امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والا معاہدہ

ڈاکٹر رسول بخش رئیس
ڈاکٹر رسول بخش رئیس
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے اور انہیں تلف کرنے کے حوالے سے روس اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا معاہدہ اس لحاظ سے قابلِ ذکر ہے کہ اس نے شام پر امریکی حملے کا منڈلاتاہوا خطرہ ٹال دیا ہے۔ غیر متوقع طور پر سفارت کاری نے ایک ایسے تصفیے کی راہ ہموار کر دی ہے جسے طرفین نے اطمینان بخش قرار دیا ہے۔ اس ضمن میں تین سوالات نے سرا ٹھایا ہے… ماسکو اور واشنگٹن کو دراصل کس چیز نے قریب کیا ہے؟ کیا اس معاہدے کا مطلب یہ ہے کہ اب امریکہ شام میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش نہیں کرے گا؟ کیا دیگر ریاستوں کے لیے یہ طرزِ عمل ایک مثال بن جائے گا؟

اس سے پہلے کہ ہم ان سوالات کے جواب تلاش کریں، پہلے میں اس معاہدے اور روس کو بطور ایک سپر پاور زیرِ بحث لانا چاہتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس معاہدے میں وہ تمام شرائط موجود ہیں جو ہتھیار ڈالنے، حکم ماننے اور ان میں ناکامی کی صورت میں سخت ایکشن کی یقین دھانی کراتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی طرف سے آرٹیکل 7 کے تحت پابندیوں کی دھمکی کے ہوتے ہوئے مسٹر اسد کے سامنے کیمیائی ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ روس اب ویسی مہیب عالمی طاقت نہیں رہا ہے جیسی وہ سوویت دور میں تھا۔ اس کے شام اور ایران، جو اسد کا ایک اور حامی ہے، کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، لیکن روس کسی بھی حوالے سے مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں امریکہ کے جارحانہ عزائم کو چیلنج نہیں کرسکتا، لیکن اس کے پاس ابھی بھی اتنی سکت ضرور موجود ہے کہ فوجی مداخلت کی صورت میں فوجی مداخلت کرتے ہوئے امریکیوں کوبہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دے۔

امریکہ اور روس سرد جنگ کے بعد کی دنیا میں بہت سے معاملات میں اشتراک رکھتے ہیں۔ مشرقِ و سطیٰ اور سنٹرل ایشیا میں دونوں کے سامنے اسلامی انتہا پسندوں کا خطرہ موجود ہے۔ یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ یہ اسلامی انتہا پسندوں کا خطرہ تھا جس نے ان دونوں کو شام کے معاملے پر مفاہمت پر مجبور کیا کیونکہ اسد کو ہٹائے جانے کی صورت میں خدشہ تھا کہ بنیاد پرست اقتدار پر قبضہ کر لیں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ شام کی موجودہ حکومت نسبتاً سیکولر سمجھی جاسکتی ہے، چناچہ بنیاد پرست موجودہ شورش کی آڑ میں اس کا اقتدار ختم کرنا چاہتے تھے۔ دراصل اسلامی بنیاد پرستی اور اس سے جنم لینے والا معاشرتی انتشار شام اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

روس اور امریکہ کے درمیان ہونے والا معاہدہ ان کے درمیان گفت و شنید کی راہ ہموار کرتے ہوئے اُنہیں شام میں حکومت کی تبدیلی پر اپنے اپنے معروضات کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یاد رہے کہ اگلے سال بشار الاسد کی مدت ختم ہو رہی ہے۔ شام کی حکومت اور اپوزیشن کے ذہن میں بھی یہی تاریخ ہے۔ دوست ممالک کی طرف سے ان دونوں کے درمیان تصفیے کی کوششیں رائیگاں گئی ہیں لیکن خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں نسل کشی ہو سکتی ہے اور انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے ۔ اگر شام میں ایسا ہوتا ہے کہ تو اس سے ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہوں گے۔ اگر، جیسا کہ خدشہ ہے، خانہ جنگی میں فرقہ واریت کا پہلو نمایاں ہو گیا تو یہ اس خطے کے لیے بہت بڑی تباہی لائے گا۔

دراصل اس معاہدے نے صدر اوباما کو عزت بچانے کا ایک موقع فراہم کر دیا ہے۔ وہ اسد کو ہٹانے لیے شام پر حملے کا حکم دینے ہی والے تھے لیکن اُس کے لیے اُنہیں اپنی جماعت کی طرف سے حمایت نہ ملی۔ نہ صرف امریکی عوام نے اس منصوبے کو رد کر دیا بلکہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی بھی اس پیچھے ہٹ گئے حالانکہ یہ ممالک ایسی کاروائیوں میں اس کے قریبی اتحادی ثابت ہوئے ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب امریکہ اسد کی مخالف قوتوں کو تقویت دے کر شام کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔ اب اس کے ایجنڈے میں یہ ہو گا کہ شام کی لبریشن آرمی کو مسلح کیا جائے اور معتدل مزاج قوتوں کی حمایت کرتے ہوئے اسد کو ہٹایا جائے۔ اب اس کے پاس ایسی پسِ پردہ ہونے والی پالیسی ہی بچی ہے کیونکہ براہ راست فوجی مداخلت کا امکان دم توڑ چکا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بات بھی عالمی سوچ کو الجھاؤ میں ڈالتی ہے کہ براہِ راست فوجی مداخلت کرنے سے عراق، افغانستان اور لیبیا میں قیامِ امن کا خواب شرمندہِ تعبیر نہ ہو سکا۔ اس سے پہلے عراق اور لیبیا میں یو این وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو اپنے کنٹرول میں لے چکی ہے، چنانچہ شام میں ایسا کیا جانا کوئی نئی بات نہیں ہو گی۔


بشکریہ روزنامہ 'دنیا'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں