غنی برادران کی رہائی اور طالبان امریکی مذاکرات

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

حیرت انگیز طور پر پاکستان نے ملّا برادران کو رہا کردیا ہے۔ ملّا غنی کو پاکستان نے کراچی سے گرفتار کیا تھا تاہم وہ ملّا عمر کے بعد طالبان کے سب سے بڑے عہدیدار تھے، پاکستان اُن کے ذریعے طالبان سے رابطہ میں تھا جب امریکہ نے طالبان سے مذاکرات کیلئے رجوع کیا تو پاکستان نے اُن کے ذریعہ اور دوسرے ذرائع کو استعمال کرکے طالبان کو امریکہ سے مذاکرات کیلئے راضی کر لیا پھر مذاکرات میں اِس وقت تعطل پیدا ہوگیا جب طالبان نے قطر میں مذاکرات کیلئے دیئے جانے والے دفتر پر افغانستان کا جھنڈا لہراکر یہ تصور دیا جیسے کہ وہ افغانستان کا سفارتخانہ ہو، اِس امر نے افغانی صدر حامد کرزئی کو چراغ پا کر دیا اور اس نے امریکی صدر سے کہا کہ امریکہ، پاکستان اور طالبان مل گئے ہیں اور انہیں تنہا چھوڑدیا گیا ہے۔ اِسکے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ امریکہ پاکستان کیخلاف افغانستان سے معاہدہ کرے کہ امریکہ پاکستان سے اسکو تحفظ فراہم کریگا۔ جس نے امریکہ کو پریشان کردیا اور مذاکرات پیچیدگی کا شکار ہوگئے اور پھر امریکہ اور برطانیہ پاکستان کو راضی کرنے میں لگ گئے کہ وہ حامد کرزئی کو ٹھنڈا کریں جس کے بعد پاکستان کے مشیر برائے خارجہ سرتاج عزیز افغانستان گئے، اس کو بھی افغان صدر نے اپنی سبکی سمجھا مگر بعد میں اُن کو احساس دلایا گیا کہ وہ اب اتنے اہم نہیں رہے ہیں۔ چنانچہ وہ پاکستان تشریف لائے مگر لگتا یہ ہے کہ بات نہیں بنی۔

وہ ملّا غنی برادران کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے کہ مذاکرات کا لیور اُنکے ہاتھ آجائے ویسے بھی وہ ملا غنی برادران کے ممنون و احسان مند ہیں کہ اُن کی سفارش پر ملّا عمر نے مذاکرات کو افغانی وزارت خارجہ میں ڈپٹی سیکریٹری لگوایا تھا اور حامد کرزئی صاحب، ملّا غنی دونوں ایک ہی قبیلہ پوپل زئی سے تعلق رکھتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ پاکستان نے ملّا غنی برادران کو کیوں رہا کیا اور کس کے کہنے پر رہا کیا، پاکستان کا موقف ہے کہ اس نے اُنکی رہائی مذاکرات کو بامعنی بنانے اور مذاکرات کو کامیابی کی طرف لے جانے یا سہولت بہم پہنچانے کیلئے کیا تاہم لگتا ہے کہ اِس کے پیچھے بہت سی سفارت کاری ہے۔ حامد کرزئی اور امریکہ دونوں کو اعتماد میں لیا گیا ہو گا البتہ اُن کو افغان حکومت کے حوالے نہیں کیا گیا یہ بات بہرحال حامد کرزئی کو پسند نہیں آئی ہوگی۔

اِس سے قطع نظرامریکہ افغانستان سے ایک باہمی دفاعی معاہدہ کرنے جارہا ہے جبکہ طالبان سے مذاکرت پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچتے ہیں اور نہ ہی اس کے کوئی آثار نظر آرہے ہیں شاہد اِس کی وجہ یہ ہو کہ طالبان کے مطالبات پورے نہیں کئے جارہے ہیں کہ اُن کے نمائندوں کو رہا کر دیا جائے اور یہ کہ امریکہ کا افغانستان سے مکمل انخلاء ہو مگر جو بات اب کھل کر سامنے آگئی ہے جس کی پاکستان کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ20 ہزار کے قریب امریکی افواج اور کئی ہزار پر مشتمل نیٹو افواج افغانستان میں رکھی جا رہی ہے اور ایک لاکھ کے قریب وہ افراد جو امریکیوں کیلئے کام کر رہے ہیں جو مختلف ٹھیکوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچا رہے ہیں افغانستان میں موجود رہیں گے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن میں بھارتیوں کی ایک بڑی تعداد مزدور اور منیجروں کے نام پر موجود رہے گی۔ جو صورتحال چھن کر سامنے آ رہی ہے اُس سے لگتا ہے کہ امریکہ افغانستان کے سلسلے میں اپنی حکمت عملی کا روڈ میپ بنارہا ہے اور اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو وہ مقام نہیں مل رہا ہے جو وہ چاہتا تھا، ساتھ ساتھ بھارت کو بھی اسِ میں جگہ دی جا رہی ہے جس کے بارے میں پہلے یہ خیال تھا کہ اُس کو افغانستان میں کوئی کردار نہیں ملے گا۔

امریکہ نہ صرف بھارت بلکہ ایران، چین اور سینٹرل ایشیا کے کئی ممالک کو بھی اپنی افغان حکمت عملی کا حصہ بنا رہا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک افغان سیکورٹی کی’’پیچیدہ زنجیر‘‘ بنا رہا ہے۔ 16ستمبر2012ء کو پاکستان افغانستان کے نمائندے جیمس ڈو بس نے کہاکہ افغانستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی معاہدہ اکتوبر میں پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا اس کی نوک پلک درست کی جارہی ہیں۔ جس مقدار میں مسلح افواج امریکہ افغانستان میں رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے اس سے تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ افغانستان سے اس طریقے سے نہیں نکل رہا ہے جس کا وہ اعلان کرچکا ہے، اسی وجہ سے جیمس ڈو بس کاخیال ہے کہ افغانستان مطمئن ہوجائے گا۔ پاکستان بھی بظاہر مطمئن نظر آتا ہے وہ ہر قدم اُٹھا رہا ہے جو طالبان امریکی مذاکرات کو سہولت پہنچائے اور امریکی بھی پاکستان کے بارے میں کم ازکم اس وقت مثبت رائے رکھتے ہیں کہ پاکستان بھرپور تعاون کررہا ہے ویسے بھی ملّا غنی برادران کا رہا کرنا ایک بڑا واقعہ ہے جو اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طالبان کی طرف سے بھی کسی بڑے حملے یا ناراضی کا اظہار فی الحال تو نہیں ہوا ہے۔

جان ڈوبس کہتے ہیں کہ وہ پیشرفت کررہے ہیں مگر کس طرح کی پیشرفت ہو رہی ہے اور امریکہ نے افغانستان کے اطراف ملکوں کو کس طرح اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے کہ دیکھنے کی بات ہے کہ وہ کس طرح ظاہر ہوگی اور کس وقت اس کا اصل چہرہ سامنے آئے گا۔ ابھی تو جیمس ڈوبس کہتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان بگڑے تعلقات میں بہتری آگئی ہے اور پاکستان کے نئے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور امریکی حکام کے درمیان اچھا کیمیاوی عمل جاری ہوگیا ہے۔ پاک افغان پر امریکی سفیر کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کی مدد کے لئے تیار ہیں اور پاکستانی ہمارے ساتھ کام کرنے کے لئے بے چین۔ اس طرح کہ ہم ایک دوسرے کے لئے سلامتی و معیشت پر ممد و معاون ثابت ہو گا۔ چین کے بارے میں امریکیوں کا کہنا ہے کہ امریکہ چین کے ساتھ اِس سلسلے میں مشاورت کرتا رہا ہے اور چین بھی اِس سلسلے میں امریکہ کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اس لئے چین اب نہیں چاہے گا کہ افغانستان خطہ میں عدم استحکام کا باعث ہو۔ اس کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور چین کا افغانستان کے معاملے میں اتفاق ہے، ایران کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران بھی افغانستان کے سلسلے میں امریکہ کا بون کانفرنس سے ساتھ دیتا رہا ہے۔ بظاہر تو معاملہ صاف ستھرا لگ رہا ہے اور سب کو کامیابی کا پیغام مل رہا ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں