حد سے زیادہ مداخلت کی قیمت

ڈاکٹر ملیحہ لودھی
ڈاکٹر ملیحہ لودھی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

گزشتہ ہفتے اسٹاک ہوم میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں کئی عالمی تذویری مسائل پر غور کیا گیا جس میں شام کا بحران سرفہرست رہا۔ یہ کانفرنس لندن میں قائم تذویری مطالعے کے ایک انسٹیٹوٹ کے زیر اہتمام منعقد کی گئی جس میں متعدد اہم مسائل پر بحث کی گئی لیکن ایک سوال کی گونج کانفرنس کے ہر دور میں سنی گئی۔ کیا مغربی عوام کا سمندر پار جنگی محاذوں سے بیزاری کا رجحان جو کہ ان کی حکومتوں کو تحمل کی جانب دھکیل رہا ہے آیا وہ تبدیلی یا طویل مدتی رجحان ثابت ہوگا؟ کئی شرکاء نے سوال کیا کہ کیا امریکہ اور مغرب کی ضرورت سے زائد مداخلتی دہائی کا توازن اب بیرون ملک تنازعات میں مداخلت سے اجتناب کے پلڑے میں گر گیا ہے، جس کی عکاسی عراق اور افغانستان میں مہنگی جنگوں میں نظر آتی ہے۔

کانفرنس کے ایک مقرر نے امریکہ کو ہچکچاتی ہوئی جزوی غیر معمولی طاقت گردانہ اور حالیہ مغربی کردار کو زائد متحرک سے غیر سرگرم بلکہ مفلوج ہونے کی جانب گامزن قرار دیا۔ کچھ نے خبردار کیا کہ اسے تنہائی کا شکار ہونا نہیں پڑھا جانا چاہئے بلکہ اس کا محض یہ مطلب نکالنا چاہئے کہ واشنگٹن نے اپنی سرگرمیوں کو محدود کردیا ہے، دوسرے مقررین نے اسے قیادت کے فقدان کے طور پر دیکھا اور کہا کہ شاید یہ گزرنے والا مرحلہ ہوسکتا ہے تاہم سوچ بچار کے حامل مزید مقررین نے اس کی تشریح میں کئی عوامل کو موجب بتایا، جس میں سے ایک عامل فوجی کارروائی کا غیر موثر اور اس کا تیر بہدف نہ ہونا تھا جس کی واضح مثال عراق اور افغانستان ہیں۔ فنانشل ٹائمز کے فلپ اسٹیفنس نے دلائل پیش کئے کہ مغرب کا عدم مداخلتی رجحان تین عوامل کا نتیجہ ہے، پہلا عوامی رائے جو کہ حکومتوں پر بیرونی محازوں کو بند کرنے پر زور دے رہی تھی، دوسرا معیشتیں اور اقتصادی مسائل سے نبردآزمائی میں مشغولیت، تیسری، دیگر طاقتوں کے عروج کی وجہ سے امریکی بالادستی میں ہوتی ہوئی کمی جو کہ ریاستی خودمختاری اور عدم مداخلت جیسے معاملات کی جانب زور دے رہی ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر بیرون ممالک جنگی محاذوں سے فوجیں واپس بلانے اور بیرونی تنازعات میں عدم مداخلت کیلئے قوت محرکہ مستحکم ہوئی۔

کانفرنس میں بازگشت سنائی گئی کہ محدود اہداف سے مغرب کا اثرورسوخ بھی محدود ہوجائیگا، آئی آئی ایس ایس اسٹریٹجک سروے کے حالیہ شمارے کا موضوع بھی یہی رہا، یہ موضوع دوبارہ کانفرنس میں زیر بحث آیا جس میں2012 ء کو ’سمجھداری سے زندگی بسر کرنے کا سال‘ قرار دیا گیا، جہاں واقعات کے مستقل بہائؤ نے حکومتوں کی خارجہ پالیسی نتائج کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت کو محدود کردیا۔ اس سے تذویر کیلئے کوئی جگہ باقی نہ رہی جبکہ ہمہ گیر تذویر کیلئے بہت ہی کم جگہ رہ گئی۔ چیمپئن نے کہا کہ آگے آنے والا چیلنج یہ ہے کہ کس طرح تسلسل کی حامل خارجہ پالیسی ترتیب دی جائے جبکہ بحران پر قابو پانے کے مطالبات مرعوب کُن اور اشد ضروری تھے۔ اس سے تذویری اہداف کو خام خیالی کے بجائے محدود کرنے پر زور پڑا کیونکہ اس ضمن میں خام خیالی بہت زیادہ خطرناک ہوسکتی تھی۔ سوئیڈن کے وزیر خارجہ کارل بلٹ نے اتفاق کیا کہ 24 گھنٹے جاری رہنے والے سوشل میڈیا کے ماحول میں حکمت عملی کی حامل سوچ کارفرما تھی اور نہ ہی اس ضمن میں اقدامات کئے گئے تھے۔ بلٹ نے شام میں محدود اہداف حاصل کرنے کیلئے طاقت کا استعمال کرنے کے حوالے سے شکوک و شبہات کا بھی حوالہ دیا۔

کانفرنس کے شرکاء نے ان کے اس موقف سے اتفاق کیا کہ شام کی صورتحال کو بہتر جگہ لے جانے کیلئے سفارت کاری سے مدد ملی لیکن بلٹ نے کم متواتر اور پرعزم مداخلت کیلئے نیا اتفاق رائے پیدا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس سے زیادہ اہم طور پر انہوں نے مشرق وسطیٰ میں جنم لینے والے تین موقعوں کی نشاندہی کی اگر انہیں بروئے کار لایا جاتا تو اس کے خاطر خواہ نتائج مرتب ہوسکتے تھے۔ جوکہ شام،ایران اور فلسطین واسرائیل امن عمل کے حوالے سے تھا، اگر سفارت کاری کیلئے ان تذویری موقعوں سے فائدہ اٹھایا جاتا تو اس سے ’دورِامید‘ کا آغاز ہوجاتا۔ ’بین الاقوامی تحفظ کی انتظام کاری کون کرے گا‘ کے عنوان سے ہونے والی کانفرنس میں ان میں سے کئی نکات اٹھائے گئے جس میں، میں بھی مقرر تھی۔ کانفرنس کے پینلسٹ اس بات پر متفق تھے کہ فی الحال کوئی بھی ایسا نہیں جو مستقل بنیادوں پر عالمی تحفظ کی انتظام کاری کرے۔ ایک مقرر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اب عالمی پولیس والے کا کردار نبھانے سے قاصر ہے جبکہ دوسروں نے پوچھا کہ اگر دنیا کی اس غیر یقینی تبدیلی کے عمل کے بہائؤ میں بدنظمی آجاتی تو کیا ہوتا۔

اس حوالے سے میرے کلمات کا مرکز نگاہ ضابطوں کی بنیاد پر بین الاقوامی ترتیب مرتب کرنے کی ضرورت پر تھا جو کہ اتفاق رائے کی وساطت سے مسائل کا حل فراہم کرسکتی ہے اور جہاں عالمی تحفظ کی انتظام کاری یکطرفہ نہیں بلکہ مشترکہ معاملہ ہو۔ اس ترتیب کے اہم ستونوں میں بین الاقوامی قانون کی اجازت کے بغیر طاقت کا استعمال نہ کرنے کی پاسداری کی تجدید، کثیر القومی حل کے عزم کی تجدید اور عدم مداخلت کے اصول کی پاسدار شامل ہونی چاہئے۔ چند ریاستوں کے تحفظ کو دیگر کے تحفظ سے اہم نہیں سمجھنا چاہئے، فطانت اس کا جواب نہیں تھا بلکہ شمولیت ہے۔کوئی واحد ریاست یا ریاستوں کا گروہ اپنے تئیں بین الاقوامی سیکورٹی کو لاحق خطرات اور پیچیدہ چیلنجوں سے نمٹ نہیں سکتا۔ میں نے دلائل دیئے کہ کثیر القومی طریق کار ہی واحد حل تھا۔ ان کا حصول مشکل، بوجھل اور سست تھا۔ میں نے دلیل پیش کی کہ صرف شفاف اور جائز حل ہی دیرپا ہوں گے، ہماری اس بین الانحصاری دنیا میں سیکورٹی مسئلے سے نمٹنے کیلئے طاقت کے استعمال کے بجائے اصولوں کی پاسداری کی ضرورت ہے۔ ان میں زیادہ تر اصول اقوام متحدہ کے چارٹر اور دوسرے بین الاقوامی معاہدوں میں موجود ہیں۔ اب ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔

روسی صدر ویلادی میر پیوٹن کے چیف آف اسٹاف کے بیان پر کانفرنس میں دلچسپی لی گئی، جس میں انہوں نے سب کیلئے غیر منقسم تحفظ، قانون کی پاسداری اور تنازعات کے حل کیلئے تعاون پر مبنی بین الاقوامی فکر کا مطالبہ کیا تھا۔ کانفرنس کے مختلف ادوار میں بین الاقوامی سطح پر روس کے کردار کی ’واپسی‘ بھی زیر بحث رہی تاہم، کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو اتفاق رائے لازمی پیدا کرنا چاہئے۔ فوجی کارروائی کے نتائج پر ان کا کہنا تھاکہ بیرونی مداخلت تنازعے کو روکنے کے بجائے اس میں طوالت کا باعث بنتی ہے۔عراق اور لیبیا سے یہی سبق ملتا ہے۔ فوجی قوت زیادہ آزادی اور جمہوریت لانے میں ناکام رہی۔ ایسی بلند بانگ آواز والی فوجی کارروائیوں کے مفادات استعماریت کے اہداف کو ڈھانپنے کیلئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ آئیونوو نے کہا کہ پُرامن سفارت کاری کبھی آسان نہیں ہوتی لیکن اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ کانفرنس میں سب سے زیادہ بصیرت کی حامل پریزنٹیشن میں سفیر کارل ایکنبری نے امریکہ کی افغانستان میں مداخلت سے حاصل ہونے والے کئی اسباق کا ذکر کیا جو انہوں نے گزشتہ دہائی میں وہاں فوجی اور سفارتی مشنز کی صدارت کے دوران اخذ کئے۔ ان میں ایک سبق یہ بھی تھا کہ اہداف و مقاصد کا تعین کرتے ہوئے دستیاب وسائل، وقت اور ممکنا معاشی تسلسل کو بھی لازمی طور پر ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔ اس حوالے سے انہوں نے چینی تزویر کار سن زو کا حوالہ دیا جس نے کہا تھا کہ ’ایسی کوئی طویل جنگ نہیں رہی جس سے ریاست کو فائدہ پہنچا ہو‘ ایکنبری نے کہا کہ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ’آمد سے قبل روانگی کا منصوبہ ہونا چاہئے‘۔

دوسرا سبق مداخلت کے بعد سیاسی مفاہمت اور توازن تلاش کرنے کے حوالے سے تھا۔ بڑی طاقتیں اکثر کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کے فیصلے کی بنیاد دو مراحل کو بناتی ہیں، 1) اس حکومت کا خاتمہ جس کے خلاف مداخلت کی جارہی ہے2 ( نئی حکومت کے قیام میں مدد دینا۔ درحقیقت انہوں نے کہا کہ حکومت کی شکست سے ملک کے اندر تنازعے کا ایک بالکل نیا محرک جنم لیتا ہے جو کہ سیاسی استحکام کی کوششوں کو درہم برہم کرسکتا ہے جیسا کہ افغانستان اور عراق کی صورتحال سے واضح ہے۔ افغانستان میں طویل عرصے سے قومی سطح پر طالبان کے ساتھ سیاسی مفاہمت کا فقدان رہا ہے جو کہ بڑے مسئلے کی نشانی ہے۔ ایک اور سبق خطے کی اور بڑی متعلقہ طاقتوں کے درمیان اتفاق رائے کی ضرورت سے متعلق تھا لیکن افغانستان میں یہ مبہم ثابت ہوا۔ ایک چوتھا سبق یہ تھا کہ جیسے ہی عسکری مداخلت کا فیصلہ کیا گیا موقع کی قیمت کئی گنا بڑھ گئی۔ ان اسباق کی بنیاد پر فوجی مداخلت کے حوالے سے ایکنبری کا انتباہی مشورہ سادہ تھا کہ ’کود پڑنے سے پہلے دیکھ لو‘۔ اس سے ایک اور موضوع کو تقویت ملی جو کہ کانفرنس میں سامنے آیا تھا کہ وقت کے ایک ایسے دہانے جب دنیا بے قطبہ ہے، جہاں نتائج کا تعین کرنے کی طاقت کسی کے پاس نہیں ہے، یہ وقت عاجزی اختیار کرنے اور غرور سے روگردانی کا ہے جس سے نہ ہی دنیا کو استحکام ملا اور نہ ہی اس سے مغرب کو اس کے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملی۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں