بشکیک کانفرنس اور پاک بھارت تعلقات

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

تیرہ ستمبر 2013ء کو کرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا اجلاس ہوا۔ روس اور چین اِس کے داعی ہیں اور سینٹرل ایشیا کے کئی ممالک بشمول کرغیزستان، قازقستان اور تاجکستان اِس کے ممبران ہیں جبکہ پاکستان، ایران، افغانستان اور انڈیا اِس میں مبصر کے طور پر شریک ہوتے ہیں، بشکیک کانفرنس میں روس سارا وقت شام کے معاملہ پر زور دیتا رہا اور امریکا کی شام پر چڑھائی کے خلاف اپنے موقف کے لئے حمایت حاصل کرتا رہا، جبکہ چین نے سینٹرل ایشیا کے ممالک سے اپنے روابط بڑھانے اور اِن ممالک سے تجارت کرنے یا فوجی و انرجی کے معاملات میں دلچسپی لی۔

چینی صدر کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے چین کے اخبارات نے ژی جی پنگ کو عالمی شخصیت قرار دیا، کہ انہوں نے بڑی تیزی کے ساتھ عالمی بساط پر اپنے قدم جما لئے ہیں اور عالمی کھلاڑی بن کر ابھرے ہیں۔ چین سینٹرل ایشیا میں قیادت کے خلاء کو پُر کرنے نکلا ہے، روس کیونکہ ساری دُنیا کا بوجھ نہیں سنبھال سکتا اس لئے اس نے چین کو سینٹرل ایشیا میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود امریکا کا تعاقب کرتا رہا اور شنگھائی تعاون تنظیم کو عالمی تنظیم کی شکل دینے میں لگا رہا۔

دوسری طرف اِس کانفرنس نے پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کا موقع فراہم کیا۔ بشکیک کانفرنس میں جانے سے پہلے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز سے مختصر سی ملاقات کا موقع ملا تھا۔ وہاں جاکر انہوں نے انتہائی دانشمندی سے بھارتی وزیرخارجہ سلمان خورشید سے کہا کہ جب دو ملکوں کے حکام یا سربراہان ایک دوسرے سے ملتے ہیں، تو ایک دوسرے پر احسان نہیں کررہے ہوتے ہیں، یہ دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے ملنے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں۔ بشکیک کانفرنس کی سائیڈلائن میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں بہرحال کچھ زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی البتہ ’بے رُخی مخاصمت ‘کو سمت مل گئی اور دونوں رہنماؤں نے اِس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کو 26 نومبر 2008ء کے ممبئی حملہ اور سرحدی جھڑپوں کا اسیر نہیں رہنا چاہئے اور یہ بھی طے ہوا کہ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم ماہِ ستمبر کے آخر میں نیویارک میں ملاقات کریں گے۔

اگرچہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز خود بہت پُرامید نہیں ہیں کہ پاک بھارت مذاکرات میں کوئی خاطرخواہ پیش رفت ہوسکے گی تاہم یہ ضرور ہے کہ تناؤ میں قدرے کمی آئے گی۔ پیش رفت تو پچھلے پانچ سالوں اور اس سے پہلے کے مذاکرات میں بھی نہیں ہوسکی، پاکستانی و بھارتی حکام تھنبو بھوٹان میں، موہالی انڈیا، سیول جنوبی کوریا، شرم الشیخ مصر اور تہران میں مل چکے ہیں مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ آخر میں آصف علی زرداری صاحب بطور صدر پاکستان اپریل 2012ء میں انڈیا کے وزیراعظم منموہن سنگھ سے دہلی میں بھی ملے تھے، مگر انڈیا اکڑا رہا اور اُس کے وزیراعظم نے اعلانات کے باوجود پاکستان کا دورہ نہیں کیا اور ممبئی حملہ کے ذمہ داران کی گرفتاری کی رٹ لگائے رکھی جبکہ اب خود انڈیا کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ انڈیا نے خود کیا تھا۔ اسکے علاوہ اگرچہ شرم الشیخ میں بھارتی وزیر اعظم نے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کو تسلیم کرلیا تھا۔ اب صورتحال قدرے پیچیدہ ہوگئی ہے کہ 2014ء کے پہلے سہ ماہی میں انڈیا کے عام انتخابات ہونے جارہے ہیں، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے نریندر مودی کو وزیراعظم کے لئے اپنا امیدوار نامزد کردیا ہے، جو ایک خونی اور مسلمانوں کا قاتل ہے۔

اِس کی مسلم کشی اور مسلم دشمنی کے ساتھ پاکستان سے دشمنی ڈھکی چھپی نہیں۔ اس بات کے امکانات تو ہیں کہ وہ کامیاب نہ ہو کہ مسلمان اور دلت کانگریس کے ساتھ مل جائیں گے اور اُس کو شکست دے دیں گے مگر ایک بات اہمیت کی حامل ضرور ہے کہ انڈیا کا ہندو شاید مسلمانوں کو دبانے اور ہزار سال ہندوؤں پر حکمرانی کے بدلے کا خواب مودی کی کامیابی میں پورا ہوتے دیکھے اور وہ کانگریس سے صرف نظر کرکے اپنا سارا وزن مودی کے پلڑے میں ڈال دے تو وہ کامیاب ہی ہوجائے۔ اس لئے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات آئندہ چھ ماہ میں ٹھیک ہوتے نظر نہیں آتے۔ کانگریس مودی کو ناکام بنانے اور ہندو ووٹرز کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے پاکستان سے سرحدی چھیڑچھاڑ اور پاکستان سے تعلقات نارمل نہ کرنے کی پالیسی پر گامزن رہے گی۔ ورنہ مودی کانگریس پر پاکستان کی حمایت کا الزام لگا کر ووٹ اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرے گا۔ اس طرح مستقبل قریب میں پاک انڈیا تعلقات بہتر ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آتی اور سرتاج عزیز نے اِس کی نشاندہی بھی کردی ہے اور سلمان خورشید کا وزیر خارجہ ہونا بھی اس راہ میں رکاوٹ رہے گا کیونکہ وہ نام کے مسلمان بھی ہوں تب بھی مسلمان ہی کہلائے جائیں گے اس لئے وہ اپنے دور میں پاکستان کے خلاف سخت موقف رکھیں گے، مگر یہ کہا جاتا ہے کہ کانگریس کے دور میں نہیں مگر بی جے پی کے دور میں تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں کہ وہ نری ہندو جماعت ہے اور کانگریس اصل مسلم اور پاکستان دشمن جماعت۔ یہی وجہ ہے کہ واجپائی صاحب اپنے دورِحکومت میں پاکستان کے دورے پر آئے اور پاکستان سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہوئے تاہم اِس کی وجہ ان کا ہندو ہونا نہیں بلکہ وہ ایک عقل مند آدمی تھے۔

عراق پر حملہ کے بعد وہ سمجھ گئے تھے کہ برصغیر امریکا کی انسان دشمنی اور انسان کشی کی لپیٹ میں آنے والا ہے، اس لئے وہپاکستان سے اچھے تعلقات کے خواہاں تھے، مگر پھر جنرل (ر) پرویز مشرف نے میاں محمد نوازشریف کی حکومت کو گرانے کے لئے کارگل کا واقعہ کردیا جس میں پاکستان کو ہزیمت اٹھانا پڑی تھی اور پاکستان کا ایٹمی ڈراوا بھی سوالیہ نشان پر کھڑا تھا۔ اس پر واجپائی اور برصغیر کے امن کی خواہاں برادری کو دھچکا پہنچا تھا۔ اس وجہ سے اور نریندرمودی کے سخت موقف کی وجہ سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں چھ ماہ میں کمی نہیں آسکے گی اور اس کے بعد بھی بھارت اپنی بالادستی کی پالیسی پر کاربند رہا تو بھی تعلقات کیونکر نارمل ہوسکتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں