فرقہ واریت کا الاؤ ...خواب اور عذاب

غازی صلاح الدین
غازی صلاح الدین
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

نوجوانی کے اس خواب آلود زمانے میں جب افسانوی ادب اور ہالی وڈ کی فلموں نے ان دیکھی دنیاؤں کو چھولینے کی خواہش کو بیدار کیا تھا تب میں نے ایک فہرست بنائی تھی ان مقامات کی کہ جنہیں اپنی زندگی میں کبھی دیکھنے کی آرزو تھی۔ یہ جیسے اپنے آپ سے کیا ہوا ایک وعدہ تھا۔ اس فہرست میں، لندن ، پیرس اور نیویارک جیسے مانوس شہروں کے علاوہ دمشق بھی شامل تھا۔ وہ اس لئے کہ میں نے پڑھا تھا کہ دمشق مسلسل آباد رہنے والا دنیا کا سب سے قدیم شہر ہے۔ دمشق کی باری بہت دیر بعد آئی اور جب تقریباً نو سال پہلے اپنی بیوی کے ہمراہ دمشق میں ایک ہفتہ گزارنے کا موقع ملا تو واقعی ایسا لگا کہ ایک بڑا معرکہ سر کرلیا۔ ایک نئی اور پراسرار دنیا سے ملاقات ہو گئی۔

اس کے بعد، 2006ء میں شام کے دوسرے بڑے شہر حلب کو اسلامی تہذیب کے ایک مرکز کے طور پر چنا گیا اور اس سلسلے میں کئی تقریبات منعقد ہوئیں۔ اس دفعہ ایک مہمان کے طور پر اس جشن میں شرکت کی اور الف لیلیٰ کی داستانوں کے ماحول کی جھلکیاں دوبارہ دیکھ لیں۔ یہ وہ سفر تھے کہ جن کا تذکرہ بہت طویل ہوسکتا ہے۔ فی الحال صرف اس دکھ کا اظہار کرنا ہے کہ یہ دونوں مثالی شہر اور شام کی کئی اور بستیاں اب کس حال میں ہیں۔ شام کی خانہ جنگی کی خبریں پڑھ کر اور تصویریں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ سب کیسے اور کیوں ہورہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی پرپیچ سیاست میں عالمی طاقتیں بھی اپنی چالیں چل رہی ہیں۔ اس صف بندی میں سپرپاور امریکہ کے منصوبے القاعدہ کے موقف کی تائید سمجھے جاسکتے ہیں۔ آنکھیں کیا کیا دیکھتی رہ جاتی ہیں۔


دمشق اور حلب دراصل مملکت شام کے ذکر اور ذاتی یادوں کے حوالے کے ذریعے میں ایک ایسے موضوع کو اٹھانا چاہتا ہوں جس کا ایک بڑا تعلق پاکستان سے بھی ہے۔ لیکن پہلے پورے پس منظر کو ذرا غور سے دیکھ لیں۔ پوری مسلمان دنیا کسی نہ کسی نوعیت کی مشکلات یا بھونچال میں مبتلا ہے۔ گزشتہ چند مہینوں میں سب سے بڑے اور اہم عرب ملک مصر میں اتنا خون خرابہ ہوا اور ڈھائی سال پہلے کے پرامید احتجاج کے بعد کہ جس نے حسنی مبارک کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا ایک خونریز کشمکش نے جمہوریت کے خواب کو چکنا چور کردیا۔ جس ملک کی ترقی پر پوری مسلمان دنیا کو فخر کرنا چاہئے اس میں ، یعنی ترکی میں بھی ہنگاموں کا ایک سلسلہ چلا اور اب ہنگامے دوبارہ شروع ہوئے ہیں۔ ان حالیہ واقعات سے قطع نظر، افغانستان کی کہانی تو 20سال سے زیادہ پرانی ہو چکی اور دس سال پہلے، امریکہ کی تاریخی غلطی کے طفیل ، عراق کے اندرونی خلفشار میں کوئی کمی ہوتی دکھائی نہیں دیتی اور جو کچھ پاکستان میں ہورہا ہے اس کی تپش سے ہم سب کی زندگیاں جھلس گئی ہیں۔ اس طرح مسلمان دنیا کی حالت زار نے کئی ایسے سوال اٹھائے ہیں جن کا سامنا کرنے سے شاید ہمیں ڈر لگتا ہے۔ اتنے دنوں سے ہم تہذیبوں کے ٹکراؤ کی تھیوری سے الجھتے رہتے ہیں۔ آج کا منظر نامہ یہ ہے کہ ہماری اپنی تہذیب کے اندر ایک ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو گئی ہے۔


جس ٹکراؤ کی طرف میں اشارہ کررہا ہوں اس کی ایک جہت فرقہ واریت ہے۔ عراق کی جنگ کے بعد اس نے ایک نئی شکل اختیار کرلی ہے اور اب شام کی خانہ جنگی میں بھی فرقہ واریت کا زہر شامل ہوچکا ہے۔ ایک سطح پر یہ عرب ایران کشمکش کا شاخسانہ ہے۔ یہ ٹکراؤ اتنا شدید ہوتا جارہا ہے کہ پوری دنیا اسے تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ چند روز پہلے میں نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک کالم کو پڑھ کر چونک اٹھا۔ ڈیوڈ بروکس نے کہ جو سیاست سے زیادہ سوسائٹی کے مسائل کا تجزیہ کرتے ہیں یہ لکھا کہ اس وقت عالمی امن کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں یا ایران کے ایٹمی پروگرام سے اتنا خطرہ نہیں جتنا مشرق وسطیٰ میں جاری فرقہ وارانہ جنگ سے ہے۔

اندازہ لگائیں کہ یہ کتنا اہم تبصرہ ہے اور امریکی مبصر کی توجہ مشرق وسطیٰ پر ہے۔ جب صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹا گیا اور جمہوریت قائم کرنے کا منصوبہ بنا تو عرب دنیا میں ایک ہیجان سا پیدا ہوگیا۔ بہرحال، عراق میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ صدام حسین بلاشبہ ایک بے رحم ڈکٹیٹر تھا لیکن اس کے دور میں عراق ایک خوشحال ملک تھا اور اس کا معاشرہ ایک حد تک لبرل اور پرامن تھا۔ شام کے صدر بشارالاسد کی کہانی بھی یہی ہے۔ سیاسی جبر اورمعاشرتی سطح پرنرمی اور محدود پیمانے پر آزادی کا احساس جو دمشق میں نے دیکھا اس میں کسی خاتون کا رات کے وقت سڑک پر اکیلے چلنا کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی۔دوسال کی خانہ جنگی نے جوتباہی مچائی ہے اور جس طرح شام کے لاکھوں شہری اپنے وطن سے ہجرت پر مجبور ہوگئے ہیں اس کی خبریں ہمارے میڈیا کی توجہ توکبھی کبھی ہی حاصل کرپاتی ہیں البتہ دنیا بھر میں شام کی خراب ہوتی ہوئی صورت حال اور بیرونی طاقتوں کی درپردہ یاکھلی مداخلت کے مضمرات کوغور سے دیکھا جارہا ہے۔عالمی امن سے بھی اس کا تعلق ہے اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن سے بھی۔وسیع تناظر میں دیکھیں تو مسلمان دنیا اور خاص طور پر عرب ممالک میں حکمرانی اور معاشرتی تنظیم کے مسائل نے ایک طوفان بپا کر دیا ہے۔


اور اب دیکھیں کہ پاکستان میں کیا ہورہا ہے۔ہم اپنے ملک کے دردناک حالات کے ساتھ اتنے سالوں سے جی رہے ہیں توشاید ہم کسی حد تک بے حس ہوتے جارہے ہیں ۔اس میں یہ معلوم ہی نہیں کہ خوشحال، پرامن اوراچھی زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنے والے معاشرے کیسے ہوتے ہیں۔ ایک عذاب وہ ہے جو کراچی پر نازل ہوا ہے اور جو آپریشن جاری ہے اس کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔اسی قسم کاشک کل جماعتی کانفرنس کے عزائم کے بارے میں کیاجاسکتا ہے۔انتہا پسندوں یعنی طالبان سے مذاکرات کا ڈول ڈالا جارہا ہے ۔ قرارداد میں تو کراچی اور بلوچستان کاذکر بھی ہے لیکن کانفرنس کا مقصد ہی یہ تھا کہ یہ فیصلہ کیا جائے کہ طالبان کا کیا کرنا ہے۔اب آپ یہ دیکھئے کہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کایہاں کوئی ذکر نہیں ہوا۔ اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ یہ سچ ہے کہ فرقہ وارانہ دہشت گردی اس مذہبی انتہا پسندی اورجہادی سوچ کا محض ایک حصہ ہے جسے ہم طالبان سے یا القاعدہ سے منسوب کرسکتے ہیں ۔ پھر بھی،چندایسی دہشت گرد تنظیمیں ہیں جو خاص طور پر اپنے ہم وطن’کافروں‘ کونشانہ بناتی ہیں۔

میرا دکھ یہ ہے کہ ہمارے حکمراں اور ہمارا میڈیا فرقہ وارانہ دہشت گردی کووہ اہمیت نہیں دیتا جو ضروری ہے۔کسی نہ کسی طرح،یہ دہشت گردی سالوں سے جاری ہے۔اکیلے اکیلے افراد کونشانہ بنایا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں بموں سے کئے جانے والے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔نہ عبادت گاہیں محفوظ ہیں اور نہ آبادیاں۔کوئٹہ کی ہزارہ برادری کوجس طرح نشانہ بنایا گیا ہے اس کودیکھ کر روح کانپ جاتی ہے۔یہ سب ہے اور فرقہ واریت کے آسیب پر کھل کر بات نہیں کی جاتی اور جانے پہچانے دہشت گردوں کو پکڑا نہیں جاتا۔فرقہ واریت کاجواثر ہمارے معاشرے کے ہرشعبے پر پڑسکتا ہے اس کے بارے میں تشویش کاکوئی ثبوت مجھے نہیں ملتا۔بات میں نے مشرق وسطٰی سے شروع کی تھی۔جنوبی ایشیاء کی کہانی تو مختلف ہے۔ عقل زمانے سے مختلف مذاہب اور فرقوں میں ہم آہنگی کی روایت قائم تھی۔ پاکستان کی تحریک میں بھی تمام فرقوں کی شرکت واضح تھی۔یوں بھی، دنیا کودیکھیں تویہ فیصلہ اٹل ہے کہ ترقی کرنے والے معاشروں میں ہر طرح کی رواداری ایک بنیادی اصول کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے۔ اب پتہ نہیں کہ ہم ان سچائیوں کوسمجھ بھی سکتے ہیں یا نہیں۔ فی الحال توہمیں طالبان سے مذاکرات کرنا ہیں اور فرقہ واریت جیسے مسائل کو پردے میں رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔جوہوگا سوہوگا ۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں