پاک ترک تعلقات اپنی بلندیوں پر

ڈاکٹر فرقان حمید
ڈاکٹر فرقان حمید
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

ترکی اور پاکستان کے درمیان گہرے، لازوال اور بے مثال تعلقات دونوں ممالک کے عوام کیلئے ایک ایسا اثاثہ ہیں جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے ۔ موجودہ دور میں اس قسم کے تعلقات کی دنیا میں کہیں بھی نظیر نہیں ملتی۔ یہ دونوں ممالک یک جان دو قالب ہیں۔ دنیا میں ترکی واحد ملک ہے جہاں پاکستان اور پاکستانی باشندوں کو اتنی عزت اور احترام حاصل ہے کہ پاکستانی یہاں پر اپنے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

ہم نے پاکستان سے ترکوں کی گہری، والہانہ محبت کا اظہار اس وقت بھی دیکھا تھا جب 2005ء میں پاکستان میں شدید زلزلہ آیا تھا اور ترک باشندوں نے اپنا سب کچھ زلزلہ متاثرین کیلئے وقف کردیا تھا اور خود انہوں نے پاکستان پہنچ کر اپنے پاکستانی بھائیوں کے زخموں پر مرہم رکھا تھا اور وزیراعظم ایردوان کی اہلیہ امینے خانم نے اپنا قیمتی ہار فنڈریزنگ مہم میں فروخت کر کے اس رقم کو خود زلزلہ متاثرین تک پہنچایا تھا۔ ایک ماہ بعد وزیراعظم ایردوان نے خود پاکستان اور کشمیر کا دورہ کرکے زلزلہ متاثرین کو خود امداد بہم پہنچاکر ان کے دکھوں کا مداوا کیا۔ ترک ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے اور امدادی تنظیموں نے اپنے آرام و سکون کی پروا کئے بغیر زلزلے سے متاثرہ افراد کی دیکھ بھال اور مدد کی۔ بچوں اور بچیوں نے ایک ایک پیسہ جمع کرکے پاکستانی بھائیوں کیلئے خطیر رقم کو جمع کی۔ ایسے ترک باشندے جن کے پاس کچھ دینے کو نہ تھا انہوں نے اپنے خون ہی کو پاکستانی بھائیوں کو دینے کی کوشش کی۔ ان سب باتوں کو بھلا پاکستانی کیسے فراموش کر سکتے ہیں؟

ترکی اور ترک باشندوں کو بھی اس بات کا پوری طرح احساس ہے کہ پاکستان اور پاکستانی ان کے سچے اور کھرے دوست ہیں۔ ترک باشندے آج بھی اس بات کو کبھی بھی فراموش نہیں کرتے ہیں کہ ان کے مشکل وقت میں جب پوری دنیا ان پر حملہ آور تھی اور سلطنت عثمانیہ کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی تھی تواس وقت ہندوستان کے مسلمانوں (آزادی پاکستان سے قبل کے ہندوستان) ہی نے ترکی کی جنگ نجات کے موقع پر ان کی مدد کی تھی اور جس طریقے سے ہندوستان کی مسلمان خواتین نے اپنے زیورات فروخت کرتے ہوئے ترکوں کی مدد کی تھی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ اس بے لوث دوست کا نتیجہ ہے مسئلہ کشمیر اور مسئلہ قبرص کے بارے میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے موقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

مسئلہ کشمیر کے حل میں مددگار ہونے اور بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے کے لحاظ سے شاید ہی کسی دیگر ملک نے پاکستان کی اس قدر کھل کر حمایت کی ہو جس قدر ترکی نے کی ہے۔ ترکی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے لے کر دنیا کے مختلف بین الاقوامی اداروں میں تنظیم اسلامی کانفرنس کے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہونے کے ناتے جو کردار ادا کیا اور بھارت کی ناراضی کی ذرّہ بھر بھی پروا نہ کرتے ہوئے پاکستان کے موقف کی جس طریقے سے ترجمانی کی ہے شاید ہی کسی دیگر ملک نے کی ہو۔ اس طرح قبرصی ترک جو 1974ء کی قبرص جنگ میں تنہا رہ گئے تھے صرف پاکستان ہی نے اپنے ترک بھائیوں کی جانب مدد کا ہاتھ بڑھایا تھا۔ پاکستان نے قبرص کی جنگ کے موقع پر اپنے جنگی طیاروں کو ترکی کی نگرانی میں دینے کے بارے میں جو کھلا چیک دیا تھا اور بعد میں پاکستان نے شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کا بیورو (سفارت خانے کی سطح کا دفتر) کھولتے ہوئے اپنی دوستی کی مہر ثبت کر دی تھی۔

ترکی اسّی کی دہائی سے دہشت گردی کا شکار ملک رہا ہے اور مغربی ممالک اس دہشت گردی کی کسی نہ کسی شکل میں پشت پناہی بھی کرتے رہے ہیں۔ انہی مغربی ممالک کی مالی اعانت کی وجہ سے دہشت گرد تنظیم PKK نے پورے ترکی میں دہشت گردی کا سلسلہ کئی دہائیوں تک جاری رکھا جس کے نتیجے میں چالیس ہزار کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے۔ ترک مسلح افواج کو علاقے میں امن و امان کے قیام کیلئے جس اسلحے اور فوجی سازو سامان کی ضرورت تھی مغربی ممالک نے اسے ترکی کو فراہم کرنے سے انکار کردیا اور سونے پر سہاگہ پہلے سے ترکی میں موجود مغربی ممالک کے اسلحے کو باغی کردوں کے خلاف استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد کردی جس طرح پاک فوج نے آگے بڑھ کر ترک مسلح افواج کا ساتھ دیا اور فوجی سازو سامان ترکی پہنچایا اس پر ترک فوج ہمیشہ پاک فوج کی مشکور رہی ہے۔

ترکی کی برسراقتدار جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) کے دور میں ترکی اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آق پارٹی نے پیپلزپارٹی کے دور میں بھی ان تعلقات کو مزید آگے لے جانے کی کوشش کی لیکن یہ تعلقات صرف کاغذات تک ہی محدود رہے اور گل ٹرین چلنے کے علاوہ کچھ اور نہ چل سکا اور گل ٹرین بھی کچھ عرصہ چلنے کے بعد پاکستان ریلوے کی دیگر ٹرینوں کی طرح تاخیری حربے کا شکار بنتی رہی اوراس کے بارے میں کوئی زیادہ امید باقی نہیں رہی ہے۔ پاکستان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے برسر اقتدارآنے کے بعد ان تعلقات میں نہ صرف اضافہ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے بلکہ یہ تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ اس وقت ترکی کے وزیراعظم رجب طیّب ایردوان اور پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے خیالات اور سوچ میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔ ترکی کے وزیراعظم ایردوان نے جس طریقے سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے اور ملک میں نج کاری کو فروغ دیتے ہوئے اسے اقتصادی لحاظ سے مضبوط بنیادوں پر استوار کیا ہے اسی قسم کی سوچ میاں محمد نواز شریف بھی رکھتے ہیں بلکہ دیکھا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ میاں نواز شریف نے ترکی سے پہلے ملک میں نج کاری کو فروغ دیا تھا اور انہوں نے اپنا کام پایہ تکمیل تک بھی نہ پہنچایا تھا کہ ان کو آمرکے ہاتھوں اقتدار سے محروم ہونا پڑا اور پھر ملک کبھی بھی اس طرح ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہوسکا جس طرح میاں صاحب نے اس کا آغاز کیا تھا لیکن میاں صاحب کی سوچ عالمی سوچ کا روپ اختیار کرگئی اور کئی ایک رہنماؤں نے اپنے اپنے ملک میں میاں صاحب کی طرز کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے اپنے اپنے ملکوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ اس سلسلے میں ہندوستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ترکی بھی انہی ممالک میں سے ایک ہے جہاں اس وقت کے وزیراعظم ترگت اوزال نے نواز شریف سے متاثر ہو کر ملک میں نجکاری کے نظام کو متعارف کرایا تھا۔

ترگت اوزال کے بعد وزیراعظم ایردوان نے اس پالیسی کو جاری رکھا اور اب ملک کو اقتصادی لحاظ سے دنیا کے پہلے سولہ ممالک کی صف میں شامل کردیا ہے۔ ترکی نے اپنی اقتصادی ترقی کی بدولت جی 20 ممالک کے دروازے بھی اپنے لئے کھول لئے ہیں اور یہ ملک نہ صرف اسلامی ممالک میں بلکہ اقوام متحدہ میں بھی اپنی بات منوانے والے ملک کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کے تین روزہ دورہ ترکی کے دوران پاکستان اور ترکی کے تعلقات جو بہت گہرے اور قریبی ہیں اب ان تعلقات کو صرف کتابوں اور کاغذات تک ہی محدود کرنے کے بجائے ان کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آن پہنچا ہے۔ اس وقت پاکستان اور ترکی دونوں ممالک میں ایسی حکومتیں موجود ہیں جو صدق دل سے اپنے اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ اب ان دونوں حکومتوں کا یہ فرض ہے کہ تاریخی تعلقات کو مستقبل کی جانب لے جانے اور انہیں مزید مضبوط بنانے کیلئے تعاون کے نئے سمجھوتوں پر دستخط کئے جائیں اور پھر ان سمجھوتوں پر عملدرآمد کرنے کے نظام کو بھی وضع کیا جائے تاکہ یہ سمجھوتے پہلے کی طرح صرف فائلوں ہی میں نہ پڑے رہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام ان سے مستفید ہو سکیں۔

آخر میں پاکستان کے اردو زبان کے صحافیوں سے درخواست ہے کہ وہ ترکی کی اعلیٰ سرکاری اورسیاسی شخصیات کا نام تحریر کرتے وقت انگریزی زبان کا سہارا لینے کے بجائے ترکی ریڈیو اور ٹیلیویژن کی سرکاری ویب سائٹ www.trturdu.com سے استفادہ کرسکتے ہیں تاکہ ان تمام شخصیات کے نام اردو میں صحیح اور درست طریقے سے تحریر کئے جاسکیں اور انہیں پڑھتے ہوئے تلفظ کی غلطی کا احتمال موجود نہ رہے۔ (کیونکہ ترکی زبان کے الفاظ کو انگریزی سے مستعار لینے کی صورت میں اکثر غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں اور غلط نام لکھے اور پڑھے جاتے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں