طالبان کے ساتھ مذاکرات کے مخالف اور حامی

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

یہ 2006ء کی بات ہے ۔تب خاکی وردی میں ملبوس کمانڈو جنرل پرویز مشرف پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ جنوبی وزیرستان کے بعد شمالی وزیرستان میں بھی سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین خونریز جنگوں کا آغاز ہوچکا تھا۔

ان جنگوں میں سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے۔ قبائلی علاقوں میں فوج کو لے جانے کا کریڈٹ لینے اور پھر انہیں سول معاملات میں ملوث کرنے والے سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل( ر) علی محمد جان اورکزئی گورنر بن کر ان علاقوں کے چیف ایگزیکٹیو بن گئے تھے ۔ قبائلی علاقوں میں پہلی فوجی کارروائیوں کے آغاز کی سہرا بھی ان کے سر تھالیکن گورنر بننے کے بعد وہ امن کے پیامبر بن گئے ۔ چنانچہ انہوں نے ازخود طالبان کے پاس نمائندے بھیج کر مذاکرات شروع کئے ۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں 22 ستمبر 2006ء کو اتمانزئی وزیر کی سرکردگی میں طالبان اور حکومت کے درمیان ایک چودہ نکاتی معاہدے پر دستخط ہوگئے ۔ چھ شقیں عسکریت پسندوں سے متعلق تھیں اور آٹھ حکومت سے متعلق تھیں ۔ عسکریت پسندوں کی طرف سے یہ وعدہ کیا گیا کہ :


(1) سیکورٹی فورسز اور سرکاری املاک پر حملے نہیں کئے جائیں گے اور ٹارگٹ کلنگ بھی نہیں ہو گی ۔


(2)متوازی حکومت نہیں چلائی جائے گی اور کسی بھی تنازع کی صورت میں اتمانزئی وزیر کے مشورے سے ایف سی آر اور روایات کے مطابق قضیے کو حل کیا جائے گا۔


(3)سرحد پار عسکری کارروائیاں نہیں کی جائیں گی البتہ تجارت اور غمی شادی کے لئے مقامی رواج کے مطابق لوگوں کے سرحد پار کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔


(4) شمالی وزیرستان سے متصل اضلاع میں دہشت گردی کی کارروائیاں نہیں کی جائیں گی ۔


(5)غیرملکی باشندے یا تو شمالی وزیرستان سے نکل جائیں گے یا پھر قانون اور اس معاہدے کے تحت پرامن زندگی گزاریں گے ۔ اس معاہدے کی تمام شقوں کا اطلاق ان غیرملکیوں پر بھی ہو گا۔


(6) آپریشن کے دوران قبضہ میں لی گئی سرکاری املاک اور گاڑیاں حکومت کو واپس کردی جائیں گی ۔
ان چھ شقوں کے جواب میں معاہدہ میران شاہ کی رو سے حکومت کی طرف سے یہ گارنٹی دی گئی کہ :
(1)آپریشن کے دوران گرفتار کئے گئے تمام لوگ رہا کردئے جائیں گے اور انہیں مستقبل میں انہی الزامات کی بنیاد پر گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

(2)حکومت ایف سی آر کے تحت حاصل تمام سیاسی مراعات بحال کردے گی ۔
(3)حکومت تمام نئے چیک پوائنٹس ختم کردے گی اور پرانے چیک پوائنٹس پر لیوی اہلکار یا خاصہ دار تعینات کردئے جائیں گے ۔
(4)حکومت آپریشن کے دوران قبضہ میں لی گئی گاڑیاں ‘ اسلحہ اور دیگر سامان (عسکریت پسندوں کو) واپس کردے گی ۔
(5) حکومت کی طرف سے ہر قسم کی فضائی اور زمینی کارروائیاں ختم کردی جائیں گی اور تمام تنازعات مقامی روایات کے مطابق حل کیے جائیں گے ۔
(6)حکومت آپریشن کے دوران نقصان اٹھانے والے متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کرے گی ۔
(7)قبائلی روایات کے مطابق اسلحہ لے کر چلنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی ‘ البتہ بھاری اسلحہ کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی ۔
(8) معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں سے بیرکوں کی طرف واپسی سے ہوگا۔


یہ ہے اس معاہدے کی شرائط ‘ جو شمالی وزیرستان کے عسکریت پسندوں کے ساتھ کیا گیا‘ جو آج تک ٹوٹا نہیں اور جس پر آج تک حکومت پاکستان عمل کررہی ہے۔ جب اس معاہدے کے لئے مذاکرات کا آغاز ہورہا تھا تو نہ جنگ بندی ہوئی تھی اور نہ عسکریت پسند ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہوئے تھے۔ انہوں نے آئین کو ماننے کا اعلان کیا تھا اور نہ ریاستی رٹ کو تسلیم کرنے پر وہ آمادہ ہوئے۔

یہ معاہدہ جس پر ریاست پاکستان آج تک عمل پیرا ہے‘ میں نہ تو عسکریت پسندوں کو آئین اور جمہوریت کے احترام کا پابند بنایا گیا اور نہ ہی ان سے ہتھیار ڈلوائے گئے۔ اس معاہدے کی رو سے شمالی وزیرستان میں غیرملکیوں کی موجودگی کو بھی قانونی حیثیت دی گئی کیونکہ معاہدے میں یہ شق درج ہے کہ وہ اگر پرامن رہیں تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی (شکئی معاہدے میں تو پھر بھی ان کی رجسٹریشن کی شرط رکھی گئی تھی لیکن اس میں اس کی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی) ۔ اس معاہدے کے بعد حکومت کی طرف سے گرفتار عسکریت پسندوں کو رہا کیا گیا اور زرتلافی کی صورت میں کروڑوں روپے بھی ادا کئے گئے۔

یہ شق بھی شامل کی گئی کہ عسکریت پسند صرف شمالی وزیرستان اور ملحقہ اضلاع میں کارروائیاں نہیں کریں گے لیکن باقی پاکستان کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ گویا باقی پاکستان میں ان کو کارروائیوں کا لائسنس دیا گیا ۔ تماشہ یہ ہے کہ گزشتہ سات سال کے دوران شمالی وزیرستان سے افغانستان میں مداخلت بھی ہوتی رہی ۔ اس معاہدے کے بعد یہ علاقہ پورے پاکستان میں کارروائیاں کرنے والی تحریک طالبان کا گڑھ بن گیا ۔ خالد خواجہ اور کرنل امام کو یہاں پر ہی مارا گیا۔ بنوں جیل توڑنے کے لئے عسکریت پسند یہاں سے آئے اور رہائی پانے والوں کو یہاں ہی لے گئے لیکن اس معاہدے کی وجہ سے سیکورٹی فورسز تماشہ دیکھتی رہیں۔ اس دوران شیری رحمن صاحبہ اور چوہدری اعتزاز احسن صاحب کے لیڈر آصف علی زرداری صدر مملکت کی حیثیت سے قبائلی علاقوں کے چیف ایگزیکیٹو رہے لیکن اس معاہدے پر نظرثانی کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

اس دوران کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ آئین کو نہ ماننے والوں کے خلاف کارروائی کی بجائے حکومت انہیں مراعات کیوں دے رہی ہے ۔ 2006ء میں جب اس معاہدے پر دستخط ہورہے تھے تو کسی لبرل دانشور اور اخبار نویس نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہیں کی۔ پچھلے سات سالوں کے دوران انسانی حقوق کے کسی ٹھیکیدار یا روشن خیال کے پیٹ میں آئین کے احترام کی مروڑ نہیں اٹھی۔ اس سات سالہ عرصے میں میڈیا میں موجود عسکری اداروں کے کسی کارندے لکھاری یا اینکر نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ فوجیوں کے گلے کاٹنے والوں پر یہ یکطرفہ مہربانیاں کیوں کی جارہی ہیں ؟۔ لیکن آج جب حکومت اتمام حجت کے طور پر عسکریت پسندوں کے ساتھ بات چیت کرکے انہیں آئین اور قانون کے احترام کی طرف لانا چاہتی ہے تو ان سب نے شور مچانا شروع کردیا ہے ۔ وہ مذاکرات کی مخالفت کررہے ہیں لیکن یہ تک نہیں جانتے کہ ان کی ریاست اسی طرح کے مذاکرات ہی نہیں بلکہ معاہدے بھی کرچکی ہے اور ان کی حکومت اور ریاست آج بھی ان معاہدوں میں بندھی ہوئی ہے ۔ اگر تو حکومت نے طالبان کو آئین کے احترام پر آمادہ کئے بغیر صلح کرلی تو پھر ہم سب کو اعتراض اٹھانے کا حق ہوگا لیکن جب ابھی کچھ ہوا ہی نہیں ہے تو اس چیخ و پکارکا کیا جواز ؟

معاہدہ میران شاہ پر جب دستخط ہورہے تھے تو جنرل پرویز مشرف نے اپوزیشن جماعتیں تو کیا اپنے اتحادیوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا تھا لیکن اب حکومت کے اس عمل کی پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی قوتیں حمایت کررہی ہیں۔ فوجی قیادت نے خود اے پی سی میں مذاکرات کے عمل کی حمایت کی ہے لیکن اس کے بعض خودساختہ ترجمان فوجیوں کی شہادتوں کی آڑ لے کر مخالفت کررہے ہیں ۔ جیسے ان فوجیوں کی شہادتوں کا جنرل کیا نی کو کم اور انہیں زیادہ دکھ ہے ۔عسکریت پسندوں نے جگر گوشہ میاں افتخار حسین کا چھین لیا ہے ۔ بھائی کے ساتھ سے حاجی غلام احمد بلور محروم ہوگئے ہیں ۔ وہ دونوں تو مذاکرات کے حامی ہیں لیکن اسلام آباد کے فائیواسٹار ہوٹلوں میں کانفرنسوں سے خطاب کرنے والے یا پھر ٹی وی اسٹوڈیوز میں فصاحت و بلاغت کے جادو جگانے والوں کو بہت تکلیف ہورہی ہے ۔شکر ہے انہیں اس آگ کی تپش اس طرح نہیں پہنچی جس طرح میاں افتخار حسین اور ہم جیسوں کو پہنچی ہے ‘ ورنہ تو پھر ان کا لہجہ بھی یہ نہیں ہوتا۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں