ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی

انجم نیاز
انجم نیاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

کیا آپ جانتے ہیں کہ 46.5 ملین امریکی غریب ہیں؟جب مجھے کسی چیز کی مرمت یا تبدیل کرانے کی ضرورت ہو تو میں گھر کے نزدیک ایک ھارڈ ویئر سٹور پرجاتی ہوں۔ وہاں میری ملاقات ستر سالہ جول سے ہوئی۔ جو ایک خوش مزاج شخص ہے۔

وہ رنگ مکس کرنے میں میری مدد کرتا ہے۔ وہ مجھے بتاتا ہے…’’ کیاآپ جانتی ہیں کہ میں یہاں نیوجرسی میں کیوں کام کررہا ہوں جبکہ میں اپنی بیوی کے ساتھ فلوریڈا میں رہتا تھا؟ دراصل مجھے یہاں اس عمر میں بھی اس لیے کام کرنا پڑتا ہے تاکہ میں اپنی بیٹی اور اس کے چار بچوں کی کفالت کر سکوں۔ ان کو گھر سے نکال کر عملاً سڑک پر پھینک دیا گیا تھا کیونکہ وہ مکان خریدنے کے لیے حاصل کیے گئے قرض کی قسط ادا نہیں کر سکے تھے۔ ‘‘اب جول کی بیوی برینڈا بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہے جبکہ اسکی بیٹی اور اس کا شوہر بہت کم تنخواہ پر کام کرتے ہوئے بمشکل جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ جول کا کہنا ہے… ’’جب میں اپنی اعلیٰ ملازمت سے ریٹائرڈ ہوا تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہمیں ایسی زندگی گزارنا پڑسکتی ہے۔میرے پاس ایگزیکٹو کا عہدہ تھا، میں اور میری بیوی فلوریڈا کی عمدہ آبادی میں رہتے تھے اور گالف کھیلتے تھے۔ ہم نے بہت عمدہ زندگی بسر کی ہے۔‘‘تاہم ان کو اس عمر میں نیوجرسی آنا پڑا جب ان کی سب سے چھوٹی بیٹی مشکل حالات سے دوچار ہوئی۔

یہ تقریباً گھر گھر کی کہانی ہے۔ بہت سے افراد سے ایسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں کہ جب وہ ملازمت چھوڑتے ہیں تو اچانک اُنہیں احساس ہوتا ہے کہ اب اُنہیں سب کچھ چھوڑنا پڑے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا گھر اور تمام مال اسباب بنک سے لیے گئے قرض سے خریدا گیا ہوتا ہے۔ جب ملازمت نہ ہونے کی وجہ سے وہ بنک کو ادائیگی نہیں کر پاتے ہیں اورخود کو دیوالیہ قرار دے دیتے ہیں تو بنک ان کے تمام مال و اسباب پر قبضہ کر لیتا ہے۔ جو کاریگر، اینڈریو، میرے گھر میں باتھ روم کی مرمت کررہا ہے، کا کیس بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے…’’ہمارا بہت عمدہ گھر تھا، لیکن 2006 میں میری ملازمت چلی گئی۔ چناچہ مجھے مکان فروخت کرکے نسبتاً سستے علاقے میں رہائش اختیار کرنا پڑی۔ میں ایک کوالی فائیڈ انجینئر ہوں لیکن اب مجھے کوئی ملازمت نہیں ملی ہے، چناچہ اپنے خاندان کو فاقہ کشی سے بچانے کے لیے مجھے مزدوروں کی طرح کام کرنا پڑتا ہے۔ ‘‘

مجھے اینڈریو کی کہانی سن کر افسوس ہوا کیونکہ وہ تعلیم یافتہ، سلجھا ہوا اور ایماندار ہے۔ اس کی اجرت معقول ہے اور وہ پیشہ ورانہ طریقے سے کام کرتا ہے۔ اس کاکہنا ہے … ’’ایسا لگتا ہے اب مجھے مرتے دم تک لوگوں کے باتھ روم ہی ٹھیک کرنا پڑیں گے۔‘‘اس کام میں اس کا بھتیجا گریگ بھی اس کی مدد کرتا ہے۔ اکیس سالہ گریگ نے مجھے بتایا…’’میں کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں لیکن مجھے کالج کے اخراجات کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ تاہم جب گریگ کہیں گیا تو اینڈریو نے مجھے بتایا کہ گریگ سست لڑکا ہے اور سگریٹ نوشی بہت کرتا ہے‘‘۔

اس قلمی تصویر سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ کس طرح تین نسلوں… ایک دادا، ایک باپ اور ایک نوجوان لڑکا… کو کام کرنا پڑا رہا ہے۔ یہ لوگ امریکی معاشرے کے تعلیم یافتہ مگر درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں بے روزگاری کی وجہ سے اپنے معیار سے کم درجے کے کام کرنا پڑرہے ہیں۔ امریکی بھی تضادات بھی مجموعہ ہے۔ جس طرح یہاں کا موسم بہت عجیب ہے ، اُسی طرح امیر اور غریب کے درمیان تفاوت کی لکیر بھی گہری ہے۔ ایک دن ہم اے سی لگاتے ہیں ، لیکن ہو سکتا ہے کہ اگلے دن ٹمپریچر بیس درجے نیچے گر جائے اور آپ کو ہیٹر لگانا پڑے۔ بالکل اسی طرح، ایک طرف لوگ پر کشش ملازمتوں سے لاکھوں ڈالر کماتے ہیں تو دوسری طرف لوگ بمشکل ہی دو وقت کا گزارہ کرتے ہیں۔جب ہم بلند و بالا عمارتیں اور سڑکوں پر دوڑتی ہوئی پر جدید کاریں دیکھتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں کہ امریکی بہت امیر ہیں۔ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکی معاشرے میں غربت کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ امیر اور غریب کے درمیان فرق بھی بہت چونکا دینے والا ہے۔ ایک امریکی رسالہ لکھتا ہے …’’ اگرچہ بہت زیادہ دولت کمانے والوں میں فہرست ، جو کہ بہت محدود سی ہے، میں قدرے اضافہ ہوا ہے ، لیکن غریب افراد کی تعداد میں دل دہلادینے والا اضافہ جاری ہے۔ کیے گئے سروے کے مطابق پندرہ فیصد امریکی، تقریباً46.5 ملین افراد، خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر بے گھر، بے روزگار، یا کم تنخواہ پر کام کرنے والے ہیں لوگ ہیں۔ ایک اور بات، اس ملک میں غربت کا احساس مزید شدید ہوتا ہے۔‘‘

2008 کے معاشی انحطاط پر قابو پانے کے لیے تین سال پہلے دیے گئے بیل آؤٹ پیکج سے بھی غربت میں خاطرخواہ کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ایک اور میگزین لکھتا ہے …’’ معاشی سرگرمیوں میں اضافے سے پیدا ہونے والی تمام دولت ان کی جیبوں میں ہی جارہی ہے جن کے پاس پہلے سے ہی دولت کی فراوانی ہے۔ جس طبقے کی آمدنی ایک جگہ ساکن ہو گئی ہے، اس سے تعلق رکھنے والے نوجوان لوگ اس میں ہونے والی گراوٹ کو محسوس کر رہے ہیں۔ ‘‘ایک اور بہت دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے افراد کی تعداد آج بھی اتنی ہی ہے جتنی تیس سال پہلے ریگن کے عہد میں تھی۔

ماہرینِ معاشیات کا خیال ہے کہ امریکہ میں غربت میں اضافہ معاشرے کی غریب افراد سے سنگدلی اور بے اعتنائی کی غمازی کرتا ہے۔ لاکھوں امریکیوں کی ضروریات کو نظر انداز کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ آج نوجوانوں کے حالات اتنے خراب ہیں کہ ان میں بہت سوں کو کالج چھوڑ کر کوئی ملازمت تلاش کرنا پڑتی ہے تاکہ وہ اپنے والدین کو سہارا دے سکیں یا اپنے گھروں کو نیلام ہونے سے بچا سکیں۔ آج نیویارک کی میئر شپ کی دوڑ میں سب سے آگے بل ڈی بلاسیو(Bill de Blasio) کا کہنا ہے کہ اس شہر کے نصف کے قریب شہری معاشی طور پر غیر محفوظ ہیں۔ ایک اور تلخ حقیقت، رومانیہ کے سوا، دنیا میں غریب بچوں کی زیادہ سے شرح امریکہ میں ہے۔

کہنے کو امریکی کا معاشی حجم سترہ ٹریلین ڈالر ہے اس کے باوجود یہاں کی غربت کا حال دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس کے باوجود امریکہ دنیا پر اپنی چوہدراہٹ قائم رکھنے کے زعم میں مبتلا ہے!نیلسن منڈیلا نے 1997 میں کہا تھا…’’ امریکیوں کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ ہم پر اپنی مرضی مسلط کریں اور ہمیں یہ بتائیں کہ ہم کن سے دوستی کریں اور کن سے اجتناب کریں؟ ہم اُنہیں دنیا کا پولیس مین نہیں مانتے۔‘‘آج سولا سال بعد جرمنی کا ایک چوٹی کا میگزین، ’’Der Spiegel ‘‘ لکھتا ہے …’’جدید انسانی تاریخ میں کسی ملک کو دنیا میں انتی اجارہ داری حاصل نہیں رہی ہے جتنی امریکہ کو ۔ آج امریکی اس طرح برتاؤ کر رہے ہیں جیسے انہیں بلینک چیک مل حاصل ہو اور وہ سب کچھ حاصل کرسکتے ہوں۔‘‘ ہو سکتا ہے کہ پاکستان جیسے ممالک ابھی امریکہ کو اپنے مالی مسائل کا حل سمجھتے ہوں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ خود اپنے شہریوں کے مالی مسائل بھی حل نہیں کر سکا ہے۔ شیکسپیئر نے یقیناًسچ کہا تھا…’’ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی‘‘۔

بہ شکریہ روزنامہ "دنیا"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں