وزیر اعظم نواز شریف کا دورۂ ترکی

فرخ سہیل گوئندی
فرخ سہیل گوئندی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

وزیراعظم نوازشریف 16ستمبر سے ترکی کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ اس دورے میں پاکستانی تاجروں کا ایک وفد بھی ان کے ہمراہ ہے۔ پاکستان ترکی تعلقات کی تاریخ قیامِ پاکستان سے بہت پہلے تک پھیلی ہوئی ہے۔ جب برطانوی امپیریل ازم نے دیگر یورپی اقوام کے ساتھ مل کر ترکوں کی سرزمین یعنی بچی کھچی سلطنت عثمانیہ کو آپس میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تو متحدہ ہندوستان نے،جس میں اس وقت برطانوی سامراج کے خلاف عوامی بیداری اپنے عروج پر تھی، مصطفی کمال پاشا اتاترک کی قیادت میں بچے کھچے ترکی کے عوام کو متحد کرکے کی جانے والی مزاحمتی تحریک کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ ترکوں کی اس جنگ آزادی کی حمایت میں پورا ہندوستان ایک بڑی عوامی تحریک میں داخل ہوگیا۔

متحدہ ہندوستان میں اسے تحریک خلافت کا نام دیا گیا۔ اگر ہم آزادئ ہندو پاک کی عوامی تحریک کی جڑیں تلاش کریں تو اس کا سرا تحریک خلافت سے جا ملتا ہے، جس نے متحدہ ہندوستان کے لوگوں کو پہلی بڑی Mass Movement کا عملی درس دیا۔ ترکوں نے مصطفی کمال پاشا کی قیادت میں جغرافیے سے مٹتے ترکی کا دفاع کرکے پچھلی صدی کی تاریخ کا سب سے اہم باب رقم کیا۔ ترکی، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان ایک گیٹ کی حیثیت رکھتا ہے، اس قوم نے یورپی اتحادی افواج کو غازی مصطفی کمال پاشا کی قیادت میں شکست دے کر نہ صرف سرزمین ترکیہ کو محفوظ بنا دیا بلکہ عملاً ترکوں نے مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان ایک جدید جمہوری ریاست کی بنیادیں استوار کرکے سارے مشرق وسطیٰ کو ان مغربی سازشوں سے محفوظ کر دیا۔متحدہ ہندوستان میں برپا تحریک خلافت نے اس نئی قوم کے ظہور کی حمایت میں جو کردار ادا کیا،اسے ترکوں نے کبھی نہیں بھلایا اور اس طرح جمہوریہ ترکیہ جس کی بنیاد 1923ء میں رکھی گئی، اس جدید جمہوری ریاست اور اس کے عوام کے دل برصغیر کے مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اور یوں ترک پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی کی بنیاد 1923ء میں قائم ہونے پر فخر کرتے ہیں۔

وزیراعظم نوازشریف مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، کاکیشیا اور یورپ کے سنگم پر موجود ایک ایسی ریاست کے تین روزہ دورے پر ہیں کہ جس نے آزادی کے نوے سالہ سفر میں دنیا میں تعلیم، ترقی، جمہوریت، خوش حالی اور جدیدیت کے حوالے سے اپنا آپ منوا لیا ہے۔ ترکوں نے دعوے نہیں عمل کیا ہے۔ ترکی کے ساتھ پاکستان کی دوستی لازوال ہے، اگر ترکی نے پاکستان کی ہر اہم وقت حمایت کی ہے تو پاکستان بھی کبھی اس میں پیچھے نہیں رہا۔ اگر ترکوں نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی حمایت کی ہے تو پاکستان نے بھی ہمیشہ قبرص کے مسئلے پر ترکوں کا ساتھ دیا ہے۔ اس طرح اگر ترکوں نے پاکستان میں2005ء کے زلزلے میں بڑھ چڑھ کر امدادی کاموں میں حصہ لیا تو یاددہانی کے لیے عرض ہے کہ جب ترکی میں اپنی تاریخ کا بدترین زلزلہ اگست 1999ء میں آیا تو پاکستان کے وزیراعظم جناب میاں نوازشریف امدادی سامان سے لیس جہاز لے کر ترکی پہنچ گئے۔

پاکستان اور ترکی ایک دوسرے کی مدد کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دو جنگوں نے دنیا کو اپنے زیر اثر کررکھا ہے، ایک میڈیا وار اور دوسری اکنامک وار۔ ایسے میں ہر ریاست اس درپے ہے کہ اپنا مقام حاصل کر لے۔ سرد جنگ کے خاتمے پر ترکی ایک جدید انفراسٹرکچر کے ساتھ اقتصادی جست لگانے کی تیاری کر چکا تھا۔ اسی لیے جب سوویت یونین بکھرا تو ترکی نے وسطی ایشیا اور کاکیشیا کی ریاستوں کی منڈیوں میں اپنا مقام بنانا شروع کر دیا۔ سرد جنگ کے بعد ترکی کی اقتصادی ترقی کی رفتار میں وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ کی منڈیوں نے اہم کردار ادا کیا۔ افسوس کہ پاکستان اس موقع سے فائدہ نہ اٹھاسکا، حالاں کہ کئی وسطی ایشیائی ریاستیں پاکستان کے مال کے لیے کھلی پڑی تھیں۔ پاکستان نے جو خطے اور علاقائی تنازعات میں الجھنے کی تاریخ رکھتا ہے ،وسطی ایشیا میں بھی اسی انداز میں دیکھا، جیسا کہ افغانستان میں، یعنی Strategic Depht، جس کو میں Strategic Death قرار دے چکا ہوں۔ ریاستوں کے تعلقات قومی مفادات سے جڑے ہوئے ہیں، ان کو جذباتی انداز میں دیکھنا رومانویت قرار دیا جا سکتا ہے۔ بھارت اور چین تاریخی اور تہذیبی تصادم کی تاریخ رکھتے ہیں لیکن دونوں ریاستیں اپنے قومی مفادات کے لیے باہمی تجارت اور مال کی فروخت میں ایک دوسرے سے آگے نکل رہی ہیں، ایسے ہی امریکہ اور چین۔ ہمارے ہاں اکثر کہا جاتا ہے کہ ترکی، پاکستان کا دوست ہے لیکن اگر اس دوستی کے ثمرات پوچھنا چاہیں تو اس سوال کا جواب خاموشی ہوتا ہے۔ جو لوگ آر سی ڈی (RCD) کی مثال دیتے ہیں، انہیں علم ہونا چاہیے ترکی اورپاکستان سرد جنگ میں امریکہ کے اہم اتحادی اور Containment of Communism کی امریکی پالیسی کے تحت اہم ممالک تھے۔ آر سی ڈی دراصل CENTO کے اہم ممالک، ترکی، پاکستان اور ایران کا ایک علاقائی معاہدہ تھا جس کا خواہاں امریکہ تھا، اس لیے آر سی ڈی 1979ء میں ایران میں امریکہ مخالف انقلاب کے بعد اپنی موت آپ مر گئی۔

ترکی میرے سیاسی موضوعات میں سرفہرست ہے۔ پچھلے تیس برسوں میں اگر کسی شخص نے اس حوالے سے میرے ساتھ کوئی اہم نکتہ Share کیا ہے تو وہ پروفیسر ڈاکٹر مجاہد منصوری ہیں کہ پاکستان اور ترکی سینٹو کے بعد بھی یعنی آج تک عسکری روابط کے سفارتی رشتوں میں بڑے متحرک ہیں۔ بس یہی ایک وہ نکتہ ہے جہاں پر دونوں ریاستیں سرکاری سطح پر متحرک نظر آتی ہیں اور یہ پھر کبھی عرض کروں گاکہ ان تعلقات میں امریکہ کا کیا کردار ہے؟ لیکن پروفیسر مجاہد منصوری نے جب دو سال قبل مجھ سے استفسار کیا تو میں نے کہا کہ میری ترکی میں پچھلی تیس سالہ دلچسپی کے حوالے سے آپ پہلے شخص ہیں جو اس حقیقت کا علم رکھتے ہیں۔ دونوں عوام جذباتی دوستی کی بنیادوں پر کھڑے ہیں، امید کی جاتی ہے کہ اس کو دوطرفہ بنیادوں پر حقیقی دوستی میں بدل کر ثمرات حاصل کیے جائیں۔ میاں نوازشریف کے حالیہ دورے سے امید کی جاتی ہے کہ وہ دونوں ممالک میں تجارت، تعلیم، ثقافت اور دیگر عوامی شعبوں میں برابری کی بنیاد پر تعلقات کا آغاز کریں۔

یاد رہے کہ ترکی ایک اُبھرتی ہوئی معیشت ہے، وہ اپنی منڈیوں کی تلاش میں وسطی ایشیا سے نکل کر اب افریقہ، مشرقی یورپ، روس اور بھارت تک داخل ہو چکاہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل اورچمڑے کی متعدد مصنوعات ابھی تک ترکی میں ممنوع ہیں۔ مجھے امید ہے کہ وزیراعظم نوازشریف دونوں قوموں کی جذباتی دوستی کوResult Oriented Friendship میں بدل دیں گے۔ عملی زندگی میں سب رشتے مساوی مفادات سے جڑے ہوتے ہیں۔ ترکی، پاکستان کے متعدد شعبوں میں مدد کر سکتا ہے تو پاکستان بھی ترکی کی متعدد شعبوں میں مدد کر سکتا ہے۔ یقیناً عالمی اور علاقائی سیاست میں افغانستان اور شام اہم موضوعات ہیں جو اس دورے میں زیر بحث آئیں گے لیکن پاکستان کو تنازعات میں پارٹنر شپ یا کردار ادا کرنے سے زیادہ اب معاشی، اقتصادی اور سماجی ترقی پر زور دینا چاہیے۔ ہمیں ترکوں سے یہ بھی سیکھنا ہے کہ وہ کس طرح اپنے قومی مفادات کو جذباتیت اور تنازعات سے نکال کر اپنی معاشی، اقتصادی اور سماجی ترقی سے جوڑ چکے ہیں۔ میری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نوازشریف اس حوالے سے حالیہ دورے میں اہم نکات پر گفتگو کریں گے کہ پاکستان اور ترکی برابری کی بنیاد پر ایک دوسرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں