.

روز قیامت حضورؐ کو کیا منہ دکھائیں گے؟

ارشاد احمد عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روح زخمی ہے، دماغ شل اور شرمندگی کا احساس ہے کہ دل و نظر کو چھلنی کئے دیتا ہے ایک مسیحی عبادت گاہ پر خود کش حملہ اور چونتیس عورتوں، سات بچوں سمیت 81 بے قصور شہری جان سے گئے۔

کسی فقیہ صوفی، اتحاد بین المذاہب کے علمبردار مولوی اور عام انسان نہیں، رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر مسلموں اور ان کی عبادت گاہوں کے بارے میں اصول وضع کئے اور معاہدہ نجران میں لکھ کر دیا ’’اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحفظ اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ضمانت اہل نجران کے لئے اور ان پر انحصار کرنے والوں کے لئے۔

تمام لوگ جو موجود ہیں یا غیر حاضر، ان کے خاندان، ان کے رسوم و رواج، ان کے مال و متال اور متبرک مقامات تک یہ معاہدہ محیط ہے۔ کسی بھی پادری کو اس کے منصب سے ہٹایا نہیں جائے گا، کسی بھی راہب کو اس کی خانقاہ سے نکالا نہیں جائے گا ان کی سرزمین پر کوئی فوجی دستہ در اندازی نہیں کرے گا ان پر ظلم کیا جائے گا نہ وہ ظلم کریں گے۔‘‘

آپؐ نے جنگ موتہ کے لئے لشکر روانہ فرمایا تو امیر کو نصیحت فرمائی ’’جو لوگ اپنی عبادت گاہوں میں مصروف عبادت ہوں ان سے تعرض نہ کرنا، کسی عورت پر ہرگز ہاتھ نہ اٹھانا، کسی بوڑھے شخص کو نہ مارنا، سرسبز و شاداب درختوں کو ہرگز نہ کاٹنا۔ اور ایک موقع پر اہل ایمان سے فرمایا ’’خبردار اگر کسی شخص نے غیر مذہب رعیت پر ظلم کیا یا اس کی تنقیص کی یا اس کو تکلیف دی یا اس کی مرضی کے خلاف کوئی بات کی تو میں روز قیامت غیر مسلم کی طرف سے مدعی ہوں گا۔‘‘

پاکستان میں عبادت گاہیں مزارات، چرچ اور مذہبی شخصیات ایک عرصہ سے تخریبی کارروائیوں اور حملوں کی زد میں ہیں 9/11 سے پہلے ہر واقعہ کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیا جاتا تھا کہ وہی پاکستان کا دیرینہ دشمن ہے اور پاکستان میں گرفتار ہونے والے تخریب کاروں، دہشت گردوں اور قاتلوں نے ’’را‘‘ سے رابطوں، بھارت میں تربیت اور روپے پیسے لینے کا اعتراف کیا حال ہی میں بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر( وی کے سنگھ کے بارے میں انکشاف ہوا کہ موصوف نے پاکستان میں انٹیلی جنس نیٹ ورک قائم کیا تو جنرل نے یہ کہہ کر رپورٹ کی تصدیق کی کہ یہ میرا ذاتی نہیں وزارت دفاع کا قائم کردہ یونٹ تھا، اگر اسے کام کرنے دیا جاتا تو سرحد پار دہشت گردی کا نام و نشان باقی نہ رہتا۔ شرم الشیخ میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان میں بھارتی دخل اندازی کے ثبوت من موہن سنگھ کو پیش کئے سابق وزیرداخلہ رحمان ملک نے متعدد بار بھارتی ایجنسیوں کی موجودگی کا ذکر کیا۔ سوات اور فاٹا میں فوج کے مقامی کمانڈر نے اسے تسبیح بدست باریش افراد کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا جو غیر مسلم اور بھارتی ایجنٹ تھے۔

میمو گیٹ سکینڈل سامنے آیا تو فوج اور آئی ایس آئی نے مناسب جانچ پڑتال کے بغیر ایسے امریکی شہریوں کو ویزے جاری کرنے کا انکشاف کیا جو سی آئی اے اور ایف بی آئی کے ایجنٹ تھے ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ میں اس کا ذکر ہے اور ریمنڈ ڈیوس کی گرفتار سے یہ الزام درست ثابت ہوا مگر امریکہ ہمارا مائی باپ ہے اور بھارت اس کا چہیتا اس لئے ہم کسی واقعہ کی تحقیقات کے دوران امریکہ اور بھارت کی مداخلت اور بم دھماکوں، خود کش حملوں میں ملوث افراد کی بیرون ملک سرپرستی کے بارے میں غور کرنے اور لڑائی کے دوران کسی تیسرے فریق کے فائدہ اٹھانے کی مقبول عام تھیوری پر توجہ دینے کی زحمت نہیں کرتے۔

