.

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی…

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی تاریخ میں نسل انسانی پر پہلا ایٹم بم گرانے کا حکم یا اجازت دینے والے امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ نے کہا تھا کہ ’’امریکا کو صرف خوف سے ڈرناچاہئے‘‘ ان کے الفاظ تھے: "The only thing we have to fear is fear itslef" . موجودہ امریکی صدر اگر چاہیں تو اس قول میں یہ ترمیم کرسکتے ہیں کہ ’’امریکا کو صرف اپنے آپ سے ڈرنا چاہئے‘‘. بتایا جاتا ہے کہ دنیا کی اکلوتی سپرپاور اور سرمایہ داری نظام کے قبلہ واشنگٹن کے نیوی ایریا میں گولیوں کی زدمیں آ کر مارے جانے الے بارہ امریکی لوگوں کو ان تیس ہزار سے زیادہ امریکی باشندوں میں شمار کیا جا سکتا ہے جو ہر سال گولیوں کی زد میں آ کر مارے جاتے ہیں اور یہ گولیاں کسی میدان جنگ میں نہیں پرامن سول آبادیوں میں چل رہی ہوتی ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق امریکا انسانی تاریخ کے سب سے بڑے ڈیفنس بجٹ والا ملک ہونے کے علاوہ دنیا کے سب سے زیادہ مسلح عوام کا ملک بھی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکا کے قانون نافذ کرنے، امن وامان کی نگرانی کرنے والے اداروں اور امریکی فوجی چالیس لاکھ کی تعداد میں ہتھیار استعمال کرسکتے ہیں تو امریکا کی سول آبادی کے پاس 31 کروڑ سے زیادہ آتشیں اسلحہ ہے جس میں عراق اور افغانستان میں استعمال کئے جانے والے ہتھیاروں کی طاقت اور تباہی والے ہتھیار بھی شامل ہیں۔ گویا امریکا بہادر اگر عالمی سطح پر سب سے زیادہ اموات، تباہیاں اور بربادیاں برسانے کی طاقت رکھنے والا ملک ہے تو اس سے کہیں زیادہ خود اپنے شہریوں اور لوگوں کو خودکشی کے لئے مناسب اور موزوں بلکہ ’’سٹیٹ آف دی کورٹ‘‘ قسم کی سہولتیں فراہم کرنے والاملک بھی ہے۔

اوپر بتایا گیا ہے کہ امریکی حکمران، امریکی آئین اور وہاں کی سیاسی پارٹیوں کے ’’تعاون‘‘ سے امریکا کے تیس ہزار سے زیادہ باشندے ہر سال آتشیں اسلحہ کی زد میں آ کر مارے جاتے ہیں۔ یہاں ’’تعاون‘‘سے مرادوہ مدد ہے جو چھت کے پنکھے کے ساتھ بندھی ہوئی رسی، خودکشی کے ارادے سے گلے میں یہ رسی باندھ کر سٹول پر کھڑے شخص کو اس دنیائے فانی سے رخصت ہونے کیلئے فراہم کرتی ہے۔ اس مدد اور تعاون سے سالانہ فائدہ اٹھانے والے امریکیوں کی تعداد عراق اور افغانستان کی جنگوں میں مارے جانے والے امریکی بدنصیبوں سے کہیں زیادہ ہے۔

دنیا کے غریب ملکوں میں افراط زر کی زد میں آ کر مرنے والے لوگوں کی تعداد اتنی نہیں ہوگی جتنے لوگ امریکا میں افراط ِ اسلحہ کی زدمیں آ کر مارے جاتے ہیں۔ یہ حقیقت ابھی تحقیق طلب ہے کہ دنیا میں بھوک سے مرنے والوں کی تعدادزیادہ ہے ۔ ضرورت سے زیادہ بسیار خوری سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے مگر یہ سوچا جاسکتا ہے کہ جیسے جارج بش اور ٹونی بلیر ٔ کا بیٹھے بٹھائے اچانک جی مچلتا ہے کہ چلیں ویت نام جیسی ایک اور ہزیمت حاصل کریں ویسے ہر سال تیس ہزار سے زیادہ امریکی باشندے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ گھر میں آتشیں اسلحہ پڑا ہے تو اسے استعمال بھی کرنا چاہئے چنانچہ خواہش اپنا راستہ خود تلاش کرلیتی ہے اور کشتوں کے پشتے لگ جاتے ہیں۔

افراط اسلحہ کی دوڑ میں شامل پچاس فیصد پرائیویٹ اسلحہ ڈیلرز بھی ہیں۔ اس دوڑ کے تحت سال 2012 کے آخری مہینے میں چھ سال کی عمر کے بیس بچے اور چھے جوان اجتماعی شوٹنگ کی زد میں آ کر مارے گئے مگر کسی کو بندوقوں پر قابو پانے کاخیال نہ آیا جیسا کہ ماضی میں برطانیہ اور آسٹریلیا کوخیال آیا تھا کیونکہ امریکا کا ’’اسلحہ مافیا‘‘ اس کنٹرول کی اجازت نہیں دیتا۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق جواں سال امریکی شہریوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ افرط ِ اسلحہ کا بے دریغ استعمال ہے۔

ابھی پچھلے دنوں ایک دو سال عمر کے بچے کی حادثاتی موت ایک پانچ سالہ بچے کے ہاتھوں سے چل جانے والی ایک گولی سے ہوگئی تھی جو اس کا سگا بھائی تھا۔ اپریل میں اینی سی میں ایک 48 سالہ خاتون ایک چار سالہ بچے کے ہاتھوں سے چل جانے والی گولی سے ماری گئی تھی۔ چند روز بعد ایک اور چھ سالہ بچے کو حادثاتی طور پر ایک چارسالہ بچے نے گولی مار کے ہلاک کر دیا تھا۔ کہا جاسکتا ہے اور کہا بھی جا رہا ہے کہ امریکی باشندوں نے اپنے آپ کو اپنے آپ سے محفوظ رکھنے کے لئے ضرورت سے زیادہ مسلح کر رکھا ہے مگر اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی اس کوشش میں وہ بہت غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.