نواز شریف کا دورہ ترکی ۔ اندر کی کہانی

ڈاکٹر فرقان حمید
ڈاکٹر فرقان حمید
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

وزیراعظم نواز شریف اور ان کے وفد کے سولہ تا اٹھارہ ستمبر دورہ ترکی سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی سے موجود گہرے اور قریبی تعلقات کو مزید بہتر اور مضبوط بنانے کا موقع میسر آیا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ اب ان تعلقات کو فائلوں سے نکال کرعملی شکل دی جاسکے گی۔ اگرچہ اس سے قبل وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں بھی ان تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی اور خاص طور پر وزیراعظم گیلانی کے اہل خانہ اور وزیراعظم ایردوان کے اہلِ خانہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ تعلقات دونوں خاندانوں کے درمیان مستقل بنیادوں پر استوار ہوچکے ہیں اور ان تعلقات کو سیاسی ضرب یا دھچکہ ، کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے۔

راقم نے اس وقت بھی دونوں حکومتوں اور دونوں خاندانوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں مترجم کے طور پر فرائض ادا کئے تھے اسلئے راقم ان دونوں ممالک کی حکومتوں کے سربراہان اور ان کے اہل خانہ کے درمیان ہونے والی بات چیت سے پوری طرح آگاہ ہے اور راقم کو یہ بات بھی اچھی طرح یاد ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی ترکی آمد پر بارش ہو رہی تھی تو ترکی کے وزیراعظم رجب طیّب ایردوان نے ایک اچھے میزبان کی حیثیت سے اپنے ہاتھوں میں چھتری اٹھائے وزیراعظم گیلانی کو بارش سے بچانے کے لئے اپنی چھتری تلے لے لیا تھا اور پھر اس چھتری والی تصویر جسے ترکی کے روزنامہ حریت نے اپنے پہلے صفحے پر شائع کی تھی کو وزیراعظم گیلانی کے اس دور کے پریس سیکرٹری ( جن کا نام بھول چکا ہوں) نے اس تصویر کو راقم ہی کے توسط سےروزنامہ حریت سے حاصل کرتے ہوئے پاکستانی اخبارات کو دی تھی اور اس تصویر کو ترکی کے پاکستان کو اپنی چھتری تلے تحفظ میں لینے کی سرخی کے ساتھ اخبارات میں بھی شائع کرایا تھا اور اسے پاکستان اور ترکی کی دوستی کے کس قدر مضبوط اور برادرانہ ہونے کی ایک جھلک کے طور پر پیش کیا تھا۔

گیلانی ہی کے دور میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے بھی ترکی کا دورہ کیا تھا اور ان کو بھی ترکی میں وزیراعظم جیسا پروٹوکول دیا گیا تھا۔ اگرچہ اس دورے کے بعد صدر آصف علی زرداری کی جانب سے اس وقت کے پاکستان کے سفیر طارق عزیز کو مستقبل میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو ضرورت سے زیادہ پروٹوکول نہ دینے کے بارے میں محتاط رہنے کی تلقین کی تھی جس کا اثر لازمی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے بعد کے دوروں پر پڑا تھا لیکن وزیراعلیٰ شہباز شریف کی تگ و دو اور محنت سے ترکی کے وزیراعظم ایردوان بڑے متاثر ہوئے تھے اور ایک موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ " میں نے اتنی محنت اور تگ و دو کرنے والی کم ہی شخصیات دیکھی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ایک روز ان کی یہ محنت ضرور رنگ لائے گی"۔ شہباز شریف نے اپنے ان دوروں کے دوران ترکی کے وزیراعظم ایردوان اور استنبول کے مئیر سے خصوصی روابط قائم کر لئے تھے اور ان دونوں رہنمائوں کے دلوں میں اپنے لئے ایک خاص مقام بھی بنالیا تھا۔ مجھے وہ دن بھی اچھی طرح یاد ہے جب شہباز شریف ترکی کے دورے پر آئے ہوئے تھے اور اسی روز وزیراعظم ایردوان نے روس کے دورے پر روانہ ہونا تھا لیکن وزیراعظم ایردوان نے اپنے دورے کو چندگھنٹوں کے لئے ملتوی کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو شرف ملاقات بخشا اور کافی دیر تک دونوں رہنمائوں کے درمیان بات چیت جاری رہی جس میں اس وقت کے سفیر پاکستان طارق عزیز بھی موجود تھے۔ اسی ملاقات میں شہباز شریف نے پاکستان میں بجلی کی قلت کے معاملے کو پیش کیا جس پر وزیراعظم ایردوان نی فوری طور پر ایک پرائیویٹ فرم کے سی ای او سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے اس مسئلے کو حل کرنے میں مددگار ہونے اور ان کی روس کے دورے سے واپسی پر رپورٹ پیش کرنے کو کہا تھا۔

یہاں پر اس مثال کو پیش کرنے کا مقصد اپنے قارئین کویہ بتانا ہے کہ نواز شریف کے دورہ ترکی کو کامیاب بنانے میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کا نمایاں ہاتھ تھا جو وزیراعظم نواز شریف سے پہلے ترکی کے وزیراعظم ایردوان کے ساتھ گہری دوستی قائم کرچکے تھے۔وزیراعظم نواز شریف کے دورے کے دوران ہمارے کئی ایک کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں نے وزیراعظم نواز شریف پر صرف پنجاب ہی کی طرف توجہ دینے کا الزام لگایا ہے اور ان کو پنجاب ہی کا وزیراعظم قرار دیا ہے حالانکہ میں عرض کرچکا ہوں کہ شہباز شریف ، نواز شریف سے پہلےہی ترکی میں اپنی پہچان کروا چکے تھے اور وزیراعظم ایردوان کو متاثر کرچکے تھے۔ شہباز شریف نے وزیراعظم ایردوان سے اپنی اس قربت اور دوستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے بڑے بھائی کو وزیراعظم ایردوان سے متعارف کرایا۔ یہ نواز شریف کا پہلا سرکاری دورہ ترکی تھا۔میری ذاتی رائے میں وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے تعلقات کو صرف پنجاب کے لئے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لئے استعمال کیا اور اپنے بڑے بھائی کے لئے زمین کو ہموار کیا۔ تینوں رہنمائوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں مستقبل میں کئی ایک منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے اور تعاون کو مزید فروغ دینے پر مطابقت پائی گئی اور اسی بات چیت کے دوران ہی وزیراعظم نواز شریف نے وزیراعظم ایردوان کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی جسے وزیراعظم ایردوان نے خوش دلی سے قبول کر لیا اور اس بار پنجاب کا دورہ کرنے کی بھی شہباز شریف کو یقین دہانی کرائی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ شہباز شریف نے وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم ایردوان کے قریب لانے اور آپس میں اعتمادکی فضا قائم کرنے میں بڑا نمایاںکردار ادا کیا۔ کالم نگار اور تجزیہ نگار اگر شہباز شریف کے اس کردار کو دیکھ کر ہی کوئی تبصرہ کرنا چاہئے تھا۔ وزیراعظم ایردوان اور وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ شہباز شریف کے درمیان اعتماد کی فضا اور قربت کو راقم نے اپنی آنکھوں سے اس وقت دیکھا جب راقم وزیراعظم ایردوان کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے اعزاز میں دیئے جانے والے پرائیویٹ ڈنر میں مترجم کی حیثیت سے شریک ہوا۔ اس پرائیویٹ ڈنر میں وزیراعظم ایردوان، ان کی اہلیہ امینے ایردوان اور صاحبزادی ثمییہ ایردوان کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نواز شریف ان کی اہلیہ کلثوم نواز، شہباز شریف، سیلمان شہباز اور ان کی اہلیہ نے شرکت کی تھی۔ اس پرائیویٹ ڈنر میں شہباز شریف نے زیادہ تر پاکستان کو بھی ترکی کی طرح ترقی کی راہ پر گامز ن کرنے اور وزیراعظم ایردوان کے تجربات سے پوری طرح مستفید ہونے کے احساسات کو اجاگر کیا تھا۔

اس دوران وزیراعظم ایردوان نے اپنے تجربات سے آگاہ کرتے ہوئے کس طریقے سے اقتصادی لحاظ سے دیوالیہ ہونے والے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیے جانے اور اسے دنیا کے سولہویں بڑے اقتصادی ملک کا روپ دینے اور ملک کو کس طرح ملک کو دہشت گردی سے چھٹکارا دلوانے میں کامیابی حاصل کی، اس بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اس پرائیویٹ ڈنر میں زیادہ تر پاکستان کی ترقی اور پاکستان میں سیاسی استحکام کے بارے ہی میں بات چیت ہوتی رہی۔ اسی دوران باتوں ہی باتوں میں جب شہباز شریف نے وزیراعظم ایردوان کو اگلے روز ہوٹل ہی میں سیکورٹی کانفرنس ہونے سےمتعلق آگاہ کیا تو وزیراعظم ایردوان نے اس سیکورٹی کانفرنس کی تفصیلات پوچھیں اور جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ وزیر داخلہ معمر گیولر اس کانفرنس میں شامل نہیں ہوں گے تو انہوں نے فوری طور پر اپنے پرنسپل سیکرٹری کے ذریعے وزیر داخلہ کو بھی اس کانفرنس میں شامل ہونے کے احکامات جاری کئے اور وزیر داخلہ اپنی تمام مصروفیات کو ملتوی کرتے ہوئے اگلے روز صبح سویرے اس کانفرنس جس میں وزیراعظم نواز شریف کو بریفنگ دی جانی تھی شامل ہوئے۔

وزیراعظم نواز شریف کے دورہ ترکی کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ترکی کے وزیر ماحولیات اور ہاؤسنگ جو چند روز قبل پاکستان کو بھی دورہ کرچکے تھے انقرہ ائیر پورٹ کے قریب ایک مقام پر "توکی" کم لاگت والے مکانات کے پروجیکٹ کے بارے میں بریفنگ دے رہے تھے۔ جب میاں نواز شریف نے بلند و بالا اپارٹمنٹس میں مکانات کی پہلی منزل کے بعد کی منزلوں پر موجود مکانات کی رجسٹری کے بارے میں اوپر تلے کئی ایک سوالات کیے تو ترک وزیر ماحولیات اور ہائؤسنگ ایردوان بائراکتار نے صرف اتنا ہی کہنے پر اکتفا کیا کہ تمام ہی فلیٹس کے مالکان کو رجسٹری دے دی جاتی ہے اور کوئی بھی اپنے گھر کی چھت کو اٹھا کر اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا۔ اب دیکھنا یہ ہے وزیراعظم نواز شریف ترکی کے اس ادارے اور ان کے ماہرین سے پاکستان میں کس طرح استفادہ کرتے ہیں اور کب بے گھر افراد کو اپنے اپنے گھروں میں رہنے کا موقع میسر آتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں