ایم کیو ایم: میڈیا رپورٹ اور چند سوالات؟

عظیم ایم میاں
عظیم ایم میاں
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

اگلے ہفتے وزیر اعظم نواز شریف اپنے خاصے مختصر وفد کے ساتھ نیویارک میں ایک ہفتے کے لئے قیام پذیر ہوں گے ان کے دورہ اقوام متحدہ کی مصروفیات اور ملاقاتوں کے خدوخال بھی بہتر نظر آنے لگے ہیں۔ وہ 24ستمبر کو امریکی صدر اوباما کا اقوام متحدہ سے خطاب بھی سننے اقوام متحدہ جائیں گے۔

البتہ نواز،اوباما ملاقات کے امکانات صرف اتنے ہیں کہ کہیں اقوام متحدہ یا امریکی صدر کے استقبالیہ میں رسمی علیک سلیک اور چند جملوں پر مشتمل کلمات تک محدود ملاقات ہو کیونکہ امریکی صدر اگلے ماہ اکتوبر میں وزیر اعظم نواز شریف سے باقاعدہ تفصیلی ملاقات، ”اسٹرکچرڈ“ یعنی منظم طے شدہ ایجنڈا کے تحت مذاکرات واشنگٹن میں چاہتے ہیں لہٰذا وزیر اعظم نواز شریف جلد ہی واشنگٹن میں پہلے پاکستانی سفیر کا تقرر کریں گے اور پھر اکتوبر میں پوری تیاری کے ساتھ واشنگٹن آکر صدر اوباما سے ملاقات اور مذاکرات کریں گے۔ میرے خیال میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کی امریکی اور پاکستانی مصروفیات کے ہجوم میں نواز،اوباما ملاقات سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ ملاقات پیچیدہ اور متنازع امور سمیت طے شدہ ایجنڈا اور خالص مذاکراتی ماحول میں دونوں کی ملاقات اور دونوں ملکوں کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان مذاکرات ہوں۔ اکتوبر میں وزیراعظم نواز شریف کا دورہ امریکہ سرکاری بھی ہوگا اور مذاکرات تفصیلی بھی ہوں گے جوکہ ایک مثبت خبر ہے البتہ نتائج ملاقات و مذاکرات کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے وزیر اعظم نواز شریف کی ملاقات کے بارے میں شنید ہے کہ یہ ملاقات 29ستمبر کی صبح کو ہوگی اس وقت تک دونوں وزرائے اعظم اقوام متحدہ میں تقاریر اور سائڈ لائن پر ملاقاتوں سے تقریباً فارغ ہوچکے ہوں گے۔ من موہن سنگھ واشنگٹن کے ایک روزہ دورے اور امریکیوں سے افغانستان، پاکستان اور خطے کے امور پر تازہ صورتحال کی اپ ڈیٹ اور بھارت، امریکہ اسٹرٹیجی کے بارے میں گفتگو کرکے نیویارک واپس آچکے ہوں گے۔

اگر پاکستانی وزیر اعظم نے اپنی27ستمبر کی تقریر میں کشمیر یا کسی اور مسئلے کا ذکر ایسے الفاظ میں کیا جو بھارت کے لئے قابل اعتراض ہوئے تو بھارتی وزیر اعظم 28ستمبر کو اقوام متحدہ سے اپنے خطاب میں اس کا جواب دینے اور پاکستان میں جوابی الزامات کا کام بھی کرچکے ہوں گے؟ بھارتی حکومت نیویارک میں مجوزہ نواز،من موہن ملاقات کے بارے میں بڑی محتاط ہے وہ بھارت کے آئندہ انتخابات کے حوالے سے دباؤ کا شکار ہے اور اپوزیشن کو اس ملاقات کو ایشو بنانے کا موقع نہیں دینا چاہتی لہٰذا وہ اس ملاقات کے لئے بھی پاکستان سے ایسی باتیں منوانا چاہتی ہے کہ بھارتی عوام کو بتاسکے کہ ہم نے پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات اپنی شرائط پر کی ہے حالانکہ اس ملاقات کے لئے بھی امریکی حمایت حاصل ہے۔

نیویارک کی اس نواز،من موہن ملاقات سے کسی بڑی پیشرفت کا قطعاً کوئی امکان نہیں اور مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے بھی اس حقیقت کی تصدیق کی ہے لیکن ڈائیلاگ تو حالت جنگ میں بھی مفید اور ضروری ہوتا ہے۔ 14سال قبل لاہور میں بھارتی وزیراعظم واجپائی کی موجودگی کے بعد کارگل کا واقعے نے اگر حالات کا رخ موڑنے اور نواز حکومت کا تختہ الٹنے کی سمت سفر نہ کیا ہوتا تو اب خطے کی صورتحال شاید بڑی مختلف اور مثبت سمت میں ہوتی۔ بہرحال اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر نواز،من موہن ملاقات آغاز ڈائیلاگ کے لئے ابتدائی پیشرفت اور بھارت کے انتخابی ماحول میں ایک گہنائی ہوئی ملاقات ہوگی جبکہ نواز،اوباما ہینڈ شیک اور اکتوبر میں دورہ واشنگٹن اور بامقصد نواز،اوباما ملاقات و مذاکرات کے پروگرام کے ساتھ نوازشریف کا دورہ نیویارک ختم ہوگا جس میں نوازشریف پاکستانی کمیونٹی سے بھی خطاب کرنے کا پروگرام رکھتے ہیں۔

پاک،امریکہ تعلقات کے تناظر کے موجودہ ماحول میں دوسرا اہم معاملہ 12ستمبر کی اشاعت میں ”نیویارک ٹائمز“ کے صحافی کی وہ تفصیلی رپورٹ ہے جو ایم کیو ایم کے بارے میں مختلف سنگین الزامات اور برطانوی اداروں کی عمران فاروق کی موت، منی لانڈرنگ اور دیگر معاملات کی تحقیقات کے تناظر میں ہے۔ یہ رپورٹ برطانوی میڈیا کی ایسی ہی متعدد رپورٹس کے بعد پہلی مرتبہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے موقر اخبار نیویارک ٹائمز نے شائع کی ہے اور اسی وجہ سے برٹش میڈیا رپورٹس کے بعد بھی امریکہ میں اس کی اشاعت اور امریکی حکومت کی بلاتبصرہ خاموشی اس اخباری رپورٹ کو مزید اہمیت دیتی ہے۔ گوکہ ایم کیو ایم کے پاکستانی مخالفین بھی ان برطانوی اور امریکی رپورٹوں کی اشاعت سے قبل بھی مختلف الزامات ایم کیو ایم پر عائد کرتے آئے ہیں لیکن اب ایم کیو ایم نے ”نیویارک ٹائمز“ اور اس کے صحافی کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ البتہ یہ واضح ہونا باقی ہے کہ ”نیویارک ٹائمز“ کے خلاف یہ قانونی کارروائی اخبار کے مقام اشاعت نیویارک کی عدالت میں ہوگی یا قائد تحریک کی رہائش اور شہریت والے برطانیہ میں یا پھر ایم کیو ایم کے نائن زیرو اور کارکنوں کی سرگرمیوں کے مرکز پاکستان میں کی جائے گی؟ برطانوی اداروں کی تحقیقات اور میڈیا رپورٹس سے قطع نظر ”نیویارک ٹائمز“ کی رپورٹ کی اشاعت اور مندرجات کے حوالے سے امریکہ کے جمہوری معاشرے میں امریکی حکومت اور پالیسیوں پر تنقید و تجزیہ کے حق کے تحت متعدد سوال اٹھائے جاسکتے ہیں اور یہ سوالات جائز اور جواب طلب بھی ہیں۔

(1) امریکی حکومت نے نہ صرف ماضی کے 30سالوں میں ایم کیو ایم کے ورکروں، رہنماؤں اور رکنیت کا دعویٰ کرنے والے افراد کو ویزوں سے خوب نوازا بلکہ پاکستان میں استحصال، جان کو خطرہ اور دیگر بنیادوں پر امریکہ میں ”سیاسی پناہ“ دی اور پھر امریکی شہریت بھی دے رکھی ہے، پڑوسی ملک کینیڈا میں بھی قدرے مزید نرمی اور رعایت کے ساتھ ایم کیو ایم کے کارکنوں کے ساتھ یہی صورتحال رہی ہے۔ گویا ماضی میں جس تنظیم کو امریکی حکومت اور میڈیا نے مظلوم اور ناانصافیوں کا شکار قرار دے کر مراعات اور امیگریشن کا مستحق قرار دیا، اب اسی قائد کی سربراہی میں چلنے والی ایم کیو ایم کے بارے میں امریکی میڈیا نے موقف کیوں تبدیل کرلیا ہے؟ امریکہ و کینیڈا کے تمام اہم شہروں میں ایم کیو ایم کی شاخیں کام کر رہی ہیں ان کے اجلاس بھی ہوتے ہیں اور قراردادیں بھی منظور کی جاتی ہیں وہ پرامن طور پر کام بھی کررہی ہیں اور ان کے رکن اور حامی پاکستانی کمیونٹی کا باعزت حصہ بھی ہیں۔

اگر وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ اور حقائق سامنے آنے پر موقف میں تبدیلی کا جواز پیش کیا جائے تو پھر ”نیویارک ٹائمز“ کی رپورٹ کا وہ حصہ ایک اور منطقی سوال کو جنم دیتا ہے کہ وکی لیکس کی انکشاف کردہ امریکی سفارتخانہ اسلام آباد سے بھیجی گئی 2008ء کی اس خفیہ کیبل کا نوٹس کیوں نہیں لیا گیا اور نہ ہی یہ معلومات امریکہ کے اتحادی پاکستان سے شیئر کی گئی جس میں واشنگٹن کو آگاہ کیا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کے پاس 10ہزار مسلح افراد اور 25ہزار ”ریزرو“ افراد موجود ہیں جو کراچی پولیس سے کہیں زیادہ بڑی تعداد میں ہیں۔

”گینگز آف کراچی“ کے عنوان سے بھیجی گئی یہ خفیہ امریکن ڈپلومیٹک کیبل کی معلومات نہ تو دہشت گردی کے خلاف امریکہ کے اتحادی پاکستان سے شیئر کی گئیں اور نہ ہی پاکستان میں موجود ان مسلح افراد کو دہشت گردی کی جنگ میں کوئی خطرہ سمجھا گیا بلکہ خاموشی اختیار کی گئی اس کی وجوہات؟ صرف عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات اور 6/لاکھ ڈالر کی نقد برآمدگی ایم کیو ایم کے خلاف برٹش اور امریکی میڈیا میں طوفان اٹھانے کیلئے کوئی موثر دلیل یوں نہیں کہ پھر اسی منطق اور دلیل کے تحت اسکاٹ لینڈ یارڈ اور امریکی ایف بی آئی کو ان پاکستانیوں اور ان کے برطانوی یا امریکی گھروں اور جائیدادوں کی بھی تحقیقات کرنا چاہئے جنہوں نے برطانیہ و امریکہ میں اپنے اثاثے جمع کر رکھے ہیں اور ذرائع دولت و آمدنی بھی ظاہر نہیں کئے۔

عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات برطانوی قانون اور انصاف کی جائز ضرورت اور تقاضا ہے اس کی زد میں آنے والے ہر شہری سے پوچھ گچھ بالکل درست لیکن تحقیقات کی تکمیل اور نتائج سے قبل ہی منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات کا پیکیج میڈیا رپورٹس کی شکل میں شائع کرنا ”اصل وجوہات“ جاننے کے لئے دعوت فکر و تشویش دیتا ہے۔ کیا مغربی ممالک کی الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے بارے میں پالیسی میں تبدیلی آ گئی ہے؟ کیا اسکاٹ لینڈ یارڈ اور ایف بی آئی دیگر پاکستانی سیاستدانوں کے بارے میں بھی منی لانڈرنگ اور دیگر امور کی تحقیقات کا پروگرام رکھتے ہیں؟ کیا ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو قیادت سے ہٹانے کا پروگرام بن گیا ہے؟ کیا ایم کیو ایم سے کوئی بڑا اور اہم کام لینے کا منصوبہ ہے؟ کیا ماضی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں اور حامیوں کو امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں مراعات اور امیگریشن کی پالیسی غلط تھی؟ انصاف اور منطق کے تقاضے ایسے بہت سے سوالات کا جواب مانگتے ہیں ایم کیو ایم اور الطاف حسین پر الزامات ثابت ہونے سے قبل ایسی میڈیا رپورٹوں کی اشاعت انصاف پر اثرانداز ہو گی جو مناسب نہیں۔


بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں