حماقتوں کی داستان

ایاز امیر
ایاز امیر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

پاکستان میں آپے سے باہر ہونے، اشتعال میں آنے یا غصہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ ایک چلا ہوا کارتوس ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ اب کوئی فائدہ نہیں ہو گا، کچھ بھی نہیں بدلے اور جیسے ملکی معاملات چل رہے ہیں، یہی ہماری تقدیر ہے۔ ہم خوف و دہشت کی ہر شکل، ہرجہت سے آشنا ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ اس کے خلاف ہم کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ گرجا گھروں پر حملے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، مساجد کی بے حرمتی پہلے بھی کی جاتی رہی ہے، بے گناہ افرا د پہلے بھی ہلاک کیے جاتے رہے ہیں اور یہ سب کچھ اسلام کے نام پر ہوتا رہا ہے۔ انتہا پسندی کی پیش قدمی جاری ہے، بلکہ عملی طور پر اس فتوحات کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے ساتھ ہی معاشرے سے رواداری اور انسانی قدریں اور معقول روئیے آخری ہچکیاں لے رہے ہیں اور یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے، چنانچہ ان تلخ حقائق سے آنکھیں چرانے کی ضرورت نہیں…حقائق کو قبول کر لینا چاہئے۔

یہ مایوسی بلاوجہ نہیں ہے ۔ اس کا باعث اس قوم کا بے سمت ہونا ہے۔ اس کے رہنما بے جان مجسموں کی طرح ہیں۔ احتیاط کا یہ عالم کہ اپنے سائے سے بھی ڈر جاتے ہیں۔ اُنھوں نے اپنے گرد اتنے حفاظتی حصار قائم کر رکھے ہیں کہ چنگیز خان کی یلغار بھی اس میں رخنہ نہیں ڈال سکتی۔ ان میں احساس نام کو نہیں، سوچنے کی صلاحیت سے بے بہرہ اور حقائق کو دیکھ کر آنکھیں چرانا بہترین حکمت عملی ہے۔ ان کا بزدل رویہ معاشرے میں انتہا پسندوں کی پیش قدمی کو مزید سہولت فراہم کررہا ہے ، لیکن اس دوران ان کے غرور و تکبر کا یہ عالم ہے جیسے ان کی مرضی کے بغیر دنیا کا ایک پتہ تک نہیں ہل سکتا۔

ہم سے کیا گناہ سرزد ہو گیا ہے کہ ایسے حکمران ہم پر مسلط ہو گئے ہیں؟کیا اس دنیا میں غلطیوں کی اتنی بھیانک سزا ملتی ہے؟اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے ہی انہیں منتخب کیا ہے ، انہیں حاصل قوت ہمارے ووٹوں کی ہی مرہون منت ہے لیکن اس دوران یہ بات ذہن میں تیر کی طرح پیوست ہو جاتی ہے کہ اس بدقسمت قوم کے سامنے اور کوئی انتخاب تھا ہی نہیں۔ پاکستان کے مخالفین یہ طعنہ دیتے ہیں کہ یہ ہے اسلام کا قلعہ جو بہت جلد ایک پاگل خانہ بننے جا رہا ہے۔ یہ ہے کہ وہ ارفع سرزمین جہاں ہم نے بہت سے آفاقی معاملات کی انجام دہی اپنا قومی فریضہ بنا لیا تھا اور یہ ہے ان حماقتوں کا خمیازہ جو ہم بھگت رہے ہیں اور مزید بھی بھگتیں گے۔

غلطی اور حماقت میں فرق ہوتا ہے۔ غلطی یہ ہے کہ ایک بہت عمدہ منصوبہ ہو لیکن اندازے کی غلطی سے خراب ہو جائے… جس طرح نپولین نے وارننگ کی پروا نہ کرنے کی غلطی کی اور روس کی طرف پیش قدمی کر بیٹھا۔ اس غلطی کے نتیجے میں اس کی فوج تباہی سے دوچار ہو گئی۔ اسی طرح ہٹلر نے جرمنی کی تاریخ کو فراموش کرتے ہوئے دوسرا محاذ کھول لیا۔ یہ ذہین لوگوں کی غلطیاں تھیں، لیکن حماقت اس سے بھی سوا ہوتی ہے۔ احمق انسان وہ گدھا ہے جو سڑک، جہاں تیزرفتار گاڑیاں گزر رہی ہوں، کے بیچوں و بیچ سر جھکائے کھڑا ہو اور اسے اپنی طرف بڑھنے والے تیزرفتار ٹرک کا علم نہ ہو۔ دیگر ’’دانا ‘‘ جانور، جیسا کہ کتے اور بلیاں، سڑک پر سے گزرنے والی ٹریفک کا احساس کر لیتی ہیں لیکن گدھا ایسا نہیں کر سکتا۔ اس وقت ہماری حالت اس مذکورہ جانور کے روئیے سے مختلف نہیں ہے۔ خطرہ اس کے سر پر منڈلا رہا ہے لیکن یہ اپنے حال میں مست ہے۔ یہ خطرہ اتنا بھیانک اور واضح ہے کہ اس کی تفہیم کے لئے غیر معمولی ذہانت درکار نہیں، ایک بچہ بھی اس کی سمجھ رکھتا ہے لیکن قسمت کی ستم ظریفی سے ہمارے نصیب میں لکھے جانے والے حکمران بعض نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس کی نوعیت سمجھنے سے قاصر ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بالکل ہی نا سمجھ ہیں۔ جب اپنے مفاد کی بات ہو تو ان کی ذکاوت ِ فکری کے سامنے سقراط بھی طفل ِ مکتب دکھائی دے… ذرا دیکھیں کس عمدگی کے ساتھ اُنھوں نے کاروباری طبقے کو نوازنے کے لئے ٹیکس میں سہولتیں فراہم کر دی ہیں۔ایسے معاملات میں ان کی فہم کا جواب نہیں لیکن جب انتہا پسندی اور طالبان کے مسئلے کا سامنا ہو تو پھر ڈھنگ کا بیان دینے کے بھی الفاظ نہیں ملتے ہیں۔ کیا یہ طالبان کا خوف ہے جو ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیتا ہے؟

جب پرویز مشرف اقتدارپر قابض ہوئے تو شروع کے سالوں میں، چند ایک مواقع کے سوا، کسی نے ان کے خلاف نہیں لکھا تھا لیکن جب ان کی گرفت کمزور پڑگئی تو ان کو برابھلا کہنا معمول کی بات بن گئی۔ جب تک ان کو لتاڑا نہ جاتا، اخبار کا مضمون مکمل ہی نہیں ہوتا تھا، لیکن اگر انصاف سے دیکھیں تو وہ موجودہ حکمرانوں کے مقابلے میں بے حد دانشمند تھے۔ یہ بات کرنا ہمارے معاشرے کا معمول نہیں ہے لیکن اگر آپ غور کریں تو بات سمجھ میں آجائے گی کہ غلطی اور حماقت میں کیا فرق ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرف پارسائی کا مجسمہ نہیں تھے… ویسے یہ چیز سیاست دانوں میں تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، اس کے لئے اولیا اﷲ یا جوگیوں کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے ۔ مشرف سے غلطیاں ہوئیں اور بہت بڑی غلطیاں ہوئیں۔ کئی ایک ایسی تھیں جن کے نتائج بہت دور رس تھے، لیکن موجودہ حکمرانوں کے مقابلے میں غلطیاں کرنے کے باوجود وہ ایک شاطر انسان تھے۔۔۔ تاہم ہر شاطر کی طرح اُنھوں نے بھی غلطیوں کی قیمت چکائی۔

آج کے حکمران اور آج کا پاکستان کتنا مختلف ہے۔ یہ بات بھی ہے کہ اگر صرف حکمران ہی کنفیوژن کا شکار ہوتے تو کوئی بات نہیں تھی، اُن کی حماقت نے قوم کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ اب اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ آج کا پاکستان جوش و جذبے سے عاری کیوں ہے۔ جب حکمرانوں کی طرف سے کوئی تحریک نہیں ہے تو ملک بے جان، بے کس اور فراموشی کے عالم سے گزر رہا ہے۔

1971کی جنگ کے وقت میں ایک نوجوان کپتان تھا۔ اگر میں آج جوان ہوتا اور بطور ایک آرمی آفیسر وانا یا میران شاہ میں تعینات ہوتا اور میرا سامنا طالبان جنگجوئوں سے ہوتا کیا اس عالم میں، میں ملک بھر میں پھیلی ہوئی سراسیمگی سے متاثر نہ ہوتا؟ کیا میرے جذبے قوم اور حکمرانوں کی کنفیوژن کی نذر نہ ہو جاتے ؟کیا میدان میں بجتی ہوئی تالیاں اور داد و تحسین کا شور ایک فاسٹ بالر یا بلے باز کو متاثر نہیں کرتے ؟

تباہی ایک حقیقت ہے اور معرکوں میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، لیکن ایک تباہ شدہ قوم کی تعمیر کی جا سکتی ہے، مسمار شہروں کی تعمیر نو کی جا سکتی ہے لیکن جب ایک قوم کے جذبے مردہ ہو جائیں تو اس کے اس مرض کا کوئی چارہ نہیں ہوتا ہے۔آج ہماری قوم کی روح مردہ ہو چکی ہے، اس میں اٹھنے کی سکت ختم ہو گئی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فتح و شکست کا فیصلہ میدان میں نہیں، ذہن میں ہوتا ہے۔ ہم دل میں شکست قبول کر چکے ہیں۔

دوسری طرف دیکھیں، کینیا ایک کمزور سا ملک ہے۔ اس کی فوج دنیا کی چھٹی طاقتور ترین فوج نہیں ہے۔اسے ڈاکٹر اے کیو خان کی سہولت میسر نہیں رہی ہے، اس کے پاس نہ تو ایٹم بم ہیں اور نہ ہی میزائل۔ ایک اور بات، کینیا خود کو کسی عقیدے کا قلعہ بھی قرار نہیں دیتا ہے لیکن دیکھیں اس ملک نے شاپنگ مال پر دہشت گردوں کے حملے اور اس کو یر غمال بنائے جانے پر کس جی داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ کینیا کے صدر، جو کوئی بہت نیک انسان ہونے کا دعویدار نہیں ہیں، کا کہنا ہے…’’ہم نے بہت زیادہ جانی نقصان برداشت کیا لیکن ہم بہادر لوگ ہیں۔ ہم متحد اور مضبوط ہیں۔ کینیا نے خطرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور اسے شکست دے دی۔ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں ؟‘‘اگر ہمارے ملک میں ایسا واقعہ پیش آیا ہوتا تو پہلے تو ٹی وی پر رستم زماں خم ٹھونک کر آمنے سامنے صف آرا ہو جاتے۔ غیر ملکی سازشوں کی مذمت شروع ہو جاتی، لیکن مجال ہے جو دہشت گردوں کے خلاف ایک لفظ بھی کوئی بولتا۔ ہمارے پاس اُس مسئلے سے نمٹنے کا ایک ہی حل ہوتا… اے پی سی۔ ہمارا حال وہ ہے جس کی عکاسی مرزا غالب نے کی تھی۔۔۔
’’رو میں ہے رخش ِ عمر، دیکھیں کہاں تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا بے رکاب میں۔‘‘

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں