.

سعودی خواتین کار چلانے سے آگے بڑھیں!

فیصل جے عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی مذہبی پولیس کے سربراہ شیخ عبداللطیف آل شیخ کے حال ہی میں بعض ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ شریعت میں خواتین کے گاڑی چلانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

شیخ صاحب کی بنیادی ذمے داری اسلام کے نام پر پھیلنے والی غلط باتوں کا تدارک کرنا اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو سامنے لانا ہے لیکن خوشگوار حیرت تو اس بات پر ہوئی ہے کہ ایک بنیادی اور معروف حقیقت کو دنیا بھر میں ایک خبر کے طور پر رپورٹ کیا گیا ہے۔

یقیناً اگر یہ بات کسی کا اشارہ ہے تو اس سے یہ چیز سامنے آتی ہے کہ اسلام کی تفہیم کو بین الاقوامی سطح پر اور خود مسلمانوں کے درمیان بھی عام کرنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ سعودی مملکت نے گذشتہ سوموار کو اپنا قومی دن منایا ہے تو اس موقع کی مناسبت سے ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ خواتین کے ڈرائیونگ کے مسئلہ کو اب سنجیدگی اور احسن انداز سے حل کردیا جائے۔

ترقی کی جانب قدم

موجودہ فرمانروا شاہ عبداللہ کے دور حکومت میں ہم نے وزارتی کونسل میں پہلی مرتبہ ایک خاتون کا تقرر ہوتے دیکھا ہے۔ہم نے ہزاروں طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بیرون ملک روانہ ہوتے بھی دیکھا ہے۔اس کے علاوہ خواتین کو 2015ء میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ووٹ دینے کی اجازت سے متعلق شاہی فرمان بھی جاری کیا جا چکا ہے۔

اسی سال کے آغاز میں ہم نے سعودی شوریٰ کونسل (سعودی حکومت کو مشاورت فراہم کرنے والا ادارہ) میں پہلی مرتبہ تیس خواتین ارکان کو حلف اٹھاتے ہوئے دیکھا ہے۔

گذشتہ ماہ سعودی وزارتی کونسل نے گھریلوتشدد کو فوجداری جرم قرار دینے سے متعلق قانون کے مسودے کی منظوری دی تھی۔اس مجوزہ قانون کا انسانی حقوق کی متعدد بین الاقوامی تنظیموں نے خیرمقدم کیا ہے۔تاہم یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس قانون کا موثرانداز میں نفاذ کیا جائے۔

اب اس میں تو کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حکومت نے خواتین کے حقوق کے ضمن میں بہت کچھ کر لیا ہے اور وہ مزید بھی اقدامات کررہی ہے،ہمیں اس بات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے یا اس کی اہمیت میں کمی نہیں لانی چاہیے کہ خواتین نے بہ ذات خود بھی بہت شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اپنے حقوق کے لیے گراں قدر کوششیں کی ہیں۔

تمام تر رکاوٹوًں کے باوجود

مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی سعودی خواتین نے تمام تر رکاوٹوں کے باوجود نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں اور دے رہی ہیں۔چند روز قبل ہی حیفا المنصور کو پہلی سعودی فلم ساز کے طور پر غیرملکی زبان کی فلم کے زمرے میں آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔

مجھے کوئی ایک عشرہ قبل حیفاالمنصور کا انٹرویو کرنے کا موقع ملا تھا۔اس وقت ان کے فلمی کام کو علاقائی اور عالمی سطح پر تسلیم کیا جارہا تھا۔بدقسمی سے سعودی عرب میں بعض قدامت پسندوں کی جانب سے ان پر اور ان کے کام پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں سینما گھروں کے قیام پر پابندی ہے۔

حیفا منصور کا دعویٰ تھا کہ انھیں تنقید کی کوئی پروا نہیں ہے۔تاہم انھوں نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ کسی بھی فلم ساز کی بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کے کام کو زیادہ سے زیادہ لوگ اور خاص طور اس کے ہم وطن شہری دیکھیں کہ جن کے بارے میں وہ فلم بنائی گئی ہے۔

خواتین کے کاریں چلانے پر پابندی کی طرح ایسا کوئی واضح جواز ،قانون یا فتویٰ پیش نہیں کیا گیا ہے کہ سعودی عرب میں سینماؤں کے قیام پر پابندی کیوں ہے۔اس طرح کی پابندیاں ان معاشروں میں ایک قدر کی حیثیت رکھتی ہیں جہاں سماجی طور پر قابل قبول اور مذہبی طور پر مسلط چیزوں کے درمیان مبہم لکیر کھینچی گئی ہو۔

حیفا منصور نے ان تمام چیلنجز کو اپنی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا ہے۔بالکل اپنی دیگر ہم وطن خواتین کی طرح جنھوں نے حال ہی میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیا ہے اور طب ،سائنس اور کاروبار کے شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہیں۔انھیں ہماری مسلسل حمایت ،مکمل اعتماد اور غیرمتزلزل حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔

دراصل اس طرح کی شاندار کامیابیوں کے بعد تو سعودی خواتین کو کار چلانے سے بھی بہت آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ ڈرائیونگ کی خواہش مند کسی بھی خاتون کا سادہ اور بنیادی حق ہونا چاہیے۔انھیں سعودی مملکت کے خوشحال مستقبل کے لیے فعال انداز میں زیادہ بہتر کردار ادا کرنا چاہیے۔

تاہم اگر ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر حکومت کے ایک سادہ فیصلے سے یہ ایشو حل ہوسکتا ہے تو پھر ہم غلط ہوں گے۔ہمیں معاشرے کے طور پر پہلے نمبر پر تو یہ بات تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ خواتین کی جگہ مرد کے پیچھے نہیں بلکہ اس سے آگے ہے۔

(ترجمہ: امتیاز احمد وریاہ)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.