تھرکول منصوبہ اور موجودہ حکومت

انجم نیاز
انجم نیاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

کالم کے آغاز میں ایک بات کی وضاحت کردوں کہ وزیرِ اعظم نواز شریف ایک محبِ وطن سیاست دان ہیں اور وہ پاکستان کو ایک عظیم ملک بنانا چاہتے ہیں ، تاہم جیسے ہم مختلف سیاست دانوں کے افعال کی پرکھ کا حق رکھتے ہیں، بطور وزیرِ اعظم نواز شریف کے مختلف فیصلے اور افعال تنقید کی زد میںآسکتے ہیں۔ اس وقت تھر کول کے حوالے سے ان کا فیصلہ خاصا پریشان کن ہے۔ اس ضمن کچھ باتیں آپ سے شیئر کرتی ہوں اور اگر کوئی صاحب ان کی تصدیق کرنا چاہیں تو ان کا ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نواز شریف پاکستان میں توانائی کی کمی کے سنگین مسلے کو حل کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی ترجیحات غلط دکھائی دیتی ہیں۔ ہمارے وزیرِ اعظم ، جن کو جدید دور کا شاہ جہاں کہا جاسکتا ہے، بارہ ارب ڈالر کی لاگت سے نیا اسلام آباد تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے پاکستان ایک ایسے کم ظرف شخص کے طور پر طرزِ عمل کا مظاہر ہ کر رہا ہے جس کے پاس دولت تو آگئی ہو لیکن اسے خرچ کرنے کا سلیقہ نہ ہو اور وہ اُسے اندھا دھند اجاڑ دے۔ اب اگر یہ رقم ادھار لی گئی ہو تو پھر ایسا لگتا ہے کہ اُس شخص نے وہ رقم واپس نہ کرنے کا ارداہ کر رکھا ہے، تاہم اگرقرضہ آئی ایم ایف سے حاصل کیا گیا ہو تو پھر واپس نہ کرنے کی سہولت میسر نہیں ہوتی۔ حال ہی میں آئی ایم ایف سے 6.7 بلین ڈالر قرضہ لینے کے بعد نواز شریف ایسے برتاؤ کررہے ہیں جیسے اُن کی لاٹری نکل آئی ہو اور وہ ہر اُس چیز کو خرید لینا چاہتے ہیں جہاں تک ان کے تخیل کی رسائی ہے۔قرض کی واپس کے لیے ہمارے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جنھوں نے دیا ہے وہ واپس لینا اچھی طرح جانتے ہیں اور اس بات کا ہمیں بھی علم ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمیں بارہ ارب ڈالر کی لاگت سے ایک نیا دارلحکومت تعمیر کرنے کی ضرورت ہے؟ سچی بات یہ ہے کہ ملک کو توضرورت نہیں ہے لیکن اگر اس منصوبے پر ہر قدم پر ’’کمائی‘‘ کا راستہ کھل جائے تو اور بات ہے۔ اب یہ بات کوئی راز تو ہے ہی نہیں کہ ایسے عقربی منصوبوں میں ’’حصہ‘‘ بہت دور تک جاتا ہے اور پھر lion’s share کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔ کیا سپریم کورٹ کو اس معاملے کو نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ مالی معاملات کی شفافیت کے حوالے سے موجودہ حکومت کا دامن بھی مکمل طور پر صاف نہیں ہے؟ اس نے اپنے پسندیدہ افراد کو اعلیٰ ملازمتوں سے نوازتے ہوئے میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔

اب وقت آگیا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری اور ان پر لگائے گئے بدعنوانی کے الزامات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ان معاملات کے غیر شفاف ہونے پر توجہ دیں جو اس ملک میں ہونے جارہے ہیں۔ ان میں سے ایک تھر کول پراجیکٹ ہے۔ ملک کی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل یہ عظیم الشان منصوبہ اس وقت تک صرف اس لیے شروع نہیں کیا جاسکا کیونکہ موجودہ اور سابقہ حکومتیں کوئلے سے اپنے لیے چاندی چاہتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ منصوبہ 1991 سے جمود کا شکار ہے۔ دراصل سندھ حکومت اور اسلام آباد کے درمیان اس بات پر تناؤ رہا ہے کہ اس منصوبے کا حقیقی ’’مالک ‘‘ کون ہو گا۔

سترہ جون 2009 کو یہ سندھ کی طرف سے اعلان سامنے آیا کہ یہ معاملہ حتمی طور پر طے پا چکا ہے اور اب سندھ حکومت ہی اس منصوبے کو اپنی ملکیت میں رکھتی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی سربراہی میں ’’تھرکول انرجی بورڈ‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ زرداری صاحب نے اسے جام شورو یونیورسٹی کے حوالے کیا لیکن یونیورسٹی کے پاس اس منصوبے کے لیے درکار مہارت کا فقدان تھا۔ اسٹریلیا، جاپان، چین اور انڈیا سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاربہت دیر سے اس منصوبے پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ تھر کول کی کانیں پچانوے مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہیں اور ایک اندازے کے مطابق اس میں دو بلین ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں۔ سندھ اینگرو مائننگ کمپنی کو بلاک نمبر دو کا کام دیا گیا ہے اور انڈیا کا’’ سنٹرل مائن پلاننگ اینڈ ڈیزائن انسٹی ٹیوٹ ‘‘ اس کی معاونت کررہا ہے۔ سندھ حکومت ایسے دس بلاک قائم کرنا چاہتی ہے۔ ان سے 2030 تک بیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی۔

اب نواز شریف کی حکومت بھی اس منصوبے کو اپنی ملکیت میں لینے کی خواہش مندہے۔ اب مسلۂ یہ ہے کہ اگر مرکزی حکومت ایسا کوئی قدم اٹھاتی ہے تو وزیرِ اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سخت غصے میں آجائیں گے۔ حالیہ دنوں ہونے والی ایک بریفنگ ، جس میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے وزیرِ اعظم کو اس منصوبے پر بریفنگ دینی تھی، کے دوران وہاں موجود ’’چڑیا ‘‘ کی نسل کی ایک مکھی ( مخبر ) نے خبردی ہے کہ وزیرِ اعظم صاحب کی منشا یہ دکھائی دیتی ہے کہ ڈاکٹر ثمر کی ٹیم اس منصوبے کو چھوڑ دے تاکہ اسے ناکام ظاہر کرتے ہوئے مرکزی حکومت اس کو اپنی ملکیت میں لے سکے۔ اس ’’تعاون ‘‘ کے لیے ٹیم کے افراد کی معقول خدمت کرنے کابھی عندیہ دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ توانائی ایک اور دوست ملک سے درآمد کی جائے گی۔ دوسری طرف ڈاکٹر ثمر کی ٹیم کا دعویٰ رہا ہے کہ یہ ایک کامیاب منصوبہ ہے اور ایک موقع پر نواز شریف نے بھی ڈاکٹر صاحب کی تعریف کی تھی۔ تاہم بھارتی فرم نے اس ڈکٹر ثمر کے منصوبے کو ناکام قرار دیا ہے… ڈاکٹر ثمر کوئلے کو گیس میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر کام کررہے ہیں۔ بھارتی فرم کا خیال ہے کہ پاکستان سائنسدان کے پاس اس کام کے لیے مہارت اور تجربے کی کمی ہے، اس لیے پاکستان کو غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنا پڑیں گی۔
تاہم اس ضمن میں ملک میں سرگرم تیل مافیا بھی ملوث ہو چکا ہے اور یہ مافیا موجودہ، بلکہ کسی بھی، حکومت سے زیادہ طاقتور ہے۔

بھارتی فرم بھی ظاہر ہے کہ پاکستانی سائنسدان کی کامیابی کو ہضم نہیں کر سکتی ہے۔ ہو سکتاہے کہ اب سندھ حکومت اس منصوبے کو ہاتھ سے نہ جانے دے لیکن وہ اس کو محض عوامی ضروریات کے لیے کوئلہ نکالنے تک ہی محدود رکھے گی۔ اس سے بجلی پیدا کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو گا۔

بہ شکریہ روزنامہ "دنیا"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں