.

یورپ میں مسلمان خواتین کے لباس کا مسئلہ

عرفان حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب میری والدہ مرحومہ کی ملازمہ صائمہ نے اپنی ملازمت کا آغاز کیا تو وہ پورا برقعہ پہنتی تھی، لیکن کچھ دیر بعد اُس نے دیکھا کہ نہ تو میری والدہ اور نہ ہی قریبی عزیز خواتین ایساکرتی ہیں تو اُس نے بھی اطمینان محسوس کرتے ہوئے گھر کے اندر خود کو برقعے سے آزاد کرالیا۔ جب مجھے اس کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات حاصل ہوئیں تو میں از راہِ مذاق اس سے پوچھتا …’’صائمہ، اب تم اس گھر میں برقعہ کیوں نہیں پہنتیں ؟ جب تم باہر سے برقعہ پہن کر آتی ہو تو یہاں آکر کیوں اتار دیتی ہو جبکہ میرے سٹاف میں آدمی بھی ہیں؟‘‘اس کا جواب قابلِ فہم ہوتا…’’ میں برقعہ کسی مذہبی تصور کے تحت نہیں پہنتی ، لیکن اگر میں گھر سے باہر نکلتے وقت نہ پہنوں تو مرد ہوسناک نظروں سے گھورتے ہیں۔‘‘ اس جواب سے برقعہ پہننے کے حوالے سے اس کے عقیدے سے زیادہ ہمارے معاشرے کی بدتہذیبی کی جھلک ملتی تھی اور پتہ چلتا تھا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی زندگی کتنی دشوار ہے۔

اس کی ایک جھلک ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ سے بھی ملتی ہے کہ پاکستان عزت کے نام پر قتل اور آبروریزی کی وارداتیں عام ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاملات بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہوتے جارہے ہیں کیونکہ خواتین کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو بمشکل ہی سزا ملتی ہے۔ برطانیہ میں پیش آنے والے دو واقعات کی وجہ سے مجھے صائمہ کی بات یاد آگئی… یہ واقعات حجاب سے متعلق ہیں۔ پہلا واقعہ برمنگم کالج کی طرف سے حجاب پہننے پر پابندی اور اس کے ردِ عمل میں ہونے والے احتجاج سے متعلق ہے۔دوسرا واقعہ یہ ہے کہ ایک جج صاحب نے عدالت میں ایک عورت کو اپنا چہرہ چھپانے سے روک دیا، تاہم پھر نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کم از کم جیوری کواپنا چہرہ دیکھنے دے کیونکہ وہ گواہی دے رہی ہے۔

اگرچہ فرانس اور بلجیم میں عوامی مقامات پر مکمل برقعہ پہننے پر پابندی ہے لیکن برطانیہ نے تاحال ایسے اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔ حتیٰ کہ دائیں بازو کے گروہ اس بات کی مخالفت کرتے ہیں کہ حکومت ایسے معاملات میں ملوث ہوجائے جس کا تعلق ذاتی زندگی سے ہو۔ ہوم سیکرٹری ٹیرسیامے(Teresa May)کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں عورتیں اس بات کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں کہ وہ کون سالباس پہنیں۔ اس بیان کے بعد ان کے محکمے کے ایک وزیر کی طرف سے مطالبہ سامنے آیا کہ اس مسلے پر قومی سطح پر بحث کرا لی جائے۔ اس بحث میں لبرل اور خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنے والوں کی طرف سے اسی نکتے پر زور دیا گیا کہ خواتین اپنے لباس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں، لیکن اُنھوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مسلمان خواتین اپنے خاندان کے دباؤ کی وجہ سے خود کو برقعوں میں ملفوف رکھنے کے لیے مجبور ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سی مسلمان لڑکیاں، جو برطانوی معاشرے میں پیدا ہوئیں اور یہیں پروان چڑھیں ، بھی حجاب پہننے یا ڈوپٹہ اوڑھنے کو ترجیح دیتی ہیں، جبکہ ان میں کچھ برقعہ یا نقاب بھی پہنتی ہیں۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ لباس مذہبی پابندی سے زیادہ اپنی شناخت ظاہر کرنے کے لیے پہناجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں خواتین کو سادہ لباس پہننے کی تلقین کی گئی ہے ، لیکن یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ وہ سر سے لے کر پاؤں تک خود کو ڈھانپ کر رکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام اسلامی دنیا میں برقعہ یا نقاب پہننے پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں اور اس کی پابندی بھی ہر جگہ ایک سی نہیں ہوتی ہے۔ یقیناًکھیتوں میں کام کرنے والی محنت کش خواتین طویل برقعہ پہن کر کام نہیں کر سکتی ہیں۔

جب فرانس میں اس موضوع پر زور شور سے بحث جاری تھی اور میں نے لکھنے کے لیے اس موضوع کا انتخاب کیا تو میں نے سوچا کہ میں بھی یہ لباس پہن کر دیکھوں۔ چناچہ میں نے ایک سیاہ برقعہ ، جو پورے جسم کو ڈھانپ سکتا تھا، پہن لیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میری تمام دنیا سمٹ گئی ہے اور جسمانی حرکات بھی بہت محدود ہوکر رہ گئی ہیں۔ مجھے گرمی اور گھٹن بھی محسوس ہورہی تھی۔ اُس وقت میں نے لکھا کہ جو آدمی چاہتا ہے کہ اس کی بیوی، بیٹی یا بہن یہ لباس پہنے تو اُسے چاہیے کہ وہ ایک مرتبہ خود یہ پہن کر دیکھ لے۔ ایک اور بات، پاکستانی معاشرے ، جہاں مردوں کو خواتین کے خلاف ہر قسم کے جرائم کی آزادی ہے ، میں خواتین کا حجاب پہننے کی وجہ سمجھ میں آتی ہے (جو مذہبی ہر گز نہیں ہے) لیکن برطانیہ کے لبرل اور انسانی حقوق کی پاسداری کرنے والے معاشرے میں اس لباس کی کیا اہمیت ہے؟ پاکستان میں مردوں کی پرہوس نظروں سے بچنے کے لیے برقعہ پہنا جاتا ہے تو برطانیہ میں اپنی شناخت کے اظہار کے طور پر۔ بہرحال یہاں مکمل برقعہ پہننے والی خواتین کی تعداد بہت کم ہے۔ ملیحہ ملک، جو قانون کی پروفیسر ہیں، نے گارڈین میں لکھا…’’آج کی دنیا میں حجاب پہننے والی مسلمان خواتین کے ساتھ وہ سلوک کیا جارہا ہے جو قدیم یورپ میں غیر مذہبوں، یہودیوں اور جلدی امراض میں مبتلا افراد کے ساتھ برتا جاتا تھا۔ 9/11 کے بعد کی دنیا میں سیاسی تناؤ میں اضافہ ہو چکا ہے۔ صورتِ حال اس قدر خراب خراب ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی اختلافات پر بات کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ ‘‘

میرے بہت سے انگریز دوست ہیں جو مجھ سے بے تکلفی کے باوجود کھلے عام ایسے حسا س موضوعات پر بحث کے دوران تنقید لہجہ اپنانے سے اجتناب کرتے ہیں لیکن وہ اپنی تشویش کا اظہار ضرور کردیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ بہت سی مسلمان لڑکیاں اپنے مخصوص لباس کی وجہ سے سکول لائف میں کھیل کود میں صرف اس لیے حصہ نہیں لے سکتیں ۔ انہیں صحت مندسرگرمیوں سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے والدین اُنہیں غیر مسلم دوستوں کے ساتھ میل جول سے بھی روکتے ہیں۔ چناچہ دیگر تارکینِ وطن تو برطانوی زندگی، یہاں کے کھیل کود، موسیقی اور فن میں بھر پور شرکت کرتے ہیں لیکن مسلمان خود کو ان سرگرمیوں سے دور رکھتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا یہ ایک اہم بات ہے؟ یقیناًہے کیونکہ جب آپ ایک ملک میں پیداہوتے ہیں اور وہاں پروان چڑھتے ہیں، وہیں ملازمت حاصل کرتے ہیں تو پھر اس کے معاشرے سے کٹ کر کیوں رہتے ہیں؟ ملیحہ ملک مسلم کمیونٹی کے اندر حجاب کے مسلے کو اٹھاتی ہیں لیکن یہاں رہنے والے تین ملین مسلمانوں کے درمیان اس مسلے پر اتفاقِ رائے پیداہونا دشوار دکھائی دیتا ہے۔ میں اکثر حیران ہوتا ہوں کہ امریکہ، جہاں بھی مسلمان تارکینِ وطن بڑی تعداد میں آباد ہیں، میں یہ مسلۂ کیوں سر نہیں اٹھاتا ہے؟ اس کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہاں بے روزگاروں کو وہ سہولیات نہیں ملتی ہیں جو یورپ میں حاصل ہیں۔ چناچہ امریکہ میں اگر آپ کو برقعہ یا نقاب پہننے یا طویل داڑھی رکھنے کی وجہ سے اگر ملازمت نہ ملے تو آپ کو فاقہ کشی اختیار کرنا پڑے گی۔ بہرحال مجھ جیسے لبرل نظریات رکھنے والے افراد کے لیے یہ ایک تشویش ناک مسلہ ہے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ خواتین کو اپنی مرضی کا لباس پہننے کا حق ہونا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ مجھے یہ دیکھ کر بھی دکھ ہوتا ہے کہ مسلمان لڑکیوں کو صرف لباس کی وجہ تضحیک اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "دنیا"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.