حکومت کی سینچری۔ داد دینے والا کوئی نہیں؟

عطاء الحق قاسمی
عطاء الحق قاسمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

لاہور سے شائع ہونے والے ایک موقر روزنامہ نے صفحہ اول پر ایک سنگل کالم معنی خیز سرخی لگائی ہے اور وہ یہ ہے: ”حکومت کی سینچری پر داد دینے والا کوئی نہیں“۔ خبر کے مطابق مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت نے 100 دن مکمل کر لئے ہیں، ان 100 دنوں میں حکمران جماعت نے ضمنی انتخابات میں کامیابی، ایوان صدر میں پارٹی امیدوار کی موجودگی اور دہشت گردی کے خلاف قومی کانفرنس کے انعقاد ایسے اہم سیاسی مقاصد حاصل کر لئے ہیں۔ دوسری طرف ملک میں قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے، لوڈشیڈنگ میں خاطر خواہ کمی نہ آ سکی، پٹرول، بجلی، گیس اور کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہی ہوتی چلی گئیں، ڈالر کو پر لگ گئے اور وہ 105 روپے تک جا پہنچا، یوں حکومت نے اپنی سینچری تو مکمل کر لی مگر تالیاں کہیں نہیں بج رہیں!“


متذکرہ خبر اگرچہ متوازن ہے مگر اس کے باوجود اس میں کچھ باتیں ایسی بھی ہیں جن پر بات ہو سکتی ہے۔ جہاں تک ڈالر 105 روپے تک پہنچا، قرضوں میں اضافہ اور مہنگائی میں اضافے کا تعلق ہے تو اس کا سیدھا سادہ جواب تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو معیشت جس حال میں ملی ہے، اس کی بہتری کیلئے عوام کو صورتحال کی بہتری کے لئے کچھ انتظار کرنا پڑے گا، مگر میں خود بھی اس جواب سے مطمئن نہیں ہوں کیونکہ عوام معیشت کی باریکیوں سے اس طرح واقف نہیں ہیں جس طرح اسحاق ڈار یا ان کے قد کاٹھ کے دوسرے معیشت دان واقف ہیں، وہ تو اپنے مسائل کا فوری حل چاہتے ہیں، وہ یہ نہیں دیکھتے کہ موجودہ حکومت کو آئے ابھی صرف سو دن ہوئے ہیں بلکہ ان کے سامنے تو گزشتہ پانچ برس کے وہ عذاب ہیں جو وہ سہتے چلے آ رہے ہیں، چنانچہ وہ پانچ سال اور سو دن سے ایک ہی صورتحال کا شکار ہیں۔ اس اعتراض کا جواب یا صورتحال کی ایسی وضاحت جو عوام کی سمجھ میں آ سکے، حکومتی ترجمانوں کی ذمہ داری ہے وہ ایک بار نہیں بار بار عوام کو اپنی مجبوریوں اور تکنیکی مسائل سے آگاہ کریں جن کی وجہ سے عوام کو سختیاں برداشت کرنا پڑ رہی ہیں، کیونکہ آپ اگر ایک دفعہ جواب دیں گے تو اپوزیشن کے میڈیا سیل سو مرتبہ عوام کو ان مسائل کے حوالے سے آپ کی پوزیشن خراب کرتے رہیں گے، سو اب یہ حکومت کی مرضی ہے کہ وہ عوام کو مطمئن کرنا چاہتی ہے یا ان کے ذہنوں میں یہ سوالات سلگتے رہنے کی آرزو مند ہے؟

البتہ خبر کے دوسرے حصے سے مجھے بالکل اتفاق نہیں ہے، حکومت نے اپنے سو دنوں میں صرف سیاسی کامیابیاں حاصل نہیں کیں بلکہ عوام کے بہت سے دیرینہ اور ٹھوس مسائل کی طرف پیش قدمی بھی کی ہے، 16`16 گھنٹوں کی بغیر اعلان شدہ لوڈ شیڈنگ نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا تھا مگر موجودہ حکومت نے بہت کم وقت میں حیرت انگیز طور پر اس لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی واقع کی ہے، پانچ سو ارب کے گردشی قرضوں کی بغیر نوٹ چھاپے واپسی بھی کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ سابقہ حکومت میں کرپشن کے میگا واقعات سامنے آئے، اس دور میں ہر اہم منصب کی بولی لگائی جاتی تھی اور جو زیادہ سے زیادہ رقم ادا کرنے پر راضی ہوتا تھا، اسے اس منصب پر فائز کر دیا جاتا تھا جبکہ موجودہ حکومت کے سو دنوں میں ابھی تک اس طرح کی کوئی ایک مثال بھی سامنے نہیں آئی، کیا یہ اقدام ایسا نہیں جس پر تالی بجائی جانا چاہئے؟ سابقہ حکومت میں اس طرح کی صورتحال تمام قومی اداروں کے حوالے سے بھی تھی، ریلوے، پی آئی اے، شپنگ اینڈ پورٹ اور دوسرے قومی ادارے تباہ و برباد ہو چکے تھے اور کوئی ان کی اصلاح کی طرف متوجہ نہیں تھا بلکہ ان اداروں کی تباہی میں ہر کوئی اپنا حصہ ادا کر رہا تھا۔ اب جب سے خواجہ سعد رفیق کو ریلوے کا وزیر بنایا گیا ہے، ان کا تلخ مگر درد مندانہ رویہ اس ادارے کی توقیر بحال کرنے کے لئے کوشاں نظر آتا ہے اور اس کے کچھ آثار بھی نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

اس طرح دوسرے قومی اداروں میں ہونے والی لوٹ مار اور اس کے نتیجے میں ان کی تباہی کے سدباب کی کوششیں بھی شروع ہو چکی ہیں۔ ہمارا ایک بہت بڑا مسئلہ توانائی کا ہے، جس کے لئے خواجہ محمد آصف کی وزارت کے علاوہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی اپنی تمام توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ دہشت گردی نے ملک کی چولہیں ہلا کر رکھ دی تھیں، اس مسئلے کے مستقل حل کے لئے فوج اور حکومت اب مکمل سنجیدہ نظر آتی ہے اور خدا کا شکر ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں نمایاں کمی ابھی سے نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔ جرائم پیشہ افراد اور بعض جرائم پیشہ سیاسی جماعتوں نے کراچی کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا، حکومت اس شہر کو جرائم سے پاک کرنے کے لئے ٹارگٹڈ آپریشن شروع کر چکی ہے، اس کے لئے سندھ کی صوبائی حکومت اور سید قائم علی شاہ کو بھی کچھ نہ کچھ شاباش ضرور ملنا چاہئے کہ بظاہر وہ بھی یہی چاہتے نظر آتے ہیں!


اور جو منصوبے ابھی پائپ لائن میں ہیں، ان کی کامیابی کی صورت میں تو پاکستان کی تقدیر انشاء اللہ بدل جائے گی، کاشغر سے گوادر تک شاہراہ کی تعمیر، لاہور سے کراچی تک موٹروے کی تعمیر، بے گھروں کے لئے پانچ لاکھ گھروں کی تعمیر اور اس طرح کے بے شمار تعمیری منصوبے وزیراعظم نواز شریف کی کوششوں کا محور ہیں۔ حکومت نے ان سب کاموں کے لئے پانچ سال مانگے تھے، عمران خان کی طرح 90 دنوں میں کایا پلٹ کا وعدہ نہیں کیا تھا، چنانچہ یہ سوال عمران خان صاحب سے کرنا چاہئے کہ آپ نے اپنی سینچری مکمل کر لی ہے مگر ابھی تک آپ نے کیا کیا ہے؟


البتہ خبر کی سرخی سوفیصد صحیح ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کی سینچری پر داد دینے والا کوئی نہیں“۔ تو بات یہ ہے کہ داد خبر نگاروں اور کالم نگاروں نے دینا ہوتی ہے، کیا حکومت نے کبھی ان کو ان کے کسی اچھے اقدام پر داد دی ہے، جو ان سے داد کی توقع کی جائے، اس کے باوجود ملک و قوم سے محبت رکھنے والے صحافی حکومت کے اچھے کاموں کی تعریف بھی کرتے ہیں، اختلاف بھی کرتے ہیں، لیکن ان کو داد بہت دھیمے لہجے میں ہوتی ہے، جو شائد حکومت تک پہنچتی بھی نہیں ہیں۔ باقی رہے تالیاں بجانے والے تو وہ اخبار نویسوں میں نہیں قوالوں کی پارٹی میں پائے جاتے ہیں اور ان پر خاصے نوٹ بھی نچھاور کرنا پڑتے ہیں، جبکہ مسلم لیگ کی حکومت نہ داد دیتی ہے اور نہ نوٹ نچھاور کرتی ہے۔ یہ گزشتہ حکومتوں کا وطیرہ تھا اب تالیاں بجانے والوں کو یہ نکتہ سمجھ لینا چاہئے کہ برسوں کی ”ریاضت“ کی بناء پر اگر کبھی ان کے دونوں ہاتھ تالی کے لئے فضا میں بلند ہوں بھی، تو جان لیں یہ تالی فی سبیل اللہ ہو گی۔ اس کا اجر وہ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید سے طلب کر کے نہ خود شرمندہ ہوں اور نہ انہیں شرمندہ کریں کہ اس درویش کش وزیر کے گھونسلے میں ”ماس“ نہیں ہے!

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں