بھارت ۔نئے ایٹمی نظریئے کا مخمصہ

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

بھارت پاکستان سے کئی گنا مسلح افواج رکھتا ہے، اُس کی بحریہ اور فضائیہ بھی انتہائی طاقتور ہو چکی ہے، مگر 28 مئی 1998ء کے ایٹمی دھماکوں نے اُن کی روایتی ہتھیاروں میں برتری بے اثر کر دی تھی، اس جنگ کا خطرہ ٹل گیا تھا اور ایٹمی توازن قائم ہونے کی وجہ سے وہ پاکستان پر حملہ نہ کر سکا۔

اگرچہ 9/11کے بعد ہماری کمزوری اور امریکی دباؤ مین بے پنا ہ اضافہ ہو گیا تھا ِ بھارت نے پاکستان کو زیر کرنے یا اِس پر بالا دستی قائم کرنے کی روش نہ چھوڑی، جس سے پاکستان کے اس پرانے نظرئیے کی تصدیق ہوتی ہے کہ بھارت نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ چنانچہ اس نے ایک نئے نظریہ جس کو کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کہتے ہیں یعنی پوری فوجی طاقت کو ایک لشکر کی شکل دی تاکہ وہ پاکستان کے کمزور حصوں ، صادق آباد، تھرپارکر، لاہور اور دیگر مقامات پر حملہ آور دستے ، میکناٹائزڈ دستے ، طیاروں اور توپخانے کی مدد سے اچانک حملہ کر دے اور پاکستان کو ردعمل کا موقع نہ مل سکے ۔ اس بات کو چھپانے کیلئے اس نے کولڈ اسٹارٹ ڈدکٹرائن کا اعلان کرنے کے بعد اس کو Protection Defense Strategy اور جو افواج کا جمگھٹا کیا اس کو اس نے ) Integrated Battle Group ) کا نام دیا۔ اِ س بات نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ دفاعی حکمت عملی وضع کرے چنانچہ اس نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار جن کو Tactical atomic war Heads کہاجاتا ہے بنالئے اور ساتھ ساتھ کم فاصلے مار کے ایسے میزائل بنالئے جو چھوٹے ایٹمی ہتھیار لے کر جا سکتے ہیں۔

یہ 50 سے 100 کلو میٹر کی مار کے نصر میزائل اور کروز میزائل ہیں، جس کی وجہ سے بھارت کے کولڈاسٹارٹ ڈاکٹرائن کی موت واقع ہو گئی۔ کیونکہ ہمیں اپنا دفاع کا حق ہے جو ہم ہر صورت میں ہر ممکنہ طریقہ سے اختیار کرسکتے ہیں۔ اس پر بھارت کو پریشان نہیں ہونا چاہئے ۔ اور ا س لئے بھی کہ 1971 میں اس نے پاکستان کو تقسیم کرنے کیلئے جنگ لڑی اور 1974ء میں اس نے ایٹمی دھماکہ کرکے ہمیں مزیر خوفزدہ کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان بدلے کی نہ سوچے اور بھارت کی بالادستی کو تسلیم کر لے۔

اِس مقام پر پاکستان جاگا، یکسو ہوا،اور اپنے دفاع کیلئے جت گیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آمد ہوئی اور جوہر نایاب ، جوہری ہتھیار 1983ئمیں بنالئے اور اس کی آزمائش بھی عملاً کرڈالی ۔ ہم یہ سمجھتے تھے کہ یہ آزمائش کمپیوٹر پر ہو ئی مگر ایک سائنسدان نے بتایا وہ عملاً ہوئی مگر اِس میں خام یورینیم استعمال ہوا مگراُس کی تابکاری کو کنٹرول کیا گیا ۔ 1975ئمیں چاغی اور خاران کے مقام پر پاکستا ن نے ایٹم بم کی آزمائش کیلئے سرنگیں بنانا شروع کر دی تھیں اور وہ 1983ءء میں مکمل ہوچکی تھیں کہ افغانستان میں جنگ چل رہی تھی اس لئے پاکستان نے ایٹمی ٹیسٹ نہیں کئے ۔ تاہم 1998ء میں یہ ٹیسٹ کامیاب ہوئے ،پانچ ٹیسٹ چاغی میں اور چھٹا ٹیسٹ خاران میں کیا گیا۔ یہ چھ مختلف ڈیزائن کے ٹیسٹ تھے اِس کے بعد غوری اور شاہین میزائل کی تیاری شروع ہوئی کہ اس وقت ہم دشمن کو ایک خاص حد تک نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے مگر اِن میزائلوں کی تیاری سے ہماری ایٹمی مار کی استطاعت سارے برصغیر تک پہنچ گئی۔

گمان ہوا کہ اِس کے بعد پاکستان اور بھارت ملک جل کر رہ سکیں گے اور جنگ کا خطرہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ٹل جائے گا، جبکہ کشمیر کامسئلہ بھی مذاکرات سے حل کرلیا جائے گا ، مگربھارت کو کہاں چین !اس نے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کے ذریعہ پاکستان کو ڈرانے اور اس پر جارحیت کا سوچ کر پاکستان کو ایک دفعہ پھر مستعد کردیا اور پاکستان کو چھوٹے ایٹمی ہتھیار، کم فاصلے کی مار کے میزائل بنانے پر مجبور کیا۔ اس پر بھارت سخت اضطراب میں مبتلا ہوگیا ۔ اُس کا خیال تھا کہ پاکستان نے چھوٹے ہتھیاربناکر دُنیا کو ایٹمی حملے کے خطرے کو کم کرنے کا پیغام دیدیا۔

بھارت نے اِس خطرہ کے سِگنل کو بُلند کرنے کیلئے سابق بھارتی سفیر اور ایٹمی بورڈ کے چیر مین شیام سرن نے 24 اپریل 2013 ء کو دہلی میں سوبو اسٹریٹجک انسٹیٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان نے چھوٹے ہتھیار استعمال کئے تو یہ بالآخر ایٹمی جنگ شروعات ہوگی اور بھارت بے محابہ بڑی مقدار میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرے گا۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کب چھوٹے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے اگر بھارت IGBاور بھارت کی حفاظتی دفاعی اسٹرایٹیجی یا کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کے ذریعہ پاکستان پر حملہ کرے گا تو پاکستان ایسے جارحانہ اقدامات کو ناکام بنادے گا ۔ شیام سرن یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان اپنی جہادی برتری کو قائم رکھنا چاہتا ہے اور ممبئی جیسے حملوں کو جاری رکھنا کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس نے پاکستان کو چھوٹے ہتھیاروں کی تیاری اور اس کے استعما کو ایٹمی بلیک میل کا نام دیا ۔ اس نے پاکستان کو شمالی کوریا جیسا خطرناک ملک قرار دیا جس نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو ایٹمی حملہ کی نچلی سطح پر لاکھڑا کیا ہے۔ اُن کا بار بار یہ کہنا تھا کہ اگر پاکستان نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار استعمال کئے تو یہ جنگ بڑی ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو جائے گی۔

ہم تو ایسا نہیں چاہتے مگر اپنے دفاع کیلئے پاکستان نے ایٹمی ہتھیار بنائے ہیں تو سجانے کیلئے تو نہیں بنائے ہیں۔ اُن کو یہ بھی شکایت تھی کہ پاکستان نے ایٹمی ہتھیاروں کو یورینیم سے بنا نے کی بجائے پلوٹونیم سے بنانا شروع کردیا ہے جو زیادہ خطر ناک اور مہلک ہیں ۔ انہوں نے بھارت کی اسٹر یٹجی بتاتے ہوئے کہا کہ اکہ بھارت کے ایٹمی ہتھیار ہوائی جہازسے داغے جاسکتے ہیں یا موبائل لانچر سے یا محترک پلیٹ فارم سے ہدف پر مارے جا سکتے ہیں اور سمندر سے حملہ جسے دوسرے حملے کا نام دیا جا سکتا ہے کی صلاحیت 2015 ءء یا 2018 ءء میں حاصل کرلیں گے ۔ بھارت جس بات سے فکر مند ہے وہ کہتا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار اعلیٰ قسم کے ہیں اوراُن کے میزائل سے نشانہ پر لگنے کی دھوم ساری دُنیا میں ہے اور یہ کہ پاکستان کے پاس دوسرے حملے کی صلاحیت بھی موجود ہے اس کو مغرب بھی ہوا دے رہا ہے تاکہ بھارت سے ٹیکنالوجی میں بالادستی کے حصول کی کوشش میں مال اینٹھے۔ ہم کہتے ہیں کہ پاکستان امن وچین سے خطّے میں رہنا چاہتا ہے وہ بھی پاکستان کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے آپکو سنبھالے ۔ ہم تو جہادیوں سے اُن کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں اگر ہمارا مورچہ ٹوٹا تو اسکی 22 ریاستوں میں آزادی کی جو تحریک چل رہی ہے جس میں سب سے خطرناک نکسلائٹ تحریک ہے ،میں ایک خطرناک اضافہ ہو جائیگا۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں