مذاکرات یا جنگ

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

فائیو اسٹار ہوٹلوں میں منعقدہ کانفرنسوں کے دوران عقل ودانش کے موتی بکھیرنے والوں اور فائیوسٹار گھروں میں رہ کر‘ سیکورٹی کے حصار میں ٹی وی سٹوڈیوز کے اندر بیٹھ کر طالبان کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت کرنے والوں کا معاملہ الگ ہے۔ وہ اس آگ کو دیکھ تو سکتے ہیں لیکن اس کی تپش کو محسوس نہیں کر سکتے۔

میں اس قضیے کے براہ راست متاثرین میں شامل ہوں۔ میرے باپ دادا کی سرزمین مہمندایجنسی کئی سال تک میدان جنگ بنی اور اپنا قبیلہ دربدر ہوا ۔ میرے جان سے زیادہ عزیز دوست اس جنگ میں جان دے بیٹھے۔ فاٹا اور پختونخوا کے وہ زعماء جن کی پگڑیوں کو آسمان جھک کر سلام کرتا تھا‘ اس جنگ میں ہجرت کرنے پر اور ان کی خواتین جھونپڑیوں میں رہنے یا پھر بھیک مانگنے پر مجبور ہوئیں۔ میری مسجد امن و سکون کی جگہ تھی لیکن اب وہاں بم پھٹ رہے ہیں۔

میری پگڑی عزت اور وقار کی علامت تھی لیکن اب اسے دہشت کا نشان سمجھا جاتا ہے۔ داڑھی میرے دین کے شعائر میں سے ایک تھی لیکن اب اس کا حامل دہشت گرد یا ان کا ہمدرد سمجھا جاتا ہے۔ اس خطے سے دولت اور ذہانت ہجرت کرگئی اور اب یہاں صرف خوف اور منافقت کا راج ہے۔ وہ خطہ جو فنون لطیفہ کا منبع تھا ‘ اب اجڑے گلستان کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔ کم وبیش ہر فرد ذہنی مریض ہے اور پچھلے سالوں کے دوران اس خطے میں ذہنی امراض کی ادویات کی فروخت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ شادیاں بغیر بارات کے ہونے لگی ہیں اور قریبی عزیز بھی جنازوں میں شرکت سے کتراتے ہیں ۔ زرداری صاحب نے پانچ سال تک صدارت کی لیکن چیف ایگزیکٹیو ہونے کے باوجود وہ قبائلی علاقے کے کسی ایک انچ پر بھی قدم نہیں رکھا۔ ظاہر ہے وجہ خوف کے سوا کچھ نہیں اور یہی خوف ہی تو ہے کہ وزیراعظم نواز شریف قبائلی علاقے تو کیا پشاور تک کا دورہ کرنے سے کتراتے ہیں ۔

اب تو کراچی اور کوئٹہ بھی اس جنگ کی لپیٹ میں آگئے ہیں لیکن ایوان ہائے اقتدار اس سے غافل اس لئے ہیں کہ لاہوراب بھی کسی حد تک محفوظ ہے ۔ یہاں اور اسلام آباد میں بیٹھے حکمران اور دانشور اس جنگ کی تپش کو اس طرح محسوس کرہی نہیں سکتے ‘ جس طرح کہ براہ راست متاثر ہونے والے محسوس کررہے ہیں۔ مسئلہ ہے کیا اور وہ کس قدر بھیانک ہے ‘ یہ وہی فوجی جوان جانتا ہے کہ جو اپنے گھر اور بچوں سے سینکڑوں میل دور وزیرستان اور باجوڑ کے پہاڑوں میں ڈیوٹی دے رہا ہے ۔ جو کبھی اپنے افسروں کے تابوتوں کو سلامی دے رہا ہے اور کبھی اپنے ساتھیوں کی لاشیں اٹھارہا ہے ۔ اس قضیے کے بھیانک جہتوں کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس کے پیارے خودکش دھماکوں یا بمباریوں میں نشانہ بنے۔ وہ سمجھ سکتا ہے جو بے گھر بھی ہوا اور جس کا گھر بھی لٹا ۔ مذاکرات کے ان مخالف دانشوروں نے کبھی یہ جاننے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں سات سال سے ان کی حکومت عسکریت پسندوں کے ساتھ معاہدے میں بندھی ہوئی ہے۔ وہ ”صحافیانہ ذمہ داریوں“ کے لئے ایک ہفتہ چین جاتے ہیں ‘ دوسرے ہفتے ترکی ‘ کبھی لندن تو کبھی امریکہ لیکن بارہ سال میں کبھی وزیرستان یا کابل جانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ لیکن پھر بھی انہیں زعم ہے کہ حقیقت صرف وہ جانتے ہیں اور بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ اپنے آپ کو بہادر یا لبرل ثابت کرنے کیلئے ہم جیسوں کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔ ان کی طرف سے اور ان لوگوں کی طرف سے ‘جن کی خوشی کیلئے انہوں نے یہ لائن پکڑی ہوئی ہے ‘وہ ہمیں طالبان کی ترجمانی کے طعنے دے رہے ہیں تو دوسری طرف طالبان کے نزدیک ہم فوج اور حکومت کے ایجنٹ ہیں۔

میرے ان دوستوں کو کون سمجھائے کہ ہمیں دانشوری کا زعم ہے اور نہ اس کا شوق ہے ۔ ہمیں تو امن چاہئے۔ سکون چاہئے ۔ اپنی قوم کی خواتین کی عزتوں کا تحفظ چاہئے۔ اپنے ممبراور مسجد کی عفت اور اپنے حجرے کی عظمت کی بحالی چاہئے ۔ تیس سال ہم نے آگ و خون کی اس بزکشی کا مہرہ بن کر گزار لئے لیکن بہتری کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں ۔ بنوں جیل ٹوٹی اور اپنے سینکڑوں ساتھیوں کو طالبان رہا کراکے لے گئے لیکن ہم نے ریاست کی طرف سے کوئی جوابی اقدام نہیں دیکھا۔ ڈی آئی خان جیل کو توڑ کر پھر یہ عمل دہرایا گیا لیکن ریاست ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی ۔ اسفندیار ولی خان کے عزیز اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے وائس چانسلر پروفیسر اجمل خان گزشتہ تین سال سے عسکریت پسندوں کی تحویل میں ہیں ۔ ان کی بچیاں اور بیوی پاگل ہونے کو ہیں لیکن ریاست کی طرف سے ان کی رہائی کیلئے کوئی اقدام ہمیں نظرنہیں آ رہا۔

سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے بیٹے ملتان سے اغواء کرکے وہی عسکریت پسند اپنے ٹھکانوں کی طرف لے گئے ۔ چار ماہ ہوگئے لیکن ریاست ان کے کسی کام نہیں آئی ۔ مایوس ہوکر اب وہ کبھی مولانا سمیع الحق کے دربار پر حاضر ہورہے ہیں اور کبھی ان جیسے دیگر لوگوں کے ہاں۔ نیویارک ٹائمز خبر دے چکا کہ پشاور میں اس وقت حکومت کا نہیں بلکہ عسکریت پسندوں کا سکہ چلتا ہے ۔ پنڈی ‘ اسلام آباد میں عسکریت جس سے چاہے تاوان طلب اور پھر وصول کرتے ہیں ۔ ہم جیسوں نے بارہ سال انتظار کیا لیکن اس ملک کی سیاسی قیادت ایک لمحے کیلئے بھی اس معاملے میں یک زبان نہ ہو سکی۔ میاں نوازشریف حکمران بنے تو اس مسئلے کو بھول کر اقتدار کے دیگر بھول بھلیوں میں لگ گئے ۔ اس مسئلے کی طرف ان کی عدم توجہی کا یہ عالم ہے کہ قبائلی علاقوں کا چیف ایگزیکیٹو ممنون حسین صاحب کو بنا دیا ۔ تین ماہ گزرجانے کے باوجود گورنر خیبر پختونخوا (جو صدر مملکت کے نمائندے کی حیثیت سے فاٹا کا چیف ایگزیکٹیو ہوتا ہے)کے منصب کیلئے نئے بندے کا تقرر کرسکے اور نہ پہلے سے موجود گورنر کو اطمینان دلا کر مستقل کرسکے ۔اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں وزیراعلیٰ پنجاب تو نظر آتے ہیں لیکن گورنر اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نظر نہیں آتے۔ یہ تو بھلا ہو تحریک طالبان پنجاب کے امیرعصمت اللہ معاویہ کا کہ انہوں نے پنجاب میں کاروائیوں کی دھمکی دی اور میاں نوازشریف اس مسئلے کی طرف متوجہ ہوئے۔ پہلے ڈی سی سی کی میٹنگ بلائی اور پھر اے پی سی طلب کی ۔ اب وہاں تو ملک کے تمام بہادر سیاسی رہنماوں نے فوجی قیادت کی موجودگی میں یک زبان ہوکر مذاکرات کی حمایت کردی لیکن جب ہم جیسے طالب علموں نے بھی مذاکرات کے آپشن کو آزمانے کے حق میں چند دلائل دئے تو ہم طالبان کے ترجمان اور ملک دشمن قرار پائے ۔ بہر حال جو ہونا تھا ‘ ہو چکا۔

طالبان نے شوریٰ کے اجلاس کے بعد مذاکرات سے متعلق جس طریقے اگر مگر سے کام لیا اور پھر جس ڈھٹائی کے ساتھ میجر جنرل ثناء اللہ اور ان کے ساتھیوں کی گاڑی کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرلی ‘ اس سے لگتا ہے کہ پہلے تو مذاکرات کا انعقاد مشکل ہے اور اگر ہوبھی جائیں تو ان کی کامیابی کا امکان کم ہے ۔ گویاہم ہار گئے اور مذاکرات کے خلاف سازشیں کرنے والی وہ قوتیں جیت گئیں جو ملک کے اندر اور باہر موجود ہیں ۔ میڈیا میں موجود مذاکرات اور مفاہمت کے مخالفین کو مبارک ہو ۔ ان کی آرزووئیں پوری ہونے کو ہیں ۔اب وہ تبصرے کرتے رہیں اور ہم دیکھیں گے کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو کس طرح سیدھا کیا جاتا ہے۔ حکومت سنجیدہ ضرور ہے لیکن اس حکومتی ٹیم میں چوہدری نثار علی خان کے سوا اس ایشو کے بارے میں کوئی دوسرا فکر مند نہیں ۔

میاں نواز شریف صاحب مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کیلئے اپنے سیاسی مفادات کے خول سے نکلنے کو تیار نہیں اور نہ قربانی پر آمادہ ہیں ۔ ظاہر ہے اس طرح یہ کام نہیں ہوسکتا۔طالبان کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ماضی میں تمام معاہدے حکومت کی طرف سے توڑے گئے ۔ شکئی معاہدہ میں یہ شرط موجود تھی کہ غیرملکی اپنے آپ کو رجسٹرڈ کرائیں گے ۔ کیا مقررہ تاریخ کو ایک بندہ رجسٹرڈ ہونے کے لئے آیا تھا؟۔ نہیں ہر گز نہیں ۔نیک محمد کے خلاف ڈرون حملے سے دو ہفتے قبل فوج قافلے پر حملہ ہوا تھا اور جنگ دوبارہ چھڑ گئی تھی ۔معاہدہ میران شاہ‘ جس پر آج تک حکومت یکطرفہ عمل کررہی ہے ‘ میں یہ شق موجود ہے کہ شمالی وزیرستان کی سرزمین حکومت پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی ۔ اب کیا واقعی ایسا ہے ؟۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ اسی شمالی وزیرستان ہی کو مرکز بنا کر تحریک طالبان پورے پاکستان میں کاروائیاں کررہی ہیں ۔ مذاکرات کے مخالفین تو برا منائیں گے لیکن بہر حال حکومت کو چاہئے کہ وہ اتمام حجت کے طور پرعمران خان صاحب کی قیادت میں سید منور حسن ‘ مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق پر مشتمل جرگہ تشکیل دے دے ۔ انہیں مکمل اختیار کے ساتھ طالبان کے پاس بھیجیں کہ وہ ان کو صلح پر آمادہ کرلیں ۔ وہ یہ کام کرسکیں تو ٹھیک نہیں تواتمام حجت تو ہوجائے گا ۔ میں تو اب انتظار کروں گا کہ مذاکرات کے مخالف تجزیہ نگاروں کا نسخہ کیمیا کیا رنگ دکھاتا ہے اور مذاکرات کی بجائے کسی اور طریقے سے ریاستی رٹ کو کب اور کس طرح بحال کیا جاتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں