.

چیئر مین نیب کی خالی کرسی

اسلم خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

احتساب کا غیر جانبدار ادارہ اور اس کا کوئی نیک نام سربراہ ہمیں پسند نہیں، چیئرمین نیب کا عہد ہ چار ماہ سے خالی پڑا ہے، حزب اختلاف اور حکومت کسی نیک نام اور موزوں شخصیت کے نام پر متفق نہیں ہو سکیں۔ عدلیہ بحا لی تحر یک کے ولو لہ انگیز اور تاریخ ساز دور میں کیسی کیسی نا بغہ روزگار شخصیات پر دہ اسکرین پر نمودار ہوئی تھیں جو اب گو شہ عا فیت میں اپنی خیر منا رہی ہیں۔ مو جودہ جمہوری نظام کی آزما ئش اور قوم کا امتحان 11/12/13یعنی 11دسمبر 2013کے بعد شر وع ہو گا جب غر یبوں، مسکینوں ،لاچا ر اور بے بس عو ام کا خدائے مہربان کے بعد سب سے بڑا سہارا چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ریٹائر ہو نے کے بعد واپس کو ئٹہ چلے جائیں گے اور تاریخ کے منفر د’’جوڈیشنل ایکٹو ازم‘‘کا سنہرا باب بند ہو جا ئے گا ۔

جس کے بعد دکھی قو م کے زخموں پر نمک چھڑکنے والے تو بہت ہو ں گے لیکن مرہم رکھنے والا شاید کوئی نہ ہو۔ چیئرمین نیب کا خا لی عہدہ پر کرنے کے لیے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی دی گئی مدت کب کی ختم ہو چکی ہے لیکن سید خو رشید شاہ اور جناب وزیر اعظم کی براہ راست ملاقاتیں بھی بارآور نہیں ہو سکیں۔ چیئرمین نیب کے لیے سب سے پہلے رانا بھگوان داس کا نا م نامی سامنے آیا تھا جسے توقعات کے عین مطابق حکومت اور حزب اختلاف نے مکمل اتفاق رائے سے مسترد کر دیا تھا۔

وجہ اس کی یہ تھی کہ جناب وا لا! حکمران اور حز ب اختلاف رانا بھگوان داس کی اصول پسندی سے خو فز دہ تھے۔ انھیں یاد تھا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور عدلیہ کے خلاف جنرل پر ویز مشر ف اور ان کے ساتھیوں کی سازشوں کو نا کا م بنانے میں رانا بھگوان داس نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معطلی اور ان کے خلا ف ریفرنس کے دوران رانا بھگوان داس بھارت میں تھے۔ واپسی پر قائم مقام چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے فل کورٹ طلب کر کے سپریم کورٹ جو ڈیشل کو نسل کی کارروائی روکنے کی آئینی درخواست کی سما عت شر وع کر کے اس ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قر ار دے کر چیف جسٹس کو بحال کر نے کا تاریخی حکم جاری کر دیا تھا ۔ رانا بھگوان داس کو ہما رے جمہور یت پسند مہربان کیسے پسند فرما سکتے ہیں کیونکہ سچا اور کھرا احتساب کسی کو بھی پسند نہیں۔ رانا بھگوان داس چیئر مین نیب بننے کی صورت میں سپر یم کورٹ کا جوڈیشل ایکٹوازم نیب میں شروع ہو جاتا جو کار حکمرانی کے لیے خطرنا ک ثابت ہو سکتا تھا۔

اس طرح سابق چیف جسٹس اجمل میاں کے نام پر وزیر اعظم نو از شر یف نے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ انہو ں نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معطلی کے حکم نامے پر بطور سیکرٹری قانون دستخط کیے تھے۔ پرویز مشرف کے اس دور پر آشوب میں جسٹس اجمل میاں سیکریٹری قانون ضرور تھے لیکن چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلا ف پرویز مشرف کی اس مہم جوئی کو رکوانے میں نا کا م ہو کر چھٹی پر چلے گئے تھے۔ اس لیے چیف جسٹس کی معطلی کے حکم نامے پر کسی قائم مقام سیکریٹری قانون کے دستخط تھے۔

ویسے عدلیہ کے خلاف پرویز مشرف کی اس مہم جوئی کے دوران وفاقی وزیر قانون کو ن تھا، زاہد حامد ، اگر نو از شر یف نا معلوم وجو ہات یاخد مات کی بناپر انھیں قبو ل کرسکتے ہیں تو جسٹس اجمل میاں میں کیا خر ابی ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ اجمل میاں پر اعتراضات اور تحفظات کا تعلق ڈیڑھ دہائی قبل 1998کے ان واقعات سے جڑاہوا ہے جب سجاد علی شاہ کوان کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا جس کے بعد جسٹس اجمل میا ں چیف جسٹس بنے تھے۔ اس وقت انھوں نے انسداد دہشتگردی کی عد التوں کے قیا م اور طر یق کار پر اعتراض کیا تھا ۔جس کے بعد جسٹس اجمل میاں کی تاریخ پید ائش کے حو الے اخبارات میں پر اسرار خبروں کا سلسلہ شر وع ہوگیا تھا۔ 20جنو ری 1998کو چیف جسٹس اجمل میاں کے بارے میں ایک خبر شا یع ہوئی تھی۔ جس پر مشاورت کے لیے اس وقت کی عدلیہ سے متعلقہ ایک شخصیت نے اس کالم نگار کو طلب کیا تھا، یہ پیغام بر ادرم رفا قت علی لے کر آئے تھے، جو اب مد تو ں سے ہمیں خیر آباد کہہ کر لندن میں دل لگا ئے بی بی سی کے لیے کا م کر رہے ہیں ۔چیف جسٹس اجمل میا ں نے اس لغو معاملے کو آگے بڑھا نے کے بجائے اس پر مٹی ڈال دی تھی ۔ پھر آسمان نے یہ بھی دیکھا کہ جناب نواز شریف کو فو ری انصاف کی نا م نہا د عد التوں نے سزا سنائی جن پرجسٹس اجمل میاں نے اعتراض کیا تھا۔ان واقعات کو مدتیں بیت گئیں ہیں۔ سچ بات تو یہی لگتی ہے کہ رانا بھگوان داس ہوں یا اجمل میا ں کو ئی بھی آزاد منش منصف کسی کو بھی پسند نہیں ۔4ما ہ گزر گئے چیئرمین نیب کی کرسی خا لی پڑی ہے۔

بہ شکریہ روز نامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.