نائن الیون کے بعد ہمارے دیرینہ دشمنوں کو ریاست سے ناراض، برگشتہ اور انتقام کے جذبے سے مغلوب عناصر کے ساتھ راہ و رسم بڑھانے کا موقع ملا۔ فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے فاٹا، ،سوات، دیر، ڈیرہ بگٹی اور کولہو آپریشن کے ذریعے اشتعال میں اضافہ کیا اور دہشت گردی و تخریب کاری کے لئے ماحول سازگار بنایا۔ بلوچستان کے علیحدگی پسند، سندھ کے نسلی و لسانی گروہ کے پی کے اور فاٹا کے عسکریت پسند اور مذہبی فرقہ پرست انتہاء پسند اپنی اپنی وجوہات کی بناء پر دشمنوں کا آلہ کار بننے اور اپنی ہی مادر وطن کو تباہی سے دوچار کرنے کے درپے ہیں مگر ریاست کنفیوز ہے، ریاستی ادارے مضمحل اور عوام خوفزدہ۔ ریاستی ادارے اب یہ زحمت ہی گوارا نہیں کرتے کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کریں اور اصل دشمنوں کی نشاندہی پر آمادہ ہوں۔

یہ محض اتفاق تو نہیں کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران اے پی سی جب بھی ہوئی، مذاکرات پر اتفاق رائے جب بھی سامنے آیا اور پاک فوج کو اندرون ملک آپریشن میں الجھا کر ملکی دفاع کو کمزور کرنے والے دشمنوں اور ان کے ایجنٹوں کو سنگل آئوٹ کرنے کے لئے امن کو موقع دینے کی بات جب بھی ہوئی ایک طرف ڈرون حملوں میں اضافہ ہو گیا دوسری طرف دہشت گردی کے واقعات بڑھ گئے اور اندرون ملک شور مچ گیا کہ مذاکرات کیسے؟ بھرپور کارروائی ہونی چاہئے گویا اب تک فوج مختلف قبائلی علاقوں میں کبڈی کھیل رہی ہے اور تفریحی سرگرمیاں جاری ہیں جنہیں روک کر فوجی آپریشن شروع کیا جائے۔

پشاور میں چرچ پر حملے سے، ہر کلمہ گو اور سچے پاکستانی کا دل دکھا ہے اس واقعہ سے پاکستان اور اسلام دونوں کی بدنامی ہوئی مگر دو فوجی افسروں کی شہادت اور چرچ کا واقعہ تمام تر سنگینی کے باوجود سیاسی اور فوجی قیادت کے اجتماعی فیصلے سے روگردانی کا سبب ہرگز نہیں بننا چاہئے۔ بعض نابغوں نے تو اس واقعہ کی آڑ میں حرمت رسولؐ کے بارے میں قوانین تبدیل کرنے کا مطالبہ کر ڈالا ہے جو خوئے بدر البہانہ بسیار کے مترادف ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کا بیان کہ ’’اے پی سی میں حکومت کی جو سوچ تھی اب اس پر آگے بڑھنے سے قاصر ہیں‘‘ طالبان کی اس بدگمانی میں اضافہ کرے گی کہ حکومت نیک نیت نہیں اور مذاکرات کی پیشکش محض دھوکہ ہے جبکہ یہ فوجی آپریشن جاری رکھنے کے خواہش مند عناصر کی کامیابی ہو گی۔ تو کیا عمران خان کی طرف سے ان واقعات کو سازش قرار دینا درست ہے، جس کا مقصد آپریشن جاری رکھنا اور خیبر پختونخوا میں حالات مزید بگاڑنا ہے۔

شاعر مزدور احسان دانش نے ایک جیب تراش گرو کا واقعہ لکھا ہے جو ہر کلمہ گو کے لئے مشعل راہ ہے ’’شاگرد نے شام کو خلیفہ (جیب تراش گرو) کے سامنے سوا دو روپے رکھ دیئے خلیفہ چلایا خبیث سارے دن میں یہ سوا دو روپے، بے ایمانی اور کس غریب کو مار دیا۔ شاگرد نے کہا ’’کیا بتائوں خلیفہ میں نے تو کئی ہزار پر ہاتھ مار دیا تھا مگر وہ کم بخت انگریز نکلا۔ سوچا کہ قیامت کے دن اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے میرے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی کہ آپ کے امتی نے میرے امتی کی جیب کاٹی تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملال ہو گا یہ خیال آتے ہی میں نے بٹوہ واپس کر دیا اور ایک سیٹھ کی جیب ٹٹولی مگر صرف سوا دو روپے نکلے۔ خلیفہ نے شاگرد کی پیٹھ ٹھونکی دس روپے انعام دیا اور کہا خدا تیرا ایمان روشن کرے تو نے امت کی لاج رکھ لی۔

اس کلمہ گو کی بدنصیبی میں کیا کلام جس کے کسی مکروہ و مذموم فعل سے روز قیامت حضور علیہ السلام کو ملال ہو اور غیر مسلم رعیت پر ظلم کے الزام میں شفیع المذنبین رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف مدعی بن جائیں۔ دنیا تو ہماری کیا سنورے گی ہم تو اپنی آخرت بگاڑنے پر تل گئے ہیں اور ریاست کا کام صرف سینہ کوبی اور سوگ منانا رہ گیا ہے۔ ڈرون حملوں کی طرح شائد یہ بھی طاقتوروں کا کھیل ہے جس کی روک تھام ہمارے بس کی بات نہیں ورنہ بیانات ۔۔۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.