلومات کی نفی کہ ”گرمی کی شدت سے نٹ بولٹ کھلنے سے سٹیل بلڈنگ منہدم ہوئی۔ جو بلڈنگ ڈیزائنرز کی نااہلی ثابت کرتی تھی نہ کہ دہشت گردی۔ بلڈنگ مالک لوری سلور سٹائن جس نے جولائی 2001 کو بلڈنگ خرید ی نے انشورنس کلیم لیتے ہوئے ثابت کیا کہ ڈیزائن فیلیئر بالکل نہ تھا بلکہ دہشت گردی اصل وجہ تھی کہ لوری کو ڈیزائن فیلیئر پر انشورنش کلیم نہ ملتا۔ مینجمنٹ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد 2004 میں 9/11 کمیشن رپورٹ آئی۔ بدقسمتی کہ کمیشن نے بھی کریمنل انکوائری کی نہ پراسیکیوٹر حصہ بنے اورنہ ہی سائنسی علوم کا سہارالیاگیا۔کمیشن کے چیئرمین تھامس کین (Thomas Kean) اور ممبر لی ھملٹن نے برملا کہا کہ ”سرکار نے ہمارے کام میں مداخلت کی اور ہمارے ہاتھ باندھے رکھے“۔ کمشنر کونسل جان فارمر نے کہا ”جو کچھ ہمارے سامنے پیش کیا گیا وہ سچ نہ تھا “۔ کمشنر ٹم رومر نے سی این این کو انٹرویو دیا کہ ”ہمیں جھوٹے اور من گھڑت بیانوں سے بہت مایوسی ہوئی“۔ کمشنر سینٹر ہیکس کلے لینڈ نے فرمایا ”9/11کمیشن ایک قومی سکینڈل ہے“۔یعنی آدھے سے زیادہ ممبرز کا اپنے کمیشن پر عدم اعتماد ۔رپورٹ کا مزاحیہ حصہ کہ کمیشن نے دو بلڈنگوں کے گرنے پر تو رائے زنی کر دی جبکہ تیسری 47 منزلہ بلڈنگ نمبر7 جوکئی گھنٹوں بعد خود بخود گری کے ذکر سے خالی۔ 9/11 کمیشن رپورٹ ہی نے تو9/11 ٹروتھ موومنٹ میں جان ڈالی اور آج پورا سچ دنیا کی گو د میں۔ 9/11 کمیشن پر ایک انکوائری بیٹھی، انسٹیٹیوٹ آف سیٹنڈرڈ اینڈ ٹیکنالوجی (NIST) نے 20 لاکھ ڈالر کی لاگت پر تفتیش شروع کی۔

جو حتمی رپورٹ ٹھہری نو مہینے کے بعد تبدیل کر کے ”حتمی حتمی“ رپورٹ کہلائی۔ 10000 صفحات پر مشتمل رپورٹ غیر سنجیدہ اورغیر متعلقہ حقائق سے آلودہ۔ دوران ِ انکوائری NIST کی اپنی لیبارٹری نے ثابت کیا کہ جیٹ فیول اور دفتری سامان کے جلنے سے سٹیل 45 انچ خم کھا گئی اور یوں بیم کالم کنکشن (Beam-Column) کے نٹ بولٹ کھل گئے۔ پہلے 3 فلور متاثر ہو کر گرے جن کے گرنے سے یکے بعد دیگرے سارے فلور ایک دوسرے کے بوجھ سے گرے۔ بمطابقSINT رپورٹ اوپر کا وزن نیچے آنے پر نیچے کے کالم گرتے یعنی جو کالم ساری بلڈنگ کا وزن اٹھانے کے لیے بنے تھے "Gravity Pull Down" سے زمین بوس ہوئے۔ SINT کی Gravity Pull Down تھیوری فزکس کے معمولی طالب علم کی حسِ مزاح کو پھڑکانے کے لیے کافی۔ مزید جب خودSINT نے اپنا لیبارٹری ماڈل تیار کیا تو بیم میں صرف 3 انچ خم آیا۔ تاویلیں ایسی کہ سمجھ سے بالاتر۔ جتنے سوالات اٹھے کسی رپورٹ نے تسلی بخش جواب نہ دیا۔ ”9/11 ٹروتھ موومنٹ“ اور محققین نے جہاں یہ ثابت کردیا کہ بلڈنگ کو باقاعدہ منصوبہ سازی کے ساتھ Thermite کی کثیر مقدار سے تباہ کیا گیا وہاں ہزاروں ایسے سوال اٹھائے کہ امریکی حکومتی اداروں کے لئے نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔

آرتھر نے مین (Arthur Naiman) نے اپنی مختصر کتاب (9/11: The Simple Facts) لکھ کر جیسے سمندر کو کوزے میں بند کیا ہو۔ کتابی ریفرنسز ، تحقیق، ویب سائٹس اور فلمی تجزیوں کی ایسی بھرمار کہیں اور تانک جھانک کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ جم ہاف مین (Jim Hoffman) نے اپنی کتاب "Building a better Mirage" میں9/11 پر بیٹھنے والی سرکاری انکوائریز کا پول ہی توکھولا ہے۔ بقول ہاف مین ”پیش کیا گیا مواد بکواس، دھوکا دہی اور بے ایمانی پر مبنی رہا۔ آپ کو پی ایچ ڈی ڈگری نہیں چاہیے یہ سمجھنے کے لیے کہ سرکاری موقف مبنی بر جھوٹ ہے"۔ سانحہ 11 ستمبر کی سرکاری سطح پر رپورٹس کہتی کیا ہیں ”انہدام کے ذمہ دار جہاز“۔ تحقیق نے ثابت کیاجہازوں کا ٹکرانا اتنی بڑی تباہی کا ہرگز موجب نہیں۔سرکاری رپورٹوں، انکوائریوں نے بنیادی سوالات کو نظر انداز کیا چنانچہ جہالت ، نااہلی اور سازش کی بو ہی آنا تھی۔

گیارہ ستمبر2001 کوAM 8:47) امریکی وقت) پر امریکن ایئر لائنزکا جہاز WTC-1 نارتھ ٹاورسے ٹکراتا ہے، 9:03AM پر یونائیٹڈ ایئرلائن کا جہاز ساؤتھ ٹاور کو ٹکر مارتا ہے دونوں ٹاورز کے 6/7 فلورز متاثر ہوئے۔ آگ کا بگولہ جو چند منٹ بعد کالے دھوئیں میں تبدیل ہوتا نظر آیا اس بات کی غمازی کہ آگ دم توڑ چکی۔ ساؤتھ ٹاور 56 منٹ میں اور نارتھ ٹاور 1 گھنٹہ 42 منٹ بعد ایسے زمین بوس ہوتے ہیں جیسے اوپر والی چھتوں کو نیچے جانے میں رکاوٹ نہ ہو۔ سرکاری موقف کہ کالم ٹو بیم کنکشن فیل ہوئے چنانچہ ہر چھت کی رکاوٹ نچلی چھت تھی۔ سوالات اور تجسس کا لامتناہی سلسلہ بالکل جائز۔

1۔فزکس کا بنیادی اصول کہ کوئی چیز گر کر اپنے سے طاقتور رکاوٹ کو نہیں گرا سکتی۔ منزل نمبر 1 منزل نمبر 2 سے طاقتور اور منزل نمبر 50 منزل نمبر 100 سے دگنی طاقتور چنانچہ یہ ناممکن اور ناقابلِ یقین کہ اوپر کی چند منزلیں اپنی بنیادوں کو ہی مسمار کر دیں۔2۔ بلند قامت سٹیل وکنکریٹ عمارت میں آگ لگنے کی درجنوں مثالیں موجود۔ ماضی میں کسی موقع پر اسٹیل پگلی نہ کنکریٹ ٹیلکم پاؤڈر بنی اور نہ ہی سڑکچر کو کبھی نقصان پہنچا۔ بلڈنگ سازوسامان آگ کے پاس اتنی طاقت ہی نہیں کہ اسٹیل سڑکچر کو نقصان پہنچا سکے۔ 3۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ٹاورز کا بنیادی ڈیزائن ہی اس مفروضے پر کہ جہاز ٹکرانے کا جھٹکا بھی جھیل سکے اور فیول فائر سے سڑکچر بھی متاثر نہ ہو۔ فیول فائر سے سڑکچر کا متزلزل ہو کر کنکشن کو متاثر کرنا سمجھ کے کسی خانے میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ 4۔ پھر انہدام جامع، مکمل اور یکساں (Symmetrical) کیسے ممکن ہوا؟ ساؤتھ اور نارتھ ٹاورز دونوں 110 منزلہ 287 کالم (47 کورکالم اور 240 کالم محیط پر) یعنی 60000 کالم ٹو فلور کنکشن۔

کیسے مان لیا جائے کہ 110 منزلوں کے فلور ٹو کالم کنکشن ایک دم فیل ہو گئے۔ انٹرنیٹ پر وڈیو دیکھیں آگ تو چند فلور پر، 110 منزلوں کی تباہی ایک دم جبکہ ہر فلور کے فرش کی موٹائی 3 فٹ، رقبہ ایک ایکڑ ملبہ میں کسی فلور کا کوئی ٹکڑا نظرموجود نہیں۔5۔ آخر 3000 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں جب مرنے والوں کو تلاش کیا گیا تو معلوم ہوا نشان تک نہیں۔ بلڈنگ کے کنکشن فیلیئر ہونے سے سوختہ، چیتھڑی یا مسخ شدہ لاشیں تباہی کے انبار میں ہونی چاہیے تھیں۔ جب ملیں بھی تو کہاں ملیں(نہ ہی ملتیں تو اچھا تھا )تکلیف دہ کہ چند سو گز کے فاصلے پر 40 منزلہ ڈوچے بینک کی بلڈنگ پر 700 انسانی ہڈیاں اکٹھی ضرور ہوئیں جن میں بڑی سے بڑی ہڈی 1/2 انچ سے چھوٹی تھی۔ جواب ضروری کہ انسانی چیتھڑے اڑ کر گرد ونواح میں کیسے پہنچے؟ مزید لاکھوں ٹن دفتری سازوسامان کاٹریس ہی نہیں۔ بتایا تو یہ گیا کہ گارڈر گرمی کی شدت سے خم کھا گئے کنکشن فیل ہونے پر ٹاور زمین بوس ہوئے۔ اس صورت میں لاشیں، انسانی اعضاء، دفتری سازوسامان کے آثار کی غیر موجودگی حیران کن۔

6۔ سٹیل کیسے پگلی؟ جہاں ہم یہ توقع رکھتے تھے کہ انسانی اعضاء، میز کرسی، کمپیوٹر وغیرہ کا شائبہ ملنا ناگریز وہاں یہ ہرگز توقع نہیں تھی کہ جہاز ٹکرانے پر 80000 ٹن سٹیل لاوہ کی طرح پگل کر بہہ نکلے گی۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر ابو الحسن آستا نے پہلا سڑکچرل انجینئر تھا جس کو سرکاری طور پر تباہ حال جگہ کے معائنے کی اجازت ملی۔ بقول مسٹر آستانے ”میں نے پیلی اور سفید دھکتی سٹیل موقع پر دیکھی“۔ امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق ”ہمیں 3 مہینے سٹیل کو ٹھنڈا کرنے پر لگے جبکہ شروع کا ٹمپریچر 3000F سے زیادہ تھا۔ بالآخر 19 دسمبر 2001 کوجا کر نارمل ہوا “۔

7۔FEMA کی رپورٹ کا اپنڈکس "C" کہتا ہے کہ جیٹ فیول اور دفتری آگ 800F سے زیادہ حدت نہیں پیدا کر سکتی NIST نے جب اپنی رپورٹ تیار کی تو اپنڈکس "C" کو کیوں نظر انداز کر دیا۔ انگریزی مقولہ کہ ”قالین کے نیچے چھپا دو“۔ وگرنہ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا پڑتا کہ اسٹیل جو 2750F پر پگھلتی ہے ! کیسے پگھلی؟ 8 ۔ تمام سرکاری رپورٹس کہ ٹاور منزل بہ منزل کنکشن فیل ہونے پر منہدم ہوا، اور ایک ایک کرکے سارے فلور ایک دوسرے پر گرے چنانچہ ہر نچلا فلور اوپر کے فلور گرنے سے Collapse کرتا ہے فلور کو Resistance ملنا ہی تھی چنانچہ انہدام کے لیے وقت درکار تھا۔ آنکھوں نے کیا دیکھا؟ اور انٹرنیٹ پر عام ہو چکا کہ 10 سیکنڈ میں ٹاور زمین بوس ہو گئے ! کیسے ؟9۔ سینکڑوں ٹن وزنی اسٹیل گارڈر دھنی ہوئی روئی کی مانند سینکڑوں میٹر دور فٹ بال فیلڈ اور دیگر جگہوں پر اڑتے کیسے پہنچے؟ ڈیوڈ چانڈلر نے اپنی لیبارٹری میں دھند اور گہری راکھ کے بادلوں میں بنی فلم کے مخفی اور دھندلے پہلو باریک بینی سے اجاگر کیے اور نتیجہ اخذ کیا کہ سینکڑوں اڑن گارڈر اورتیرتی اشیاء ہوا میں ہائی سپیڈ کے ساتھ بلڈنگ سے نکلیں۔

جائزہ لیں کہ انہدام کی اصل وجوہات کیا تھیں؟ آخر کیوں 9/11 آفیشل موقف سوراخوں سے بھرا ہے؟ معاملہ انتہائی تکنیکی چنانچہ کوئی بھی ماہرِ فزکس، ریاضی، انجینئرنگ تعمیرات یہ مان ہی نہیں سکتا کہ بلڈنگیں جہازوں کے ٹکرانے سے زمین بوس ہوئیں۔ انجینئرنگ کی معمولی سمجھ بوجھ کافی ہے کہ ٹاورز اور ملحقہ بلڈنگ WTC-7 کا انہدام کنڑولڈ Demolition سے ہی ممکن تھا۔ تحقیق نے بھی یہی طے کیا ہے کہ ہزاروں Explosives Devices کو کالم اور گارڈروں کے ساتھ جوڑ اگیا پھر دھماکے سے اڑا دیا۔ بلند و بالا عمارتوں کو گرانے کا معروف طریقہ بھی یہی ہے اس سے چند سیکنڈوں میں بغیرملبہ بکھرے Symmetrical گرتی ہیں۔ روزمرہ کی توڑ پھوڑ میںRDX یا C4 کا استعمال عام ہے۔ اس سے انہدام یکساں اور بلڈنگ بڑے ٹکڑوں میں بغیر پھیلے بنیادوں پر ہی دھڑم سے گرتی ہے۔ دھماکہ خیز مواد چونکہ تباہ کن اور مقدار میں زیادہ تھا فلور نمبر 1 تا فلور نمبر 26 کا نام و نشان تک مٹ گیا یہ کام صرف کثیرمقدارمیں تھرمائیٹ (Thermite) ہی سے ممکن۔ جو سٹیل کو کیک کی طرح کاٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

چنانچہ جب جائے وقوع سے راکھ اور مٹی کے نمونے حاصل کیے گئے تو سب سے پہلے انجینئر RJ Leeنے لمحوں میں بتا دیا کہ درجنوں نمونوں کا حاصل ایک ہی کہ 5.87 فیصد نانوتھرمائیٹ(Super Thermite) موجود۔ دلچسپ بات کہ معمول کے انہدام پر ملبے کی مٹی میں RDX یا C4 کی مقدار 0.04 فیصد رہتی ہے۔ ایک اور دلچسپ پہلو کہ جیٹ فیول کی آگ کی حدت 800F ہے اور سٹیل 2750F پر پگھلتی ہے جبکہ سپرتھرمائیٹ کی حدت 4500F تک پہنچتی ہے۔ تھرمائیٹ میں سلفر، ایلومینیم اور آئرن آکسائیڈ کے اضافے سے تیار مکسچرسپر تھرمائیٹ یا نانوتھرمائیٹ (Nanothermite) قیامت خیز تباہی کی اہلیت رکھتا ہے ۔ایسا مکسچر صرف ہائی ایڈوانسڈ امریکن نیشنل سیکورٹی لیبارٹری میں تیار ہو سکتا ہے۔ اگر نانو تھرمائیٹ کو ذہن میں رکھیں تو گارڈر، کالم ، ہڈیوں کے کچومر اور کنکریٹ کا ٹیلکم پاؤڈر بن کر اڑ کر گردونواح میں پھیل جانے کا معمہ حل ہو جاتا ہے۔

دہراتا ہوں میرا موضوع یہ نہیں کہ اس دہشت گردی کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ اسامہ بن لادن یا امریکا کی اندرونی اسٹیبلشمنٹ؟ اس وقت عرض فقط اتنی کہ یہ تباہی اورانسانی خون جہازوں کے ٹکرانے سے نہیں بلکہ معاملہ کچھ اور ہے جس کی پردہ داری ہے۔ دہشت گرد اندر تھے یا باہر؟ چند حقائق کو اجاگر کرنے کی کوشش۔ جھٹلانا ناممکن۔ حقیقت سائنس اور تحقیق کی مرہونِ منت ہی تو ہے۔ جاہلوں کو منہ نہیں لگاتا لیکن مکار اور جھوٹے کان کھول کر سن لیں کہ ٹاورز جہازوں کے ٹکرانے سے پاش پاش نہیں ہوئے بلکہ دونوں ٹاورز بمعہ ملحقہ بلڈنگ WTC-7 کنٹرولڈ دھماکہ خیز مواد سے زمین بوس ہوئے۔ سائنسی اور انجینئرنگ قواعد و ضوابط بھی یہی بتاتے ہیں۔ گو پچھلے 12 سال پہلو تہی ہوئی اب اس کا ازالہ ہوجانا چاہیے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.