.

چین میں چند روز

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین ہمارا پڑوسی ہے اور ہمیں اس کی دوستی پربڑا ناز بھی ہے لیکن افسوس کہ ہم نے اس سے کچھ بھی نہیں سیکھا۔ پاکستان کی کم وبیش سب سیاسی اور مذہبی قائدین کا چین کی دوستی پر اتفاق ہے۔ اس کے قریب رہنے پر عسکری اور سیاسی قیادت ہمیشہ یک زبان رہی ہے لیکن ہم پاکستان کے اندر جو کچھ کررہے ہیں اور کرچکے ہیں وہ چینی اصولوں کے یکسر منافی ہے۔ چینی خاموشی سے کام نکالنے کے ماہر ہیں جبکہ ہم بھڑک مارنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ چینی دشمنوں کو بھی استعمال کرتے ہیں جبکہ ہم دوست ملکوں سے بھی فائدہ (ملک کے لئے) نہیں لے سکتے۔ چینی سپر پاور بن کر بھی اپنے تائیوان پر قبضہ نہیں کررہا جبکہ ہم ہر وقت دنیا بھر کا ٹھیکہ لئے پھرتے ہیں ۔ زوال کے بعد عروج حاصل کرنے اورخستہ حالی کی انتہا سے نکل کر خاموشی کے ساتھ سپر پاور بننے کا گر کوئی چین سے سیکھے۔ اس نے عالمی محاذ پر پسپائی قبول کی۔ تائیوان اور ہانگ کانگ پر دشمن کا قبضہ کئی دہائیوں تک گوارا کیالیکن پنگا لینے سے گریز کیا۔ ہندوستان اور سوویت یونین سے براہ راست ٹکرائو کے مرحلے بھی آئے لیکن چین نے ہماری طرح جنگی جنون میں مبتلا ہونے کے بجائے ممکنہ حد تک اعراض اور جھکائو کی پالیسی اپنائے رکھی۔ جب اس نے دیکھا کہ امریکہ اس کے حریف سوویت یونین سے حساب برابر کرنے آیا ہے تو خود فریق بننے کے بجائے اس نے خاموشی سے مغربی طاقتوں اور پاکستان کو تھپکی دینے پر اکتفا کیا جبکہ خود معاشی اصلاحات اور ترقی میں مگن رہا۔ بھارت کے مقابلے میں وہ پاکستان کا ساتھ تو دیتا رہا لیکن پاکستان کے حق میں کبھی بھی جنگ میں نہیں کودا۔

یوں بھارت‘ پاکستان کے ساتھ مصروف رہا اور چین خاموشی کے ساتھ اپنے آپ کو معاشی اور حربی میدان میں مضبوط کرتا رہا ۔ امریکہ اس کو فتح کرنے کے منصوبے بناتا رہا لیکن چین نے اس کی مارکیٹ کو اپنی مصنوعات کے ذریعے یوں فتح کیا کہ اب امریکہ چین کے ساتھ براہ راست ٹکرائو کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ کچھ عرصہ قبل اس نے امریکہ کے بعد دوسری بڑی معیشت کی پوزیشن حاصل کی اور اگر اس کی موجودہ شرح نمو برقرار رہی تو وہ وقت دور نہیں جب اس میدان میں بھی وہ امریکہ کی ہمسری کر لے گا۔ چین نے پہلے اپنے گھر کو مضبوط بنایا اور پھر معاشی ہتھیاروں سے دشمنوں اور دوستوں کے گھروں میں نقب لگانے نکل پڑا۔ چنانچہ اب وہ آہستہ آہستہ عالمی کردار کیلئے پرتول رہا ہے لیکن پنگابازی سے اب بھی گریز کررہا ہے ۔ یہاں بھی وہ کچھوے کی چال چل اور تدریج سے کام لے رہا ہے ۔ چنانچہ عالمی لیڈر بننے سے قبل وہ پہلی فرصت میں ایشیاء کا لیڈر بننا چاہتا ہے لیکن ہتھیار اب بھی میزائل‘ جہاز اور ٹینک نہیں بلکہ تجارت اور سرمایہ کاری ہے ۔ اس نئی روش کے تسلسل میں اب چینی قیادت نے افغانستان جیسے معاملات میں بھی دلچسپی لینی شروع کی ہے۔ اسی سلسلے میں چینی حکمران پارٹی نے پاکستان اور افغانستان سے نمائندہ وفود کو دورہ چین کی دعوت دی۔

پاکستان سے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی‘ محمد اکرم خان درانی (سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا)‘ امیر حیدر خان ہوتی(سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا) ‘ حاجی گل آفریدی (ایم این اے) ‘ شہریار آفریدی (ایم این اے)‘ شہباب الدین خان (ایم این اے) ‘ سرزمین خان (ایم این اے) اور راقم الحروف اس میں شامل تھے جبکہ افغانستان کا نورکنی پارلیمانی وفد کمال صافی کی قیادت میں آیا ہوا تھا۔ وقت اور پیسے کی بچت میں چینیوں کا کوئی ثانی نہیں چنانچہ انہوں نے ہمارے اس دورے کو ایسے وقت میں رکھا تھا کہ جس میں ہم عالمی یوم امن کی تقریبات کے سلسلے میں چائنا اینڈ سائوتھ ایشیاء پیس اینڈ ڈیولپمنٹ فورم (China-South Asia peace and Development forum) میں بھی شرکت کرسکیں۔

اس دو روزہ کانفرنس میں سری لنکا ‘ برما‘ بنگلہ دیش‘ مالدیپ اور ویتنام وغیرہ سے بھی وفود آئے ہوئے تھے ۔ ہمارے وفد کے علاوہ پاکستان سے ایک اور وفد مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں کا اقبال ظفر جھگڑا کی قیادت میں بلایا گیا تھا جبکہ مشاہد حسین سید‘ خورشید محمود قصوری اور شیخ رشید احمد ایک اور گروپ کا حصہ تھے۔ یہ کانفرنس ویتنام کی سرحد سے متصل صوبے یونان (Yunnan)کے دارالحکومت کنمنگ (Kunming) میں رکھا گیا تھا‘ جس سے چین کے نائب صدر لی یان چائو (Li Yuanchao) نے نہ صرف خطاب کیا بلکہ سارا دن کانفرنس میں موجود بھی رہے۔ یہاں صرف تقریریں نہیں ہوئیں بلکہ چینی قیادت نے خطے کے ممالک کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے اور امن کے قیام کے لئے مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔ دوسری طرف خطے کے ممالک کی گرمجوشی کا یہ عالم تھا کہ مالدیپ کے نمائندے سے لے کر سری لنکا تک کے نمائندے‘ یک زبان ہوکر چین کے سارک کے مستقل ممبر بننے کا مطالبہ کرتے رہے جبکہ بنگلہ دیش کے مندوب نے تو نہ صرف چین کو سارک کے ایگزیکٹو ممبر بننے کا مطالبہ کیا بلکہ چین کے قائدانہ کردار کو یقینی بنانے کیلئے ہندوستان کے ساتھ اس کے تنازعات کے حل پر بھی زور دیا۔

اس کانفرنس کے موقع پر ڈسکشن کے دو ذیلی فورم بھی منعقد ہوئے جن میں سے ایک میں جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک کے ساتھ چین کے تعلقات کی بہتری پر جبکہ دوسرے میں افغانستان میں امن کی بحالی کے امکانات پر ڈسکشن ہوئی۔ اس موقع پر چین کے نائب صدر نے پاکستان اور افغانستان سے آئے ہوئے ہمارے گروپ کے ارکان کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا ‘ جہاں انہوں نے دونوں ممالک سے متعلق اپنی پالیسی کے اہم نکات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ شرکاء کے سوالوں کے جوابات بھی دیئے۔ اس کانفرنس سے فراغت کے بعد دیگر شرکاء رخصت ہوگئے ہیں جبکہ پاکستان اور افغانستان کا ہمارا گروپ بیجنگ واپس آگیا ہے جہاں چینی دفتر خارجہ کے حکام سے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں تبادلہ خیال ہونا ہے۔ ہمارا آخری پڑائو مسلمان اکثریت کا صوبہ سنکیانگ ہے جہاں سے انشاء اللہ پاکستان واپسی ہوگی۔

ابھی تک چین میں جو کچھ دیکھا‘ سنا اور محسوس کیا ‘ اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ چین جس تیزرفتاری کے ساتھ ترقی کررہا ہے ‘ وہ ہمارے تصورات سے بھی بہت آگے ہے۔ وہ بڑی مہارت اور خاموشی کے ساتھ اپنے آپ کو بھرپور عالمی کردار کے لئے تیار کررہا ہے لیکن پہلی فرصت میں وہ ایشیاء کا لیڈر بننا چاہتا ہے تاہم یہاں وہ ہتھیاروں اور دھونس دھمکی کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کے ہتھیاروں کو بروئے کار لائے گا۔ وہ بھارت کو اپنا حریف سمجھتا ہے اور افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی یا اثرورسوخ سے خوش نہیں ہے لیکن نہ ہندوستان کے ساتھ تصادم چاہتا ہے اور نہ سفارتی یا حربی میدان میں امریکہ کو چیلنج کرناچاہتا ہے۔ ہمارے پالیسی ساز سنجیدہ ہوں یا نہ ہوں لیکن چین مغربی چین (سنکیانک ) کو ترقی دینے اور کاشغر کے راستے گوادر تک پہنچنے میں سنجیدہ ہے۔ دوسری طرف وہ برما وغیرہ کے راستے بنگلہ دیش تک زمینی روٹ کو وسعت دے رہا ہے۔

جنوبی ایشیائی ممالک میں جتنی اہمیت چین پاکستان کی دوستی کو دے رہا ہے وہ شاید کسی اور ملک کو نہیں دے رہا لیکن ہم پاکستانیوں کویہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ چین پاکستان کی خاطر خطے یا دنیا کے کسی اور ملک سے پنگا لے گا۔ چین کے بارے میں ہم پاکستانیوں کو یہ بات بھی ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ چینی بڑی حد تک بنیا قسم کی قوم ہے۔ وہ ہمارے ہاں سرمایہ کاری تو کریں گے لیکن امریکہ اور سعودی عرب کی طرح نقدی ہمیں کبھی نہیں دیں گے۔ یوں ہمیں چین سے غیر حقیقی توقعات تو وابستہ نہیں کر لینی چاہئیں لیکن اگر ہماری قیادت دانشمندی سے کام لے تو چین کی اس نئی انگڑائی کو امریکہ اور ہندوستان کے سامنے اپنی بارگیننگ پوزیشن کو بہتر بنانے کیلئے استعمال کرسکتی ہے۔ اسی طرح ایسے عالم میں جبکہ مغربی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کرنے سے گریزاں ہیں‘ ہم چینی سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستانی معیشت کو سہارا دے سکتے اور مغربی دنیا کے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی بحال کرسکتے ہیں ۔پاکستان اگر چین کو افغانستان کے بارے میں فعال کردار پر آمادہ کرے تو وہ امریکہ کے مقابلے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر ثالث بلکہ ایک موثر بانڈ بن سکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.