.

فاروق ستار کی مسکراہٹ کا راز

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آپ نے اے پی سی میں شریک ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کو مسکراتے تو دیکھا ہو گا؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ زیر لب کیوں مسکرا رہے تھے؟

ہمارے ہاں مستعمل سیاسی اصطلاحات کے لغوی معنی جو بھی ہوں مگر حقیقی مطلب و مفہوم صرف ”فقیہان“ سیاست و ”مجتہدان“ جمہوریت ہی جانتے ہیں۔ جس طرح طب کی تعلیم حاصل کرنے والوں کے لئے الگ ڈکشنری ہوتی ہے،طبعیات و فلکیات پڑھنے والوں کے لئے مخصوص لغت ہوتی ہے،ایل ایل بی کرنے والے طلبہ کیلئے لا ڈکشنری ممد و معاون ثابت ہوتی ہے اسی طرح سیاست کرنے والوں کیلئے بھی ایک الگ ڈکشنری موجود ہے جس میں تمام سیاسی بیانات و اصطلاحات کے معانی و مفاہیم درج ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ برطانوی دستور کی طرح یہ سیاسی لغت بھی غیر مطبوعہ ہے اور سیاست کو بطور پیشہ اختیار کرنے والوں کو آزمودہ کار اور پہلے سے میدان عمل میں برسر پیکار تجربہ کار سیاستدانوں کی جانب سے سینہ بسینہ منتقل کی جاتی ہے مثلاً چند روز قبل سابق صدر نے اس منصب سے سبکدوش ہوتے وقت یہ بیان دیا کہ وہ باوقار انداز میں عزت کے ساتھ رخصت ہو رہے ہیں، تو سیاست سے نابلد لوگ تذبذب کا شکار ہو گئے یہاں تک کہ خاصے صاحب علم صحافی بھی تحیر و تکدر میں مبتلا ہو گئے۔ حالانکہ انہیں معلوم ہوتا کہ سیاسی لغت میں عزت اور ذلت کسے کہا جاتا ہے اور وقار و بے توقیری کا کیا مفہوم ہے تو انہیں قطعاًً حیرت نہ ہوتی۔ جب سب صحافی اس کھوج میں لگے ہوئے تھے کہ آل پارٹیز کانفرنس کی پٹاری سے کیا نکلتا ہے اور میزبان مینڈکوں کو ایک ٹوکری میں رکھنے میں کیسے کامیاب ہوتے ہیں تو میں ایک الگ نوعیت کی صحافیانہ جستجو میں مگن تھا۔

میرا خیال تھا کہ اگر میں یہ اسکوپ اڑانے میں کامیاب ہو جاؤں تو پاکستان کی صحافتی تاریخ میں سب سے تہلکہ خیز خبر بریک کرنے کا اعزاز میرے پاس ہو گا۔ میں اپنے معتبر ذرائع کے توسط سے چند کہنہ مشق سیاستدانوں کی نجی گفتگو تک رسائی حاصل کئے ہوئے تھا تاکہ سیاست کی غیر مطبوعہ لغت میں سے آل پارٹیز کانفرنس کا مطلب اخذ کر پاؤں۔ عین اس وقت جب اسلام آباد کی تاریخی اے پی سی کا آغاز ہونے کو تھا اس میں شرکت کیلئے جانے والے ایک پارلیمانی لیڈر سے کسی نوآموز سیاستدان نے پوچھا، مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اگر یہ آل پارٹیز کانفرنس ہے تو اس میں صرف چند جماعتوں کو کیوں مدعو کیا گیا، الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ تمام 254 جماعتوں کو مشاورت میں شریک کرنے کیلئے کیوں نہیں بلایا گیا؟اور اگر یہ پارلیمانی جماعتوں کی اے پی سی تھی تو بھی شیخ رشید اور اعجازالحق کہ نظر انداز کرنے کی کوئی منطق نظر نہیں آتی؟ جہاندیدہ سیاستدان نے لبوں پر مصنوعی مسکان سجا کر کہا،تم مجھے یہ بتاؤ بھلا اس کانفرنس کا مقصد کیا ہے؟ پہلی بار ایم این اے منتخب ہونے والے نوجوان سیاستدان نے بلا تردد کہا،یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے، اس کانفرنس کا مقصد دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ گھاگھ پارلیمنٹیرین نے جھنجلا کر کہا، یار تم تو بالکل ”شریف“ آدمی ہو۔ تم نے اردو میں محاورے تو پڑھے ہوں گے؟ جس طرح اردو میں ٹوپی ڈرامہ ایک محاورہ ہے اسی طرح سیاسی لغت میں کل جماعتی کانفرنس بھی ایک محاورہ ہے۔ اصلی ڈرامے میں بھی کاسٹ ڈائریکٹر کی مرضی کی ہوتی ہے یہ تو پھر بھی ٹوپی ڈرامہ تھا۔

سیاسی لغت میں کل جماعتی کانفرنس کا مفہوم سمجھنے کے لئے اس محاورے کا سیاق و سباق جاننا بھی ضروری تھا لہٰذا میں بدستور ہمہ تن گوش رہا۔ معلوم ہوا کہ اے پی سی دراصل جی ایچ کیو سے مستعار لی گئی ہے سب سے پہلی آل پارٹیز کانفرنس ایوب خان نے فروری 1969ء میں بلائی جس میں شیخ مجیب، بھٹو، مفتی محمود، ولی خان، شاہ احمد نورانی سمیت دیگر اکابرین نے شرکت کی۔ اس ٹوپی ڈرامے یعنی اے پی سی کا مقصد مشرقی پاکستان کے ”شرپسندوں“ سے نمٹنے کی پالیسی طے کرنا تھا۔ اس کے بعد یحییٰ خان اور بھٹو سمیت کوئی ایسا سویلین یا فوجی حکمران نہیں گزرا جس نے کل جماعتی کانفرنس منعقد کر کے سیاسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم (ویسے فارم کا لفظ استعمال کرنے کا تکلف نہ بھی کیا جاتا تو بھی معانی و مفہوم واضح ہو جاتا) پر جمع کرنے کی سعادت حاصل نہ کی ہو۔ اگر ایوب خان کے دور سے نواز شریف کی حکومت تک ہونے والی کل جماعتی کانفرنسوں کی روداد اور ان میں منظور کی گئی قراردادوں کی تفصیل بیان کرنے لگیں تو کئی جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب مرتب کرنا پڑے گی لیکن اگر یہ کٹھن کام کرنے کے بجائے محض یہ سراغ لگا لیا جائے کہ کب کس اے پی سی کی کونسی سفارش پر عملدرآمد ہوا؟ میرا خیال ہے کہ چراغ لیکر بھی ڈھونڈنے نکلیں تو اس سوال کا جواب نہیں مل پائے گا۔ کل جماعتی کانفرنس ایک ایسی ”گولی“ ہے جو بیک وقت پیٹ میں مروڑ، سر درد، متلی و قے اور بدہضمی و قبض دور کر سکتی ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ”گولی“ کسی مستند حکیم یا ڈاکٹر کی باجگزار نہیں بلکہ کوئی بھی نیم حکیم اناڑی ڈاکٹر یہاں تک کہ وہ شخص بھی یہ نسخہ تجویز کر سکتا ہے جس کا طب سے دور دور تک کوئی تعلق واسطہ نہ ہو مثلاً انسداد دہشت گردی کے معاملے پر رواں سال ہی منعقد کی گئی یہ تیسری کانفرنس تھی اس سے پہلے اے این پی اور جے یو آئی اپنی اپنی ڈفلی کے ساتھ امن گیت بجا چکی ہیں۔

ستمبر 2011ء کو ایسی ہی ایک اے پی سی اسلام آباد میں مرشد پاک سید یوسف رضا گیلانی نے بلائی۔ اس کل جماعتی کانفرنس میں اسی طرح افواج پاکستان کے سربراہ اور ڈی جی آئی ایس آئی نے بریفنگ دی،فرق صرف اتنا تھا کہ آئی ایس آئی کی کمان جنرل ظہیرالاسلام عباسی کے بجائے جنرل پاشا کے ہاتھ میں تھی اور کرسی صدارت پر میاں صاحب کے بجائے یوسف رضا گیلانی براجمان تھے۔ اس کانفرنس کے شرکاء بھی اسی نتیجے پر پہنچے کہ امن کو موقع دیا جائے اور حکومت ملکی سلامتی و خود مختاری کا دفاع یقینی بنائے۔ شاید یہ بات عمران خان سمیت بعض شرکاء کو یاد تھی اس لئے موجودہ قرارداد میں یہ نکتہ بھی شامل کیا گیا کہ سابقہ قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے مگر شرمناک بات یہ ہے کہ پچھلی اے پی سی نے جو 13 سفارشات پیش کیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ سابقہ قراردادوں اور موجودہ سفارشات پر عملدرآمد کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے گی جو اسپیکر قومی اسمبلی کو رپورٹ پیش کرے گی لیکن کیسی کمیٹی، کیسی رپورٹ اور کیسا عملدرآمد؟؟؟

پرویز مشرف کا دور تو کل جماعتی کانفرنسوں کا موسم بہار تھا۔اس سنہرے دور میں چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ ایک مہینے میں تین تین اے پی سی ہوئیں۔اے آر ڈی نے ایل ایف او کے معاملے پر 2003 ء میں الگ اے پی سی کرائی، ایم ایم اے نے الگ میلہ سجایا۔ 2005ء میں بلدیاتی انتخابات سے پہلے سنی تحریک نے 24 جون کو، جماعت اسلامی نے 28جون کو جبکہ متحدہ نے 3 جولائی کو آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی۔ اسی سال تحریک انصاف نے 20 ستمبر کو اے پی سی بلائی تو اس وقت تک اسکور 19 تک جا پہنچا تھا۔ ویسے تو اے پی سی کی سفارشات کچی پنسل سے لکھی جاتی ہیں اور ان پر عملدرآمد کا مرحلہ آنے سے پہلے ہی انہیں مٹا دیا جاتا ہے لیکن 7 جولائی 2007ء کو ہونے والی لندن اے پی سی اور 9 ستمبر 2013ء کو منعقد کی گئی اسلام آباد اے پی سی کا موازنہ کرنے لگیں تو بلا اختیار ہنسی نکل جاتی ہے…لندن اے پی سی کی میزبانی بھی میاں نواز شریف نے کی اور اس کانفرنس میں تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے ایم کیو ایم کو فاشسٹ جماعت قرار دیتے ہوئے یہ طے کیا کہ نہ تو آئندہ ایم کیو ایم سے کوئی بات چیت ہو گی نہ کوئی اتحاد۔ یقیناً اب آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اے پی سی میں شریک فاروق ستار زیر لب کیوں مسکرا رہے تھے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.