بشار الاسد کے لیے قتل کا لائسنس

فیصل جے عباس
فیصل جے عباس
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

تمام امریکی سیاست دانوں میں سے صرف سینیٹر جان کیری ہی بظاہر اسد رجیم کے ساتھ کوئی معاملہ کرنے میں سنجیدہ نظر آئے ہیں۔پندرہ روز قبل جب امریکی حملہ یقینی نظرآرہا تھا تو انھوں نے خبردار کیا کہ کسی شُوکا شاکی (کاسمیٹک) والے حملے سے کام نہیں چلے گا اور انھوں نے شام میں جاری خانہ جنگی میں مداخلت کرنے کے لیے بہت زیادہ وقت لگا دیا ہے۔

سینیٹر جان مکین نے بلاشبہ خبردار کرتے وقت درست طور پر کہا تھا کہ اپاہج کرنے والے حملے سے کم تر کوئی بھی کارروائی اسدرجیم کے لیے اپنے ہی عوام کو قتل کرنے کا لائسنس ثابت ہوگی۔

انھوں نے ہفتے کے روز سینیٹر لنڈسے گراہم کے ساتھ ایک مشترکہ بیان جاری کیا اور اس میں انھوں نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو تباہ کرنے سے متعلق امریکا اور روس کے درمیان جنیوا میں طے پائی ڈیل پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ اس سے بشارالاسد کو تاخیری حربے استعمال کرنے اور دھوکا دینے کے لیے وقت مل جائے گا جبکہ ملک میں خانہ جنگی جاری رہے گی۔

بشارالاسد کی تاریخ کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ''امریکی انتظامیہ اس وقت فریب کا شکار نظر آئے گی جب وہ حقیقی طور پر یہ یقین کرلے گی کہ بشارالاسد کا وہی مطلب ہے جو وہ کہہ رہے ہیں یا جو وہ کہہ رہے ہیں،اس کا وہی مطلب ہے۔

سب سے اہم بات یہ کہ امریکا (اور دوسرے مغربی ممالک) نے اس سب کا آغاز ہی غلط انداز میں کیا کہ انھوں نے شام میں فوجی مداخلت کے لیے کیس گذشتہ ماہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کی بنیاد پر استوار کیا۔اس حملے کے نتیجے میں ایک ہزار چار سو کے لگ بھگ شہری مارے گئے تھے۔

بشارالاسد نے تو مارچ 2011ء میں اپنے خلاف آغاز ہونے والے پرامن مظاہروں کودبانے کے لیے سفاکانہ انداز میں کریک ڈاؤن کیا اور پھر خانہ جنگی چھڑ گئی جس کے نتیجے میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ شامی مارے جاچکے ہیں اور لاکھوں بے گھر ہوگئے ہیں۔

میں نے اپنے ایک گذشتہ کالم میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ قتل نہیں بلکہ قتل کرنے والا ہتھیار کوئی اہمیت رکھتا ہے۔میں حیران ہوں کہ کیا یہ عالمی برادری کے لیے قابل قبول نہیں ہے کہ ایک لاکھ گنوائی جانے والی جانوں کو محض اس لیے نظرانداز کردے کہ انھیں روایتی ہتھیار استعمال کرکے زندگی کی قید سے آزاد کیا گیا تھا۔

آج میں یہ سوال کرتا ہوں کہ دنیا کو اس قاتل رجیم کے خاتمے کے لیے کسی فیصلے تک پہنچنے سے قبل اور کتنی جانیں درکار ہیں اور یہ فیصلہ کرنے میں اورکتنا وقت لگے گا یا یہ کہ امریکی ،یورپی اور روسی حقیقی طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ بشارالاسد اپنے ہی لوگوں کو ہلاک کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔الاّ یہ کہ وہ ان سب کو گیس سے موت کی نیند نہیں سلا دیتے۔

صدر براک اوباما یہ بات بہتر طور پر جانتے ہیں کہ کسی جنگ کو لڑے بغیر جیتنا سب سے بہتر ہوتا ہے اور ان کے نزدیک تو حقیقت یہ ہے کہ بشارالاسد نے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن ( سی ڈبلیو سی) پر دستخط کرکے عالمی برادری سے تعاون پر اتفاق کر لیا ہے اور اس کو غالباً ایک فتح سمجھا گیا ہے۔

تاہم بشارالاسد کا کیمیائی ہتھیاروں پر دستخط کا اعلان مضحکہ خیز ہے اور یہ ایک خوش کن جارحانہ اقدام ہے جس کے وہی اثرات ہوں گے جو اس طرح کے واقعہ کے ہوسکتے ہیں کہ جب بعض سرکردہ شخصیات کی شراب پی کر ڈرائیونگ کرنے پر پکڑے جانےکی خبر پھیل جائے اور وہ پھر یہ اعلان کردیں کہ وہ بحالی صحت کے لیے جا رہے ہیں۔

پھر جونہی ان کی گرفتاری کی خبر مردہ ہوجائے تو وہ شخصیات دوبارہ شراب پی کر ڈرائیونگ کرنے لگیں۔ بشارالاسد جب تک برسراقتدار ہیں تو ان کے پاس لاکھوں ہلاکت آفریں حربے ہوسکتے ہیں (اور وہ ممکنہ طور پر ایک مرتبہ پھر کیمیائی ہتھیار استعمال کرسکتے ہیں۔)

وال اسٹریٹ جرنل کی سابقہ لکھاری اور اب واشنگٹن ڈی سی میں قائم فاؤنڈیشن برائے دفاع جمہوریت کے ساتھ وابستہ صحافیہ کلاڈیا روسیٹ نے لکھا ہے کہ ''کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کی نہ تو تصدیق اور نہ ہی اس کے نفاذ کی ضرورت ہے۔اس سے بشارالاسد ہی کو تحفظ ملے گا نہ کہ ان کا ممکنہ ہدف بننے والوں کو''۔

روسیٹ نے حال ہی میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ سی ڈبلیو سی پر دستخط کرنے والے ممالک کی فہرست دیکھیں تو اس سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ کوئی زیادہ موثر نہیں ہے اور امریکی انتظامیہ کو اس بات کو بخوبی جان لینا چاہیے۔خاص طور پر یہ بات کہ یہ روسی ہیں جو بشارالاسد کے کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمےکی بات کررہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی 2013ء کی اس کنونشن پر عمل درآمد سے متعلق کانگریس میں پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''امریکا کے جائزے کے مطابق روس کا کیمیائی ہتھیاروں اور ان کے ذخیرے کے حوالے سے سی ڈبلیو سی کا اعلامیہ نامکمل ہے''۔

شام کے قریبی اتحادی ملک ایران نے 1997ء میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے لیکن اس کے بارے میں بھی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ''امریکا اس بات کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتا کہ ایران نے اس معاہدے کے حوالے سے اپنی ذمے داریوں کو پورا کیا ہے کیونکہ ایرانی اعلامیے میں بہت سی بے ضابطگیاں پائی جاتی ہیں اور اس نے بعض امور کی مناسب وضاحت بھی نہیں کی ہے''۔

روسیٹ نے آخرمیں لکھا ہے کہ لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی نے 2004ء میں کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے لیکن 2011ء میں ان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد آنے والی نئی حکومت کو کیمیائی ہتھیاروں کی دو جگہوں کا پتا چلا تھا۔

تاہم کسی کو یہ تمام کہانی یہ کہنے کے لیے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ آمروں پر کوئی اعتبار نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی سی ڈبلیو سی معاہدہ شامی عوام کے تحفظ کی کوئی ضمانت ہوگا۔

شام میں گذشتہ ڈھائی سال سے جاری قتل عام کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما اس بات کو سمجھیبں کہ سینیٹر جان مکین درست ہیں اور عالمی برادری شامی حزب اختلاف کے جائز اور معقول مطالبات اور درخواستوں پر کان دھرے۔

شامی قومی اتحاد (ایس این سی) نے ایک نیا مطالبہ یہ کیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع میں شہری علاقوں میں بیلسٹک میزائلوں اور جنگی طیاروں کے استعمال کو بھی شامل کیا جائے۔کیا ان درخواستوں کو پورا نہیں کیا جانا چاہیے اور کیا مغرب کا واحد مقصد بشارالاسد کی بحالی کرنا ہے۔اس کے بعد ہمیں حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ اگر وہ یہ کہہ دیں:''نہیں، نہیں، نہیں''۔

(ترجمہ:امتیاز احمد وریاہ)

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں